جب جھوٹی بات کو پَر لگ جائیں اور سچ لنگڑاتا ہوا پہنچے

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: وقاص علی

21ویں صدی کے سماجی اور سیاسی منظرنامے میں سوشل میڈیا پر ’سچ کی تلاش‘ ایک جدید اور انوکھا چیلنج بن چکا ہے۔

جھوٹی خبریں پَر لگا کر اُڑتی پھر رہی ہیں اور بے چارہ سچ لنگڑاتا ہوا کونے کھدرے سے نمودار ہوتا نظر آتا ہے۔ فیس بک کی نیوز فیڈز اور ٹوئٹر نے روایتی میڈیا کے طرزِ معیار میں بھونچال اور عوام کی ترجیحات میں انقلاب برپا کردیا ہے، اسی ہنگامہ خیزی میں لوگ ‘جھوٹی خبر، سچی خبر اور آراء پر مبنی خبر’ کے مابین فرق تلاش کرنے سے قاصر ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ خود میڈیا بھی بعض اوقات اس فرق سے بے نیاز ہوجاتا ہے۔

انفارمیشن کے موجودہ دور میں کسی شخص یا ملک کو نقصان پہنچانے کے لیے جوہری ہتھیار یا عسکری قوت کی ضرورت نہیں بلکہ اب تو محض سوشل میڈیا پر ’جعلی خبریں‘ ہی اسٹاک ایکسچینج کو گھٹنے ٹکانے، مملکت کے سربراہان یا ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مالکان کو ہاتھ جوڑ کر وضاحتیں دینے پر مجبور کرسکتی ہیں۔

جھوٹی خبروں سے پریشان یونی لیور کمپنی نے فیس بک اور گوگل کو خبردار کردیا ہے کہ اگر انہوں نے اپنی سائٹ پر جعلی خبروں کے بہاؤ کو روکنے کے لیے اقدامات نہیں اٹھائے تو وہ آن لائن اشتہارات کی مد میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری روک دیں گے۔ لیکن ایسے میں امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیا کریں گے جنہوں نے 558 دنوں میں 4 ہزار 229 گمراہ کن اور جھوٹے دعویٰ کیے۔

اس حقیقت کو ہم عراق پر ہونے والے امریکی حملے کے تناظر میں دیکھ سکتے ہیں۔ ایک ‘مفروضے/ قیاسی بیان’ کو میڈیا پر اس قدر شدومد سے پیش کیا کہ ‘قیاس’ اور ‘حقیقت’ کے درمیان کی لکیر ماند پڑگئ اور امریکا نے مہلک ہتھیار کی تلاش میں عراق کی سرزمین کو خاک و خون سے داغدار کردیا۔ جب تباہی نے اپنے سارے رنگ دکھا دیے تو برطانوی وزیراعظم ٹونی بلئیر نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور معافی مانگ کر سارے گناہ معاف کروالیے۔

مزید پڑھیے: جھوٹی خبروں کا تدارک

انٹرنیٹ کی تہلکہ انگیز دنیا میں جعلی خبر کا لفظ اتنی مرتبہ استعمال ہوا کہ آسٹریلین ڈکشنری نے اس لفظ کو ’2016ء کا لفظ‘ (word of the year) قرار دیا۔

جھوٹی خبر میں پوشیدہ جذبات

جھوٹی اور سچی خبر کے اندر پوشیدہ انسانی جذبات خبر کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ تصور کیے جاتے ہیں، مثلاً جھوٹی خبر میں خوف، حیرانی اور نفرت جبکہ سچی خبر میں عمومی طور پر افسردگی، خوشی، پیش گوئی اور اعتماد کے پہلو ہوتے ہیں۔ سچی خبر کے پہلو ہمیں اکثر و بیشتر سطحی محسوس ہوتے ہیں اور پُرکشش نہیں لگتے، لہٰذا ہماری زیادہ دلچسپی بھی حاصل نہیں کرپاتے۔

آئیے اس تناظر میں ایک جھوٹی خبر کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں۔

