یار مجبوریاں سمجھا کرو

تحریر: وسعت اللہ خان

حضرت موسی پاک شہید گیلانی کے روحانی وارث مخدوم یوسف رضا گیلانی کے پر دادا انیس سو دس کے وائسرائے دہلی دربار میں مدعو تھے۔ دادا متحدہ ہندوستان میں مجلسِ قانون ساز کے رکن رہے۔والد صوبائی وزیر اور آپ خود محمد خان جونیجو کی کابینہ میں اور پھر بینظیر بھٹو کی دونوں حکومتوں میں وزیر اور پھر صدر آصف علی زرداری کے وزیرِ اعظم رہے۔

حضرت بہاؤ الدین زکریا کے آٹھ سو سالہ سلسلے کے وارث مخدوم شاہ محمود قریشی کے دادا متحدہ ہندوستان میں ملتان کی ضلع سیاست کے ستارے، والد مخدوم سجاد حسین قریشی پاکستان بننے کے بعد ہر قابلِ ذکر اسمبلی کے رکن اور پھر جنرل ضیا کے دور میں گورنر پنجاب تھے۔

خود شاہ محمود قریشی انیس سو پچاسی کے غیر جماعتی انتخابات سے ابھرنے والی مسلم لیگ اور پھر مسلم لیگ نواز اور پھر پیپلز پارٹی اور پھر تحریکِ انصاف میں ملتان کی ضلع سیاست سے لے کر دوسری بار وزیر خارجہ بننے تک کون سا ایسا اہم صوبائی، وفاقی یا جماعتی ذائقہ اور رسوخ یا اہم عہدہ ہے جس سے آشنا نہ ہوں۔

مخدوم خسرو بختیار کے تایا ایوب خان کابینہ میں رہے، عم زاد پیپلز پارٹی کی ہر حکومت میں وزیر رہے۔ خود آپ نے انگلستان سے پڑھائی مکمل کرنے کے بعد مسلم لیگ ن سے سیاسی اپرنٹس شپ شروع کی اور صوبائی اسمبلی سے ہوتے ہوئے براستہ پرویز مشرف و شوکت عزیز مسلم لیگ ق اور پھر ن اور پھر جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے ٹریکٹر پر بیٹھ کر تحریکِ انصاف کی پارکنگ لاٹ میں آگئے آج کل وزیرِ منصوبہ بندی ہیں۔

مگر ان تینوں میں ایک قدرِ مشترک ہے۔ یہ سب جنوبی پنجاب کا صوبہ بنانا چاہتے ہیں۔ یوسف رضا گیلانی اپنی وزارتِ عظمی میں یہ کام نہ کر پائے۔ ان کی پیپلز پارٹی کو دو ہزار تیرہ کے انتخابات سے ذرا پہلے یاد آیا کہ جنوبی پنجاب صوبہ بننا چاہیے اور اس کے لیے قومی اسمبلی میں قرار داد بھی منظور کروا لی۔ مگر جنوبی پنجابی نے کان دھرنے کے بجائے پیپلز پارٹی کو وعدہ خلافی پر انتخابی صفائے کی شکل میں سخت سزا دی۔

مسلم لیگ نواز کی تیسری حکومت کے پانچ برس مکمل ہونے سے ایک ماہ پہلے خسرو بختیار اور ان کے ہم نوا سات دیگر پارلیمنٹریننز کو اچانک یاد آیا کہ لیگی حکومت جنوبی پنجاب صوبہ کبھی نہ بننے دے گی۔ چنانچہ اس سال نو اپریل کو اچانک سے مسلم لیگ نواز سے ایک پارلیمانی دھڑا الگ ہوا اور اس نے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ پیدا کر دیا۔

اس کی پیدائش کے بیس روز بعد تحریکِ انصاف نے مینارِ پاکستان کے سائے میں جلسہ کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ برسرِ اقتدار آتے ہی جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانے کا کام شروع ہو جائے گا۔

