جدید سوچ ،جدید انداز

بین الاقوامی اور پاکستانی سماجی مسائل نامور کالم نگاروں کی نظر میں . حالت حاضرہ پر ملکی و غیر ملکی تبصرے. ادیبوں اور شاعروں کی منتخب تحریریں اور بہت کچھ

سبسکرائب کیجئے تاکے مستقبل میں آپکو سائٹ پہ نۓ مواد سے متعلق بذریعہ ای مل مطلع کیا جاسکے.

امتیاز متین

آوے کا آوا

جب آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہو تو خرابیاں اتنی آسانی سے ٹھیک نہیں ہوتیں۔ یہ صورتحال اس وقت مزید بگڑ جاتی ہے جب حکمراں طبقات اسے اپنے مفاد میں مناسب سمجھنے لگیں۔ بہت سے لوگ نظام میں در آنے والی خامیوں کا الزام

مکمل پڑھئے »
سلیم صافی

کیا ایک اور این آر او ہونے جارہا ہے؟

تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ضرورہے لیکن اسی تاریخ کا سبق یہ ہے کہ کوئی اس سے سبق نہیں لیتا ۔ جب میاں نوازشریف ، بے نظیر بھٹو کے خلاف استعمال ہورہے تھے تو انہوں نے بھٹو کے انجام کو مدنظر نہیں رکھا۔ آخری بار

مکمل پڑھئے »
سماج

افسانہ دنگل کے چیمپین!!!؟؟؟

کچھ عرصہ قبل میں نے فیس بک کے افسانوی مقابلوں کو دنگل قرار دیا تو ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔اگرچہ بیشتر سنجیدہ حضرات نے میری رائے سے اتفاق کیا لیکن ہمارے نوعمر اور ناتجربہ کار افسانہ نگاروں نے موضوع کو سمجھے بغیر یہ فرض کر لیا

مکمل پڑھئے »

کہیے اگر کچھ کہنا چاہتے ہیں​

اگر آپ کمپیوٹر پے اردو میں اظھار کی صلاحیت رکھتے ہیں تو پھر آج سے ہماری سائٹ پر لکھ کر اپنے خیالات دنیا بھر میں شیئرکیجئے. نیچے دیئے ہوئے بٹن کو دبا کر ہمیں اپنی تحریر بھجیں

پڑھئے اگر کچھ پڑھنا چاہتے ہیں

بین الاقوامی اور پاکستانی سماجی مسائل نامور کالم نگاروں کی نظر میں. حالت حاضرہ پر ملکی و غیر ملکی تبصرے. ادیبوں اور شاعروں کی منتخب تحریریں اور بہت کچھ

امتیاز متین

2019ء …… پاکستانی میڈیا کا بحران اور نئے رجحانات

ان دنوں پاکستانی میڈیا انڈسٹری بحران کا شکار ہے۔ سیکٹروں میڈیا کارکنان ملازمتیں کھو بیٹھے ہیں اور ابھی اس بحران کے ختم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ کیا اس کی وجہ نئی حکومت کی نئی پالیسی ہے یا یہ میڈیا ہاؤسز کی ناقص

مکمل پڑھئے »
سیاحت

لندن

آرٹ کے معاملے میں اپنی کم علمی (گویا تقریبا” جہالت) کو چھپانے کی کوشش کرتے ایک عمر گزر گئی – ان دوستوں کو ھمیشہ رشک سے دیکھا جو رنگوں میں چھپے مفاہیم اور اسٹروکس میں پوشیدہ معانی اتنی سہولت سے ڈھونڈ لیتے تھے اور ایسی

مکمل پڑھئے »

آج کا کارٹون

Publisher: Dawn

Cartoonist: Zahoor

متخب کالم نگار

حسن نثار

حسن نثار کا تعلق لاہور سے . انہوں صحافت کے سفر کا آغاز ١٩٧٢میں ماہنامہ دھنک سے کیا. صحافت کے ساتھ ساتھ شاعری کا سلسلہ بھی جاری رکھا . وہ کئی کتابوں کے مصنف ہیں . حسن نثار جیو ٹی وی سے سیاسی تجزیہ کے پروگرام “میرے مطابق ” کےعلاوہ باقائدگی سے جنگ اخبار میں کالم بھی لکھتے ہیں

وسعت اللہ خان

وسعت اللہ خان کا تعلق کراچی سے ٩٠کی دہائی سے بی بی سی سے وابستہ ہیں. وہ کئی برس لندن میں بھی مقیم رہے . انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے جرنلزم میں ماسٹرز کیا . وسعت اللہ خان ڈان ٹی وی سے حالت حاضرہ پر ڈیلی شو “ذرا ہٹ کے ” کے علاوہ بی بی سی اور پاکستان کے مختلف اخباروں کیلئے باقائدگی سے ہفتہ وار کالمز بھی لکھتے ہیں

حامد میر

حامد میر کا تعلق لاہور سے ہے. یہ 1987 سے صحافت کر رہے ہیں. یہ جنگ اور اوصاف کے علاوہ دیگر اخبارات سے بھی وابستہ رہے ہیں. تاہم انہیں شہرت اسامہ بن لادن کے انٹرویو سے ملی. بعد میں یہ جیو ٹی وی سے کیپیٹل ٹاک کے نام سے ایک سیاسی مباحثے کا پروگرام کرتے رہے ہیں. اس کے علاوہ یہ اردو اور انگریزی اخبارات کے لیے کالم بھی لکھتے ہیں.

