بھارت کا خلائی پروگرام ایک قدم اور آگے

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: سرگوشی نیوز ڈیسک

انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (ISRO) نے خلا نوردوں کو اسپیس فلائٹ میں بھیجنے کی بنیادی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ تاہم انہیں خلا میں بھیجنے سے پہلے دو خلائی مشنز کیے جائیں گے تاکہ اعتماد اور مہارت حاصل کی جا سکے۔ اس کے لیے اسپیس کرافٹ نچلے مدار میں بھیجا جائے گا جہاں وہ زیادہ سے زیادہ سات دن تک گردش کرتا رہے گا۔ ۔ گگنیان پروگرام کے لیے 1.4 ارب ڈالر کی ضرورت ہے جس میں ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ کی رقم بھی شامل ہے۔ گگنیان پروگرام کے تحت دو بغیر خود کار اور ایک انسانی خلائی مشن روانہ کیے جائیں گے۔ اس مشن کے لیے انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن نے GSLV Mk-III لانچ وہیکل تیار کر لیا ہے جو تین خلابازوں کو لے کر نچلے مدار تک جا سکتا ہے۔ ISRO نے ہنگامی انخلا کے نظام کا بھی تجربہ کیا ہے جو انسانی اسپیس فلائٹس کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اگر یہ مشن کامیاب ہو گیا تو روس، امریکہ اور چین کے بعد انسان کو خلا میں بھیجنے والا چوتھا ملک بن جائے گا۔ گزشتہ دس سال کے دوران بھارت نے اسپیش پروگرام میں بہت بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ گزشتہ سال جولائی میں ISRO نے خلا میں رواں سال کے دوران چاند پر خلائی مشن بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔ اس سے قبل 2013ء میں بھارت مریخ کی طرف بھی ایک سیارچہ بھیجا تھا جو اب بھی کام کر رہا ہے جبکہ گزشتہ سال بھارت سے 104 سیٹلائٹس خلا میں بھیجے گئے تھے۔ خلا سیٹلائٹس بھیجنے کے بزنس میں بھارت دوسرے ملکوں سے مقابلہ کر رہا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بھارت سے خلا میں سیٹلائٹ بھیجنا سستا ہے، اور یہی کم لاگت بھارت کے اسپیس پروگرام کو فوقیت دلوا سکتی ہے۔ 2003ء میں چین نے پہلی بار انسان کو خلا میں بھیجا تھا لیکن اس کے شینزو پروگرام پر 2.3 ارب ڈالر خرچ ہوئے تھے جبکہ ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ نے 1969ء میں انسان کو چاند پر اتارنے کے لیے آج کی قدر کے حساب سے 110 ارب ڈالر خرچ کیے تھے۔
بھارت جہاں چین سے مقابلے کی دوڑ میں اپنے خلائی پروگرام پر بھاری اخراجات کر رہا ہے وہیں چین اپنی چاند گاڑی آئندہ چند دنوں میں چاند کے دوسری طرف اتارنے والا ہے۔ اس کا سیٹلائٹ چینگ ای 4 چاند کے مدار میں پہنچ چکا ہے، یہ چاند گاڑی 12 دسمبر کو روانہ کی گئی تھی۔ اس مشن کا مقصد چاند کی سطح کا سروے کرنا اور وہاں موجود معدنیات کا جائزہ لینا ہے۔ اس کے علاوہ یہ چاند گاڑی چاند کی سطح پر پائی جانے والی روشنی، کشش ثقل، نیوٹرون تاربکاری اور دوسری ریڈیو ویوز کا اندازہ بھی لگائے گی کیونکہ ابھی تک سائنسداں چاند کی دوسری طرف کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔
Close Menu