چنانچہ خسرو بختیار گروپ نے اس یقین دہانی پر جنوبی پنجاب کے ’’عظیم تر مفاد‘‘ کو دیکھتے ہوئے تحریکِ انصاف میں شمولیت اختیار کر لی۔ مگر جب تحریکِ انصاف کا منشور آیا تو اس میں بس اتنا لکھا گیا کہ جنوبی پنجاب کو ایک الگ صوبہ بنانے کی کوشش تیز کی جائے گی۔

ایک واضح وعدے کو گول مٹول بنانے کے باوجود جنوبی پنجاب سے تحریکِ انصاف کو اتنی مطلوبہ سیٹیں مل گئیں کہ وہ مرکز اور پنجاب میں حکومتیں بنا سکے۔ خسرو بختیار اس وقت وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی ہیں۔ عمران حکومت کے سو دن کے کارکردگی نامے میں جنوبی پنجاب کے آگے خاموشی درج ہے۔

ویسے بھی انتخابات کے بعد سے خسرو بختیار اور راوی کو اس بابت چپ لگی ہوئی ہے۔ کوئی ٹیڑھا صحافی بہت ہی زیادہ کُریدے تو جواب ملتا ہے اس معاملے پر سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔یہ واحد معاملہ ہے جس میں پی ٹی آئی سولو فلائٹ لینے کے بجائے اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

تازہ ترین مژدہ تحریکِ انصاف کے وائس چیئرمین اور وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے سنایا کہ ان کی جماعت تو چاہتی ہے جنوبی پنجاب صوبہ بنے تاہم اس راہ میں کچھ قانونی رکاوٹیں ہیں۔ دیگر جماعتوں سے بھی بات چیت کی ضرورت ہے۔

البتہ آئندہ برس سے جنوبی پنجاب کی محرومیوں کے ازالے کے لیے علیحدہ ترقیاتی پروگرام تشکیل دیا جائے گا اور شہریوں کی انتظامی آسانی کے لیے ملتان میں ایک علیحدہ سیکرٹیریٹ قائم ہو گا تاکہ جنوبی پنجاب کے باسیوں کو روزمرہ کاموں کے لیے لاہور نہ جانا پڑے۔ شاہ محمود کے اس بیان کا آسان ترجمہ یہ ہے کہ یار ہماری مجبوریاں سمجھنے کی کوشش کرو۔

مجھے نہیں معلوم کہ شاہ محمود کو ایسی کون سی قانونی مجبوریاں نظر آ گئیں جو انتخابی مہم کے دوران وعدے کرتے ہوئے نظر نہ آ سکی تھیں۔ آئین میں تو یہی لکھا ہے کہ اگر کسی صوبے کی اسمبلی اپنی حدود میں انتظامی رد و بدل کی دو تہائی اکثریت سے منظوری دیدے تو اس کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ میں آئینی ترمیم کے لیے علیحدہ علیحدہ دو تہائی اکثریت سے صوبے کی حدود میں رد و بدل ہو سکتا ہے۔

شاہ صاحب یہ بتانا بھول گئے کہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون، ایم کیو ایم، اے این پی، جے یو آئی، جماعت اسلامی، بلوچستان نیشنل پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی، پختون خوا ملی عوامی پارٹی سمیت کون سی ایسی قابلِ ذکر جماعت ہے کہ جس کی مخالفت کا ڈر ہے۔ اب تو آصف زرداری بھی اس معاملے میں پی ٹی آئی حکومت کو طنز کی انی پر رکھ رہے ہیں۔ حالانکہ خود ان کے دور میں بھی جنوبی پنجاب کی بات زبانی جمع خرچ سے آگے نہ بڑھ پائی۔

جنوبی پنجاب کی صوبہ سازی کے بجائے علیحدہ ترقیاتی بجٹ کی نوید سنانے پر ایک قصہ سن لیجیے۔شاہ محمود کی طرح کا ہی ایک نمبردار تھا۔ اسے پہلی عالمی جنگ شروع ہونے کے بعد انگریز ڈپٹی کمشنر کی طرف سے حکم ملا کہ گاؤں کے تمام صحت مند نوجوانوں کو فوج میں بھرتی کے لیے راغب کرو۔