رواں برس سوشل میڈیا پر 22 جون کو ڈان نیوز سے منسوب ایک خبر کی تصویر خوب وائرل ہوئی جس میں افغانستان کے قومی سلامتی مشیر حنیف اتمر اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر کے ساتھ خبری انداز میں دعویٰ کیا گیا کہ ‘افغان حکومت نے ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کرلیا۔‘

جس کسی کو ڈیورنڈ لائن کے تنازعے کا علم ہے، اس کے لیے یہ خبر کافی حیران کن تھی اور اس خبر کے ساتھ ڈان نیوز کا ‘لوگو’ دیکھ کر لوگوں کو گمان بھی نہیں گزرا کہ یہ خبر جھوٹی بھی ہوسکتی ہے۔

ڈیورنڈ لائن سے متعلق وائرل جھوٹی خبر کے آفٹر شاکس افغانستان میں بھی محسوس کیے گئے اور افغان قومی سلامتی کونسل (این ایس سی) نے پریس ریلیز جاری کی جس میں انہوں نے خبر کی تردید کی۔

واقعات کے بہاؤ اور ترتیب میں جھوٹی خبر کے مصدقہ کہلانے اور پھیلنے کے قوی امکانات ہوتے ہیں۔

اس ضمن میں ایک اور قابلِ غور نکتہ یہ ہے کہ ڈیورنڈ لائن سے متعلق جھوٹی خبر 22 جون کو وائرل ہوئی لیکن تقریباً ایک ماہ قبل یعنی 27 مئی کو حقیقی/مصدقہ خبر نشر ہوئی کہ افغان سلامتی مشیر حنیف اتمر اسلام آباد کے دورے پر پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ (ر) جنرل ناصر خان جنجوعہ سے ملاقات کریں گے۔

متوقع ملاقات کے تناظر میں کوئی بھی ‘جھوٹی خبر’ سچ کا روپ دھار سکتی ہے۔

جھوٹی خبر کیوں جنم لیتی ہیں!

اس ضمن میں محققین کے نزدیک مندرجہ ذیل 2 اصلاحات کافی اہمیت کی حامل ہیں۔

1۔ Misinformation (غلط معلومات) یعنی ایسی معلومات جس میں تھوڑا سچ اور تھوڑا جھوٹ شامل ہو۔

2۔ Disinformation (غلط اطلاع) یعنی ایسی اطلاع جو قطعی طور پر اپنا وجود نہیں رکھتی اور خالصتاً کسی سے منسوب کرکے گھڑی گئی ہو۔

ماہرین ذرائع ابلاغ متفق ہیں کہ بیشتر جھوٹی خبریں غلط معلومات (Misinformation) پر مبنی ہوتی ہیں۔

اس ضمن میں انڈونیشیا کی مثال لیجیے جہاں انڈونیشیا کے چینی نژاد عیسائی گورنر باسوکی تجھاجا پُرنما کے خلاف 2017ء میں توہینِ قرآن کا الزام لگا۔ جعلی خبروں کی فیکٹری سے انتہائی مربوط طریقے سے منفی سیاسی مہم نے انہیں توہینِ مذہب قرار دے دیا۔

دباؤ اس قدر بڑھ گیا کہ حکومت کو ان کے خلاف مقدمہ چلانا پڑا۔

گورنر باسوکی تجھاجا پُرنما نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ‘سیاسی مخالف ان کے خلاف قرآن کی آیات پڑھ کر حملہ کررہے ہیں’ جس کے بعد ان کے بیان کی ویڈیو فیس بک پر وائرل ہوگئی۔

مزید پڑھیے: کیا پاکستانی میڈیا اپنی قبر خود کھود رہا ہے؟

بعدازاں وہ عدالت کے رو برو پیش ہوئے اور روہانسے انداز میں کہا کہ ‘انہوں نے ساری زندگی مسلمانوں کے ساتھ گزاری ہے، وہ کیسے قرآن کی توہین کرسکتے ہیں اور ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا جارہا ہے’۔

