سیحا کی تلاش

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: محمد حنیف

اعظم معراج کراچی کے پراپرٹی ڈیلر ہیں۔ چند برس پہلے ان کی والدہ اور بھائی ایک بس میں گوجرانوالہ میں اپنے آبائی گاؤں جا رہے تھے جب ان کی والدہ اور بس میں ساتھ بیٹھی ایک عورت کے درمیان گپ شپ شروع ہو گئی۔

بچے کتنے ہیں، کیا کرتے ہیں۔ اعظم معراج کی والدہ نے بتایا کہ میرے اتنے بچے ہیں، ہم لوگ مسیحی ہیں اور میرے بیٹے اپنا کام کرتے ہیں۔ ان کی مراد ظاہر ہے یہ تھی کہ ان کے بیٹے اپنا کاروبار کرتے ہیں۔ دل میں فخر بھی ہو گا کہ میرا بیٹا پراپرٹی ڈیلیر ہے، بڑا محنتی ہے۔ ڈیفنس میں دفتر بھی ہے اور گھر بھی ہے۔ لیکن سننے والی نے صرف لفظ مسیحی سنا اور اپنا کام اور نتیجہ نکالا کہ اگر مسیحی ہیں تو خاکروب ہوں گے یا جنھیں حقارت سے ’بھنگی‘ کہتے ہیں۔ عورت نے اٹھ کر اپنی سیٹ بدل لی۔

پاکستان میں مسیحیوں کے ساتھ یہ سلوک ہر روز ہوتا ہے۔ دفاتر میں جہاں بظاہر پڑھے لکھے لوگ ہوتے ہیں دیہاتوں میں جہاں شاید لوگ اتنے پڑھے لکھے نہیں ہوتے اور سکولوں اور کالجوں میں جہاں لوگ پڑھنے لکھنے جاتے ہیں۔

آج بھی آپ سڑک پر چلتے ہوئے مسلمان پاکستانی سے پوچھ لیں کہ اس ملک کے چند مشہور مسیحی نام بتا دیں تو شاید وہ آسیہ بی بی کو چند گالیاں دے کر چلتا بنے گا۔

مجھے کراچی کے ایک نوجوان مسیحی دوست نے بتایا کہ وہ پہلی دفعہ لاہور گیا تو لوگ اس سے مل کر پریشان ہوتے تھے کیونکہ وہ ان سے کافی زیادہ پڑھا لکھا تھا، ان میں سے اکثر لوگوں نے تمام زندگی کبھی بھی مسیحی کے ساتھ بیٹھ کر چائے تک نہیں پی تھی۔

اعظم معراج نے اپنے کتابی سلسلے کے ذریعے مسیحیوں کی اس شبہہ کو بدلنے کی ٹھانی ہے۔ صرف مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ مسیحی برادری کے لیے جس کو بقول اعظم معراج کے مسلمان اکثریت نے نظروں سے اتنا گرایا ہے کہ وہ خود بھی اپنی نظروں سے گر گئے ہیں۔

اچھوتوں والا سلوک برداشت کرتے کرتے خود اپنے آپ کو اچھوت سمجھنے لگے ہیں۔

اعظم معراج سے میرا تعارف چند سال پہلے ہوا جب مسیحی برادری پر ایک بڑا حملہ ہوا تھا اور میں ایک ریڈیو پروگرام میں سامعین کو یاد دلانے کی کوشش کر رہا تھا کہ مسیحی برادری نے کئی فوجی افسر، پائلٹ اور سپاہی پیدا کیے ہیں۔ جنھوں نے وطن پر جان قربان کی ہے اور ان میں سے کئی کو حکومت نے بہادری کے لیے دیے جانے والے بڑے بڑے تمغے بھی دیے ہیں۔

یہ بھاشن دیتے ہوئے میں دل میں یہ بھی سوچ رہا تھا کہ اگر مسیحی برادری نے یہ قربانیاں نہ دی ہوتیں تو ان پر متواتر سے ہونے والے حملے اور مسلسل ذلت آمیزی کیا جائز ٹھہرتی۔

پروگرام کے بعد اعظم معراج نے میرے ساتھ رابطہ کیا اور بتایا کہ وہ مسیحی فوجیوں کی قربانی پر ایک کتاب مرتب کرنا چاہتے ہیں۔

میرا علم پرانے رسالوں اور گوگل سے نکالے ہوئے قصے کہانیوں تک محدود تھا۔ میں نے ازراہِ تفنن ان سے کہا کہ وہ ایک پراپرٹی ڈیلر ہیں، پلاٹ بیچیں، کتابوں وغیرہ کے چکر میں نہ پڑیں۔ اس کے جواب میں انہوں نے پہلے سے چھپی ایک کتاب دکھا دی جس میں اچھا اور کامیاب پراپرٹی ڈیلر بننے کے رہنما اصول لطیف پیرائے میں بیان کیے گئے تھے۔

