بلاعنو ان

تحریر: حسن نثار

پنجابی کا ایک محاورہ ہے۔ ’’پڑ پیا تے ساک گیا‘‘ یعنی پڑ دادا اور پڑنانا کے ساتھ کوئی رشتہ کوئی جذباتی وابستگی نہیں ہوتی کیونکہ جذباتی لگائو کے لئے ایسوسی ایشن ضروری ہوتی ہے اور پڑدادے پڑنانے بھلا کس نے دیکھے ہوتے ہیں اور انسان نے جنہیں دیکھا اور محسوس ہی کبھی نہ کیا ہو، ان کے ساتھ جڑت، اپنائیت اور وابستگی کیسی؟اس محاورے کو الٹا کر دیکھیں تو یہ سمجھنے میں بھی خاصی آسانی ہو جاتی ہے کہ انسان کا اولاد، اولاد کی اولاد کے بعد رشتہ گھٹنا اور گہنانا شروع ہو جاتا ہے۔ بندہ پوتے کے پوتے کا کبھی سوچتا تک نہیں اور یہی بات اس کے رویے مسخ کر کے اسے اپنی ہی نسلوں کے رستوں میں زہریلے کانٹے بچھانے پر مجبور کر دیتی ہے ورنہ انسان یقیناً اپنی ’’حاضر‘‘ اور ’’فوری‘‘ دو تین نسلوں کا ہی نہ سوچے اور پھر دور تک کی یہی وہ سوچ ہے جو انسان کو ایک بہتر، مثبت، منصفانہ، خوشحال، صحت مند معاشرہ کے قیام کے لئے انسپائر کرتی اور اکساتی ہے بصورت دیگر طاقتور ترین، دولت مند ترین، با اثر ترین انسان کو بھی اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی کہ اس کی آئندہ نسلیں بھی محفوظ و مامون رہیں گی۔ماضی قریب کی صرف تین مثالیں دیکھ لیں۔ خلافت عثمانیہ نے تین براعظموں پر حکومت کی لیکن آل عثمان کا انجام خون کے آنسو رلا دیتا ہے۔ کسی کو چندے کی