میڈیا پر عدم اعتماد

جعلی خبروں کے پھیلاؤ میں توجہ طلب پہلو ’عدم اعتماد‘ کا ہے اور اسی کی آڑ میں بات کہی اور اُڑائی جاتی ہے جو ناقابلِ یقین حد تک توجہ حاصل کرلیتی ہے۔

ایسی متعدد تحقیق موجود ہیں جن میں سائنسی بنیادوں پر یہ ثابت ہوا کہ میڈیا اپنے مالی اور نظریاتی مفاد کی خاطر حالات اور واقعات کو ‘خاص نکتہ نظر یا ’اینگل‘ سے پیش کرتا ہے۔ جب میڈیا نے فرائض اور ضابطہ اخلاق سے روگردانی شروع کی تو اس کے خلاف منفی رائے عامہ نے بھی بتدریج جنم لینا شروع کردیا۔

اسی دوران سوشل میڈیا ذرائع ابلاغ کی ایک اضافی صنف بن کر ابھرا، جہاں اول تو یہ کہ ‘لکھنے اور نشر’ کرنے والا خود مختار ہے، عام شہری آزادانہ طور پر اپنے اور دوسرے کے نظریات، طرزِ معاشرت، سوچ اور مسائل پر بات کرکے لاکھوں لوگوں کی توجہ حاصل کرلیتا ہے۔ دوسرا یہ کہ سوشل میڈیا پر کوئی بھی بات، تصویر اور ویڈیو ہمیشہ موجود رہتی ہے چنانچہ اس کا پھیلاؤ بھی مسلسل جاری رہتا ہے۔

جب لوگوں کو اپنے مسائل کا حل روایتی میڈیا (ٹیلی ویژن، اخبار، ریڈیو) کے بجائے سوشل میڈیا میں نظر آنے لگا تو یہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔

جب روایتی میڈیا عوام کی نظروں میں عدم اعتماد کا شکار ہوا تب جعلی خبروں کے ذریعے ’خاص نوعیت کے اہداف‘ حاصل کرنے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔ ایک ملک دوسرے کے خلاف اقتصادی سائبر کرائم میں مصروف ہوگیا، ایک شخص ذاتی عداوت کے تحت دوسرے شخص کو بدنام کرنے کے لیے جھوٹی باتیں سوشل میڈیا پر پھیلانے لگا۔

جب تک متاثرہ شخص یا ادارہ اپنی وضاحتیں پیش کرتا ہے، تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے، شک و شبہہ کے سائے گہرے ہوجاتے ہیں اور کردار پر سیاہی کا معمولی سا دھبہ بھی بڑا لگنے لگتا ہے۔

اس ضمن میں انڈونیشیا کی مثال لیجیے جہاں 2014ء کے صدارتی انتخابات کی گہما گہمی گلی کوچوں کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی جاری تھی کہ ایک ‘خبر’ سے پورے ملک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ انڈونیشیا کے اعتدال پسند مسلمان صدر جوکو ویڈوڈ (Joko Widodo) کو سوشل میڈیا پر چائنیز کرسچن کمیونسٹ (Chinese Christian Communist) کہہ کر ملک کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔

انڈونیشیا کا میڈیا بھی جوکو ویڈوڈ کے خلاف ہونے والے مظاہرے کی بھرپور کوریج کررہا تھا اور اخبارات جلی حروف سے سجی سرخیاں لگا رہے تھے۔

پہلے پہل جو بات محض افواہ سمجھی جارہی تھی مگر بتدریج وہ باقاعدہ خبر کا روپ دھار چکی تھی اور ان کی صدارتی ساکھ کے لیے خطرہ بن گئی جس کے بعد انہیں مجبوراً فیس بک پر اپنی شادی کا سرٹیفیکٹ شئیر کرنا پڑا جس کے بعد جعلی خبروں کی توپوں کا منہ کسی حد تک بند ہوگیا۔

