2018 خلائی دوڑ میں تیزی

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: سرگوشی نیوز ڈیسک : 

2018ء میں برسوں بعد خلائی دوڑ میں تیزی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ 1990ء کے بعد یہ پہلا موقع آیا ہے کہ دنیا بھر سے خلا میں بھیجے جانے والے راکٹوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی ہے۔ روسی اسپیس انڈسٹری کے ذرائع کے مطابق خلائی مشنز کی تعداد میں اضافے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ رواں سال کے دوران چین نے خلا میں بھیجے جانے راکٹوں کی تعداد دوگنی کر دی ہے، 2017ء میں چین نے 18 راکٹ خلا میں بھیجے تھے جبکہ اس سال اس نے کل 39 راکٹ خلا میں چھوڑے میں ہیں۔ رواں سال کے آخری دن تک راکٹ خلا میں بھیجنے کا پروگرام پہلے ہی سے طے کیا جا چکا ہے جن کی کامیاب لانچ کے بعد خلا میں چھوڑے جانے والے راکٹوں کی کل تعداد 115 ہو جائے گی۔ چین کے علاوہ رواں سال کے دوران بھارت، نیوزی لینڈ اور امریکہ نے بھی زیادہ تعداد میں راکٹ خلا میں بھیجے ہیں لیکن اس کے برعکس جاپان اور روس نے خلائی راکٹ چھوڑنے کی تعداد میں کمی کی ہے۔

Close Menu