میں ہوں ملالہ کا باپ

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: محمد حنیف

بچپن میں استادوں نے بتایا تھا کہ اسلام کے ظہور سے پہلے کا دور زمانہ جاہلیت کا تھا اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ تھا لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ یقیناً اس وقت بھی سب لوگ ایسا نہیں کرتے ہوں گے، لیکن یہ اس وقت کا رواج تھا۔

بچپن میں سوچتا تھا کہ کیسے لوگ ہوں گے جو صحرا میں گڑھا کھودتے ہوں گے اس میں ایک نوزائیدہ بچی کو ڈال کر اس کے اوپر ریت پھینکتے ہوں گے۔ ہمیشہ لگتا تھا کہ ہمارے محبوب نبی اور ہمارے پیارے دین کا اولین مقصد یہ تھا کہ صحرا کے گڑھوں میں زندہ دبا دی جانے والی بچیوں کی جان بچائیں۔

اسلام کو آئے 1400 سال سے زیادہ گزر گئے، آسمانی صحیفے بھی تب سے آنا بند ہو گئے لیکن آج بھی کوئی اخبار اٹھا کر دیکھ لیں، پاکستان میں ہر روز کسی بچی کو مارا جاتا ہے۔ کبھی غیرت کے نام پر، کبھی بےعزتی کے نام پر، کبھی کوئی گھر سے بھاگنے پر مار دیتا ہے، کبھی کوئی گھر سے بھاگنے سے انکار پر۔ کبھی کوئی شادی کر کے بچہ پیدا کر کے مارتا ہے کبھی کوئی شادی پر رضامند نہ ہونے پر۔ کوئی مسکرانے پر، کوئی یوٹیوب پر آنے پر اور آج کل سیلفی بنانے پر۔ کبھی پیدا ہوتے ہی کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیتا ہے۔

اسلام کے نام پر بننے والے ہمارے ملک میں ہر روز ایک سے زیادہ گڑھے کھودے جاتے ہیں اور اس میں بچیوں کو گاڑا جاتا ہے۔

اس ملک میں سکول جانے پر مُصِر ایک بچی کو تقریباً مار دیا گیا۔ اس کا نام ملالہ تھا۔

ایک معجزہ ہوا، وہ بچی بچ گئی اور آج کل دنیا بھر میں جانی جاتی ہے۔ اس وجہ سے نہیں کہ اس کے سر پر گولیاں لگیں بلکہ اس وجہ سے کہ پوری دنیا میں ہر دن گاڑی جانے والی بچیوں کے پاس جا پہنچتی ہے۔ ان کی جان بچانے کی کوشش کرتی ہے، بچ جانے والیوں کو گلے لگاتی ہے، ان کی تعلیم کے لیے چندہ جمع کرتی ہے، اور یہ سب کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ہوٹل کے کمرے میں بیٹھ کر اپنا ہوم ورک بھی کرتی ہے

ملالہ کی کہانی تو ساری دنیا جانتی ہے لیکن ان کے والد کی کہانی کو کم لوگ جانتے ہیں کہ ضیا الدین یوسفزئی ایک پٹھان فرماں بردار بچہ، گھر میں پانچ بہنیں، جن کا نام لینا بھی غیرت کے خلاف تھا۔

پڑھا لکھا باپ لیکن دبدبہ ایسا کہ بیٹے کا نام پکارے تو گلی میں کرکٹ کھیلتا بچہ بیٹ بال چھوڑ کر فوراً حاضر۔ اپنی یادداشتوں کی کتاب ’Let Her Fly‘ کے آغاز ہی میں ضیا لکھتے ہیں کہ والد نے سکھایا تھا کہ اچھی چائے کی کیا نشانیاں ہوتی ہیں، لیکن نہ باپ نے کبھی خود چائے بنائی نہ بیٹے کو بنانا سکھائی۔ آخر گھر میں پانچ لڑکیاں کس لیے تھیں۔

یہی ضیا جب تعلیم حاصل کرتا ہے، کچھ کتابیں پڑھتا ہے، تاریخ اور سیاست کے اسرار و رموز پر دھیان دیتا ہے، لیکن سب سے اہم جب ایک بچی کا باپ بنتا ہے تو بدل جاتا ہے۔ اسے پتہ چلتا ہے کہ بچی کی یونیفارم استری کرنے میں، اس کے سکول کے جوتے پالش کرنے سے پشتون غیرت پر کوئی حرف نہیں آتا۔

ضیا سوات میں اپنا سکول چلاتے تھے، دھندے سے زیادہ مشن کے طور پر۔ پاکستان کی قسمت اچھی ہے کہ اسے ہر دور میں کچھ نہ کچھ اچھے استاد میسر رہے ہیں جو ہر اچھے برے وقت میں بھی کلاس روم کا دروازہ بند کر کے بچوں کے ذہن کھوجتے رہے ہیں۔ ضیا انھی استادوں میں سے ایک ہے۔