اسی طرح بھارت میں 2017ء کے درمیانی عرصے میں واٹس ایپ پر نمک کی شدید قلت کی جعلی خبر پھیل گئی اور لوگ دیوانہ وار نمک خریدنے کے لیے دکانوں پر ٹوٹ پڑے۔ اس جھوٹی خبر پر بھارت کی 4 ریاستوں میں بھگڈر کے واقعات رپورٹ ہوئے اور ایک خاتون جان سے گئیں۔

جعلی خبروں کے طوفان کو روکنے یا کم از کم اس کے زور توڑنے کے لیے جرمنی میں NetzDG نامی قانون پاس کیا گیا، جس کے تحت سوشل میڈیا کو جعلی خبریں اور نفرت آمیز مواد کو ہٹانے کے لیے 24 گھنٹے کی مہلت ہوگی۔

ملائیشیا کی پارلیمنٹ نے مارچ 2018ء میں ’اینٹی فیک نیوز بل‘ پاس کیا جس کے تحت جعلی خبریں پھیلانے والے مجرم کے لیے 10 سال قید کی سزا مقرر کی گئی۔ ہمسایہ ملک چین میں حکومتی ادارے سوشل میڈیا کے مواد کا ہر لمحہ جائزہ لیتے ہیں، وہاں جعلی خبر پھیلانے والوں کو 3 برس کی قید کا قانون موجود ہے، اس کے علاوہ اٹلی میں بھی اس حوالے سے قانون سازی موجود ہے۔

چین کی عسکری قیادت نے فوج کے خلاف ’جعلی خبر‘ اور ’غلط بیانی‘ کی روک تھام کے لیے آن لائن سروس بھی شروع کی ہے۔

مزید پڑھیے: جھوٹی خبروں سے ہونے والے نقصان اور بدنامی کا ذمہ دار کون؟

جعلی خبروں سے کیسے بچیں

اس ضمن میں چند نکات قابلِ غور ہیں۔

1: اگر آپ کسی ویب سائٹ یا سوشل میڈیا پر سنجیدہ مگر قدرے حیران کردینے والی خبر پڑھیں تو اس کی صداقت کے لیے دیگر ذرائع پر جاکر خبر کا موازنہ کریں۔

2: ان دنوں سوشل میڈیا پر اخبار کا تراشہ بھی پیش کیا جاتا ہے۔ خیال رہے کہ اب ایسے کئی سافٹ ویئر دستیاب ہیں جن کی مدد سے بڑی آسانی سے خبر کا متن اور اخبار کی ’لوح‘ لگا کر جعلی خبر بنائی جاسکتی ہے۔ اگر ایسا دیکھیں تو مذکورہ اخبار کی ویب سائٹ پر جاکر لازمی تسلی کرلیں۔ یہی معاملہ نیوز ویب سائٹس کا بھی ہے۔

3: یہ ضروری نہیں کہ جو ویب سائٹ مشہور ہے اس پر نشر ہونے والی معلومات بھی ٹھیک ہو۔ یہ دھیان رکھیے کہ ویب سائٹ نے خبر کو پیش کرتے ہوئے تمام حوالہ جات کا ذکر کیا ہے یا نہیں۔

4: ان دنوں ملتے جلتے ڈومین کے ناموں کی مدد سے لوگوں کی توجہ حاصل کی جارہی ہے جس پر جعلی خبریں یا معلومات فراہم کرنے کا چلن پورے عروج پر ہے۔ آپ کے نزدیک dawnnews.tv ایک قابلِ اعتماد ڈومین ہوسکتا ہے لیکن یاد رہے کہ dawnnews.tv-tv ڈومین مختلف اور جعلی ہے جو اصل ڈومین سے مماثلت رکھتا ہے۔

5: خیال رہے کہ خبر ویب سائٹ یا اخبار میں شائع ہونے سے پہلے متعدد مراحل سے گزرتی ہے جس میں تحریری انداز، لفظ کی درستگی اور معروضیت کا خیال رکھا جاتا ہے۔

6: اکثر ایسا ہوا ہے کہ بیشتر جعلی یا مبالغہ آرائی پر مشتمل خبریں پرانی ہوتی ہے اور انہیں نئے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

بشکریہ ڈان نیوز

Close Menu