اکیسویں صدی …. تبدیلیوں کے اشارے

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: امتیاز متین

جب اکیسویں صدی شروع ہوئی تھی تو یہ کہا گیا تھا کہ دنیا میں ایک نئے سنہری دور کا آغاز ہوگا اور بہت سی چیزیں بدل جائیں گی۔ لیکن اکیسویں صدی کا آغاز دنیا بھر میں طویل اور خونریز جنگوں کے ساتھ ہوا۔ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں ہونے والی ان جنگوں اور دہشت گردی کے نتیجے میں لاکھوں افراد جاں بحق ہوئے اور کروڑوں کی تعداد میں بے گھر اور برباد ہوئے۔ آج یورپ میں شمالی افریقہ اور شام سے مہاجرین کی آمد سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ امریکہ دنیا کا سب سے زیادہ مقروض ملک بن چکا ہے، یورپی یونین بکھر رہی ہے۔ برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد اسکاٹ لینڈ میں دوبارہ ریفرینڈم کروایا جائے گا کیونکہ وہ انگلینڈ سے اپنا 300 برس پرانا معاہدہ ختم کرکے یورپی یونین کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں۔ اسپین کے صوبہ کیٹالونیا کے لوگوں نے اسپین سے آزادی کے حق میں ووٹ ڈال کر وہاں ایک سنگین مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔ اسپین میں ہی باسخ کنٹری (Basque Country) اور گالیسیا جیسے خود مختار علاقے ہیں۔ اسی طرح بیلجیم کے علاقے فلینڈرز کی علیحدگی کی تحریک چل رہی ہے۔ اگر بیلجیم کے دو ٹکڑے ہوئے تو بیلجیم اپنی آدھی آبادی اور آدھی معیشت سے محروم ہو جائے گا۔ شمالی اٹلی کے علاقے پڈانیا کے لوگ اپنا علیحدہ ملک بنانا چاہتے ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ ان کی محنت کا سرمایہ جنوبی اٹلی کے لوگ کھا رہے ہیں۔ وہیں جنوبی ٹائرول کا علاوہ ہے، یہ علاقہ پہلی جنگ عظیم سے پہلے آسٹرو ہنگیرین ایمپائر کا حصہ تھا جس پر بعد میں اٹلی نے قبضہ کیا تھا۔ یہاں کے لوگ مالی طور پر خود مختار ہیں اور اٹلی سے علیحدگی کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ فرانسیسی جزیرہ کورسیکا کے لوگ بھی لسانی بنیاد پر خودمختاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اسی طرح باواریا جرمنی سے علیحدہ ہونا چاہتا ہے۔ ان کے علاوہ پورے یورپ میں ایسی بہت ساری علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں جن کے تحت وہاں کے لوگ اپنی پرانی چھوٹی ریاستوں کو بحال کرنا چاہتے ہیں یا دونوں عظیم جنگوں کے نتیجے میں بننے والی سرحدوں کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں یا معاشی طور پر خوشحال علاقے اپنے ملک کے معاشی طور پر کمزور علاقوں سے علیحدگی اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ رواں صدی کے اوائل میں ہی یہ کہہ دیا گیا تھا کہ 2040-50ءتک دنیا بھر میں پچاس کے قریب نئے ملک بن جائیں گے۔ اگر امریکہ کی طرف دیکھا جائے تو وہاں بھی ٹیکساس، کیلی فورنیا، جزیرہ ہوائی، شمالی اور جنوبی ڈکوٹا اور کیرولائنا کے علاوہ دیگر کئی ریاستوں میں امریکہ سے آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں حالانکہ اکیسویں صدی میں دنیا پر بالادستی کے امریکی منصوبوں کے مطابق امریکہ کو دنیا بھر میں ایسے چھوٹے ملک پسند کرتا ہے جہاں اس کی مرضی کے جمہوری حکمراں بیٹھے ہوں۔ اس کے علاوہ وہ نو آبادیاتی طاقتوں کی بنائی ہوئی سرحدیں ختم کرنا چاہتا ہے۔ لیکن کیا آج وہ دنیا بھر میں اپنے ان منصوبوں پر عمل درآمد کروانے کے قابل رہا ہے؟ اس وقت امریکہ دنیا کا سب سے طاقتور اور سب سے زیادہ مقروض ملک ہے۔ اس کے قرضوں کا حجم 210 کھرب ڈالر سے زیادہ ہو چکا ہے لیکن اس کے باوجود کریڈٹ ریٹنگ میں اس کی ساکھ اب تک اچھی دکھائی جا رہی ہے۔ اگر اس کا آدھا قرضہ تسری دنیا کے کسی اور ملک پر ہوتا تو شاید عالمی مالیاتی ادارے اس کا سب کچھ قرق کروا چکے ہوتے۔
امریکہ کی خراب ہوتی معیشت کے باوجود پاکستان میں لوگ ڈالروں کی عاشقی میں مبتلا ہیں۔ خود اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس 14 ارب ڈالر کا زرمبادلہ ہے جس میں سے کافی کچھ قرضہ لے کر رکھا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے لیے دوسری کرنسیوں میں بین الاقوامی تجارت کرنا ممکن نہیں ہے؟ گزشتہ برس پاکستان اور چین کا مقامی کرنسیوں میں تجارت کا معاہدہ ہوا ہمیں اسی طرح کے معاہدے مشرق وسطیٰ کے دوسرے ملکوں سے بھی کرنے چاہیں۔ اگر ایسا ہو گیا تو ممکن ہے کہ پاکستانی روپے پر سے ڈالر کے دباﺅ میں کمی ہو جائے۔
اکیسویں صدی کے مالیاتی نظام میں جن بڑی تبدیلیوں کی اشارے گزشتہ کئی برس سے مل رہے تھے۔ اسکے تحت چین سعودی عرب کی تیل پیدا کرنے والی کمپنی کے شیئرز خریدنے پر آمادہ تھا، لیکن وہ چاہتا تھا کہ تیل کی تجارت کے لیے چینی کرنسی یوان کو بھی تسلیم کیا جائے۔ چین، سعودی عرب سے ایک ملین بیرل تیل روزانہ خریدتا ہے۔ چین اور سعودی عرب میں معاہدہ ہونے سے قبل ہی اس بات کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ سعودی عرب، چین کی یوان میں تیل کی خریداری کی تجویز قبول کر لے گا۔ چین اور سعودی عرب میں معاہدہ ہونے کے بعد کہا گیا ہے کہ پیٹرو ڈالر کے مقابلے میں پیٹرو یوان کا آغاز ہوگیا ہے۔ جبکہ سعودی عرب اور چین کے اس معاہدہ سے مستقبل میں امریکی ڈالر کو دھچکہ لگنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
اس سے قبل عراقی صدر صدام حسین نے اعلان کیا تھا کہ وہ تیل کی تجارت یورپی کرنسی یورو میں کریں گے تو امریکہ اور برطانیہ نے عراق پر حملہ کر دیا تھا۔ اس کے بعد لیبیا کے صدر معمر قذافی نے افریقہ کی ایک کرنسی اور تیل کی تجارت سونے کے عوض کرنے کے منصوبے پر کام کرنا شروع کیا تھا تو پہلے وہاں مسلح بغاوت کروائی گئی اور پھر لیبیا پر حملہ کرکے تباہ و برباد کر دیا گیا۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ ٹنوں سونا کہاں گیا جس کے سکے بنانے تھے۔ سوال یہ ہے کہ اگر تیل کی تجارت یوان میں بھی شروع ہو گئی تو پھر امریکہ کیا کرے گا؟ کیا وہ چین پر حملہ کرنے کی ہمت دکھائے گا! کیا معلوم آئندہ برس پھر کوئی ایسا واقعہ رونما ہو جائے جسے امریکی حکومت نیا پرل ہاربر قرار دے کر کوئی نیا محاذ کھول لے۔
