پاکستان کے اہم سیاستدانوں کے خلاف گھیرا تنگ

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: امتیاز متین :

معاشی کمزوری، بے روزگاری اور بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومت کے خلاف اپوزیشن رہنماؤں کے سخت بیانات کے باوجود عام پاکستانیوں کو امید ہے کہ نیا سال کچھ اچھی خبریں لے کر آئے گا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اعلیٰ عدالتوں میں چلنے والے بڑے مقدمات کے فیصلے آنے لگے ہیں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ وہ جنوری میں ریٹائرمنٹ سے پہلے تمام از خود نوٹس پر درج ہونے والے مقدموں کے فیصلے کر کے جائیں گے۔ گزشتہ دنوں احتساب عدالت سے جو بڑا فیصلہ آیا ہے اس کے مطابق سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید اور1.5 ارب روپے اور 25 ملین ڈالر کا جرمانہ عائد کیا ہے، اس کے ساتھ ہی العزیزیہ اور ہل میٹل کی تمام جائیدادیں ضبط کرنے کے حکم کے ساتھ ساتھ کسی بھی عوامی عہدے کے لیے دس سال کے لیے نا اہل قرار دیا گیا ہے۔ مذکورہ ریفرنس میں شریک ملزمان ان کے دونو بیٹوں حسن نواز اور حسین نواز کو مفرور قرار دیا گیا ہے (جو ان دنوں لندن میں مقیم ہیں) جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں انہیں ناکافی ثبوت کی بنا پر رہا کر دیا ہے۔ نواز شریف کو عدالت نے اڈیالہ جیل میں قید کرنے کا حکم دیا تھا لیکن نواز شریف پہلے ہی درخواست لکھوا کر لائے تھے کہ انہیں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں بھیج دیا جائے لہٰذا عدالت نے ان کی درخواست قبول کر لی گئی جہاں انہیں اپنے گھر کا پکا ہوا کھانا منگوانے کی بھی اجازت ہو گی۔ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اس سزا کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی ہے جبکہ ہائی کورٹ میں اس سزا میں اضافے اور فلیگ شپ ریفرنس سے بریت کے خلاف بھی درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔ اس سے قبل 6 جولائی 2018ء کو انتخابات سے عین قبل نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں انہیں 11 سال قید بامشقت قید اور 8 ملین پاؤنڈ جرمانہ عائد کیا گیا تھا جبکہ ان کی بیٹی مریم نواز کو 8 سال قید با مشقت قید 2 ملین پاؤنڈ جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ داماد کیپٹن (ریٹائرڈ) صفدر کو جعلی ڈیڈ میں گواہی دینے پر ایک سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ مسلم لیگ (ن) کی بنائی ہوئی نگراں حکومت کے دوران یہ تینوں گرفتار ہوئے تھے لیکن چند دن بعد ضمانت پر رہا کر دیے گئے تھے جس پر ملک بھر میں کافی تنقید ہوئی تھی لیکن اس وقت بھی قیاس کیا جا رہا تھا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز (جو کوئی سرکاری عہدہ نہ ہونے کے باوجود اہم حکومتی امور سنبھالتی رہی تھیں) کو دوبارہ قید میں ڈال دیا جائے گا۔
نواز شریف کی بدعنوانیوں سے کہیں زیادہ بڑا اور سنگین میگا منی لانڈرنگ کیس اب اپنے فیصلہ کن مراحل میں داخل ہو رہا ہے۔ یہ واضح نظر آ رہا ہے کہ سندھ کے کئی بڑے سیاسی برج الٹنے والے ہیں۔ اس کیس کے مرکزی ملزم پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین اور سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور ہیں جبکہ ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری بھی سرفہرست ہیں۔ یہ کوئی نیا کیس نہیں ہے اور اس سے پہلے بھی اس جعلی بینک اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ سے متعلق خبریں منظر عام پر آتی رہی تھیں اور آصف زرداری کے کچھ قریبی ساتھیوں کو گرفتار بھی کیا جا چکا تھا۔ تاہم اس کیس میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ سامنے آئی جس میں جعلی بینک اکاؤنٹس میں کک بیکس کی وصولی اور بلاول ہاؤس کے اخراجات کی ادائیگی جیسی تفصیلات منظر عام پر لائی گئی تھیں۔ اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد حکومت نے اس مقدمے سے منسلک 172 افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیے، جن میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین اور سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، آصف زرداری کی بہن فریال تالپور، پیپلز پارٹی کے رکن سندھ اسمبلی اور سابق وزیر اعلیٰ سیّد قائم علی شاہ، پیپلز پارٹی کے موجودہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے علاوہ اومنی گروپ کے عبد الغنی مجید، انور مجید خواجہ، محمد عارف خان، علی کمال مجید، خواجہ سلمان یونس، نمر مجید خواجہ، بحریہ ٹاؤن کے سی ای او ملک ریاض، سمٹ بینک کے صدور احسن رضا درانی اور حسین لوائی، سندھ بینک کے صدور بلال شیخ اور احسن طارق، نیشنل بینک کے صدر سیّد علی رضا، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر علی عظیم اکرام شامل ہیں۔ مشتبہ افراد کی فہرست میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل منظور قادر کاکا، صوبائی وزیر امتیاز شیخ، دبئی کے ریاض لالجی، ممبر سندھ اسمبلی سہیل احمد سیال، ڈنشا ایچ انکل سریا، مکیش چاولہ اور دیگر تاجر، بلڈرز، بیوروکریٹس اور بینکرز وغیرہ شامل ہیں۔ ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نام شامل ہونے پر پیپلز پارٹی کی جانب سے سخت بیان بازی کا سلسلہ جاری ہو گیا جس کے جواب میں پی ٹی آئی کی جانب سے وزیر اعلی سندھ کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ سندھ حکومت گرانے اور پیپلز پارٹی میں فارورڈ بلاک بنانے کا شوشہ چھوڑ کر پیپلز پارٹی پر مزید دباؤ بڑھا دیا گیا، جس کے بعد سیاسی ماحول تھوڑا گرم ہو گیا۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے جہاں جے آئی ٹی کی رپورٹ کے غلط قرار دیا وہیں انہوں نے یہ دھمکی بھی دی کہ وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت چھ سیٹوں کی برتری اور اتحادیوں کے بل بوتے پر قائم ہے جسے پیپلز پارٹی جب چاہے گرا سکتی ہے۔ اس کے بعد یہ خبریں گردش کرتی رہیں کہ پیپلز پارٹی نے بلوچستان اور ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے ساتھ مل کر عمران خان کی حکومت گرانے کی منصوبہ بندی کر لی ہے اور جیسے ہی آصف زرداری اشارہ دیں گے اس منصوبے پر عمل درآمد کر لیا جائے گا اور پیپلز پارٹی حکومت بنا کر احتساب کا عمل کسی اور سمت میں لے جایا جائے گا۔ تاہم اس کے ساتھ ہی مرتضیٰ بھٹو کی بیٹی اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی فاطمہ بھٹو کی لندن میں وزیر اعظم عمران خان کی سابق بیوی جمائما کے ساتھ تصویریں کچھ عرصے سے سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔ فاطمہ بھٹو ایک تعلیم یافتہ خاتون ہیں جو کئی کتابوں کی مصنف بھی ہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کے حامیوں کا ایک ایسا حلقہ موجود ہے جو آصف زرداری اور بلاول (بھٹو) زرداری کو پیپلز پارٹی کا اصل وارث نہیں سمجھتے بلکہ مرتضیٰ بھٹو کی اولاد کو بھٹو خاندان کا اصل وارث سمجھتے ہیں۔ مرتضی بھٹو کا بیٹا ذوالفقار جونئیر ایک آرٹسٹ ہے اور امریکہ میں مقیم ہے جو سندھ کے جاگیردارانہ وڈیرہ کلچر کے خلاف ہے لیکن اختلاف کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مرتضیٰ بھٹو اور ان کے ساتھیوں کو کراچی میں ان کے گھر کے بالکل نزدیک پولیس کے ساتھ ہونے والی مدھ بھیڑ میں اس وقت گولیاں ماری گئی تھیں جب ان کی بڑی بہن بے نظیر بھٹو پاکستان کی وزیر اعظم تھیں۔ جبکہ دونوں بہن بھائیوں میں اس وقت بھی اختلافات کی ایک بڑی وجہ آصف علی زرداری ہی تھے۔ اگر فاطمہ بھٹو کی سیاست میں آمد ہوئی تو یہ آصف زرداری کی پیپلز پارٹی کے لیے بڑا دھچکہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ادھر بلاول زرداری اپنے نام کے ساتھ بھٹو لگا کر کئی بار یہ ثابت کرنے کی کوشش کر چکے ہیں کہ ان کی رگوں میں بھٹو کا خون دوڑ رہا ہے۔ ایسی تقریروں میں اکثر اپنی ماں اور نانا کا ذکر کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ انہیں اپنے باپ اور دادا پر ایسی کیا شرمساری ہے کہ کبھی تقریر میں ان کا نام نہیں لیتے۔
آصف زرداری گزشتہ کئی ہفتوں سے کہہ رہے ہیں کہ انہیں گرفتار کر لیا گیا تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہوگی اس سے پہلے بھی انہیں گیارہ سال جیل میں رکھا گیا ہے لیکن کچھ بھی ثابت نہیں ہو سکا۔ پچھلے مقدمات کی پیروی کس طرح کی گئی، اس بحث میں جائے بغیر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس بار آصف زرداری کے چہرے پر پریشانی نظر آ رہی ہے۔ 27 دسمبر کو بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر خطاب کے دوران آصف زرداری کا لب و لہجہ ذرا دھیما تھا لیکن بلاول خوب گرجے برسے شاید پاکستانی اداروں کو یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ وفاق کی بنیادیں کمزور ہو چکی ہیں اور ایک چنگاری سب جلا کر راکھ کر دے گی۔ ان کی اس تقریر کو بھی کئی سال پہلے آصف زرداری کی ’’اینٹ سے اینٹ بجا دینے‘‘ والی تقریر کے سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا سکتا ہے جو انہوں نے منی لانڈرنگ میں ملوث اپنے کچھ قریبی ساتھیوں پر ہاتھ ڈاے جانے کے بعد کی تھی۔ بعد ازاں آصف زرداری نے اپنی اس تقریر کے حوالے سے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ میاں نواز شریف کے کہنے پر آگے بڑھے تھے لیکن وہ خود پیچھے ہٹ گئے۔ پیپلز پارٹی کے کچھ رہنما کہہ رہے ہیں کہ اگر آصف زرداری کو حراست میں لیا گیا تو سندھ میں کوئی بھونچال آ جائے گا۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ ’’دمادم مست قلندر ہوگا۔‘‘ ایسے بیانات پر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا نواز شریف کی وزارت عظمیٰ سے برطرفی، قید، جرمانے اور جائیدادوں کی ضبطی کی سزاؤں پر پنجاب کی سیاست میں کوئی زلزلہ نہیں آیا اور مضبوط وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف المعروف خادم اعلیٰ کی حراست پر پنجاب اور خاص طور پر لاہور میں کوئی ہلچل نہیں مچی تو سندھ میں کون سا بڑا ہنگامہ ہو جائے گا اور اس سے پہلے جب سپریم کورٹ نے آصف علی زرداری کے خلاف سوئس عدالتوں میں موجود کیس کھولنے سے انکار کرنے پر عدالت برخواست ہونے تک قید کی سزا سنا کر انہیں گھر بھیج دیا تھا تو پیپلز پارٹی نے کون سا احتجاج کیا تھا۔ احتجاجی تحریک اور جلسے جلوسوں پر سرمایہ خرچ ہوتا ہے لیکن جب بینک اکاؤنٹ ہی پکڑے جائیں اور سرمائے کی ادھر ادھر منتقلی کرنے والے ہی ریڈار پر آ جائیں تو ان حالات میں احتجاجی تحریک چلانے کے لیے سرمایہ کون فراہم کرے گا؟ دوسری بات یہ ہے کہ دو تین سال پہلے تک بھی ایم کیو ایم کے سابق قائد الطاف حسین لندن سے ایک فون کال کرکے کراچی شہر پرتشدد فساد اور ہڑتال کروا دیا کرتے تھے۔ لیکن پھر ایک ایسا وقت آیا کہ پارٹی نے اپنے قائد کو بانی ایم کیو ایم قرار دے کر ان سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔ میڈیا پر ان کی کوریج پر پابندی ہے جس کی وجہ سے کبھی کبھی واٹس ایپ پر مختصر پیغامات دیکھ کر لوگ محظوظ ہوتے ہیں۔ کراچی میں زبردستی کے چندوں اور بھتوں کی تقریباً بندش اور منی لانڈرنگ مشکل ہو جانے کے بعد کی صورتحال پر شاید امریکہ میں کسی مقام پر اپنے بچے کھچے کارکنوں سے ٹیلیفونک خطاب میں وہ اپنی تنگدستی کا رونا روتے ہوئے نظر آئے۔ ان کا شکوہ تھا برطانیہ، امریکہ اور گلف تک سے کوئی انہیں خرچہ چلانے کے لیے کوئی پیسہ نہیں بھیج رہا، آخر میں خود کو اس حال پر پہنچا دینے والی پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹرز کی زلزلے میں تباہی یا کسی طاقتور فوج کے حملے تباہی کے لیے رو رو کر بد دعائیں کیں۔ جب تیس سال تک کراچی پر حکمرانی کرنے والے الطاف حسین اس حال پر پہنچ سکتے ہیں کہ پارٹی میں شامل جرائم پیشہ افراد پکڑے جائیں اور باقی لوگ ساتھ چھوڑ جائیں تو آصف زرداری کیا کر سکیں گے جبکہ اندرون سندھ ہر کوئی ان کا حامی نہیں ہے۔
میگا منی لانڈرنگ کیس، ایک ایسا کیس ہے جس کی تحقیقاتی رپورٹ کو کیس اسٹڈی کے طور پر لیا جا سکتا ہے۔ منی لانڈرنگ کے اس نیٹ ورک میں بینک، مالیاتی ادارے، صنعتی و تجارتی اداروں کے لوگ، بینکار، تعمیراتی ادارے، ٹھیکیدار، بیوروکریسی، ماڈلز، میڈیا اور میڈیا ہاؤسز کی شخصیات، منی چینجرز، این جی اوز، بیرون ملک کیسینوز، آف شور کمپنیاں اور دوسرے جرائم پیشہ عناصر، لینڈ مافیا، بھتہ مافیا، قاتل اور بحری قزاق تک شامل بتائے جا رہے ہیں۔ اس نیٹ ورک کے ذریعے سنگین بدعنوانیوں اور دیگر طریقوں سے لوٹا گیا پیسہ ملک سے باہر بھیجا جاتا رہا ہے۔ حتیٰ کہ لانچوں بھر بھر کر ڈالر دبئی بھیجے جاتے رہے ہیں جہاں سے یہ رقوم یورپی ممالک، امریکہ، کینیڈا اور دوسرے ممالک اور آف شور کمپنیوں میں منتقل کی گئی ہیں۔ رقوم کی اس ترسیل کے لیے بینکوں کے جعلی بینک اکاؤنٹس استعمال ہوئے ہیں۔ جبکہ منی لانڈرنگ کے اس کالے دھندے کو چھپانے کے لیے تہہ در تہہ ٹرانزیکشنز کی گئی ہیں حتیٰ کہ بعض رقوم کی 48 مرتبہ ایک اکاؤنٹ سے دوسرے اکاؤنٹ میں منتقلی ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ کے سامنے پیش کیے جانے والے میگا منی لانڈرنگ کیس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ زرداری گروپ، اومنی گروپ اور بحریہ ٹاؤن کا آپس میں گٹھ جوڑ ہے۔ سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ جس کی سربراہی خود چیف جسٹس ثاقب نثار کر رہے ہیں کو بتایا گیا ہے کہ 29 جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے کم از کم 42 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی ہے۔ ابھی تو جے آئی ٹی کی رپورٹ پیش کی گئی ہے جو اس کیس کے ایک چھوٹے سے حصے کی نشاندہی کرتی ہے، کیونکہ کہا یہ جا رہا ہے کہ کھربوں روپے کا معاملہ ہے۔
Close Menu