پاکستان کا ماحولیاتی چیلنج

تحریر: امتیاز متین

موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلیاں ہمیشہ تہذیبوں کو ملیامیٹ کرتی رہی ہیں۔ پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جو عالمی حدت میں اضافے کے نتیجے میں رونما ہونے والی بڑی ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ اس وقت دنیا کے مختلف ممالک میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت اور صحرا زدگی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کی بھر پور کوششیں جاری ہیں۔ بر اعظم افریقہ سے لے کر چین اور منگولیا تک پھیلے ہوئے خشک، بنجر، صحرائی اور نیم صحرائی علاقوں کو ریگستان میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس ماحولیاتی چیلنج سے مقابلہ کرنے میں چین سب سے آگے ہے جو ہر سال تقریباً دو ہزار مربع کلو میٹر صحرا کو سر سبز علاقوں میں تبدیل کر رہا ہے جبکہ افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے خشک علاقوں کو دوبارہ سرسبز بنانے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ افریقہ میں صحرا زدگی روکنے کے لیے 8 ارب ڈالر کی لاگت سے گیارہ ملکوں میں 8 ہزار کلومیٹر لمبی اور 15 کلومیٹر چوڑی درختوں کی سبز دیوار بنائی جا رہی ہے۔ ادھر اردن کے شاہان اپنے بنجر علاقوں میں جنگلات کی بحالی میں ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ افریقہ اور ایشیا کے جن خشک علاقوں کو کئی برس کی محنت سے سرسبز بنایا گیا ہے وہاں قدرتی طور پر میٹھے پانی کے چشمے پھوٹ پڑے ہیں۔ صحرائی علاقوں میں بسنے والے لوگوں کو سکھایا جا رہا ہے کہ کم سے کم پانی میں پھل دار درخت اور سبزیاں کیسے اگائی جا سکتی ہیں۔ چھوٹے باغات بھی اتنی سبزیاں اور پھل پیدا کر سکتے ہیں کہ دو تین غریب گھرانے پیٹ بھر کر کھانا کھا سکیں۔ کسانوں کو یہ سمجھایا جا رہا ہے کہ وہ اپنے کھیتوں کو صاف کرنے کے لیے پچھلی فصل کے کچرے کو آگ نہ لگائیں بلکہ مویشیوں کو کھلا دیں اور باقی کو ہل چلا کر اسے مٹی میں ملا دیں، اس سے زمین کی زرخیزی بڑھنے کے ساتھ ساتھ پانی جذب کرنے کی صلاحیت میں تین گنا اضافہ ہوتا ہے جبکہ کھیتوں کے کچرے کو آگ لگانے سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے جس کا تجربہ ہر سال موسم سرما میں پنجاب کے اسموگ کی صورت میں کیا جاتا ہے۔
یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ جن علاقوں میں درخت زیادہ ہوں تو وہ ہوا کی نمی کو بھی شبنم کے قطروں میں تبدیل کرکے زمین کو نم کر لیتے ہیں لیکن جن علاقوں میں گھاس، جھاڑیاں اور درخت نہ ہوں تو وہاں بارش کا پانی زرخیز مٹی کو بھی اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے، بنجر علاقوں سے خوشحالی روٹھ جاتی ہے اور بھوک، افلاس اور جہالت اپنے ڈیرے جما لیتی ہے۔ تاہم اگر کوشش کی جائے تو بنجر زمینوں کو دودھ اور شہد کی سرزمین بنایا جا سکتا ہے۔اس کے لیے یہ سمجھنا ہوگا کہ قدرت کے چکر میں کوئی چیز فالتو نہیں ہے بس اس کے بہتر استعمال کا طریقہ معلوم ہونا چاہیے۔ اصلی کھاد یوریا سے بہتر ہے، شہد کی مکھیاں بہترین پولی نیشن کرتی ہیں جبکہ منحوس سمجھا جانے والا ایک الّو سال بھر میں کھیتوں سے ہزاروں چوہے اور سانپ کھا جاتا ہے۔
یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ پاکستان کا 80 فیصد رقبہ صحرائی اور نیم صحرائی ہے جبکہ پاکستان میں نئی جھیلیں اور آبی ذخائر بنانے کے لیے کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا گیا ہے۔ دریاﺅں میں شہروں اور صنعتی علاقوں کا آلودہ اور تیزابی پانی بغیر ٹریٹمنٹ کیے دریاﺅں میں پھینکا جا رہا ہے جس سے آبی حیات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اسلام آباد میں بہنے والی شفاف پہاڑی ندیاں آج گندے پانی کے نالوں میں تبدیل ہو چکی ہیں لیکن سی ڈی اے خاموش ہے۔
 ایک زمانے سے یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ پنجاب پانچ دریاﺅں اور نہروں کی زمین ہے اس کے کنوئیں ہمیشہ شفاف، ٹھنڈے اور میٹھے پانی سے لبریز رہیں گے۔ لیکن پنجاب میں جس بڑے پیمانے پر زیر زمین پانی کھینچا جا رہا ہے اس کے نتیجے میں زیر زمین پانی کی سطح ڈھائی سے تین فٹ سالانہ کے حساب سے گرتی جا رہی ہے۔ حکومت نے پانی فروخت کرنے والی کثیرالقومی کمپنیوں کو لائسنس تو فروخت کر دیے ہیں لیکن ابھی تک کسی نے یہ سوچنے کی زحمت گوارہ نہیں کی ہے کہ ان کمپنیوں کے کنوﺅں کے اطراف میں زیر زمین پانی کی سطح پر کیا اثر پڑا ہے۔ آج لاہور میں ہر روز 160 ملین لٹر پانی زمین سے نکالا جا رہا ہے۔ وسطی لاہور میں کنوﺅں کی گہرائی 130 فٹ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو 2040ءلاہور کے نیچے پانی نا پید ہو جائے گا تب لاہور کی زمین بھی کسی بنجر علاقے کی طرح کٹنا، پھٹنا اور دھنسنا شروع ہو جائے گی۔ کہا جا رہا ہے کہ صوبہ پنجاب کے اکثر شہروں کے نیچے سے 90 فیصد پانی کھینچا جا چکا ہے اور جو پانی باقی بچا ہے اس میں آرسینک کی مقدار زیادہ ہے جس کی وجہ سے پیٹ کی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ برسوں کی حکمرانی اور دولت کے انبار جمع کر لینے کے باوجود پاکستانی رہنما یہ سمجھنے سے قاصر رہے ہیں کہ اگر کنوئیں خشک ہو گئے تو جاتی امرا بھی سر سبز نہیں رہ پائے گا، بنی گالا کا جنگل سوکھ جائے گا اور وسیع و عریض بلاول ہاﺅس میں بھی خاک اڑنے لگے گی۔
زیر زمین صاف کی کمیابی کو دور کرنے کا ایک آسان طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ مسجدوں کے وضو خانوں میں استعمال ہونے والے صاف میٹھے پانی کو بے دردی سے گٹر لائنوں میں بہانے کے بجائے ایک کنویں میں ڈال دیا جائے۔ اگر ملک بھر کی مساجد میں یہ کام کر لیا گیا تو ہم نہ صرف یومیہ لاکھوں گیلن میٹھا پانی ضائع ہونے سے بچانے میں کامیاب ہو جائیں گے بلکہ خشک ہوتے کنوئیں بھی جلد ہی دوبارہ میٹھے پانی سے بھر جائیں گے۔ آج نئی عمارتوں کے لیے پانی کی مینجمنٹ کا جدید تصور یہ ہے کہ صرف ٹوائیلٹ کا پانی گٹر لائن میں ڈالا جاتا ہے جبکہ کچن اور واش بیسن کا صابن والا پانی ایک علیحدہ ٹینک میں جمع کر لیا جاتا ہے جسے صاف کرکے پودوں اور درختوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اگر نہروں اور ندیوں کے پانی کو نئی جھیلوں اور تالابوں سے گھما کر واپس نہروں یا ندیوں میں ڈال دیا جائے تو اس سے پارکوں کی خوبصورتی بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس علاقے میں زیر زمین پانی کی سطح برقرار رہے گی۔
