فکر دل دارئ گلزار کروں یا نہ کروں؟

تحریر: آفتاب اقبال

فکر دل دارئ گلزار کروں یا نہ کروں
ذکر مرغان گرفتار کروں یا نہ کروں
ہفتہ ۔۔۔۔ شام چار بجے۔
گاڑی پارک کرکےقدم باہر رکھا ہی تھا کہ کوئی قریب آکر زور سے بولا۔ کشتی چاہئیے۔ سستا ریٹ لگا دیں گے۔ لمبا راؤنڈ دیں گے۔ بنی گالا تک۔ بولو چلنا ہے۔ میرا ارادہ نہیں تھا۔ انکار کرکے آگے بڑھ گیا۔ راول ڈیم کی جھیل ابھی نصف کلومیٹر دور تھی۔ چابی جیب میں ڈالی اور چند قدم آگے چلا تو پھر یہی لفظ گونجے۔ پھر کسی اور نے کہے۔ کسی اور نے۔ پھر کسی اور نے۔ اور کسی اور نے۔ یکے بعد دیگرے آوازیں بدلتی گئیں۔ جملے وہی رہے۔ نصف کلومیٹر کا رستا نفی میں سر ہلاتے گزر گیا۔ میں جھنجھلا گیا۔ مرغانِ گرفتار کی سیرگاہ بھی بے زاری میں گزر گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قصۂ سازش اغیار کہوں یا نہ کہوں
شکوۂ یارِ طرح دار کروں یا نہ کروں
باغباں برق و شرر سے جا ملیں توچمن کی خاکستری کا شکوہ کیسا ۔ میں نے دوُر سے دیکھا۔ جھیل کے جھلملاتے پانی میں سورج اور پاکستان کا قانون بیک وقت ڈوب رہے تھے۔ بظاہر سب کچھ بہت اچھا تھا۔ رومانوی۔ کیف آگیں۔ فرحت بخش۔ مگر کیا واقعی۔ دل میں سوچا۔ یا مظہر العجائب۔ کیا ماجرا ہے یہ۔ ابھی چند قدم پیچھے ہی تو قدِ آدم بورڈ پر لکھا دیکھا تھا۔ دفعہ 144 نافذ ہے۔ جھیل میں کشتی چلانا، مچھلی پکڑنا اور تیراکی کرنا منع ہے۔ سرنامے پر مقتدرہ جلیلہ کی مہر بھی خوب واضح تھی۔ سی ڈی اے۔ مگر یہ کیا ۔۔۔ چند قدم کی مسافت میں ہی نقشہ الٹ گیا۔ دیکھتا ہوں کہ جھیل کنارے کئی کشتیاں کھڑی تھیں۔ کچھ خالی تھیں۔ کچھ میں مسافر بیٹھ رہے تھے۔ لڑکیاں بالیاں ہنستی مسکراتی، گرتی سنبھلتی، دبی دبی چیخیں اور ڈری ڈری آوازیں لگاتی۔ ڈولتی ڈگماتی کشتیوں میں بیٹھ رہی تھیں۔ یہی نہیں، جھیل کے درمیان بھی درجنوں کشتیاں رواں تھیں۔ میں الجھن میں پڑگیا۔ کیا کہوں اس تغافل کو۔ کیا شکوہ یار طرح دار کروں ۔۔ نہ کروں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جانے کیا وضع ہے اب رسم وفا کی اے دل
وضع دیرینہ پہ اصرار کروں یا نہ کروں
دیکھتا رہ گیا تھا۔ سمجھ سے بالاتر تھی وہ رسمِ وفا جو یاروں نے ادھر استوار کررکھی تھی۔ درجنوں خاندان۔ سیکڑوں لوگ آس پاس موجود۔ مگر جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ کہیں کچھ غلط تھا ہی نہیں کسی کے لیے۔ سب کچھ معمول کے مطابق۔ قانون کے دائرے میں۔ ضوابط کے تحت۔ کوئی اندیشہ نہیں۔ کسی کو فکرِ احتساب نہیں۔ سب جانتے تھے۔ یہ غلط ہورہا ہے۔ ایسا نہیں کہ کسی نے وہ انتباہ نہیں دیکھا ہوگا۔ سب نے دیکھا تھا۔ مگر نظرانداز کردیا تھا۔ وضعِ دیرینہ پر اصرار کون کرے۔ وضعِ نو نے جو چہار جانب بے فکری اور بے پرواہی بچھا رکھی تھی۔ قانون تو ہوتا ہی توڑنے کے لیے ہے۔ بس جیب میں پیسے ہونے چاہئیں۔
۔۔۔۔۔۔
جانے کس رنگ میں تفسیر کریں اہل ہوس
مدح زلف و لب و رخسار کروں یا نہ کروں