محمّد حنیف

محمّد حنیف کا تعلق اوکاڑا سے ہے.انہوں نے اپنے پیشے کی ابتدا کراچی کے انگریزی ماہنامہ نیوز لائن سے کی بعدازاں وو انڈیا ٹوڈے ، واشنگٹن پوسٹ اور بی بی سی سے بھی وابستہ رہے . ان کی ابتک کئی کتابیں لندن سے شائع ہوچکی ہیں. محمّد حنیف کے کالمز باقائدگی سے بی بی سی اردو سروس پے شائع ہوتے ہیں

امتیاز متین

امتیاز متین کا تعلق کراچی سے ہے. انھوں نے کراچی یونیورسٹی ہے جرنلزم میں ماسٹرز کیا ہے .صحافت کا باقاعدہ آغاز 1990 میں ہفت روزہ اخبار جہاں سے کیا. ان دونوں روزنامہ نوائے وقت کراچی اور روزنامہ سیاست. حیدرآباد بھارت میں ان کے کالم اور مضامین باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں.

سلیم صافی

سلیم صافی کا تعلق مردان سے ہے . انہوں نے پشاور یونیورسٹی سے بیچلرکی ڈگری حاصل کی ہے . سلیم صافی٢٠٠٢ سے ٢٠٠٧تک پاکستان ٹیلی ویژن سے منسلک رہے وہ ٢٠٠٨ سے جنگ اور جیو ٹی وی سے وابستہ ہیں. وہ جرگہ کے نام سے سے جنگ میں کالم اور جیو سے سیاسی تجزیہ پے پروگرام کرتے ہیں .

مذید پڑھیں

کرائے کی بندوق

آج کل پاکستان کی سیاست میں یوٹرن پر بڑی بحث ہو رہی ہے۔ یوٹرن تو بہت سے سیاستدان لیتے ہیں لیکن عمران خان کے یوٹرن ہماری نظروں میں

مکمل پڑھئے »
پانچ سال پہلے ، آج ھی کے روز ھم نے شفیع عقیل صاحب کو ھمیشہ کے لئے الوداع کہا تھا ۔ صحافی ، ادیب ،
۔۔پٹھان بھایؑی کچھ لکھ کے بھی لگا کہ بہت کچھ رہ گیا۔۔ جن شاعروں نے زندگی شراب میں ڈبو دی انہوں نے تو در مدح
اس آدمی کے نام جس نے اپنی خونریزیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا۔ ”جب میں نے ایک بڑھیا کو مارا تو مجھے ایسا لگا مجھ
لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم تھا، اس گرمی میں اضافہ ہوگیا جب چاروں طرف آگ بھڑکنے لگی۔ ایک آدمی ہارمونیم کی پیٹی اٹھائے خوش خوش
چالیس پچاس لٹھ بند آدمیوں کا ایک گروہ لوٹ مار کے لیے ایک مکان کی طرف بڑھ رہا تھا۔ دفعتاً اس بھیڑ کو چیر کر
ایک آدمی نے اپنے لیے لکڑی کا ایک بڑا صندوق منتخب کیا جب اسے اٹھانے لگا تو وہ اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہ
پہلے ماں کی نظریں بتا دیتی تھی کہ غلطی کر رہے ہیں اور سزا ملے گی پھر ہم نے ترقی کر لی اور ماں موم
دفتر میں کام کرتے ہوئے ایک صاحب کا موبائل چوری ہوگیا.. دن بھر کی مصروفیت کے بعد تھکے ہارے صاحب بہادر نے جونہی گھر کی
پروفیسر صاحب انتہائی اہم موضوع پر لیکچر دے رہے تھے، جیسے ہی انہوں نے تختہ سیاہ پر کچھ لکھنے کیلئے رخ پلٹا کسی طالب علم
جین ڈی ﻻ ﻓﻮﻧﭩﯿﻦ ﺍﯾﮏ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻓﺮﺍﻧﺴﯿﺴﯽ ﻣﺤﻘﻖ ﻭﻣﺼﻨﻒ ﮔﺰﺭﺍ ﮨﮯ۔ ﺍُﺱ ﻧﮯ ” ﻣﺤﻨﺘﯽ ﭼﯿﻮﻧﭩﯽ ” ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯﺍﯾﮏ ﺭﻣﺰﯼ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﻟﮑﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺲ
سلطان محمود غزنوی کے زمانے میں شہر میں چوریاں زیادہ ہونے لگیں تو چوروں کو پکڑنے کے لئے شاہ نے یہ تدبیر کی کہ شاہی
وائسرائے ہند، مولانا ابو الکلام آزاد سے ملنے انکے رہائش گاہ آتا ہے، مولانا آزاد کے ساتھ ترجمان بیٹھا ہوتا ہے، وائسرائے جو بات کرتا