پاکستان میں بدعنوانی کے خلاف مہم

امتیاز متین

ان دنوں پاکستان میں بیک وقت بہت کچھ ہو رہا ہے۔ ہر روز کوئی بڑی خبر یا کوئی بڑا واقعہ سامنے آ رہا ہے۔ ان دنوں عوامی سطح پر ملک بھر میں تجاوزات اور زمینوں پر قبضہ کرکے بنائی ہوئی غیر قانونی عمارات منہدم کرنے کی مہم جاری ہے۔ لینڈ مافیا کے با اثر کارندے چھپے پھر رہے ہیں۔ ملک ریاض جیسے بااثر شخص کے بحریہ ٹاؤن لاہور کے 70 سے زیادہ مہنگے مکانات اور کمرشل پلازے غیر قانونی قرار دے کر مسمار کیے جا چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ٹریفک قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے سختی کی جا رہی ہے اور یک طرفہ سڑکوں پر مخالف سمت چلنے والوں کو جرمانے کے علاوہ ایک دن کے لیے زیر حراست رکھنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کی پوری تحریک بدعنوانی اور فرسودہ نظام کے خلاف تھی جس میں عام شہریوں کو کوئی سہولت نہیں ملتی لیکن ایک مراعات یافتہ طبقہ اور اس کے چمچے سارا کچھ خورد برد کر جاتے ہیں۔ برسوں کی بدعنوانیوں اور فضول خرچیوں کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز، اسٹیل ملز، ریلوے، گیس، بجلی اور اس جیسے دوسرے بڑے بڑے ادارے اربوں روپے کے خسارے میں پہنچ چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ برسوں میں معاشی تباہی سے دوچار ہونے والے اداروں اور بنائے جانے والے نئے پروجیکٹس کا آڈٹ کروایا جا رہا ہے۔

برسوں کی بدعنوانیوں اور نا اہلیوں کے باعث پاکستان کا تعلیمی نظام برباد ہو چکا ہے۔ نجی تعلیمی اداروں کی بے لگام فیسوں اور حد سے زیادہ مہنگی درسی کتابوں نے والدین مالی بوجھ تلے کچل کر رکھ دیا ہے۔ اس وقت ملک میں پرائمری سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک کے تعلیمی نظام کو درست کرنے کی بات ہو رہی ہے۔ اس وقت سپریم کورٹ میں پرائیویٹ اسکولوں اور دوسرے تعلیمی اداروں کی فیسوں سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے جس میں اسکولوں کو من مانی فیسوں میں اضافے اور حد سے زیادہ فیسیں وصول کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی برباد شدہ سرکاری تعلیمی نظام اور اسکولوں کی بحالی کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔ اس وقت پاکستان میں چار قسم کے تعلیمی نظام رائج ہیں جس کے تحت مدرسوں میں مذہبی تعلیم دی جا رہی ہے۔ اردو میڈیم سرکاری اسکول ہیں، انگریزی میڈیم چھوٹے اور بڑے نجی اسکول جس کے تحت بچے میٹرک کا امتحان پاس کرتے ہیں اور پھر کیمبرج کا نظام تعلیم ہے جس کے تحت امیر بچے اے لیول اور او لیول کا امتحان پاس کرتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان ہمیشہ ہی سے یہ بات کرتے رہے ہیں کہ ملک میں ایک جیسا نظام تعلیم ہونا چاہیے، کیونکہ ساری اچھی ملازمتیں صرف چند لاکھ لوگوں کے بچوں کو ملتی ہیں جو مہنگی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ مدرسوں میں پڑھنے والے انتہائی غریب طبقات کے بچے اعلیٰ عہدوں پر نہیں پہنچ پاتے۔ یہ بھی پاکستانی بچے ہیں جنہیں ہم ایسے ہی نہیں چھوڑ سکتے۔ دوسری جانب سیاسی مولانا مدرسوں کے نظام تعلیم میں کسی بھی تبدیلی کی مخالفت کر رہے ہیں، وہ مدرسوں میں سائنس، کامرس اور فنون کے مضامین پڑھانے کی مخالفت کر رہے ہیں، جبکہ اچھے مدرسوں میں بہت عرصہ پہلے سے مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ انگریزی اور دوسرے عام مضامین پڑھانے سلسلہ بہت پہلے سے شروع ہو چکا ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف کے دور اقتدار کے ابتدائی دنوں میں مذہبی اسکالر اور وزیر مذہبی امور ڈاکٹر محمود غازی مرحوم نے مدرسوں کے لیے نیا نصاب مرتب کیا تھا جسے پاکستان کے کچھ اچھے دارالعلوم میں اپنا لیا گیا تھا جبکہ کچھ مدرسوں نے اپنے محدود وسائل کے باوجود اسے اپنانے کی کوشش کی تھی لیکن انہیں ٹیچرز ملنے میں مشکل ہو رہی تھی بڑے شہروں میں قائم اسلامی اسکولوں نے اسے طریقۂ تعلیم کو کامیابی سے آگے بڑھایا ہے۔ حال ہی میں اب ایک قانون کے تحت تمام اسکولوں کو اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ ناظرہ قرآن کی تعلیم کو یقینی بنائیں اور تمام بچوں کو پورا قرآن مجید پڑھائیں۔ اس وقت ایک ایسے یکساں تعلیمی نظام کے لیے کام کیا جا رہا ہے جو اسلامی تعلیم کے ساتھ ساتھ دور حاضر کے تقاضوں کو پورا کرتا ہو۔
ان دنوں پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور کرنسی مارکیٹ کی صورتحال کو دیکھ کر یہ لگتا ہے کہ اسے معاشی اشاریوں کے بجائے سیاسی اشاروں پر چلایا جاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں گزشتہ سال نواز شریف کی گرفتاری کے بعد سے مسلسل مندی کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ ان کی گرفتاری سے پہلے یہ خوب اوپر جا رہی تھی۔ گزشتہ دنوں اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن کے لیڈر اور مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد سے اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی ہے جبکہ ڈالر کی قیمت میں اچانک 10 روپے کا اضافہ ہوا جس کے بعد آج انٹربینک ایکسچینج ریٹ کے مطابق ایک ڈالر 133 روپے کا ہو چکا ہے۔ روپے کی قدر میں اچانک کمی پر بہت شور اور واویلا مچا اور مسلم لیگ (ن) کی طرف سے کہا گیا کہ ہم نے ڈالر کی قیمت کو ایک 104 روپے پر روک رکھا تھا جسے چند مہینوں میں کم کرکے 133 روپے کر دیا گیا ہے۔
فی الحال اپوزیشن رہنما اور ان کے حامی ہر برائی کا الزام عمران خان کی حکومت کو دے رہے ہیں کہ انہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی قومی معیشت کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ مہنگائی کا طوفان سر اٹھا رہا ہے، عمران خان نے تو کہا تھا کہ اگر آئی ایم ایف سے قرضہ لیا تو وہ خود کشی کر لیں گے اور اب وہ چونکہ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی بات کر رہے ہیں تو انہیں خود کشی کر لینی چاہیے۔ اپوزیشن لیڈرز کی باتوں سے لگتا ہے کہ وہ بارش سے پہلے ہی مٹکے پھوڑ دینے پر یقین رکھتے ہیں۔ ابھی قرضہ لینے کے لیے بات چیت ہوئی ہے قرضہ لیا نہیں گیا ہے اور آئی ایم ایف کی ٹیم پہلے قرضہ دینے سے پہلے یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ کہ پچھلی حکومت نے جو قرضہ لیا تھا وہ کہاں اور کس طرح خرچ کیا ہے۔ یہ آڈٹ کروانا اس لیے بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ سابق مفرور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جائیداد اور اکاونٹس عدالت کے حکم پر ضبط کر لیے گئے ہیں اور اب جلد ہی ان کی جائیداد بھی وزیر اعظم ہاؤس میں پلنے والی نواز شریف کی بھینسوں کی طرح قرق کر دی جائے گی۔
ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کے ساتھ مہنگائی کی لہر ملک میں وارد ہو گئی ہے جس کے اثرات عام شہری بھی محسوس کرنے لگے ہیں۔ تاہم حکومت کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ چھ مہینے بعد حالات میں بہتری آنا شروع ہو جائے گی۔ فی الحال تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے حکومت نے درآمدات کی حوصلہ شکنی کی پالیسی اپنائی ہے اس وجہ سے درآمدی اشیا پر نئی ریگولیٹری ڈیوٹیز لگائی گئی ہیں جس کے بعد بہت سی غیر ضروری طور پر بیرون ملک سے منگوائی جانے والی اشیا کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی ٹیکسٹائل کی صنعت کو کچھ رعایتیں دی گئی ہیں جس کی وجہ سے نواز شریف کے دور حکومت میں بند ہو جانے والی بہت سی ٹیکسٹائل ملیں دوبارہ کھلنا شروع ہو گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم عمران خان نے ’’کلین اینڈ گرین پاکستان‘‘ مہم کا آغاز کر دیا ہے جس کے تحت آئندہ پانچ سال کے دوران ملک بھر میں دس ارب سے زیادہ درخت لگائے جائیں گے اور کچرا صاف کیا جائے گا۔ اس مہم کے آغاز کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان عالمی حدت میں اضافے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں ساتویں نمبر پر ہے اور اگر آج عالمی درجۂ حرارت میں اضافے سے بچنے کے لیے زیادہ درخت نہ لگائے گئے تو اس سے پاکستان میں ماحولیاتی تباہی کے اثرات زیادہ ہوں گے۔ جس وقت ملک بھر کے میڈیا پر ڈالر کی قدر میں اضافے اور اسٹاک مارکیٹ میں مندی پر ہاہاکار مچی ہوئی تھی تبھی وزیر اعظم عمران خان نے نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کا اعلان کر دیا۔ اس پروگرام کے تحت آئندہ پانچ سال کے دوران غربا اور کم آمدنی والے لوگوں کے لیے 50 لاکھ سستے گھر تعمیر کیے جائیں گے جس کی قسطیں وہ آئندہ پچیس سال میں ادا کریں گے۔ اس کام کے لیے ایک اتھارٹی بھی قائم کی جا رہی ہے جو اس کام کی نگرانی کرے گی۔ ابتدائی طور پر گریڈ ایک سے گریڈ سولہ کے سرکاری و نیم سرکاری ملازمین کے لیے گھر بنائے جائیں گے۔ اس پروگرام کی ابتدا تین چار چھوٹے شہروں سے کی جا رہی ہے جبکہ مکان کا درخواست فارم ویب سائٹ پر موجود ہے جو 250 روپے کی فیس کے ساتھ جمع کروایا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا پروگرام ہے جس پر کام شروع ہو گیا تو پورے ملک کی معیشت کا پہیہ گھومنا شروع ہو جائے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ کم آمدنی والے طبقات کے لیے اب مکان کا حصول ایک خواب بن کر رہ گیا ہے لیکن اس ہاؤسنگ پروجیکٹ کے شروع ہونے کے بعد یہ مسئلہ حل ہونا شروع ہو جائے گا۔ لیکن مخالفین کو سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ جب حکومت کے پاس پیسے ہی نہیں ہیں تو وہ اتنا بڑا پروجیکٹ پر کیسے کام کرے گی؟ شاید بہت سے لوگوں کو یہ سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ جب ملک میں معمولی سے مکان کی قیمت بھی کروڑ روپے پر پہنچا دی گئی ہے تو سستے مکانوں کی آبادیاں کیسے بنائی جائیں گی؟
