معاشی عدم استحکام، پاکستان کا سنگین مسئلہ

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: امتیاز متین

ان دنوں پاکستان کا سب سے بڑا اور اہم مسئلہ معاشی عدم استحکام بنا ہوا ہے۔ حکومت نے 100 دنو کا ٹارگٹ دیا تھا جس میں حکومت کو اپنے اہداف کا تعین کرنا تھا، لیکن اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے حکومت سے ان سو دنوں میں اس کام کی توقع کر لی جو وہ پانچ سال میں کرنا چاہتے تھے جن میں سے بہت سے کام ان جماعتوں نے اپنے دس سالہ دور اقتدار کے دوران کرنے کے بارے میں سوچا بھی نہیں تھا۔ تاہم ان ایک سو دنوں میں ایسا کوئی معاشی معجزہ بھی رونما نہیں ہو سکا ہے جس کے متعلق پی ٹی آئی کے رہنما اپنے انتخابی مہم کے دوران دعوے کرتے رہے تھے۔ وزیر اعظم عمران خان نے بھی کہا تھا کہ وہ کشکول توڑ دیں گے اور ان کے لیے لوگوں سے قرض کے لیے ہاتھ پھیلانا شرم کی بات ہوگی اور وہ آئی ایم ایف سے قرضہ نہیں لیں گے۔ لیکن قومی خزانے میں سرمائے کی قلت نے انہیں نہ صرف ہنگامی قرضے مانگنے پڑے ہیں بلکہ آئی ایم ایف سے بھی مذاکرات کرنا پڑے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط میں روپے کی قدر میں کمی، بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ، اداروں کی نجکاری، ٹیکسوں اور شرح سود میں اضافے جیسی شرائط شامل ہیں۔ اور اس وقت جو معاشی تبدیلیاں ہو رہی ہیں اس کے تحت یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کا معاشی پروگرام لینے کی تیاریاں کر رہا ہے جو آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہوگا۔ ڈالر کی قدر اور بینکوں کی شرح سود میں اضافے کا پہلا اثر یہ ہوا ہے کہ درآمدات میں تھوڑی کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے جبکہ بازاروں میں بھی غیر ملکی اشیائے صرف کی خرید و فروخت میں کمی کا رجحان محسوس کیا جا رہا ہے۔ لیکن ایسے رجحانات وقتی ثابت ہوتے ہیں اور پھر لوگ نئی قیمتوں پر ایڈجسٹ کر لیتے ہیں۔
یہ تو پہلے سے طے تھا کہ اسد عمر ہی پی ٹی آئی حکومت کے وزیر خزانہ بنیں گے لیکن نئی حکومت کی معاشی کارکردگی سے مایوس لوگوں کا خیال ہے کہ وزیر خزانہ اسد عمر ابھی تک بظاہر کسی خاص کاکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے ہیں۔ انہوں نے آتے ہیں عوام کو کوئی معاشی ریلیف دینے کے بجائے گیس، بجلی اور پیٹرول کے نرخوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ ضمنی بجٹ میں ٹیکس بڑھائے گئے ہیں۔ پاکستانی روپے کی قدر میں دو بار کمی ہوئی ہے جس کے بعد 139 روپے کا ڈالر ہو چکا ہے۔ اسٹاک مارکیٹ شدید مندی کا شکار ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر کم ترین سطح پر پہنچے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب نے ادائیگیوں میں توازن کے لیے 3 ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیا تھا جس میں سے اب تک دو ارب ڈالر موصول ہو چکے ہیں۔ اس شارٹ ٹرم ادھار کی دوسری قسط موصول ہونے کے بعد زرمبادلہ کے ذخائر 8.2 ارب ڈالر کے برابر ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ 3 ارب ڈالر کا تیل تین سال میں پاکستان کو دیا جائے گا جس کی ادائیگی بعد میں کی جائے گی۔ وزیر خزانہ پر ایک اعتراض یہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت میں آنے سے پہلے انہوں نے معاشی منصوبہ بندی کے دعوے تو بہت کیے تھے لیکن حکومت میں آنے کے بعد وہ ابتدائی تین مہینوں میں کوئی جامع معاشی منصوبہ پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہیں پاک چین اقتصادی راہداری کے ترقیاتی پروجیکٹس کے پہلے سے کیے جانے والے معاہدوں میں جن معاشی فوائد ملنے کی امید تھی وہ فوائد انہیں نہیں مل سکے ہیں۔ ملائیشیا میں بھی وزیر اعظم مہاتیر محمد سے بھی لوگوں کی توقع کے مطابق کوئی پیکیج نہیں بلکہ ملک کو معاشی ترقی دینے کے کچھ گر بتائے گئے ہیں۔ تاہم وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ اصل چیلنج ملک کو صحیح معاشی سمت میں لے جانا ہے جو ہم ان سو دنوں میں کر چکے ہیں جبکہ سی پیک معاہدے میں سب کچھ واضح اور شفاف ہے اور اس میں چھپانے والی کوئی بات نہیں ہے۔ تاہم ان باتوں کے باجود اپوزیشن حکومت پر تنقید کا کوئی موقع جانے نہیں دیتی، بلکہ حکومت قائم ہونے کے دس دن کے اندر اندر اپوزیشن رہنماؤں اور بعض معروف اینکرز نے یہ بتانا شروع کر دیا تھا حکومت ناکام ہو چکی ہے۔ لوگوں کو سمجھ میں نہیں آیا کہ جو حکومت پانچ سال کے لیے بنی ہے اسے دس دن میں ناکامی کا سرٹیفکیٹ کیسے دیا جا سکتا ہے۔

