2019ء …… پاکستانی میڈیا کا بحران اور نئے رجحانات

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: امتیاز متین

ان دنوں پاکستانی میڈیا انڈسٹری بحران کا شکار ہے۔ سیکٹروں میڈیا کارکنان ملازمتیں کھو بیٹھے ہیں اور ابھی اس بحران کے ختم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ کیا اس کی وجہ نئی حکومت کی نئی پالیسی ہے یا یہ میڈیا ہاؤسز کی ناقص کاروباری حکمت عملی کا نتیجہ ہے جس نے میڈیا انڈسٹری کو اس مشکل سے دوچار کر دیا ہے جسے وہ ایک عرصے سے دعوت دے رہے تھے یا انہیں انتخابی نتائج کے ساتھ ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ اب فری فنڈ کے مزے زیادہ دن جاری نہیں رہ سکیں گے۔ لیکن میڈیا ہاؤسز کے مالکان نے اپنے نفع میں نقصان کے دن آتے دیکھ کر بھی ملازمین کو برطرفیوں کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنے کا عندیہ دینے سے گریز کیا گیا۔ اس وقت بڑے نیوز چینلز کے صحافتی عملے میں بھی بے یقینی کی کیفیت ہے اور ہر کوئی اپنی کرسی مضبوطی سے تھامے بیٹھا ہے کہ جانے کب یہ کرسی چھن جائے۔ کہا جا رہا ہے کہ میڈیا انڈسٹری کا حالیہ بحران سرکاری اشتہارات بند ہونے کی وجہ سے شدید ہوا ہے جو میڈیا کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھا جا رہا تھا۔ اب حکومت نے ٹی وی چینلز کی سرکاری اشتہارات کے ریٹس کی ایک فہرست جاری کی ہے جس کے مطابق جیو اور اے آر وائی نیوز جیسے بڑے ٹی وی چینلز کے فی منٹ اشتہاری ریٹس میں صرف دو لاکھ روپے کم کرکے باقی کی ہزاروں روپے کی رقم رہنے دی گئی ہے۔ کچھ چینلز ایسے بھی ہیں جن کے اشتہاری ریٹ ڈیڑھ لاکھ روپے فی منٹ سے کم کرکے دس ہزار روپے مقرر کر دیے گئے ہیں۔ یعنی جعلی ریٹنگ پر انحصار کرنے کے بجائے اصلی اوقات یاد دلائی گئی ہے۔ یہی حال شاید پرنٹ میڈیا کے سرکاری اشتہارات کا بھی ہوا ہے، اب اگر حکومت آڈٹ بیورو آف سرکولیشن کے جعلی اعداد و شمار پر انحصار کرنے کے بجائے مارکیٹ سروے کروا لے کہ کس پریس مارکیٹ میں کس اخبار یا جریدے کی کتنی کاپیاں پہنچ رہی ہیں یا پریس سے اخبار لے کر نکلنے والی گاڑیوں کا حساب بھی لگا لیا تو بھی بڑے اخبارات کی حقیقی سرکولیشن بھی سامنے آ جائے گی۔ جبکہ پریس میں دیے گئے پرنٹ آرڈر اور استعمال ہونے والے نیوز پرنٹ سے تو ایک ایک کاپی کا حساب لگایا جا سکتا ہے۔ اگر اخبارات اور جرائد کی حقیقی سرکولیشن کی رپورٹ سامنے آگئی تو حکومت کو یقیناً بڑے اخبارات کے بھی اشتہاری نرخوں میں بھی کمی کرنا پڑے گی۔
وزیر اعظم عمران خان کی میڈیا مالکان اور معروف صحافیوں سے ہونے والی ملاقات بھی میڈیا کے بحران کو حل کرنے اور سرکاری اشتہارات کھولنے کی بات کی گئی تھی لیکن حکومت کی جانب سے یہی موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت میڈیا ہاؤسز کے 80 فیصد اخراجات برداشت کرنے کے لیے سرکاری اشتہارات دینے پر آمادہ نہیں ہے۔ میڈیا کا موجودہ بحران سیٹھوں اور ان کے مارکیٹنگ ڈائریکٹرز کی برسوں کی ناقص مارکیٹنگ پالیسیوں کا نتیجہ ہے جس میں ٹیلی وژن پروگرامز اور اخبارات کا ادارتی معیار گرا ہے۔

