مریخ مشن، خلا نوردوں پر کیا اثرات ہوں گے؟

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: سرگوشی نیوز ڈیسک

روس کے خلائی تحقیق کے ادارے روسکوسموس، امریکی خلائی تحقیق کے ادارے ناسا، یورپین اسپیس ایجنسی اور چین کے نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن نے منصوبہ بنایا ہے کہ وہ آئندہ چند عشروں میں سرخ سیارے مریخ پر انسانی مشن بھیجیں گے۔ تاہم اس مشن پر اہم تحقیقات کی جا رہی ہیں جن میں اس خلائی سفر کے دوران خلا نوردوں کو سورج کی کتنی تابکاری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
گزشتہ دنوں ماسکو میں ہونے والی ایئرو اسپیس اینڈ انوائرونمینٹل میڈیسن کانفرنس میں قیاس کیا گیا ہے کہ مریخ تک جانے اور واپس آنے میں تقریباً ڈھائی سال کا عرصہ لگے گا۔
کانفرنس میں بتایا گیا ہے کہ خلانوردوں کو لاحق تابکاری کے رسک کا حساب لگایا گیا ہے۔ اس سفر میں خلانوردوں کو مریخ پر اتر کر واپس آنے میں تین سال لگ سکتے ہیں جس میں انہیں سورج کی بھر پور تابکاری کا سامنا کرنا پڑے گا جس سے بچنے کے لیے المونیم شیلٹر کی چادروں کی موٹائی کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی سوچا جا رہا ہے کہ مخروطی شکل کے اسپیس کرافٹ کے انسانی جسم پر کیا اثرات ہوں گے اور اسے خلا میں دھکا دینے کے لیے مائع راکٹ فیول استعمال کیا جائے یا ایٹمی پروپلشن سسٹم لگایا جائے۔ سورج کی تابکاری سے خلانوردوں کی زندگی پر کیا اثر پڑے گا اور 20 گرام مربع سینٹی میٹر المونیم کی چادر کس حد تک تابکاری کو روک پائے گی اور خلانوردوں کی زندگی کتنی کم ہو سکتی ہے۔
اس کانفرنس کا بنیادی مرکز نگاہ خلائی تابکاری تھا۔ جس میں خلا میں منرل واٹر پینے کی اہمیت پر بات کی گئی کہ اس کے پینے سے کھانے میں شامل پریزرویٹوزاور سلور آئیونز کے اثرات سے بچا جا سکتا ہے جس کے انسانی جسم پر پیتھوجینک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ پولیتھلین کے پانی سے بھرے ہوئے خصوصی سلیپنگ بیگز کے اس استعمال سے خلانورد نیند کے دوران تابکاری کے اثرات سے بچ سکتے ہیں۔
سائنسدانوں نے اتنے طویل خلائی سفر کے دوران گاجریں اور سلاد کے پتے اگانے کے لیے خلائی گرین ہاؤس بنانے پر بھی غور کیا۔ ان سبزیوں سے خلانورد ضروری وٹامن اور دوسرے ہاضم ریشے حاصل کر سکتے ہیں۔ اس ضمن میں آر ایس سی انرجیا انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کے روسی حصے میں خلائی گرین ہاؤس بنانے پر تحقیق کر رہا ہے۔
ایسے خلائی گرین ہاؤسز کے ڈیزائن اور ٹیکنالوجیز مدار میں گھومنے والے اور چاند پر بنائے جانے والے اسپیس اسٹیشنز کے لیے بھی استعمال کیے جا سکیں گے اور مریخ کے خلائی مشن پر بھیجے جانے والے خلائی جہاز میں بھی بنائے جائیں گے۔
اس سال کے اوائل میں روسی صدر ولادیمر پوٹن نے بھاری وزن اٹھانے والا راکٹ بنانے کی اجازت دی تھی، ماہرین اس اقدام کو مستقبل میں مریخ پر انسانی مشن بھیجنے کے لیے ایک اہم سمجھ رہے ہیں۔ روس آئندہ برس مریخ کے لیے روبوٹ مشن روانہ کرے گا جبکہ ابھی وہ 2040-2045 ء کے لیے انسانی مشن بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
Close Menu