ساتھ ساتھ لوگوں کو ملانے کا بھی ہنر جب کہ زبان میں لکنت کے باوجود تقریر کا شوق بھی۔ جب طالبان کے سکول کے دروازے تک آن پہنچے تو ضیا اور ان کے سوات کے ساتھی مزاحمت کی صف اول میں تھے۔ جب طالبان نے بچوں کے سکول بند کیے تو ملالہ نے زبردستی کی چھّٹی کی ایک ڈائری لکھنی شروع کی۔ ضیا الدین بھی اپنے سکول میں بچیوں کو کم عمر ظاہر کرکے پڑھانے کی کوشش کرتے رہے۔

اس زمانے کے گفتگو مجھے آج تک یاد ہے جو ضیا الدین کے دوست اور ہمارے ساتھی عبدالحئی کاکڑ اور ایک طالبان کمانڈر کے درمیان ہوئی۔ کاکڑ نے کہا تھا کہ تم مینگورہ کے خونی چوک پر لوگوں کو پھانسیاں دو تو شاید بچ جاؤ لیکن یہ سکول بند کرنے کا جو فتویٰ دیا ہے یہ تمہارے گلے پڑے گا اور آخر میں یہی ہوا۔

یہ سکول جانے والی بچیاں طالبان کی شکست کا باعث بنیں اور ان نامرادوں نے اپنی شکست کا بدلہ ملالہ اور ان کی سہیلیوں پر حملہ کر کے لیا۔

جب ملالہ کو لے کر ہیلی کاپٹر پشاور کے لیے روانہ ہوتا ہے تو ضیا اس کے ساتھ ہے۔ بیٹی خون کی الٹیاں کر رہی ہے اور باپ سوچ رہا ہے کہ وہ کون سا مشن تھا جس کے لیے میں نے اپنی بیٹی کو اس حالت تک پہنچا دیا۔

کتاب کے وہ حصے جن میں ضیا الدین یوسفزئی اپنے آپ پر شک کرتا ہے کہ اگر اس نے ملالہ کو بولنے سے روکا ہوتا تو شاید اسے یہ دن نہ دیکھنا پڑتا، انتہائی پراثر ہیں۔ یہاں پر ضیا اپنے اعمال کو تنقیدی نظر سے دیکھتا ہے اور کسی بھی عام باپ کی طرح سوچتا ہے کہ کیا میری سیاست، کیا میرا مشن، اتنا اہم تھا کہ میرے بچوں کو یہ دن دیکھنا پڑا؟

یہاں پر ملالہ کی ماں جو کہ پڑھی لکھی نہیں تھیں لیکن عملی دانش سے بھرپور، وہ ضیا کو سمجھاتی ہیں کہ قصور ان کا نہیں۔ یہ طور پکئی ہیں جو ایک دم اپنا گھر بار چھوٹ جانے کے بعد انگلینڈ کے سرد موسموں میں اپنے بچوں کے ساتھ ایک نئی زندگی کی ابتدا کرتی ہیں۔

زندگی میں پہلی دفعہ انگریزی سیکھتی ہیں اور اب بھی کبھی کبھی کسی تقریب میں ماں بیٹی ایسے سرگوشیاں کرتی ہیں جیسے پرانی سہیلیاں ہو۔ حالانکہ کتاب کے دیباچے میں ملالہ نے لکھا ہے کہ اصل میں بچپن سے ہی اس کی زیادہ دوستی اپنے والد سے تھی اور اتنی زیادہ تھی کہ اپنی پڑھائی کے مسائل سے اگر ماہواری کے درد تک ہر بار ان سے شیئر کرتی تھی۔

اس کتاب میں اگر اچھا باپ بننے کا کوئی نسخہ ہے تو وہ یہی ہے کہ اپنے آپ کو عقلِ کل مت سمجھو۔ بچوں کو سکھاؤ ہی نہیں، ان سے سیکھو بھی۔ چائے کا مزہ لینا اچھی بات ہے لیکن چائے بنانا بھی سیکھ لو۔

یہ کتاب ان لوگوں کو پڑھنی چاہیے جن کا بچہ ہے یا بچی ہے یا وہ خود کبھی بچے رہے تھے۔ اس سے پتہ چلے گا کہ مرد صرف بہادر اور غیرت مند ہی نہیں ہوتا، سہما ہوا بھی ہوتا ہے۔ مرد کو بعض دفعہ یہ نہیں پتہ ہوتا کہ وہ کیا کر رہا ہے اور کیوں کر رہا ہے۔

ضیا الدین یوسفزئی کا سفر جاری ہے لیکن ایک مقام اس میں ایسا آتا ہے کہ ایک لمحے کے لیے لگتا ہے کہ منزل قریب ہے جب وہ ملالہ کو لے کر آکسفرڈ یونیورسٹی جاتا ہے جہاں پرنسپل کاغذ کے کپ میں ٹی بیگ سے چائے بنا کر اپنے ہاتھوں سے ملالہ کو دیتا ہے اور ضیا یوسفزئی کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔

ضیا کے باپ نے کبھی چائے نہیں بنائی اور اب اس کی عمر کا آدمی ضیا کی بیٹی کو چائے پیش کر رہا ہے۔

Close Menu