کہ میڈیا پر زوال آ رہا ہے اور میڈیا ہاؤسز کے بہت سے ملازمین کو برطرف کیا جا رہا ہے یا جو لوگ کام کر رہے ہیں انہیں کئی کئی مہینوں سے بغیر تنخواہ کام کر رہے ہیں۔ صحافیوں کو بھی بغیر تنخواہ سیٹھوں کی خدمت کرتے رہنے کے بجائے دفتر سے باہر نکل کر کچھ سوچنا چاہیے اور سیٹھوں کو کہنا چاہیے کہ وہ بطور ایڈیٹر انچیف سے زیادہ تنخواہ اور منافع کماتے ہیں اس لیے انہیں سب سے زیادہ کام خود کرنا چاہیے بلکہ خود ہی سارا کام کر لینا چاہیے۔ ملازمتوں سے برطرفیوں کے باوجود صحافیوں کو یہ یقین نہیں ہے کہ میڈیا ہاؤسز کے مالکان واقعی میں قلاش ہو گئے ہیں یا کسی حقیقی مالیاتی بحران میں مبتلا ہو گئے۔ البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ میڈیا ہاؤسز کے مالکان کی ترجیحات میں تبدیلی آ رہی ہے اور وہ اپنا بزنس ماڈل تبدیل کر رہے ہیں جس کے باعث یہ بحران رواں سال میں بھی جاری رہے گا اور ممکن ہے کچھ لوگ جیسے پیسہ کمانے کے لیے میڈیا انڈسٹری میں آئے تھے وہ اب اسے غیر منافع بخش سمجھ کر کسی اور بزنس میں چلے جائیں۔ حکومتی اشتہارات کی پالیسی تبدیل ہونے کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ نفع میں نقصان ہونا شروع ہو گیا ہے جس کے لیے کم تنخواہ والے میڈیا ملازمین کو برطرف کیا جا رہا ہے ورنہ موٹی تنخواہوں والے اینکرز تو اب بھی اپنی اپنی جگہ براجمان ہیں اور شاید تھوڑی بہت کمی بیشی کے باوجود اس وقت تک بھاری مشاہرے وصول کرتے رہیں گے، جب تک انہیں ڈاکٹر شاہد مسعود کی طرح نیب یا ایف آئی اے حراست میں نہیں لے لیتی۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کے متعلق اب بھی یہی خبریں ہیں کہ وہ جلد ہی ضمانت پر رہا ہو کر اپنا پروگرام دوبارہ شروع کر دیں گے لیکن اس وقت خود نیوز ون کے حالات دگر گوں ہیں، اسٹاف کو تنخواہیں نہیں مل رہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ نیب کو بھی چینل کے کچھ لوگوں کی تلاش ہے جو ملک سے باہر بیٹھے ہوئے ہیں۔ بول ٹی وی سے بھی اکثر اسٹاف تین چار مہینے تک تنخواہ نہ ملنے کے باعث از خود فارغ ہو چکا ہے اور جو لوگ باقی رہ گئے ہیں ان میں سے اکثر کو چھ سات مہینے سے تنخواہ نہیں ملی ہے۔ جنگ اخبار اپنے چھ اخبارات عوام، آواز، انقلاب، جنگ پشاور، جنگ فیصل آباد اور ڈیلی نیوز بند کیے جا چکے ہیں جبکہ جنگ کراچی میں سے بھی کافی لوگ ملازمتوں سے فارغ کیے جا چکے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ کراچی میں صرف بیورو آفس رہ جائے گا اور لاہور میں جنگ کا ہیڈ آفس بنایا جائے گا اور صفحات کو مختلف اسٹیشنز پر تقسیم کر دیا جائے گا۔ بتایا جا رہا ہے کہ سماء ٹی وی نے یکم جنوری سے اسٹاف کو پکی نوکری کو کنٹریکٹ نوکری میں تبدیل کر دیا ہے۔ نوائے وقت سے بھی اسٹاف میں کافی کمی کی گئی ہے جبکہ ٹی وی چینل وقت نیوز بند کر دیا ہے۔ ایک طرف یہ عالم ہے کہ نیوز چینلز اسٹاف میں کمی اور بندش کی طرف جا رہے ہیں لیکن انہی دنوں میں ہم نیوز، جی ٹی وی اور جی این این کے نام سے نئے نیوز چینلز کھولے گئے ہیں۔ نئے نیوز چینلز کھلنے سے یہ لگتا ہے کہ میڈیا کے حالیہ بحران کی وجوہات کچھ اور بھی ہیں۔