رقم سے کفنایا دفنایا گیا، کوئی بس کنڈکٹری کرتا کرتا گمنامی کے عالم میں مر کھپ گیا اور آل عثمان میں سے ایک شہزادی اپنی ذاتی ڈائری میں یہ لکھنے پر مجبور ہوئی کہ ’’کبھی ہم تین براعظموں کے حکمران تھے لیکن آج ہمارا نہ کوئی وطن ہے کہ ہم سب جلا وطن کر دیئے گئے نہ ہمارا کوئی شہر ہے نہ گھر بار‘‘ آخری مغل حکمران کی حالت تو ہم سب کے سامنے ہے جو خود لکھتا ہے۔ ’’دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں‘‘۔ مغل شہزادے پکڑے اور مارے جانے کے خوف سے وہ پیشے اپنانے پر مجبور ہوئے کہ الامان الحفیظ۔ شہزادیوں کو باورچیوں سے شادیاں کرنا پڑیں۔ ایران کے صفویوں کا ایک شہزادہ مجھے کیلگری (کینیڈا) میں ملا جو وہاں انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہا تھا اور میں نہیں جانتا کہ آج شاہ ایران، عیدی امین، فاروق، صدام حسین، معمر قذافی، زین العابدین وغیرہ کی اولادیں، اگر ہیں تو کہاں کس حال میں ہیں یعنی دور تک کا تحفظ اندھی طاقت اور دولت میں نہیں۔ اک ایسے متوازن، محفوظ، منصفانہ، عادلانہ، فلاحی معاشرہ میں ہے جو انسان کو بنیادی سہولیات و ضروریات مہیا کرنا یقینی بنا سکے۔اسی لئے دین کامل کا سیاسی و مالیاتی ہدف یہ ہے کہ ’’طاقت‘‘ اور ’’دولت‘‘ چند ہاتھوں میں مرتکز نہ ہونے پائے۔ انسان کے لئے اس سے بڑی ہدایت، اس سے بڑا پیغام کیا ہو سکتا ہے کہ جب چند لوگوں کے پاس ضرورتوں سے بہت زیادہ مال جمع ہو جائے تو جان لو بیشمار انسان بنیادی ضرورتوں سے بھی محروم رہ گئے ہیں (مفہوم)بیشک انسان خسارے میں ہے کیونکہ وہ دو چار نسلوں کے اس پار دیکھ ہی نہیں سکتا۔ واقعی صرف قبر کی مٹی یا چتا کی راکھ ہی اس کی طمع کا پیٹ بھر سکتی ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس دنیا میں ہر کسی کی ضرورت کے لئے سب کچھ ہی کافی ہے لیکن یہ ساری دنیا صرف ایک انسان کی ہوس کے لئے بھی ناکافی ہے۔مجھے یہ ساری باتیں ایک حالیہ تقریب میں وزیراعظم کی تقریر سن کر یاد آئیں۔ 375ارب کے جعلی اکائونٹس؟ برسہا برس کی لگاتار لوٹ مار؟ ہم جیسوں اور ان جیسوں میں سے کوئی ایک تو یقیناً پاگل، ابنارمل ہے ورنہ وہ اس طرح نہ سوچتے جیسے سوچتے ہیں اور ہم اس طرح نہ سوچ رہے ہوتے جیسے سوچ رہے ہیں۔مجھے آج بھی کبھی کبھی امیلڈ امارکوس یاد آ جاتی ہے کہ جب وہ اپنے مرد آہن کے ساتھ ملک چھوڑ کر فرار ہوئی تو اپنے پیچھے بیشمار بیش قیمت ملبوسات کے علاوہ ہزاروں قیمتی جوتے بھی چھوڑ گئی اور مجھے آج بھی خیال آ جاتا ہے کہ وہ بی بی اتنے جوتوں کا کرتی کیا ہو گی۔ اس سلسلہ میں ایک ذاتی غریبانہ سا تجربہ بھی قابل ذکر ہے تقریباً 2پونے دو عشرے قبل یحییٰ بختیار مرحوم نے کوئٹہ میں کیس کر دیا جو شاید دو تین سال ان کی وفات تک چلتا رہا۔ ہر ڈیڑھ دو ماہ بعد پیشی پر کوئٹہ جانا پڑتا جو مجھ جیسے سفر چور کے لئے کسی عذاب سے کم نہ تھا۔ میں صبح کی فلائٹ سے کراچی جاتا، کچھ دیر ایئر پورٹ پر ہونقوں کی طرح وقت کاٹ کر کراچی سے کوئٹہ پہنچتا۔ اگلے روز عدالت میں پیشی بھگتا کر اسی شام کوئٹہ سے اسلام آباد کی فلائٹ لے کر اسلام آباد سے رات تک گھر پہنچ جاتا۔ کوئٹہ میرے لئے مکمل طور پر اجنبی شہر تھا۔ اس چھوٹے سے شہر میں شام مٹر گشت کے دوران فرسٹریشن کے مارے ایک دو چپلیں خرید لیتا۔ ڈیڑھ دو سال میں چپلوں کا ڈھیر لگ گیا۔ ڈیڑھ دو سال بعد دیکھا تو سر پکڑ کے بیٹھ گیا اور اپنی اہلیہ سے کہا ’’یہ رنگ برنگی بلوچی چپلیں میرے سر پہ مارو یا انہیں ادھر ادھر بانٹ کر میری جان چھڑائو‘‘اچھا مسافر وہ ہے جو بنیادی ضرورتوں پر مشتمل کم سے کم سامان کے ساتھ سفر پر روانہ ہو ورنہ ایکسس بیگیج کا جرمانہ دینا پڑتا ہے اور زندگی کے سفر میں یہ جرمانہ نسلوں کو چکانا پڑتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

تاشقند

تاشقند سے وطن واپسی کے وقت خیال آیا کہ اصل تاشقند تو دیکھا ھی نہیں – ھر بڑے شہر کے دو روپ ھوتے ھیں –

مکمل پڑھیے

منشا بم VS ایٹم بم

اسے کہتے ہیں ایک پنتھ دو کاج یا ایک تیر سے دو نشانے۔ چیئرمین ’’نیب‘‘ نے انسداد ِ بدعنوانی کے عالمی دن کےموقع پر ایوان

مکمل پڑھیے
Close Menu