دنیا کا سب سے بڑا ….. فضائی دریا!

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: سرگوشی نیوز ڈیسک

امیزون کا جنگل جنوبی افریقہ کے تقریباً 40 فیصد حصے پر محیط ہے۔ جس میں 400 ارب درخت ہیں جو ہمارے کرۂ ارض کی 20 فیصد آکسیجن پیدا کرتے ہیں۔ امیزون کے جنگ میں دریاؤں کا ایک جال بچھا ہوا ہے جو اس جنگل کو سیراب کرتا ہے، ان دریاؤں میں دنیا بھر کے دریاؤں کا 20 فیصد پانی بہاتا ہے دریائے امیزون سے بحر اوقیانوس میں ہر روز خارج ہوتا ہے۔ بارشوں کے موسم میں یہاں اتنی زیادہ بارشیں ہوتی ہیں کہ اس خطے کی کشش ثقل میں تبدیلیاں رونما ہو جاتی ہیں۔ امیزون کو دنیا کا سب سے بڑا دریا سمجھا جاتا ہے لیکن اس بھی بڑا ایک اور دریا دنیا میں موجود ہے جو کسی کو نظر نہیں آتا۔ لیکن یہ دریا بادلوں کی شکل میں ہمہ وقت محو پرواز رہتا ہے۔
گوگل ارتھ پر ہم دریائے امیزون اور اس کے جنگل کی واضح تصویر دیکھ سکتے ہیں لیکن خلا سے آپ اسے مکمل طور پر نہیں دیکھ سکتے کیونکہ اس جنگل کا بشتر حصہ ہر وقت گہرے بادلوں میں چھپا رہتا ہے۔ امیزون کے جنگل کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کہ 400 ارب گرم پانی کے چشموں سے بھاپ نکل کر ہوا میں جا رہی ہو ۔ لیکن یہ گرم پانی کے چشمے کراچی میں منگھو پیر
یا امریکہ میں یلو اسٹون پارک کے چشموں کے جیسے نہیں ہیں بلکہ جب درختوں کے پتے فوٹو سنتھیسس کے عمل کے دوران کاربن ڈائی آکسائڈ جذب کرکے آکسیجن خارج کرتے ہیں تو اس عمل میں ہر درخت ہوا میں بہت سی نمی بھی خارج کرتا ہے۔ ہر درخت کی جڑیں جو زیر زمین پانی چوستی ہیں وہ زمین سے 60 میٹر کی بلندی پر پتوں سے خارج ہو جاتا ہے۔ امیزون کے جنگل کا ایک بڑا درخت ہر روز تقریباً ایک ہزار لیٹر پانی ہوا میں خارج کرتا ہے۔ مجموعی طور پر امیزون جنگل کے درخت 20 ارب ٹن یا 200 کھرب لیٹر پانی یومیہ ہوا میں خارج کرتے ہیں۔ یہ اتنا پانی ہے جس سے 80 لاکھ اولمپک سوئمنگ پول بھرے جا سکتے ہیں جبکہ اتنے ہی پانی کو ابالنے کے لیے چین میں بننے والے دنیا کے سب سے بڑے ہائیڈرو الیکٹرک پاور پلانٹ جیسے 30 ہزار پاور پلانٹس کی بجلی درکار ہو گی۔ لیکن درخت سارا دن سورج کی روشنی میں بلا خرچ یہ کام کرتے ہیں۔ یہ دنیا کا واٹر پمپ ہے جو فضا میں موجود ہے۔ امیزون کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک بہنے والے دریاؤں میں جتنا پانی بہتا ہے اس سے کہیں زیادہ پانی اس کی فضا میں موجود ہے۔ پانی کے قدرتی چکر کی وجہ سے وہاں دنیا بھر میں سب سے زیادہ بارشیں ہوتی ہیں یا وہاں دنیا کا سب سے بڑا ’’رین فارسٹ‘‘ موجود ہے۔
امیزون میں رین فارسٹ کی وجہ سے بارشیں ہوتی ہیں لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کے خشک ترین خطوں میں بھی کی ہوا میں پانی کے کروڑں اربوں مالیکیول موجود ہوتے ہیں۔ لیکن ہائیڈروجن ڈائی آکسائیڈ کے مالیکول کبھی خود سے پانی کے قطروں میں تبدیل نہیں ہوتے بلکہ اس کے لیے بھی بیج ڈالنا پڑتے ہیں۔ بارش کے ہر قطرے میں تھوڑی بہت کثافتیں ضرور موجود ہوتی ہے جو گرد، نمک، پالن اور مختلف کیمیکلز کے کے ذرّات ہو سکتے ہیں۔ برش کے بیج پانی کے مالیکیولز میں ایسی کیمیائی تبدیلیاں کرتے ہیں کہ وہ پانی کے قطروں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ آسمان پر تیرتے ہوئے ہر بادل میں ایک کھربوں قطرے موجود ہوتے ہیں اور جب یہ ایک دوسرے سے مل کر زیادہ بھاری ہو جاتے ہیں تو ہلکی یا تیز بارش کی صورت میں زمین پر گر پڑتے ہیں۔ بارش کے قطرے ہوا میں موجود کثافتوں کو بھی اپنے ساتھ زمین پر لے جاتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کچھ خطوں میں بارش بہت زیادہ ہوتی ہے اور کچھ خطے بالکل خشک رہتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہر خطے کی زمین ایک جیسی نہیں ہے اس وجہ سے ہر خطے کی فضا میں بارش کے بیج نہیں ہوتے جو ہوا کی نمی کو بارش کے قطروں میں تبدیل کر سکیں۔ امیزون کے جنگل پر بارش ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہاں 95 فیصد بارش کے بیج درختوں اور پودوں سے خارج ہوتے ہیں۔ یہ درخت آبی بخارات کے علاوہ ’’سپر اسٹکی ہائیڈروجن ڈائی آکسائیڈ میگنٹ‘‘ بھی خارج کرتے ہیں۔ یہ ’’بایوجینک اورگینک کمپاؤنڈز‘‘ فضا کی نمی کو بارش کے قطروں میں تبدیل کرتے ہیں۔ امیزون کے جنگل کے اوپر فضا کثافتوں کی شرح 300 ذرات فی مکعب سینٹی میٹر ہے۔ جسے ہم دنیا کی صاف ترین فضا قرار دے سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے صنعتی انقلاب سے پہلے دنیا کی زیادہ تر فضا اتنی ہی صاف ہوا کرتی ہوگی۔ لیکن آج صنعتی آلودگی کی وجہ سے ہماری صاف ترین فضا میں بھی کثافتوں کی شرح 2000 ذرات فی مکعب سینٹی میٹر تک پہنچ گئی ہے۔
اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ فضا میں زیادہ کثافتوں کی وجہ سے فضا میں بارش کے بیچ بھی بڑھ گئے ہوں گے جس سے بارشوں کی شرح بڑھ جانی چاہیے لیکن چھوٹے قطرے بننے کا مطلب یہ ہے کہ بارشیں کم ہوں گی۔ امریکہ کی ریاست مونٹانا اور لاس اینجلس میں آج کے مقابلے میں سیکڑوں برس پہلے زیادہ بارشیں ہوا کرتی ہوں گی جس کی بنیادی وجہ فضائی آلودگی میں اضافہ ہے۔
جن علاقوں میں درخت زیادہ ہوتے ہیں اور انہیں جب بارش کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ بارش برسانے والے کیمیکل خارج کرتے ہیں۔ یہ کیمیکل بادلوں میں بارش کے قطرے بناتے ہیں جس کی وجہ سے ہوا کا دباؤ کم ہوتا ہے اور مزید بادل ہوا کے کم دباؤ والے علاقوں کی طرح کھنچتے ہیں۔ امیزون کے جنگل کے اوپر بادل مسلسل ایک کنویئر بیلٹ کی طرح چلتے اور وقفے وقفے سے برستے رہتے ہیں۔ اگر امیزون کے جنگ پر بارشیں نہ ہوں تو آسٹریلیا کے بنجر علاقوں کے طول بلد اور ارض بلد پر موجود جنوبی امریکہ کے علاقے بنجر ہو چکے ہوتے۔
ہم بچپن سے سائنس کی کتابوں میں بارش کے چکر کے بارے میں پڑھتے آئے ہیں کہ کس طرح سمندر سے بخارات اڑ کر بادل بنتے ہیں اور زمین کے ٹھنڈے علاقوں کی طرف سفر کرتے ہیں اور وہاں برستے ہیں جن کا پانی ندی، نالوں اور دریاؤں سے بہتا ہوا واپس سمندر میں جا گرتا ہے۔ لیکن ہم نے کبھی امیزون کے سرسبز سمندر کے بارے میں نہیں پڑھا جس میں موجود اربوں سرسبز درختوں سے دنیا کا 90 فیصد پانی فضا میں چھوڑا جاتا ہے۔ ہم یہ نہیں سوچتے کہ موسم ایک پورا نظام ہے جس کے تحت امیزون کے جنگل اور دنیا بھر میں موجود کھربوں درخت اور پودے مل کر چلاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا قدرتی نظام ہے جو دنیا کے تمام انجینئر مل کر بھی نہیں بنا سکتے۔ یہ ضرور ہے کہ یہ نظام لاکھوں برس کے ارتقا کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے جو نہ صرف اس دنیا میں بسنے والوں کو آکسیجن فراہم کرتا ہے بلکہ اس کی وجہ سے زندگی کا نظام چل رہا ہے۔ امیزون کے جنگل کو دنیا کے پھیپھڑے کہا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ جنگل دنیا کا دل ہے۔
Close Menu