دنیا بھر میں امریکی جنگوں اور فلسطین پر اسرائیلی غاصبانہ قبضہ روکنے کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ ڈالروں کی محبت اور ضرورت سے چھٹکارا حاصل کر لیا جائے۔ خود امریکہ سے یہ آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں کہ دہشت گردی کے خطرات کو کم کرنے کے لیے امریکہ کو چاہیے کہ وہ اسرائیل سے اپنی جان چھڑا لے۔ فی الحال امریکی حکمراں یہ بات تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یورپ کئی یورپی مفکرین بھی ڈالر کو عالمی امن کے لیے خطرہ سمجھنے لگے ہیں۔
عالمی حدت میں اضافہ اکیسویں صدی کا ایک سنگین خطرہ بن کر سامنے آیا ہے جس کی وجہ سے فضائی آلودگی پر قابو پانے کی کوششیں کی جا رہی ہے۔ خاص طور پر گاڑیوں کے دھوئیں سے چھٹکارا پانے کوشش کی جا رہی ہے۔ 2019ء اس لحاظ سے اہم تصور کیا جا رہا ہے کہ اس سال سے الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوگا اور توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ پانچ برس میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت پیٹرول انجن گاڑیوں سے بڑھ جائے گی۔ اسی طرح ایوی ایشن انڈسٹری میں تبدیلیاں آ رہی ہیں جس کے نتیجے میں جیٹ طیارے کم فیول خرچ کرکے طویل پروازیں کرنے لگے ہیں جبکہ طیاروں کے لیے نئے بایو فیول بنانے پر بھی تحقیق کی جا رہی ہے۔
اکیسویں صدی کے اوائل میں ہی یہ بات کہہ دی گئی تھی کہ آئندہ برسوں میں ایسی ٹیکنالوجیز سامنے آئیں گی جو کم بجلی خرچ کریں گی۔ ایل ای ڈی بلب اس کی ایک عام مثال ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا تھا کہ تمام مکانوں کو بجلی کے معاملے میں خود کفیل بنا دیا جائے گا اور بڑے پاور پلانٹس کی بجلی صرف صنعتی یونٹس کو چلانے کے لیے استعمال کی جائے گی۔ آج ترقی یافتہ ممالک میں ایسی گرین ٹیکنالوجیز پر کام ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں مکانات اور عمارتیں توانائی کی ضروریات میں خود کفیل ہو رہی ہیں بلکہ گھروں میں پیدا ہونے والی اضافی بجلی گرڈ میں شامل کی جا رہی ہے جس سے گھریلو صارفین کو اس سے مالی فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔ اگر ہمارے ملک میں بھی ایسی ہی کوئی پالیسی متعارف کروا دی جائے تو جن علاقوں میں لوڈ شیڈنگ ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے وہ علاقے آئندہ چند برس میں بجلی کے پیداواری علاقے بن سکتے ہیں۔ بیسویں صدی کے ایک عظیم سائنسداں نکولا ٹیسلا نے کہا تھا کہ کائنات میں انرجی ہر طرف موجود ہے اسے اپنے قابو میں لانے کا طریقہ معلوم ہونا چاہیے۔ لیکن نکولا ٹیسلا کے مفت بجلی کے منصوبوں کو ان سرمایہ داروں نے پسند نہیں کیا جو تیل، گیس اور کوئلے کے منصوبوں اور ان سے متعلق ٹیکنالوجیز میں دلچسپی رکھتے تھے۔ نکولا ٹیسلا نے کہا تھا کہ بجلی مفت میں پیدا کرکے کسی تار کے بغیر گھروں تک پہنچائی جا سکتی ہے۔ شاید اس وقت یہ بات عجیب سی لگتی ہو لیکن اگر آج ہم غور کریں تو معلوم ہوگا کہ موبائل فون کے ٹاورز اور موبائل فون بھی تو اسی تصور پر کام کرتے ہیں۔
Close Menu