گزشتہ دنوں جب بھارت نے آبی جارحیت کے منصوبوں کے تحت کشن گنگا ڈیم کا افتتاح کیا تو پاکستان کی بہت بڑی آبادی کو حلق خشک ہوتے محسوس ہوئے تھے۔ اسی پس منظر میں جب سوشل میڈیا پر کالا باغ ڈیم بنانے کی بات کی گئی تو سندھ اور خیبر پختونخواہ سے اس کے خلاف آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کالا باغ ڈیم بننے خیبر پختونخواہ ڈوب جائے گا جبکہ سندھ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ کالا باغ ڈیم بننے سے پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے علاقے سیراب ہوں گے اور سندھ بنجر ہو جائے گا۔ اگر دونوں صوبوں کے کچھ لوگوں کے خدشات کو درست تسلیم کر لیا جائے تو ہمیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ دونوں صوبوں سے آبادی کی بہت بڑے پیمانے پر پنجاب کی جانب نقل مکانی کرے گی۔ ادھر بھارت گزشتہ کئی برسوں سے سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کے لیے کہہ رہا ہے لیکن یہ معاہدہ ختم کرنے سے پہلے اس نے مقبوضہ کشمیر ڈیمز بنانا شروع کر دیے ہیں۔ اب بھارتی میڈیا میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ لداخ کے علاقے میں دریائے سندھ پر تین ڈیمز بنائے جائیں گے جبکہ اب وہ دریائے راوی کا بچا کھچا پانی بھی پاکستان میں جانے سے روکنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ سندھ میں ڈیموں کی تعمیر کے خلاف شور مچانے والوں نے بھارتی آبی منصوبوں پر بالکل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
دنیا بھر میں تحفظ ماحولیات کے لیے بہت سے قوانین بنائے گئے ہیں جن میں سے کئی معاہدوں پر پاکستان نے بھی دستخط کیے ہیں جن کی وجہ سے حکومتوں کو مجبوراً تحفظ ماحولیات کے لیے بہت سے کام کرنا پڑیں گے۔ موجودہ قوانین جو بھی کہتے ہوں لیکن جنگلات لگانا، جنگلات اور جنگلی حیات کی حفاظت کرنا، صاف پانی کے کے ذخائر اور ندیوں اور دریاﺅں کو آلودگی سے بچانا ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جن مذہبی اکابرین کا معاشرے میں اثر ہے انہوں نے تحفظ ماحولیات و جنگلی حیات سے متعلق اسلامی تعلیمات کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیے کوئی خاص کام نہیں کیا ہے۔ اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ آئندہ برسوں میں پاکستان کی آبادی میں اضافہ ہی ہوگا جس کے لیے ہمیں نئے علاقے سر سبزبنانا ہوں گے۔ اگر ہم یہ نہ کر سکے تو پھر لوگوں کو افغانستان، یمن، ایتھوپیا اور صومالیہ جیسے ملکوں کو یاد رکھنا چاہیے۔ لیکن ان سب باتوں سے حکمراں طبقات کو کیا فرق پڑتا ہے، اگر پاکستان میں کوئی بڑی ماحولیاتی تباہی آئی تو وہ اپنی دولت کے انبار سمیٹ کر کسی یخ بستہ سرسبز مغربی ملک میں جا بسیں گے۔

آوے کا آوا

جب آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہو تو خرابیاں اتنی آسانی سے ٹھیک نہیں ہوتیں۔ یہ صورتحال اس وقت مزید بگڑ جاتی ہے جب

مکمل پڑھیے

لندن

آرٹ کے معاملے میں اپنی کم علمی (گویا تقریبا” جہالت) کو چھپانے کی کوشش کرتے ایک عمر گزر گئی – ان دوستوں کو ھمیشہ رشک

مکمل پڑھیے
Close Menu