کرتار پور: ہند پاک تعلقات کے لیے اچھی علامت

تحریر: امتیاز متین

پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں طویل سرد مہری کے ادوار کے دوران گرم جوشی کے مختصر ادوار آتے رہے ہیں۔ اب لگتا ہے کہ پاک بھارت تعلقات میں پھر سے گرم جوشی کے ایک نئے دور کا آغاز ہونے والا ہے۔ بھارتی میڈیا کے کچھ حصے اب بھی ایسی کسی کوشش پر ناک بھوں چڑھا رہے ہیں لیکن ان کی تمام تر ہنگامہ آرائیوں کے باوجود سکھ یاتریوں کے لیے گردوارہ کرتار پور راہداری کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے۔ یہ کام بی جے پی کی حکومت کی منظوری سے کیا گیا ہے جس کی سیاست میں مسلمان اور پاکستان مخالفت پر ووٹ لینے کا رجحان موجود ہے۔ اس راہداری کے ذریعے سکھ یاتری پاکستان کا ویزہ لیے بغیر گوردوارہ کرتار پور کی زیارت کے لیے آ جا سکیں گے۔ توقع ہے کہ بابا گرو نانک کے 550ویں جنم دن پر یہ راہداری کھول دی جائے گی۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ بھارتی وزیر نوجوت سنگھ سدھو کو بی جے پی سرکار نے اپنا کوئی پیغام دے کر پاکستان بھیجا تھا لیکن جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیر اعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں نوجوت سنگھ سدھو کو کرتار پور کا راستہ کھولنے کا براہ راست پیغام دے کر بھارت کی بیک ڈور ڈپلومیسی کا رخ کسی اور سمت موڑ دیا تھا، یہ ایک ایسی بات تھی جس پر سدھو بے اختیار ہو کر جنرل باجوہ کے گلے لگ گئے تھے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہی وہ لمحہ تھا جو پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات میں ایک سنگ میل کے طور پر دیکھا جائے گا۔ نوجوت سنگھ سدھو کی پاکستان کے جنرل باجوہ کو جھپی پر بھارت میں جو لعن طعن ہوئی اس سے سکھ کمیونٹی میں سدھو کے سیاسی قد کاٹھ میں اضافہ ہوا تھا کیونکہ ہزار مخالفتوں کے باوجود سدھو اپنی جگہ ڈٹے ہوئے تھے اور بھارت سرکار پر سکھ کمیونٹی کی جانب سے کرتار پور کا راستہ کھولنے کی پیشکش کا مثبت جواب دینے کے لیے دباؤ بڑھ رہا تھا لیکن اپنے ووٹرز کو مطمئن کرنے کے لیے بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے پاکستان کے خلاف سخت زبان استعمال کرنے کے باوجود مودی سرکار نے سکھ کمیونٹی کے دباؤ کے سامنے پسپائی اختیار کرتے ہوئے نہ صرف راہداری کھولنے آمادہ ہوئی ہے بلکہ پاکستان کے ضلع نارووال میں واقع گوردوارہ صاحب کے لیے راہداری کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے اپنے وزرا نوجوت سنگھ سدھو اور ہرسمرت کور کو بھی پاکستان بھیجا ہے۔ ہرسمرت کور نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس اقدام کی تعریف کی حالانکہ کچھ عرصہ پہلے یہ ایسے کسی بھی منصوبے اور سدھو کی مخالفت میں پیش پیش تھیں۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے بھی پاک بھارت دوستانہ تعلقات کے حوالے سے کہا کہ بھارت کی جانب سے پہلے سیاسی قائدین کو کہا جاتا تھا کہ آپ تو دوستی کرنا چاہتے ہیں لیکن پاکستان کی فوج ایسا نہیں ہونے دے گی۔ تو میں اس بات کے جواب میں کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی ہماری حکومت، تمام سیاسی جماعتیں، فوج اور تمام ادارے ایک پیج پر ہیں۔ تاہم انہوں نے بھارت سرکاری کے طریقہ کار پر ہلکی پھلکی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمیں اس (دوستی) کے لیے سدھو کے وزیر اعظم بننے کا انتظار کرنا پڑے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ نوجوت سنگھ سدھو پاکستان میں اتنے مقبول ہیں کہ اگر وہ پاکستان میں اور خاص طور پر پنجاب سے الیکشن لڑیں تو کامیاب ہو جائیں گے۔ وزیر اعظم پاکستان کی ان باتوں پر غالباً بھارتی میڈیا میں زیادہ غور نہیں کیا گیا لیکن یہ سدھو کے لیے اپنی جگہ ایک پیغام ہے کہ وہ پنجاب کا وزیر بننے کے بجائے بھارت کا وزیر اعظم یا وزیر خارجہ بننے کے لیے کوشش کریں۔ جب پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹر عمران خان اپنی ایک علیحدہ جماعت بنا کر وزیر اعظم منتخب ہو سکتے ہیں تو پھر بھارت میں بھی ایسا کیوں نہیں ہو سکتا؟ یہ سوچ بہت سے بھارتی سیاستدانوں کو یقیناً ایک نئی فکر مندی میں مبتلا کر سکتی ہے کہ پاکستان کی طرح بھارت میں بھی ایک کرکٹر انگریزوں سے منتقل ہونے والی نوآبادیاتی سوچ اور روایتی سیاست کا خاتمہ کرنے کے لیے نئی سیاسی قوت بن کر ابھر سکتا ہے۔ کرتار پور کا راستہ کھل جانے سے سکھ کمیونٹی میں نوجوت سنگھ سدھو کی مقبولیت میں جو اضافہ ہوا ہے اس کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ سکھوں کے سارے ووٹ انہیں ہی ملیں گے۔ کرتار پور کا راستہ کھلنے پر پاکستان میں لوگوں کا موڈ عام طور پر خوشگوار ہے۔ ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والے لوگوں کے ذہنوں میں 1947ء کے اندوہناک واقعات کی یادوں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں اور سکھوں کی آپس کی دوستی اور مروت کے واقعات بھی یاد داشتوں میں ہمیشہ محفوظ رہے ہیں، جنہیں وہ پاکستان میں پیدا ہونے والی اپنی اولادوں کو سناتے رہے ہیں۔ شاید کرتار پور کا راستہ بھی مسلمانوں اور سکھوں کی انہی خوشگوار یادوں کے نتیجے میں کھلا ہے اور اسی وجہ سے پاکستان آنے والے سکھ یاتریوں کی ہمیشہ عزت افزائی کی جاتی رہی ہے۔ پاکستانی ٹی وی چینلز نے کرتار پور سے جن بھارتی مہمانوں کے انٹرویو نشر کیے ان کے چہروں پر خوشی دیدنی تھی۔ خود وزیر اعظم عمران خان نے بھی اپنی تقریر میں اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اگر مسلمانوں کو چار کلو میٹر دور سے مدینہ دکھا دیا جاتا تو انہیں کیسا لگتا؟ آج مجھے ان کے چہروں پر خوشی نظر آ رہی ہے۔ نوجوت سنگھ سدھو نے جہاں اپنے خطاب میں اپنے یار دلدار عمران خان کا شکریہ ادا کیا وہیں پاکستان کے جرنیلوں اور کرنیلوں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اپنا وعدہ نبھایا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ اس راہداری سے پاکستان اور بھارت کے پنجاب میں تجارت کے راستے کھلیں گے اور پہلے کی طرح پنجاب کا اناج اور سبزیاں وسط ایشیائی ریاستوں تک پہنچیں گی جس سے پنجاب کے کاشتکاروں کو فائدہ ہوگا۔ ماضی میں ایسی خبریں آتی رہی ہیں کہ بھارت کی جانب سے مختلف شخصیات نے کئی بار واہگہ بارڈر سے تجارتی راستہ کھولنے کی بات کی ہے لیکن اس بارے میں ایک عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ بھارت سرکار پاکستانی ہائی ویز پر اپنے ٹرکوں کی بلا روک ٹوک افغانستان تک رسائی چاہتی ہے، جو پاکستان میں سیکورٹی کے معاملات کی وجہ سے ایک نا ممکن بات لگتی ہے۔ تاہم مستقبل میں بھارتی مال گاڑیوں کو بھی واہگہ کے راستے پشاور اور ریلوے لائن منصوبہ مکمل ہوجانے کے کابل تک رسائی مل جائے گی۔ لیکن فی الحال اس کا بھی امکان نہیں ہے۔