ادارتی سطح پر دیکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ٹی وی چینلز میں نیوز اینکرز نے ایڈیٹر کے ادارے کو ختم کر دیا ہے وہ خود ہی بڑے علامہ بن گئے ہیں کہ جو چاہے بولیں اور جو چاہیں کریں۔ دوسری بات یہ ہے کہ سیاسی مداخلت اور سیاسی سفارش پر بھرتیوں نے بھی آزاد صحافت کے نعرے کو کافی حد تک مجروح کیا ہے۔ کیونکہ آزاد صحافت اور کسی کے مخصوص ایجنڈے پر پروپیگنڈا کرنا ایک الگ بات ہے یہی وجہ ہے کہ نوز چینلز پر بعض سیاسی رجحانات اور براہ راست یا بالواسطہ پیغام رسانی واضح نظر آتی رہی ہے۔ اب کہا جا رہا ہے کہ حکومت میڈیا سے متعلق کوئی نیا قانون بنانے جا رہی ہے جس میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ ویب اور سوشل میڈیا کو بھی قانونی دائرہ کار میں لایا جا رہا ہے. اس قانون کے تحت تمام اخبارات اور رسائل کو دوبارہ ڈیجیٹل درخواست دائر کرکے نیا ڈکلیریشن لینا ہوگا. تا.ہم اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ تمام ڈمی رسالے اور چیتھڑا قسم کے اخبارات سرکاری اشتہارات کی فہرست سے خارج کر دیے جائیں گے. اشتہارات جاری کرنے والے بعض سرکاری ملازمین مبینہ طور پر اشتہارات کی رقوم کا پچاس فیصد تک وصول کرتے رہے ہیں اور یہ رقم متعلقہ صوبائی وزیر تک بھی پہنچائی جاتی رہی ہے. سنھ کے سابق صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن بھی اسی قسم کے ایک کیس میں ان دنوں جیل کے مزے لے رہے ہیں. نئے قانون پر کئی صحافیوں میں تشویش بھی پائی جاتی ہے اور وہ اسے اظہار رائے کی آزادی پر ایک قدغن لگانے کی کوشش سے تعبیر کر رہے ہیں. کچھ صحافیوں کا خیال ہے کہ پاکستانی میڈیا پر ایک نادیدہ قسم کی سنسر شپ عائد ہے جس کی وجہ سے بعض مشتبی لوگوں کی گمشدگیوں اور پختون تحفظ موومنٹ کی سرگرمیوں اور ایسے ہی کچھ متنازع موضوعات پر لکھنے اور بولنے سے گریز کیا جا رہا ہے. متنازع سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے اٹھارہ غیر ملکی این جی اوز کے آپریشنز بند کیے جا چکے ہیں لیکن نادیدہ سینسر شپ کا رونا رونے والے صحافیوں نے اس بارے میں خاموشی اختیار کی ہے کہ ایسا کیوں کیا گیا ہے. ڈان نیوز کے پروگرام ” ذرا ہٹ کے” کے ہوسٹس کو کئی بار یہ کہتے سنا گیا ہے کہ انہیں بھی کوئی ان کی اس ہلکی پھلکی بےباکی پر اٹھا لے گا. شاید 70 اور 80 کی دھائی میں صحافت کا آغاز کرنے والے ابھی تک اس دور کی سینسر شپ کی قینچی کے خوف سے نہیں نکل سکے ہیں. تاہم ویب میڈیا اور سوشل میڈیا کی مقبولیت میں اضافے سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی نئی جہتیں تو سامنے آ سکتی ہیں لیکن مارشل لائی قسم کی سینسر شپ لگانا ممکن نہیں ہوگا اور نہ ہی کسی کو ویسی زباں بندی کرنے سے دلچسپی ہے جیسی زباں بندی ایم کیو ایم کے سابق قائد تحریک الطاف حسین کی گئی ہے.

