سولر انرجی ….. نئی تحقیق

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: سرگوشی نیوز ڈیسک

جب سے عالمی حدت کے اضافے، اور تیل اور گیس کے بڑھتے ہوئے استعمال اور کارخانوں سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں دنیا بھر میں ماحولیاتی تباہی مچائی ہے اور جیسے جیسے اس تباہی سے بچنے کا شعور دنیا بھر میں بڑھتا جا رہا ہے ویسے ویسے گرین ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری اور ریسرچ کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ گوکہ ابھی اس شعبے میں سرمایہ کاری کی سطح اس حد تک نہیں پہنچی ہے جو تیل اور گیس کے شعبے میں کی گئی ہے اور نہ ہی اس وقت سولر ٹیکنالوجی اتنی ترقی یافتہ ہوئی ہے کہ اسے مکمل طور پر فاسل فیول کے نعم البدل کے طور پر استعمال کیا جانے لگے۔ تاہم سولر انرجی کے شعبے تحقیق اور ترقی کا کام جاری ہے۔
سنگاپور یونیورسٹی آف ڈیزائن اینڈ ٹیکنالوجی (SUTD) کے محققین نے ایک ایسا سستا نینو میٹریل تیار کیا ہے جو شمسی توانائی کو بجلی میں تبدیل کر سکتا ہے۔ اس مٹیریل کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی لچکدار پلاسٹک جیسے دوسرے میٹریلز پر بھی کوٹنگ کی جا سکتی ہے۔ اس نینو مٹیریل سے سولر سیلز کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ اسے روم ٹیمپریچر پر بھی کام میں لایا جا سکتا ہے اور اسے کھڑکیوں کے شیشیوں پر بھی لگایا جا سکتا ہے۔
اسی طرح یونیورسٹی آف ہیمپشائر میں ایک ایسی تحقیق کی جا رہی ہے جس کے تحت نہ صرف شمسی توانائی کو بجلی میں تبدیل کیا جا سکے گا بلکہ کسی بھی سرسبز پودے کے پتے کی طرح کاربن ڈائی آکسائڈ کو آکسیجن میں تبدیل کیا جا سکے گا۔ پتے میں ہونے والے اس عمل کو فوٹو سینتھیسس کہا جاتا ہے۔ امریکن کیمیکل سوسائٹی کے جرنل میں شائع ہونے والی اسٹڈی میں کہا گیا ہے کہ فوٹوسنتھسس کی طرح سورج کی روشی کو انرجی میں تبدیل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ محققین ایسا نیا اور سستا مٹیریل تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو سورج کی روشنی سے کاربن ڈائی آکسائڈ کی کیمیائی ساخت کو توڑ دے۔ اس عمل کو عام طور پر مصنوعی فوٹوسنتھسس کہا جاتا ہے۔
Close Menu