دریں اثنا بھارتی آرمی چیف جنرل راوت نے جو پاکستان کے سیکولر اسٹیٹ بننے تک مذاکرات نہ کرنے کا بیان دے کر یہ واضح کر دیا ہے کہ بھارت سرکار اور سرکاری اداروں کی سیاست اور پالیسی کا محور مسلمان اور پاکستان مخالفت پر مبنی رہے گا۔ کیونکہ یہ بات انہیں بھی معلوم ہے کہ جو ملک اسلام کے نام پر بنا ہے وہ اپنی اسلامی شناخت تبدیل نہیں کرے گا۔ اگر انہیں اسلام اور اسلامی ریاستوں سے اتنے ہی مسائل ہیں تو ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک سے تعلقات ختم کرلیں اور ملکوں میں کام کرنے والے سارے غیر مسلم بھارتی شہریوں کو بھی واپس بلوا لیں۔ بھارت کا شاید ہی کوئی نیوز اور انٹرٹینمنٹ چینل ایسا ہوگا جس پر ہر روز پاکستان سے منسوب کوئی وحشت ناک خبر یا پاکستان مخالف فلم نہ دکھائی جاتی ہو۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بھارتی میڈیا میں کرتار پور راہداری کھولنے کو بھی ’’پاک ٹیرر ڈپلومیسی‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ اب یہاں لوگوں کو یہ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ کرتار پور گردوارہ کی زیارت کرنے والے سکھ پاکستان کی دہشت گردانہ سفارتکاری کا نشانہ کیسے بن جائیں گے؟ اس کے ساتھ ہی بھارتی میڈیا پر اس راہداری کو خالصتان تحریک کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے جبکہ پاکستان اسے خالصتاً کروڑوں انسانوں کے مذہبی عقائد اور مقدس مقام کی زیارت کا مسئلہ سمجھا جا رہا ہے۔ پاکستان میں بھارت سے امن قائم کرنے اور مسئلہ کشمیر حل کرنے پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے لیکن شاید بھارت سرکار اور انتہا پسندوں کو یہ لگ رہا ہے کہ پاکستانی بھارت سے امن اور دوستی کے لیے بے تاب ہو رہے ہیں۔ بات بے تابی یا بھارت سرکار کے قدموں میں جھک جانے کی نہیں ہے بلکہ برابری کی بنیاد پر تعلقات کی استواری کی ہے۔ دونوں ملکوں میں بیک ڈور ڈپلومیسی بھی چلتی ہے لیکن اجمل قصاب کا بھارتی ڈومسائل نکل آنے کے باوجود یہ کہا جاتا ہے کہ دغا باز پاکستان نے ہر بار بھارت کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔

کرتار پور راہداری کھولنے کے فیصلے پر پاکستان کے بعض مذہبی عناصر ناراض ہیں اور تشویش میں مبتلا ہیں۔ تاہم انہیں بھی سکھوں کی آمد سے تشویش نہیں ہے بلکہ اسے قادیانیوں کی سازش سمجھ رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ سکھوں کی آڑ میں یہ راستہ قادیانیوں کے لیے کھولا گیا ہے اور اس سے بھارت میں قادیان سے پاکستان میں ربوہ تک کا راستہ 45 کلو میٹر رہ جائے گا اور وہ بلا روک ٹوک یہاں آ جا سکیں گے اور قادیانیت کا پرچار کریں گے۔ اس ضمن میں سدھو کی قادیان میں ایک تقریر کا بھی حوالہ دیا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا پر اس تقریر کے کلپ بھی بھیجے جا رہے ہیں۔ لیکن لگتا یہ ہے کہ سدھو کو بھی کسی عام غیر مسلم کی طرح عقیدہ ختم نبوت اور قادیانیوں اور مسلمانوں میں فرق کا علم نہیں ہے۔ ان باتوں کے تناظر میں یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ نوجوت سنگھ سدھو اور پاکستان میں گوردوارہ کمیٹی کے سرکردہ اراکین اس بات کی یقین دھانی کروائیں کہ یہ راہداری صرف سکھ زائرین استعمال کریں گے تو پاکستان کے بعض مذہبی حلقوں کی جانب سے ظاہر کیے جانے والے خدشات ختم ہو جائیں گے۔ آئندہ برس کرتار پور راہداری کھل جانے سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے لیکن اس میں ایک بڑی قباحت یہ ہے کہ اگر بھارت کی موجودہ سیاست سے مسلمان اور پاکستان مخالف ایجنڈہ نکال دیا گیا تو بھارتی حکمرانوں کے پاس اپنے عوام کا دھیان بٹانے کے لیے کون سا مضبوط جواز باقی رہ جائے گا؟

تاشقند

تاشقند سے وطن واپسی کے وقت خیال آیا کہ اصل تاشقند تو دیکھا ھی نہیں – ھر بڑے شہر کے دو روپ ھوتے ھیں –

مکمل پڑھیے

منشا بم VS ایٹم بم

اسے کہتے ہیں ایک پنتھ دو کاج یا ایک تیر سے دو نشانے۔ چیئرمین ’’نیب‘‘ نے انسداد ِ بدعنوانی کے عالمی دن کےموقع پر ایوان

مکمل پڑھیے
Close Menu