تعلیمی نظام

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: امتیاز متین

اگر قرون وسطیٰ میں مسلمانوں کے عروج کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ انہوں نے ”اقرا“ کا مطلب صحیح طرح سے سمجھا تھا۔ اس سنہری دور میں بغداد، اصفہان، نیشا پور، ثمر، بخارا، قاہرہ اور ترکی، اندلس اہم تعلیمی مراکز تھے لیکن اس دور میں مسلم دنیا کا ایک اہم تعلیمی مرکز مغربی افریقہ کے ایک پسماندہ ملک مالی کا شہر ٹمبکٹو بھی تھا۔ سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کے سنہری دور میں کون سا ایسا تعلیمی نظام رائج تھا جس نے ایک سے بڑھ کر ایک اسکالرز پیدا کیے۔ اس دور کے تعلیمی سرسری جائزہ لینے سے بات سمجھ میں آتی ہے کہ ہر شخص قرآن اور حدیث کی تعلیم لازماً حاصل کرتا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ کچھ اور بنیادی سائنسی اور سماجی علوم بھی پڑھائے جاتے تھے۔ مسلکی اختلافات کے باوجود سماجی ہم آہنگی موجود تھی اور عام لوگ اعلیٰ اخلاقی اقدار کے حامل تھے۔
مسجدیں نماز کے علاوہ مدرسہ اور کمیونٹی سینٹر کے طور پر استعمال کی جاتی تھیں۔ بنیادی تعلیم سے زیادہ آگے پڑھنے والے قرآن اور حدیث کے علاوہ شرعی قوانین، فلسفہ، منطق، علم نجوم، علم فلکیات، جغرافیہ، تاریخ، عربی، مقامی زبانیں، ریاضی، فزکس، کیمسٹری، جیومیٹری، آرکیٹیکچر، زراعت، ادب، شاعری، آرٹ اور میوزک وغیرہ جیسے مضامین کی بھی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ اس دور کے اسکالرز کی سوانح عمریاں پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ بڑے اسکالرز اپنی وجہ ¿ شہرت کے علاوہ دیگر سائنس، آرٹس اور کامرس کے مضامین کے بھی ماہر ہوتے تھے۔ سلجوقی وزیر نظام الملک طوسی نے نظامیہ مدارس قائم کیے تھے، معروف شاعر سعدی بھی بغداد کے نظامیہ مدرسے سے تعلیم حاصل کرنے والوں میں شامل تھے۔ ہندوستان میں مغلوں تعلیمی نظام کو اپنے حساب سے ترتیب دیا، زراعت، تجارت، صنعت و حرفت اور تعمیرات کو تعلیمی نظام کے ساتھ منسلک کیا گیا۔ مغل چونکہ آرٹ، ادب اور موسیقی کی سرپرستی کرتے تھے جس کی وجہ سے آرٹ اور ادب نے فروغ پایا۔ صوفی بزرگ حضرت نظام الدین اولیا ؒ کے مرید حضرت امیر خسروؒ طبلا اور ستار کے علاوہ کئی راگوں، قوالی اور محفل سماع کے موجد بھی تھے۔ ترکی میں مولانا روم کے مزار پر آج بھی مثنویاں ایک مخصوص میوزک کے ساتھ سنائی جاتی ہیں۔ کوئی تو ہوگا جس نے قصیدہ بردہ شریف کی دھن بنائی ہوگی جو آج بھی دلوں پر اثر کرتی ہے۔ عباسی خلفاءکے دور میں بغداد موسیقی کا مرکز بن گیا تھا۔ تاہم ان سب باتوں کے باجود اس وقت سے یہ بحث چل رہی ہے کہ موسیقی ہونا چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے۔ اس سے بڑھ سوال یہ ہے کہ قرون وسطیٰ کے مسلمان ہر شعبے میں تحقیق کیوں کر رہے تھے؟ شاید اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس دور کے مسلمان ہماری طرح تنگ نظر نہیں تھے اور وہ اسلام کو ہم سے بہتر سمجھتے تھے۔ کیا اب پستی سے عروج کی طرف سفر شروع کیا جا سکتا ہے یا اسے ہم مغربی اقوام کی میراث سمجھ کر قبول کر لیں۔