نمبردار نے ڈھنڈورا پٹوا دیا مگر کوئی خاطر خواہ اثر نہ ہوا۔ نمبردار نے حویلی کے احاطے میں سب گاؤں والوں کو بلوایا اور کہا کہ اپنے بیٹوں کو فوج میں بھرتی کرواؤ۔ میں ڈپٹی صاحب سے سفارش کروں گا کہ ان سب کو سپاہی کے بجائے لفٹین کا عہدہ دیا جائے۔

اس وعدے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی اور گاؤں کے تمام نوجوان نمبردار کو کندھوں پر اٹھا کر ڈپٹی کمشنر کے دفتر تک لے گئے۔ نمبردار نے سب کو باہر رکنے کو کہا اور اندر جا کر سینہ پھلاتے ہوئے کہا سب بھرتی ہونے آ گئے ہیں مگر میں ان کو لفٹین بنوانے کا وعدہ کر بیٹھا ہوں۔

ڈپٹی کمشنر نے خفگی ظاہر کرتے ہوئے کہ یہ اختیار تو میرے پاس بھی نہیں۔ انھیں زیادہ سے زیادہ سپاہی اور جو مڈل پاس ہے اسے حوالدار بھرتی کیا جا سکتا ہے۔ نمبردار کچھ سوچ میں پڑ گیا اور پھر الٹے قدموں باہر آ گیا اور دفتر کی سیڑھیوں پر نوجوانوں سے خطاب کیا۔

’’ میرے بچو۔مبارک ہو۔ڈپٹی صاحب نے میری سفارش پر آپ سب کو بھرتی کے بعد تنخواہ، مفت وردی، جوتے، مفت راشن، مفت رہائش اور آنے جانے کا کرایہ اور سال بعد چھٹیاں دینے کا وعدہ کیا ہے۔جو جو اچھی کارکردگی دکھائے گا انشااللہ وقت آنے پر لفٹین کے عہدے پر ترقی پائے گا۔ خوشی سے سرشار نوجوانوں نے نمبردار کو کاندھوں پر اٹھایا اور اچھلتے کودتے گاؤں کی طرف روانہ ہو گئے۔

جن قیادتی پتوں پر جنوبی پنجاب والوں کا تکیہ ہے وہ نسل در نسل ڈگڈگی پر میٹھے گیت سنانے کے عادی ہیں۔ ان قیادتیوں کا معاملہ اس ڈاکٹر جیسا ہے جو ایک قصاب کے بیٹے کے پاؤں میں چبھی ہڈی کی کرچی نکالنے کے بجائے روزانہ زخم پر نئی پٹی کر دیتا اور قصاب اسے بطور فیس ایک کلو گوشت پہنچا دیتا۔

ایک دن ڈاکٹر کو کسی گھریلو کام کے سبب چھٹی کرنا پڑ گئی۔ قصاب کا بیٹا حسبِ معمول پٹی بدلوانے پہنچا تو ڈاکٹر کے اسسٹنٹ نے اس کی پٹی کر دی۔ اگلے دن ڈاکٹر نے اسسٹنٹ سے پوچھا کہ قصاب کا بیٹا تو نہیں آیا تھا۔ اسسٹنٹ نے بتایا کہ وہ آیا تھا اور میں نے زخم میں سے ہڈی نکال کر زخم دھو کر پٹی کر دی۔

ڈاکٹر صاحب سر پکڑ کے بیٹھ گئے ’’یہ تم نے کیا غضب کیا۔ اسی زخم کی وجہ سے تو روزانہ ایک کلو گوشت مل رہا تھا‘‘۔

بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

تاشقند

تاشقند سے وطن واپسی کے وقت خیال آیا کہ اصل تاشقند تو دیکھا ھی نہیں – ھر بڑے شہر کے دو روپ ھوتے ھیں –

مکمل پڑھیے

منشا بم VS ایٹم بم

اسے کہتے ہیں ایک پنتھ دو کاج یا ایک تیر سے دو نشانے۔ چیئرمین ’’نیب‘‘ نے انسداد ِ بدعنوانی کے عالمی دن کےموقع پر ایوان

مکمل پڑھیے
Close Menu