افیون ۔۔۔ نشہ اور دوا

تحریر: امتیاز متین

ان دنوں سوشل میڈیا پر کچھ لوگ یہ پیغامات ڈال رہے ہیں کہ ملک میں نشہ کرنے اور شراب، چرس اور نشے کی دیگر اشیا بلا روک ٹوک خرید و فروخت اور استعمال کی کھلی اجازت دے دی جائے۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ بھنگ ایک جڑی بوٹی ہے لیکن پابندی کی وجہ سے یہ بلا وجہ مہنگی ہو گئی ہے۔ اسی طرح کوئی کہہ رہا ہے کہ چرس کی تجارت اور برآمد کھول دینی چاہیے اس سے زرمبادلہ حاصل ہوگا جو سودی قرضہ اتارنے کے کام آ سکتا ہے۔ غیر ملکی سودی قرضہ اتارنے ایک خادمی نسخہ تو پہلے ہی قوم تک پہنچ چکا ہے لیکن عمران خان کے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد سے سوشل میڈیا پر خصوصاً نشہ آور بیانات اور پرانی خبروں کو نئے پاکستان کی خبروں سے نتھی کرکے پیش کرنے کا خیال تواتر سے آنے لگا ہے۔ حکومت کے ابتدائی دنوں میں کسی سڑکے کے کنارے بیٹھے ہوئے ایک میلے کچیلے ہیروئنچی نے نشہ سستا کرنے اور پولیس کی مداخلت روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان باتوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی کا استعمال اب وہ لوگ بھی کرنے لگے ہیں جو پاکستانی معاشرے کے سب سے محروم طبقات میں شمار کیے جاتے ہیں۔ مخالفین کی جانب سے حکومت اور خاص طور پر وزیر اعظم عمران کا مذاق بنانے کی کوششوں سے قطع نظر ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے آفس برائے منشیات و جرائم کے اندازوں کے مطابق پاکستان میں تقریباً 67 لاکھ افراد نشہ کرتے ہیں جن میں سے 8 لاکھ افراد منشیات کے عادی ہیں۔ بھنگ اور چرس کا استعمال عام ہے جسے برا نہیں سمجھا جاتا بلکہ گاؤں دیہاتوں میں خواتین بھی یہ نشہ کرتی ہیں۔ اگر اسی نشے میں گٹکا بھی شامل کر لیا جائے تو نشہ کرنے والوں کی تعداد اقوام متحدہ کے اندازوں سے کہیں زیادہ بڑھ جائے گی۔ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ گٹکا زیادہ تر غریب اور نچلے طبقات کے لوگ کھا رہے ہیں۔ کراچی کے اطراف میں بسنے والے ماہی گیروں میں گٹکا اس قدر کھایا جا رہا ہے کہ چھوٹے چھوٹے بچوں کے دانت بھی لال نظر آتے ہیں۔ بچوں میں گٹکے کی لت لگنے کی وجہ یہ ہے کہ گٹکا کھانے کی عادی مائیں روتے ہوئے بچوں کو بہلانے کے لیے گٹکا کھلا دیتی ہیں اور سمجھدار ہونے تک بچہ گٹکا کھانے کا عادی ہو چکا ہوتا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں صرف مے نوشی کو برا اور حرام سمجھا جاتا ہے حالانکہ اسلام میں ہر قسم کے نشے کی ممانعت کی گئی ہے لیکن جہاں کسی نشے کے حرام ہونے کا معاملہ آتا ہے تو بات شراب پر آ کر رک جاتی ہے۔ لیکن مے نوشی کا جواز دینے والے یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ کھجور کی شراب منع ہے اس کا مطلب ہے کہ انگور یا دوسری چیزوں کی پی سکتے ہیں۔ تاہم پاکستانی معاشرے میں بڑھتے مختلف نشوں کے رجحان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ہلکے نشے جلد ہی ہیروئن جیسے نشے کی طرف لے جاتے ہیں اور بہت اچھے اچھے لوگوں کو ہیروئن کی ایک سگریٹ کے لیے اپنی عزت، آبرو، گھربار، خاندان اور زندگی گنواتے دیکھا گیا ہے۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ نشے کی لت کسی پاکستان کے کسی ایک طبقے تک محدود نہیں ہے بلکہ امراء کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بھی نشہ آور گولیاں، شراب نوشی، چرس اور کوکین استعمال کر رہے ہیں۔ کچھ دن پہلے کسی کالج یا مہنگے اسکول کے یونیفارم میں ملبوس ایک خوبرو طالبہ کی گاڑی میں بیٹھ کر کوکین سونگھنے کی وڈیو وائرل ہوئی ہے، اس ایک وڈیو پر تمام دولت مند والدین کو اپنے بچوں کی طرف سے ہوشیار ہو جانا چاہیے کہ تعلیمی اداروں میں کیا ہو رہا ہے، کیونکہ کوکین صرف اس لڑکی تک پہنچ سکتی ہے جس کی جیب میں اتنے کھلے پیسے ڈالے گئے ہوں۔