عرصہ ہوا عوام میں جاکر دل خوش کیے۔ جو گزرتے ہیں داغ پرصدمے۔ آپ قبلہ نما کیا جانیں۔ اس شام بھی قدم قدم رنج ساتھ رہا۔ راول ڈیم پارک کم، بوچڑ خانہ زیادہ نظر آیا۔ جابجا ناجائز اسٹالز قائم۔ غیرقانونی جھولے۔ مانگنے والوں کی بہتات ۔ سوچا۔ لعنت بھیجو۔ پارک میں آئے ہو تو خوش رہو۔ انجوائے کرو۔ دیکھو سب خوش ہیں۔ تمہیں کیا پڑی ہے۔ اپنی نبیڑو۔ تم خدائی فوجدار تو نہیں۔ مگر یہ سوچ کچھ دیر ہی باقی رہ سکی۔ یار لاقانونیت کو کہاں تک سہا جائے۔ یہ کیا طرفہ تماشا ہے کہ کھلے عام انتباہ بھی۔ قانون کا مذاق بھی۔ ممانعت بھی۔ اجازت بھی۔ ضابطے بھی۔ سرکشی بھی۔ یہ سب یونہی تو نہیں جاری تھا۔ کہیں تو کوئی اس بے خوفی کے دام کھرے کررہا ہوگا۔ اس چشم پوشی کی قیمت کسی کی مٹھی میں حرارت تو پیدا کررہی ہوگی۔ میں سوچتا رہ گیا۔ کیا لاقانونیت کی تصویریں بناؤں؟۔ فیس بُک پر ڈالوں؟۔ کیا مافیا کو سامنے لاؤں؟۔ لیکن یہ مافیا تو پہلے ہی سب کے سامنے ہے۔ دن کے اجالے میں۔ سب کی آنکھوں کے سامنے کام کررہی ہے۔ کشتیاں انوزیبل تو نہیں۔ چپو کی کشتی سے لے کر پیڈل بوٹ اور اسپیڈ بوٹ تک سب چل رہا ہے۔ پھر اِس زلف و لب و رخسار کی مدح میں ہی کیوں کروں؟ کیوں زیاں کار بنوں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یوں بہار آئی ہے امسال کہ گلشن میں صبا
پوچھتی ہے گزر اس بار کروں یا نہ کروں
نیا پاکستان کہتے ہیں بن گیا ہے۔ گلشن میں صبا کی آمد کی نوید بھی سنائی گئی تھی۔ شاید ابھی راول ڈیم تک نہیں پہنچی کیونکہ ادھر تو اب بھی وہی ہےنظمِ بست و کشاد۔ ۔ شاید کچھ دن میں پہنچ جائے۔ مگر دلِ پُرمژدہ کو کچھ زیادہ گمان نہیں۔ یہاں کبھی ایک نام نہاد دروازہ لگا یا گیا تھا جو بند ہے۔ مگر یاروں نے اس کی ایک جانب سے دیوار توڑ کررستا بنادیا ہے ۔ شمع خیمہ کوئی زنجیر نہیں ہم سفراں ۔۔ جس کوجانا ہے چلا جائے اجازت کیسی!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گویا اس سوچ میں ہے دل میں لہو بھر کے گلاب
دامن و جیب کو گل نار کروں یا نہ کروں
بڑی دیر الجھن میں رہا۔ پھر اپنا موبائل فون نکال کر کچھ تصویریں بنا ڈالیں۔ دلِ خوش فہم کو اب تک ہیں امیدیں۔ ممکن نہیں کہ شامِ الم کی سحر نہ ہو۔ شاید اس تلخ نوائی کو کسی کی نظر ڈھونڈ لے۔ سب برے تو نہیں ہیں۔ کہیں تو کوئی ہوگا جس کا مفاد اس تماشے سے نہیں۔ اسی امید پر تو جی رہے ہیں ہجر کے مارے ۔۔۔۔کبھی تو رُخ سے اٹھے گی نقاب آہستہ آہستہ !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہے فقط مرغ غزل خواں کہ جسے فکر نہیں
معتدل گرمئ گفتار کروں یا نہ کروں
گُلوں کی چاہ کا سودا ابھی سر میں ایسا نہیں سمایا ہے کہ کانٹوں سے بھی نباہ کو تیار ہوجاؤں۔ آنکھوں دیکھی کون نگِلتا ہے۔ یہ لاقانونیت یا تو ختم کی جائے یا قانون ختم کیا جائے۔ راول ڈیم کا پانی شاید میں بھی پیتا ہوں۔ وہی پانی جس میں پاکستان کا قانون دو سو روپے میں ڈوب جاتا ہے!۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تاشقند

تاشقند سے وطن واپسی کے وقت خیال آیا کہ اصل تاشقند تو دیکھا ھی نہیں – ھر بڑے شہر کے دو روپ ھوتے ھیں –

مکمل پڑھیے

منشا بم VS ایٹم بم

اسے کہتے ہیں ایک پنتھ دو کاج یا ایک تیر سے دو نشانے۔ چیئرمین ’’نیب‘‘ نے انسداد ِ بدعنوانی کے عالمی دن کےموقع پر ایوان

مکمل پڑھیے
Close Menu