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کہ ویب اور سوشل میڈیا کی وجہ سے لوگوں کی اخبارات اور جرائد پڑھنے کی عادت ختم ہو گئی ہے۔ ٹی وی چینلز نے جہاں اخبارات کو نقصان پہنچایا تھا اب سوشل میڈیا کی وجہ سے ٹی وی چینلز کے ناظرین میں کمی آنے لگی ہے جہاں اپنی مرضی کے وقت پر اپنی مرضی کا پروگرام دیکھنے کی سہولت موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں نیٹ فلیکس جیسی ویب سائٹس ٹی وی ناظرین میں مقبولیت حاصل ہو رہی ہے جو آج سے چند سال پہلے تک ناپید تھیں۔ ویب چینلز ہی کسی معروف اینکر پرسن یا کسی پروگرام اور ڈرامے کی مقبولیت کے دعووں کی حقیقت بتا سکتے ہیں۔ یہی فارمولا اخبارات اور جرائد پر بھی لاگو کرکے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ قارئین کسی اخبار کو کتنا پڑھنا چاہتے ہیں۔ اخبارات اور ٹی وی چینلز کو خود اخبارات اور ٹی وی چینلز مالکان اور ان کی اشتہاری ٹیموں برسوں کی محنت کے کے بعد دھکیلا موجودہ بحران تک پہنچایا ہے۔ کیا اخباری مالکان اس بات سے انکار کر سکتے ہیں کہ ان کے نزدیک ادارتی شعبے کی کوئی اہمیت نہیں رہی تھی۔ ایڈیٹوریل اور مارکیٹنگ کے شعبوں میں تنخواہوں کے فرق سے ہی یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اخباری مالکان کو اپنے پرچے کی ساکھ سے زیادہ اشتہارات اور پیسہ کمانے کی فکر رہی ہے۔ اشتہار لگانے کے لیے خبریں اتار دینا کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن زیادہ اشتہارات اصولی طور پر اس بات کا تقاضہ کرتے رہے ہیں اخبار کے صفحات کی تعداد میں بھی اضافہ کیا جائے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ اخبار کے صفحات اور کالم کا چھوٹا سائز چھوٹا کرنے کے ساتھ ساتھ اور عبارت کا پوائنٹ سائز کم کرکے اشتہاری لائنیں بڑھانے کی پالیسی سے کم خرچے میں زیادہ مال تو بنا لیا گیا لیکن اس ساری حکمت کا نتیجہ یہ نکلا کہ وقت کے ساتھ ساتھ قارئین کی تعداد میں کمی ہوتی چلی گئی جبکہ مہنگائی کے باعث قیمت بڑھتی چلی گئی۔ پھر جو خبریں نیوز چینلز پر ایک دن پہلے نشر ہو چکی تھیں وہیں خبریں اخبارات میں شائع کی جاتی رہیں جس سے روزناموں سے تازگی کا اثر ختم ہو گیا۔ زیادہ سے زیادہ اشتہارات کی اشاعت نے اخبارات کو اشتہاری پمفلٹ میں تبدیل کر دیا جس کی قیمت پندرہ بیس روپے ہے جبکہ ویب سائٹ پر وہی اخبار بالکل مفت میں دستیاب ہے۔ اس کے ساتھ ہی انٹرنیٹ پر مقابلے کا نیا رجحان سامنے آ رہا ہے۔ یہ ایسی ویب سائٹس ہیں جن کے پیچھے کوئی بڑا میڈیا گروپ نہیں ہے لیکن اپنی معیاری تحریروں کی وجہ سے خاص طور پر اردو قارئین کی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔ اس سے ایک چیز یہ ثابت ہوتی ہے کہ لوگوں میں معیاری اردو پڑھنے کا شوق اور رجحان اب بھی موجود ہے جن کی تعداد میں ٹیکنالوجی کے فروغ کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے؟ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ویب میڈیا پر بھی ٹی وی دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ہر چیز کی عکس بندی اتنی آسان اور سستی نہیں ہے اور تحریر میں زمین آسمان کے قلابے ملائے جا سکتے ہیں۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں ویب میڈیا فی الحال شوقیہ انداز میں چل رہا ہے اور لوگ انفرادی طور پر اپنے دوستوں اور جاننے والوں کی مدد سے ایسی ویب سائٹس چلا رہے ہیں لیکن قیاس کیا جا سکتا ہے کہ ایسی ویب سائٹس مستقبل میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہوں گی۔

Close Menu