بوڑھا ۔۔۔ گورا ۔۔۔ مرد!

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: آفتاب اقبال

خواب گرفتارِ حقیقت تو نہیں ہوتے۔
لیکن اگر آپ نے نوبل انعام جیتنے کا خواب دیکھا ہے تو پھر ان حقائق کو بھی پڑھ لیں۔
جب سے ان کا آغاز ہوا ہے (تقریباً ایک سو اٹھارہ سال سے یہ جاری ہیں)، تب سے اب تک 896 افراد اور 27 اداروں کو نوبل انعام دیا جاچکا ہے۔ 
مگر ان میں سے اکثریت میں تین مشترک خواص ہیں۔
بیشتر بوڑھے ہیں، مرد ہیں اور گورے ہیں۔
عورتیں اس فہرست میں اتنی ہی ہیں جتنا محاورے کے مطابق آٹے میں نمک۔
گزشتہ دنوں کینیڈا کی ماہر طبعیات ڈونا اسٹرکلینڈ کے لیے طبعیات کا اعزاز ملا کر، اب تک صرف 51 عورتوں کو ہی نوبل انعام ملا ہے۔
گنا جائے تو پتا چلتا ہے کہ نوبل انعام جیتنے والے مردوں کی تعداد 854 ہے۔
فی صد مقدار میں یہ شرح کچھ یوں بنتی ہے۔ مرد (94.5) ۔۔۔ عورتیں (5۔5) ۔۔۔
یعنی ہر 17.1 مرد کے بعد ایک عورت۔
جینڈر، فیمینزم، ایکویلٹی جیسی بہت سی ہل چل مچانے کے بعد بھی ہم یہاں تک پہنچے ہیں۔
جہاں آج بھی نوبل انعام لینے کے لیے بوڑھا، گورا، مرد ہونا ضروری ہے۔
البتہ ہماری عورت کو تھوڑا سا استثناء ملا ہے۔
اگر وہ سر میں گولی کھالے اور بچ جائے تو پھر ان شرائط کا اطلاق نہین ہوگا!

Close Menu