افیون اور الکحل دو ایسی چیزیں ہیں جو انسان ہزاروں برس سے استعمال کر رہا ہے۔ یہ دونوں چیزیں نشہ بھی ہیں اور دوا بھی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے سمیریا تہذیب کے لوگوں نے افیون کا بطور دوا استعمال کیا اور پھر قدیم مصری تہذیب میں بھی اسے دوا کے طور پر استعمال کیا گیا۔ قرون وسطیٰ کی اسلامی تہذیب میں بھی افیون بطور دوا استعمال کی جاتی رہی ہے، جبکہ 1757ء میں جنگ پلاسی میں فتح حاصل کرنے کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی پر افیون کی پیداوار اور برآمدات پر اپنی اجارہ داری قائم کی تھی اور یہ انگریزوں کا بہت بڑا منفعت بخش کاروبار تھا جس سے ایسٹ انڈیا کمپنی مضبوط ہوئی تھی۔ پاکستان دنیا کے ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں کا موسم اور زمین پوست کی کاشت یا افیون کی پیداوار کے لیے موزوں ہے۔ لیکن اس خطے کی مشکل یہ رہی ہے کہ افیون کو فارماسوٹیکل کمپنیوں کی رجسٹرڈ دوائیں بنانے کے بجائے چرس، ہیروئن اور کوکین وغیرہ جیسے خطرناک نشے بنانے اور بیرون ملک اسمگل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اگر یہی افیون ادویہ سازی کے لیے استعمال کی جائے تو پاکستان ہر سال اربوں ڈالر کا زرمبادلہ کما سکتا ہے۔ دنیا بھر میں استعمال ہونے والی سکون بخش ادویہ اور بعض پین کلرز میں افیون یا دوسری نشہ آور جڑی بوٹیوں اور پھلوں کا ست استعمال کیا جاتا ہے۔ حکومت اگر اس ضمن میں دلچسپی لے تو ایسی ادویہ کی ایک طویل فہرست سامنے آ سکتی ہے جن میں نشہ آور اجزا شامل ہوتے ہیں، جو کھانسی کے شربت سے لے کر خواب آور گولیوں تک اور خاص طور پر کسی بھی آپریشن سے پہلے اور بعد میں درد سے آرام دلانے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ کینسر جیسے موذی امراض میں مبتلا افراد کی تکلیف کی شدت کم کرنے کے لیے بھی نشہ آور ادویہ استعمال کی جاتی ہیں۔ آسٹریلیا کے جنوبی ساحلی علاقے تسمانیا میں افیون کے باقاعدہ فارم بنائے گئے ہیں جن پر حکومت کا سخت کنٹرول ہے، 2014ء میں یہاں قائم فارماسوٹیکل کمپنیوں نے 12 ارب ڈالر افیونی پین کلرز بنائے تھے جبکہ ہزاروں ایکٹر پر پھیلے ہوئے افیون کے فارمز کو بھی 80 ملین ڈالر کی آمدنی ہوئی تھی، چند سال پہلے تسمانیا کے کسانوں نے 1600 ڈالر فی ایکٹر پیداوار فروخت کی تھی جو کسی بھی دوسری فصل سے کہیں زیادہ رقم تھی۔ تاہم گزشتہ دو تین سال سے امریکہ کی ڈرگ پالیسی میں کچھ تبدیلیاں آئی ہیں جس کی وجہ سے افیون کی پیدوار میں کمی آئی ہے لیکن پھر بھی تسمانیہ میں 20 ہزار ایکٹر پر پوست کی کاشت کی گئی ہے جبکہ قیمتوں میں بھی کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ تسمانیا پوست کے پھول پر ریسرچ کی گئی ہے اور اسی مختلف اقسام بنائی گئی ہیں۔ اس وقت دنیا بھر کی ادویہ سازی کی صنعت اس بات سے پریشان ہے کہ انہیں نشہ آور ادویہ سازی کے لیے بنیادی نشہ آور اجزا کے حصول کے لیے صرف تسمانیا پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ دوسرے یہ کہ انٹرنیشنل نارکوٹکس کنٹرول بورڈ کو ایک جگہ پر نشہ آور ادویہ کے ذخیرہ کرنے پر تشویش ہے کیونکہ غلط ہاتھوں میں پہنچ جانے پر یہ ادویہ ہیروئن بنانے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔ رواں سال مئی کے مہینے میں خبر آئی تھی کہ پنجاب کی سرکاری opium alkaloid فیکٹری کھول دی گئی ہے تاہم اس کی پیدوار محدود ہے۔ پاکستان میں دنیا کی بڑی ملٹی نیشنل فارماسوٹیکل کمپنیوں کے مینوفیکچرنگ یونٹس موجود ہیں جن کے ساتھ مل opiate alkaloid بنانے اور برآمد کرنے کے کسی منصوبے پر کام کیا جائے تو اس سے نہ صرف زرمبادلہ خرچ کیے بغیر پاکستان کی مقامی ضروریات پوری ہو سکیں گی بلکہ دوسرے ملکوں کو یہ برآمد کی جا سکے گی۔ اس وقت امریکہ، ترکی اور بھارت سے بڑے پیمانے پر افیونی خام مال خریدتا ہے جو پین کلرز اور دوسری ادویہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ اسپین میں بھی افیون کی پیداوار بڑھ گئی ہے۔ اگر پاکستان بھی ایسی خام ادویہ یا دوسرے پین کلرز یا بے ہوشی کی ادویہ کی پیداوار اور برآمدات شروع کرنے کی طرف توجہ دے تو سالانہ کروڑوں ڈالر کا زرمبادلہ کمانے کے ساتھ ساتھ تکلیف میں مبتلا مریضوں کو آرام پہنچانے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

تاشقند

تاشقند سے وطن واپسی کے وقت خیال آیا کہ اصل تاشقند تو دیکھا ھی نہیں – ھر بڑے شہر کے دو روپ ھوتے ھیں –

مکمل پڑھیے

منشا بم VS ایٹم بم

اسے کہتے ہیں ایک پنتھ دو کاج یا ایک تیر سے دو نشانے۔ چیئرمین ’’نیب‘‘ نے انسداد ِ بدعنوانی کے عالمی دن کےموقع پر ایوان

مکمل پڑھیے
Close Menu