سیلفی کی عادت – ذہنی بیماری کی علامت

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: سید عرفان احمد

سیلفی آج ایک عام لت کے طور پر معاشرے میں رواج پاچکی ہے۔ جب سے موبائل فون پر کیمرے کی آمد ہوئ ہے، سیلفی کا رواج زور پکڑ گیا ہے۔ چنانچہ سائنس دانوں نے بھی اس حوالے سے تحقیقات شروع کردیں کہ بعض لوگ زیادہ سیلفی کیوں لیتے ہیں اور کچھ لوگ سیلفی کیوں کم لیتے ہیں۔ یقینا، ہر دو عادات کے رویوں کےپس پشت کچھ نہ کچھ نفسیاتی اورحیاتی عوامل تو ہوں گے۔

اس مضمون میں ہم آپ کو ان تحقیقات کی روشنی میں سیلفی لینے والوں کے بارے میں چند سائنسی حقائق بیان کریں گے۔

ایک ماہر نفسیات ڈاکٹر ڈیوڈ ویل کا کہنا ہےکہ جو لوگ کیمرا فون کا استعمال زمانے سے کرتے چلے آئے ہیں، ان ہر تین میں سے دو افراد ’’بی ڈی ڈی‘‘ یعنی ( باڈی ڈسمورفک ڈس آرڈر) کے شکار ہوتےہیں۔ اس نفسیاتی بیماری کے باعث آدمی اپنے ہی بارے میں سوچتا رہتا ہے اور اس بارے میں پریشان رہتا ہے کہ لوگوں کے سامنے زیادہ سے زیادہ کیوں کر بہتر اور نمایاں لگا جائے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ سیلفی لینا فیشن یا رواج نہیں، آپ کے بیمار ذہن کی علامت ہوسکتی ہے۔

سیلفی کے نشے کا تشخیصی مریض

ڈینی برائون نامی برطانوی کے بارے میں کہا جارہا ہےکہ وہ دنیا کے پہلا سیلفی کا مریض ہے۔ سیلفی کا نشہ ڈینی میں اتنا بڑھ چکا تھا کہ اس کے ذہن میں خودکشی کے خیالات گھر کرنے لگے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ آہستہ آہستہ اسے یہ احساس ہونے لگا تھا کہ وہ اچھی سیلفی نہیں لے سکتا۔ چنانچہ وہ دن کے دس گیارہ گھنٹے صرف اپنی سیلفی لینے پر ہی خرچ کرتا تھا۔ وہ چھے ماہ سے اپنے گھر سے باہر نہیں نکلا تھا کیوں کہ اسے ڈر تھا کہ اگر کہیں سیلفی لینی پڑگئی تو وہ اچھی سیلفی لینے میں ناکام رہے گا۔ اس کے دن کا آغاز بستر پر سیلفی لینے سے ہوتا ہے۔ لیکن، جب درجنوں سیلفی درست نہ ہوں تو اس کی طبیعت میں چڑچڑاپن پیدا ہوتا ہے اور پھر وہ عاجز آکر خودکشی کا سوچنا شروع کردیتا ہے۔ اس نے بعض اوقات سو سے زائد مرتبہ اچھی سیلفی لینے کی ناکام کوشش کے بعد خودکشی کی کوشش بھی کی، لیکن ہر بار اس کی ماں نے اسے بچالیا۔

اس طرح کے پے در پے واقعات کے بعد اسے لندن کے مڈسلی ہسپتال میں علاج کیلئے لایا گیا جہاں اسے او سی ڈی اور بی ڈی ڈی تشخیص کیا گیا۔ اس کے علاج کے دوران اس کی کائونسلنگ جاری رہی۔ ابتدا میں دس منٹ کے وقفوں سے اس کا فون اس سے لے لیا جاتا اور پھر یہ وقفہ بڑھاتے بڑھاتے تیس منٹ سے ایک گھنٹہ کردیا گیا۔ اس کیلئے تو چند منٹ اپنے فون سے دور رہنا محال تھا۔ اس لیے یہ عمل اس کیلئے بہت تکلیف دہ تھا۔ البتہ، اسے یہ احساس ہوگیا کہ اگر وہ اپنی زندگی چاہتا ہے تو اسے اپنے فون کو اپنے دور کرنا ہوگا۔

سوشل میڈیا کے استعمال میں اضافے کی وجہ سے اگر ایک جانب لوگوں کا سوشل نیٹورک بڑھ رہا ہے تو دوسری جانب سوشل نیٹورک سے پیدا ہونے والے نفسیاتی اورجذباتی مسائل بھی بڑھ رہے ہیں۔ ایک ماہر نفسیات کے مطابق، جو لوگ نرگسیت کے شکار ہوتے ہیں، وہ سیلفی کے جنون میں زیادہ مبتلا ہوتے ہیں یا جن لوگوں کی خودتوقیری (سیلف ایسٹیم) کم ہوتی ہے، وہ سیلفی کے بہانے ڈھونڈتے ہیں۔ مثال کے طور پر، آپ کبھی بڑے ہوٹل چلے جائیں تو فوراً سیلفی لے کر اپنے سوشل میڈیا اکائونٹ پر شیئر کریں گے۔ لیکن، جو لوگ آئے دن ان ہوٹلوں میں آتے جاتے رہتے ہیں، کیا وہ بھی ایسا ہی کرتے ہیں؟ یہ بہت اہم سوال ہے خاص کر اُن لوگوں کیلئے جو اپنے کھانوں کی، مختلف لوگوں سے ملاقات کی، مختلف پروگراموں کی سیلفیاں شیئر کرتے پھرتے ہیں۔ یہ سیلفیاں اس بات کی شہادت دیتی ہیں کہ آپ اپنے مقام سے بڑھ کر کچھ کھارہے، کسی سے مل رہے یا کسی پروگرام میں شرکت کررہے ہیں۔ (برا لگ گیا کیا)؟

جو لوگ بغیر محنت اپنی پذیرائ اور شہرت اور کامیابی چاہتے ہیں، وہ بھی ڈیجیٹل نرگسیت  میں مبتلا رہتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ انٹرنیٹ پر خودنمائ (خود کو زیادہ سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کرنا) کرنے والے افراد کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ جتنا زیادہ خود کو پُراعتماد ظاہر کررہے ہیں، دراصل یہ اتنے ہی اندر سے خود کو کم تر محسوس کرنے والے لوگ ہیں۔ درحقیقت، یہ لوگ اپنے اندر کے کھوکھلے پن کو اس انداز سے ظاہر کالبادہ اڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر سیلفیاں اور تصاویر شیئر کرنا اس کا آسان ترین اور سستا ترین طریقہ ہے۔

بشکریہ آج ٹی وی

Close Menu