گزشتہ ہفتے عمران خان نے جو گیا رہ نکاتی ایجنڈا عوام کے سامنے پیش کیا ہے اس کا ایک اہم نکتہ یکساں تعلیم ہے۔ کیا محض ایک نعرہ لگا دینے سے سارا کام ہو جائے گا؟ یکساں تعلیمی نظام کا نصاب کیا ہوگا؟ اسے کیسے ترتیب دیا جائے گا جو مستقبل میں ہماری ضروریات کے مطابق لوگوں کی تربیت کر سکے۔ بدلتے حالات میں ہمیں ایک ایسے ہنگامی شارٹ کورس کی یقیناً ضرورت پڑے گی جو کسی شخص کو بہت کم وقت میں کسی اہم شعبے میں کام کرنے کا اہل بنا سکے۔ موجودہ نظام اسکول پاس کرنے کے لیے کم از کم دس تعلیمی سال مانگتا ہے لیکن کوئی بھی دو سال میں پرائیویٹ میٹرک پاس کر سکتا ہے۔ اگر ہم نے نصاب ترتیب دینے کے لیے مغرب کی طرف دیکھا تو اس سے شاید کوئی خاص فائدہ نہ ہو کیونکہ اس وقت وہاں دو بحثیں چل رہی ہیں۔ ایک بحث یہ کہ موجودہ نظام تعلیم طلبا کو کند ذہن اور بیوقوف بنا رہا ہے۔ نجی تعلیمی ادارے قابلیت سے عاری طلبا کو پاس کرتے رہتے ہیں۔ دوسری بحث یہ کی جا رہی ہے کہ موجودہ نظام تعلیم انیسویں صدی میں بنایا گیا تھا تاکہ صنعتوں میں کام کرنے کے لیے افرادی قوت تیار کی جا سکے۔ اکیسویں صدی کے تقاضے بدل رہے ہیں ہمیں فرسودہ تعلیمی نظام کی ضرورت نہیں ہے۔ ان حالات میں مغرب کی اندھا دھند تقلید ہمیں مزید مہنگی پڑ سکتی ہے لہٰذا ہمیں اپنی تاریخ اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق نیا نصاب ترتیب دینا ہوگا اور ایسا امتحانی نظام ترتیب دینا ہوگا جس کے تحت نقل کے بڑھتے ہوئے رجحان کو بے اثر کیا جا سکے۔
یکساں تعلیم کا ایجنڈا عام شہریوں کے لیے خوشی کا باعث ہو سکتا ہے لیکن اگر آئندہ حکومت نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو اس اقدام کو اٹھارہویں ترمیم کے تحت صوبوں کے اختیارات میں وفاق کی مداخلت قرار دیا جائے گا۔ دوسری جانب تعلیمی تجارت سے منسلک پرائیویٹ اسکول مالکان اور پبلشرز بھی اسے اتنی آسانی سے قبول نہیں کریں گے۔ ممکن ہے کہ وہ اس تبدیلی کے لیے پانچ سات سال کا وقت مانگ لیں اور حکومت مک مکا کرکے ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ عمران خان کے لیے بڑی سبکی کا باعث ہو گا۔ چین اور ملائیشیا میں یکساں تعلیمی نظام رائج ہے جبکہ تدریسی کتابیں شائع کرنے والے مقامی اور غیر ملکی اشاعتی ادارے صرف ریفرنس یا نصاب کی معاون کتابیں ہی شائع کرنے کے مجاز ہیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ نجی اسکولوں اور پبلشرز کی کاروباری ملی بھگت کی وجہ سے بچوں کی کمریں بستوں کا ہر سال بڑھتا ہوا بوجھ ڈھوتے ڈھوتے دوہری ہوئی جا رہی ہیں۔ یہ اتنا کورس ہوتا ہے جسے سال بھر میں پڑھانا ممکن نہیں ہوتا، کیونکہ کوئی بھی بچہ سردیوں، گرمیوں اور عام تعطیلات کے علاوہ ہفتہ اتوار اور دو چار ذاتی چھٹیوں کو ملا کر لگ بھگ 175 دن ہی اسکول میں پڑھ پاتا ہے جبکہ ایک تعلیمی دن ساڑھے چار سے پانچ گھنٹے کا ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ میں ابھی تک اضافی فیسوں کا معاملہ زیر غور آیا ہے کیا ہی بہتر ہوگا اس کیس میں کورس کے بارے میں بھی غور کر لیا جائے۔ فی الوقت اسکول مالکان کا اصرار ہوتا ہے کہ تمام بچے اسکول سے یا ان کی بتائی ہوئی دکان سے ہی کورس اور یونیفارم خریدیں۔ ہر پرائیویٹ اسکول میں صرف اسکول کے نام والی کاپیاں اور ڈائریاں قابل قبول ہوتی ہیں۔ جن اسکولوں میں سمسٹر سسٹم رائج ہے وہاں ہر سمسٹر کے لیے نئی کاپیاں لینا پڑتی ہیں، یعنی ایک مضمون کے لیے سال کی چار کاپیاں، جن اسکولوں میں ایسا نہیں ہے وہ ایسی کاپیاں اور ڈائریاں بناتے ہیں کہ تعلیمی سال کے آخر میں نئی کاپیاں خریدنا ضروری ہو جائے۔ ہر سال فیسوں میں اضافے کے باوجود تعلیمی معیار گر رہا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو آج ملک بھر میں ٹیوشن سینٹرز آباد نہ ہوتے۔ یہ زیادہ پرانی بات نہیں ہے جب ٹیوشن پڑھنے والے بچوں کو نالائق اور اس کے اسکول کو خراب سمجھا جاتا تھا لیکن اب تو معاملہ بالکل ہی الٹ چکا ہے۔ کسی بھی کتاب کی پہلی اشاعت پر ہی قیمت کا تعین زیادہ کیا جاتا ہے جبکہ ری پرنٹ میں لاگت چوتھائی رہ جاتی ہے لیکن اس کے باوجود نصابی کتابوں کی قیمتوں میں ہر سال 10 فیصد یا اس تھوڑا کم یا زیادہ اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ جس کا نتیجہ ہے کہ پرائمری کلاس کے کسی ایک طالب علم کا کورس بھی کم از کم پانچ چھ ہزار روپے میں آتا ہے۔ اسے ہم کسٹم ٹیرف کی خرابی کہیں یا کچھ اور کہیں کہ سادے کاغذ کی درآمدی ڈیوٹی زیادہ ہے لیکن اگر وہی کاغذ شائع شدہ نئی کتابوں کی شکل میں درآمد کر لیا جائے تو اس پر ڈیوٹی کم ہو جاتی ہے حالانکہ اس میں ویلیو ایڈیشن ہو جاتی ہے۔ یعنی بیرون ملک شائع ہونے والی کتابیں پاکستان میں شائع ہونے والی کتابوں سے سستی پڑتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ بڑے پبلشرز بیرون ملک سے کتابیں چھپوا کر پاکستان میں فروخت کر رہے ہیں۔ پبلشرز کی جانب سے اسکولوں کو 22 سے 50 فیصد تک کے رعایتی نرخوں پر نصابی کتابیں فروخت کرنا عام سی بات ہے لیکن قیمتوں میں رعایت کا یہ فائدہ کبھی بھی طلبا تک نہیں پہنچ پاتا، جبکہ اسکول مالکان پبلشرز سے ایئرکنڈیشنرز، واٹر کولر، پنکھے یا اسکول پر رنگ کروانے جیسی دیگر فرمائشیں بھی پوری کرواتے رہتے ہیں۔ ان سب باتوں کا لب لباب یہ ہے کہ یہ سب کچھ مفت میں نہیں ہوتا بلکہ اس کی ادائیگی کمسن طلبا کے والدین کرتے ہیں، جنہیں شاید اب بچوں کے پاس ہو کر اگلی کلاس میں جانے کی خوشی سے زیادہ اگلے سال کے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کی پریشانی لاحق ہونے لگی ہے۔
Close Menu