میں تو مسیحی برادری کی قربانیوں کے بارے میں ریڈیو پر ایک بھاشن دے کر زندگی کے باقی کاموں میں لگ گیا لیکن اعظم معراج گذشتہ کئی برسوں سے مسیحی برادری کی بہادری کے مشن پر لگ گیا ہے۔

پراپرٹی کا دفتر اب بھی ہے لیکن وہ زیادہ تر کتابوں کے مسودوں، اہم ادبی محفلوں اور اپنی ریسرچ کے کاموں میں مشغول نظر آتا ہے اور اب تک آٹھ یا نو کتابیں چھاپ چکا ہے۔

اس کی تازہ پیشکش Neglected Christian Children of Indus ہے جو اس کی پہلی کتاب ’دھرتی جائے کیوں پرائے؟‘ کا انگریزی ترجمہ ہے۔ لیکن اعظم معراج نے اس میں کئی اضافے بھی کیے ہیں۔

دھرتی جائے کیوں پرائے؟ ایک چونکا دینے والی کتاب تھی جس میں نسلوں سے ذلتوں کے بارے میں ان لوگوں کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا گیا تھا۔ وہ کہانیاں جو آپ کبھی ٹی وی اور اخباروں میں نہیں دیکھیں گے۔

کس طرح اعظم معراج اپنے بچپن کے چچا یونس کو ایک گلی میں مزدوری کرتا دیکھتے ہیں اور وہ انہیں پہچاننے سے انکار کر دیتا ہے۔

کس طرح سرکاری محکموں میں مسیحی افسروں کو ان کے مسلمان ماتحت دیکھتے ہیں اور مسیحی سیاستدان جو اپنی شاطری اور بے وفائی میں اپنے مسلمان بھائیوں سے پیچھے نہیں ہیں۔ اور کیسے غربت اور بے روزگاری میں جکڑے مسیحی نوجوان مذہبی شعبدہ بازوں کے شکنجے میں پھنستے جا رہے ہیں۔

یہ کتاب ایک اپیل بھی تھی کہ پاکستان کے مسیحی اس دھرتی کے رہنے والے ہیں بلکہ صدیوں سے یہاں رہ رہے ہیں اور ان سے بیرونی ایجنٹوں یا مقامی اچھوتوں جیسا سلوک کیوں کیا جاتا ہے۔

اس کے بعد آنے والی کتابوں میں اعظم معراج نے پاک فوج میں قربانیاں دینے والے مسیحی شہدا کا تقریباً ایک انسائیکلوپیڈیا تیار کر دیا ہے۔ اور صرف جنرلوں اور کرنلوں کا ہی ذکر نہیں بلکہ ہر شہید سپاہی کا خانوادہ ڈھونڈ کر ان کی تفصیل شامل کی ہے۔

شناخت نامہ ایک کتاب بھی لکھی ہے جس میں مسیحی نوجوانوں کو اپنی اصلی تاریخ سے آگاہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ کتابیں لکھنے کے ساتھ اعظم معراج سکولوں کالجوں اور دوسرے فورمز پر جا کر اپنی برادری کو ماضی کے مسیحا دکھاتے ہیں اور حوصلہ دیتے ہیں کہ ہم صرف اپنا کام کرنے کے لیے ہی نہیں بنے ہیں۔

مجھے نہیں پتہ اعظم معراج کی باتیں مسیحی برادری کو سمجھ آتی ہیں یا نہیں لیکن مجھے یہ پتہ ہے کہ مسلمان نوجوانوں کو یہ باتیں سننے اور پڑھنے کی اشد ضرورت ہے۔

امید ہے کہ ان کتابوں کے کچھ حصے ہمارے سکولوں اور کالجوں کے نصاب میں شامل کیے جائیں تاکہ ہمارے نوجوانوں کو بھی پتہ چلے کہ ہو سکتا ہے کہ ہمارے بہادر مسیحی بھائیوں کا عبادت کا طریقہ مختلف ہے لیکن ہم ایک ہی دھرتی کے جائے ہیں اور ایک ہی رب کو مانتے ہیں۔ لیکن یہ تحریر کرتے ہوئے سندھ حکومت کا برائے ضرورت ایک اشتہار چھپا ہے جس میں خاکروب کی نوکری کے آگے اس برادری کا ہونا کوالیفیکشن لکھا گیا ہے۔

ایسے اشتہار چھاپنے والے اور ایسے قانون بنانے والے بدبختوں کو یہ بھی نہیں پتہ کہ ملک میں بے روزگاری کا یہ عالم ہے کہ کئی مغرور مسلمان بھائی بھی خاکروب کی نوکری کرنے کو تیار ہیں۔

بشکریہ بی بی سی اردو سروس

Close Menu