حالیہ دنوں میں آنے والے اپوزیشن رہنماؤں کے بیانات اور اعتراضات سن کر ایسا لگتا ہے کہ گزشتہ تیس سال سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے بجائے پی ٹی آئی حکومت کی باریاں لے رہی تھی اور وہ پہلے کی طرح اپوزیشن میں بیٹھے تھے۔ یہ ایک عجیب صورتحال ہے کیونکہ انہوں نے شاید یہ نہیں سوچا تھا کہ عام انتخابات میں انہیں ایسی بری شکست ہوگی۔ اب اگر میاں شہباز شریف یا دوسرے اپوزیشن لیڈر اسمبلی میں کھڑے ہو کر یہ کہتے ہیں کہ حکومت اور قومی احتساب بیورو ملے ہوئے ہیں جو اپوزیشن لیڈرز کے خلاف ظالمانہ کارروائیاں کر رہے ہیں یا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کیسز کی سماعت کر رہے ہیں یا آرمی چیف ان عدالتی کارروائیوں سے لاتعلق کھڑے ہیں یا الیکشن کمیشن پر انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگایا جاتا ہے تو ان تمام اعتراضات اور الزامات کا ایک ہی جواب ہے کہ ان تمام لوگوں کا تقرر تو مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے کیا تھا جبکہ نواز شریف، مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر کی گرفتاریاں بھی نگراں حکومت کے دور میں ہی ہوئی تھی اور جن مقدمات پر کارروائیاں ہو رہی ہیں وہ بھی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں درج کیے گئے تھے۔ گزشتہ ہفتے قومی اور صوبائی اسمبلی کی خالی ہونے والی نشستوں پر انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو لاہور سے پی ٹی آئی کے امیدواروں کے مقابلے میں کامیابی پر بہت ڈھول پیٹا گیا لیکن گزشتہ ہفتے مسلم لیگ (ن) کو بیک وقت دو تین دھچکے اس طرح لگے ہیں کہ سپریم کورٹ نے دوہری شہریت پر اس کے دو سینیٹرز کو اور ایک ممبر اسمبلی کو جعلی تعلیمی اسناد کی بنا پر نا اہل قرار دے دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی شہباز شریف بدستور احتساب بیورو کی حراست میں ہیں اور قومی اسمبلی کا اجلاس بلوانے اور اس میں اجلاس میں شہباز شریف کی شرکت کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں انہوں نے گلہ کیا کہ نیب عدالت نے صاف پانی کمپنیز کے کیس میں بلایا تھا اور آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکیم میں گرفتار کر لیا۔ پھر انہوں نے اس کیس سے متعلق اپنا موقف اسمبلی میں پیش کیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ حکومت اور نیب (نیشنل اکاؤنٹیبلیٹی بیورو) مل کر ان کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں۔ ویسے ان دنوں شبہاز شریف کے وعدہ معاف گواہ بن جانے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بتائی جا رہی ہے پنجاب کے گرفتار بیوروکریٹ احد چیمہ نے بدعنوانی کی تفصیلات بتانا شروع کر دی ہیں۔ یہ وہی بیوروکریٹ ہیں جن کی گرفتاری پر شہباز شریف نے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے پنجاب کی بیوروکریسی میں بغاوت کروانے کی ناکام کوشش کی تھی۔ کہا جا رہا ہے احد چیمہ نے وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد کی گفتاری کے بعد پول کھولنا شروع کیے ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر یہ قبول کر لیا ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف کے کہنے پر غلط کام کیے تھے۔ بہرحال یہ بیوروکریٹس کی غلطی تھی کہ انہوں نے رولز کی پابندی کرنے کے بجائے وزیروں کے زبانی احکامات پر غلط کام کیے۔ فی الحال شہباز شریف اور نواز شریف کے لیے امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والی خبر شریف برادران کے لیے نئی پریشانیاں لائی ہے۔ خبر کے مطابق دبئی کے ابراج گروپ نے کراچی پاور کمپنی کے الیکٹرک کے حصص کسی چینی کمپنی کو فروخت میں شریف برادران کی مدد حاصل کرنے کے لیے 20 ملین ڈالر کی پیشکش کی تھی۔ ادھر سندھ کے سابق صوبائی وزیر جام خان شورو کے سنگین بدعنوانی کے مقدمات میں وارنٹ گرفتاری جاری ہونے اور عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری کے واقعے کے بعد یہ واضح نظر آ رہا ہے کہ آئندہ دنوں میں سندھ میں بھی بڑی پیمانے پر گرفتاریاں شروع ہونے والی ہیں جس کی زد میں آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور اور بھائی مظفر حسین ٹپّی بھی آنے والی ہیں ۔ پیپلز پارٹی کے کئی رہنما اس خواہش کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ سیاسی رہنماؤں کی بدعنوانی وغیرہ کے معاملات عدالتوں اور تفتیشی اداروں کے سامنے نہیں بلکہ اسمبلی کی ایک کمیٹی کے سامنے جانا چاہیں۔ اس کے ساتھ ہی عام شہریوں کے اکاؤنٹس میں کروڑوں اور اربوں روپے کی ٹرانزیکشن کے انکشافات ہو رہے ہیں۔ طلبا اور شربت فروش کے بعد اب ایک رکشہ ڈرائیور اور ایک متوفی کے اکاؤنٹ میں بھی اربوں روپے کی ٹرانزیکشن کا انکشاف ہوا ہے۔ ان انکشافات کے بعد لگتا یہ ہے کہ اینٹی منی لانڈرنگ کے نئے بینکاری نظام نے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔
رواں سال کے آغاز میں لاہور کے قریب شہر قصور کی رہائشی کمسن بچی سے جنسی زیادتی کے بعد قتل کے واقعے پر بہت شور مچا تھا اور اس واقعے کے بعد نہ صرف قصور شہر میں بلکہ ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔ قصور میں احتجاج کرنے والے دو مظاہرین پولیس کی فائرنگ سے ہلاکت کے بعد حالات مزید کشیدہ ہو گئے تھے۔ شروع میں شہباز شریف کی پنجاب حکومت یہ ماننے کو تیار نہیں تھی کہ دو مظاہرین کی ہلاکت پولیس کی فائرنگ سے ہوئی ہے لیکن حکومت کی بدقسمتی یہ تھی کہ فائرنگ کی فوٹیج ٹی وی چینل پر نشر ہو گئی تھی جس کے بعد واقعے میں ملوث اہلکاروں کو فوراً گرفتار کر لیا گیا تھا۔ تاہم چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس واقعے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے اس مقدمے کی سماعت کی اور انٹیلیجنس اداروں نے چند ہی دنوں میں قاتل کو گرفتار کر لیا جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ننھی زینب کو قاتل کے ساتھ جاتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ قاتل نے بتایا کہ اس نے زینب کو اس کے والدین سے ملوانے کے لیے ساتھ چلنے کے لیے کہا تھا جو ان دنوں عمرہ کرنے گئے ہوئے تھے۔ بچی کی گمشدگی کے بعد جب پولیس کو اطلاع دی گئی تو اس نے حسب معمول اس معاملے کی ایف آئی آر درج کرنے سے گریز کیا تھا، تاہم چار پانچ دن بعد بچی کی لاش اس کے گھر سے کچھ فاصلے پر ایک کچرا خانے میں پڑی ہوئی پائی گئی تھی۔ قصور میں ہنگاموں کی وجہ یہ تھی کہ زینب سے قبل پانچ چھ کمسن بچیاں اسی طرح اغوا کرکے قتل کی جا چکی تھیں جبکہ پولیس ایسے ہی ایک قتل کے الزام میں ایک نوجوان کو ہلاک کر چکی تھی جس کے بارے میں اس کے گھر والوں کا دعویٰ ہے کہ وہ بے قصور تھا۔ تاہم اس مقدمے کا انجام قاتل عمران علی کی پھانسی کے ساتھ ہو گیا۔ لیکن لگتا یہ ہے کہ اس کیس کے بہت سے معاملات کو چھپا لیا گیا ہے۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ اس جرم میں اکیلا عمران علی ہی ملوث نہیں تھا بلکہ کچھ اور لوگ بھی تھے۔ اس کیس کے ساتھ ہی میڈیا میں ڈارک ویب کا مسئلہ بھی اٹھایا گیا تھا جس پر ایسی گھناؤنی وارداتوں کی کارروائی براہ راست دنیا بھر میں دیکھی جاتی ہیں۔ ننھی زینب کے قتل کے بعد ایسے کچھ لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا تھا جو ویب سائٹس پر پورنوگرافی فلمیں بیچنے کے مکروہ دھندے میں ملوث تھے۔

Close Menu