روپے کی قدر میں کمی یقیناً عام شہریوں کے لیے تشویش کا باعث بنی ہے کیونکہ اپوزیشن رہنما عوام کو یہ بتا رہے ہیں کہ ان کے دور حکومت روپیہ اور اسٹاک مارکیٹ مستحکم تھیں۔ روپے کی قدر میں کمی کی دو بنیادی وجوہ یہ سمجھ میں آتی ہیں کہ پچھلی حکومت نے ڈالر کی قیمت کو مصنوعی طور پر ایک سو روپے پر برقرار رکھا تھا اور اس کے ساتھ ہی شاید ضرورت سے زیادہ نوٹ چھاپے جا رہے تھے۔ سود کی شرح کم کر دی گئی تھی جس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ حکومت خود کمرشل بینکوں سے قرض لینے والا سب سے بڑا کلائنٹ بن گئی تھی۔ جس کے بعد کمرشل بینکوں نے بھی مارکیٹ میں قرضے دینا کم کر دیے تھے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ بہت سے صنعتکار اور سیاسی اثر و رسوخ والے تاجر اور جاگیردار جان بوجھ کر نا دہندہ بنتے رہے ہیں جبکہ ان کے وکیل انہیں یہ یقین دلاتے رہے ہیں کہ اگر ڈیفالٹ کیا تو کم از کم دس سال سے پہلے کوئی عدالتی فیصلہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ لہٰذا ایک ہی لوگ علیحدہ علیحدہ کمپنیوں کے ناموں سے ایسا کاروباری فراڈ کرتے رہے ہیں جن کی مقروض کمپنیاں تو دیوالیہ ہو گئیں لیکن انہی کی دوسری کمپنیاں بینک سے لیے گئے پیسوں پر کامیاب کاروبار کرتی رہی ہیں۔ بینکوں کے اربوں روپے ایک طویل عرصے تک پھنسے رہے ہیں اور یہی روپیہ ہنڈی کے ذریعے بیرون ملک بھی منتقل ہوتا رہا ہے۔ گو کہ احتساب بیورو (نیب) اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) میگا منی لانڈرنگ کیس اور پاکستانیوں کی بیرون ملک قیمتی جائیدادوں اور بینک اکاؤنٹس کا کھوج لگانے میں مشغول ہے لیکن اگر اس کے ساتھ ہی جان بوجھ کر نادہندگی اختیار کرنے والے با اثر لوگوں سے رقم کی فوری وصولی پر بھی کچھ توجہ دے دی جائے تو ملک کے معاشی حالات بہتری کی طرف جا سکتے ہیں۔

Close Menu