چینی شہروں میں سائیکلوں کے انبار

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: سرگوشی نیوز ڈیسک

یہ کوئی ضروری نہیں ہے کہ چینی کمپنیاں جس کام میں ہاتھ ڈالیں گی اور کام انتہائی منافع بخش ثابت ہوگا۔ چار سال قبل چینی کمپنی اوفو نے کرائے کی سائیکلوں کا کام شروع کیا تھا تاکہ لوگ اپنے کارڈ یا موبائل فون پر موجود بار کوڈ سے سائیکل ’’ان لاک‘‘ کرکے استعمال کر لیں اور اپنی منزل کے قریب کمپنی کے سائیکل اسٹینڈ پر چھوڑ دیں۔ کمپنی کی دن دونی رات چوگنی ترقی کو دیکھتے ہوئے مقابلے پر دوسری کمپنیاں بھی اپنی سائیکلیں لے کر اتر آئیں لیکن اس کام میں سب سے بڑی کمپنیاں اوفو اور موبائیک ہی رہیں جنہوں نے لاکھوں ڈالر کی سائیکلیں بنا کر چین کے مختلف شہروں میں کھڑی کر دیں۔ اب صورت حال یہ ہے کہ فٹ پاتھوں پر جگہ جگہ نیلی، پیلی، اورنج رنگ کی سائیکلوں کے انبار لگے ہوئے ہیں اور سائیکل استعمال کرنے والے بے دردی سے راستے میں سائیکلیں پھینک کر چلے جاتے ہیں، فٹ پاتھ پر سائیکلوں کے انبار اور راستے میں پڑی ہوئی سائیکلوں سے پیدل چلنے والے شہری ناراض ہیں اور سائیکلوں میں کی جانے والے 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کچرا ہوتی نظر آ رہی ہے۔ کمپنیوں کو سائیکلوں کے انبار لگنے سے اتنا مسئلہ نہیں ہے بلکہ انہیں تشویش اس بات پر ہے کہ سائیکلوں کے 200 ملین صارفین میں سے تقریبا 11 ملین صارفین نے اپنی جمع کروائی ہوئی رقم واپس لینے کے لیے درخواست ڈال دی ہے۔ بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ انہیں ان کے جمع کروائے ہوئے پیسے واپس کر دیے جائیں۔ کیونکہ سائیکل استعمال کرنے والے بہت سے صارفین کو اب ان کی ضرورت نہیں رہی ہے۔ گو کہ کمپنیاں صارفین کی رقم واپس کر رہی ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ یہ کام ترتیب وار کر رہی ہیں اور ہر روز تقریباً دس ہزار صارفین کو ان کی رقم واپس کی جا رہی ہے، لیکن جس رفتار سے رقم واپس کی جا رہی ہے اس کے تحت ایسا لگتا ہے بہت سے صارفین کو اپنی رقم واپس ملنے میں ڈھائی تین سال لگ جائیں گے۔ شروع شروع میں کرائے کی سائیکل استعمال کرنے کے لیے اوفو کمپنی کو 99 یوان ادا کرنا پڑتے تھے لیکن یہ رقم بڑھتے بڑھتے 199 یوان تک پہنچ گئی ہے جو تقریباً 29 ڈالر کے برابر ہے۔ اب مجموعی طور پر کمپنی سے ایک ارب ڈالر کی واپسی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب صارفین سوشل میڈیا پر شکایت کر رہے کہ اوفو سائیکلوں کی حالت خستہ ہو چکی ہے جبکہ سائیکلوں کا کرایہ بھی زیادہ وصول کیا جا رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں موبائیک اور ہیلو بائیک استعمال کرنے کے لیے کسی پری پیڈ کارڈ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس وجہ سے اوفو کمپنی کی سروس اب زیادہ پرکشش نہیں رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ رہی ہے کہ کمپنی نے سائیکلوں کی مرمت کرنے کے بجائے نئی سائیکلیں بنا کر سڑکوں پر ڈالنے کو ترجیح دی اور گنجائش سے زیادہ سائیکلوں کے ڈھیر لگائے ہیں۔ شہروں میں آلودگی سے پاک سمجھی جانے والی سواری اب خود آلودگی کا سبب بن رہی ہے۔ یہ واضح نظر آ رہا ہے کہ اوفو کمپنی دیوالیہ ہونے جا رہی ہے حالانکہ اس نے رواں سال کے اوائل میں اپنا کاروبار بین الاقوامی سطح پر لے جانے کے 850 ملین ڈالر جمع کیے تھے۔ لیکن اب اوفو بین الاقوامی پروجیکٹس سے پیچھے ہٹ رہی ہے جبکہ 2016ء میں آنے والی موبائیک، علی بابا کی مدد سے اپنا کاروبار بین الاقوامی سطح پر لے جانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
Close Menu