پودوں کی تین قدیم اقسام کے شواہد دریافت

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: سرگوشی نیوز ڈیسک

قدیم فوسلز پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں نے اردن میں کھدائی کے دوران قدیم پودوں کے ایسے فوسلز دریافت کیے ہیں جن کے مطالعے سے ابتدائی دور کے پودوں اور ان کے ارتقا کے بارے میں اہم معلومات مل سکتی ہیں۔ پرمیئن دور (Permian period) 300 ملین سال پہلے شروع ہو کر 50 ملین سال پہلے اختتام پذیر ہوا تھا۔ محققین کو کھدائی کے دوران پرمیئن دور کی مٹی کی تہہ سے ہمیشہ سرسبز رہنے والے پودوں اور درختوں کی Podocarpaceae family کے علاوہ لاکھوں سال پہلے معدوم ہو جانے والی Corystospermaceae family اور Bennettitales order کے پودوں کی باقیات میں بھی ملی ہیں۔
Podocarpaceae family کے پودوں اور درختوں کی تعداد سب سے بڑی ہے اور اس فیملی سے تعلق رکھنے والی 156 اقسام کی جھاڑیوں اور درختوں کی اقسام جنوبی کرۂ ارض میں پائی جاتی ہیں۔ Corystospermaceae family بیجوں والے پودے ہوتے تھے لیکن اس نسل کے پودے 150 ملین سال پہلے ہی معدوم ہو گئے تھے جبکہ Bennettitales order, کے بیجوں اور پھولوں والے پودوں کی اس نسل کا خاتمہ 66 مین سال پہلے ہو گیا تھا۔
اردن میں ہونے والی حالیہ دریافت کے بارے میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس سے انہیں جہاں پودوں کے قدیم اوریجن کو جاننے کا موقع ملے گا وہیں ان کی خلیاتی ساخت کو سمجھنے اور ان تینوں گروہوں کے پودوں کے آپس میں تعلق کو جاننے میں بھی مدد ملے گی۔ واشنگٹن کی University of Munster کے ریسرچر Benjamin Bomfleur نے اپنی اس دریافت کے بارے میں جرنل سائنس میں ایک مقالہ تحریر کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ایک چٹان میں تین طرح کے پودوں کے فوسلز کی دریافت سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ اس وقت کی گرم و مرطوب آب و ہوا اور ماحول میں کتنا تغیر و تبدل اور دباؤ ہوا کرتا تھا۔
Close Menu