ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: امتیاز متین

ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب
ہم نے دشت امکاں کو ایک نقش پا پایاہمیں نہیں معلوم کہ مرزا غالب نے یہ شعر لکھتے ہوئے تخیل کا کتنا طویل سفر کیا ہوگا لیکن یہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ تمنا کا دوسرا قدم اور دشت امکاں ہر شخص کی اپنی سوچ کے مطابق ہی تخلیق پاتا ہے۔ اس وقت پاکستان کے سیاسی افق پر جس قسم کے واقعات رونما ہو رہے ہیں وہ ان لوگوں کی تمناؤں اور دشت نوردی کا ہی شاخسانہ ہیں۔ شاید اس نکتۂ نظر کے ابھرنے کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا میڈیا بڑی تصویر کا ایک بہت ہی محدود حصہ ہی دکھاتا ہے، وہ یہ نہیں بتاتا کہ دنیا میں ایسا کیا ہونے جا رہا ہے جس کے اثرات ہماری زندگیوں پر بھی کسی نہ کسی طور پر پڑیں گے۔ لیکن اتنی فرصت ہی کس کے پاس ہے جو مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں سوچے۔ یہاں تو صرف آج ہے سو راج ہے والی سوچ کارفرما رہتی ہے۔ پانچ سال سے آگے کا کون سوچے۔ اس وقت سیاسی افق پر احتساب کے عمل کے حوالے سے جو بحث چل رہی ہے اس کا لب لباب یہ ہے کہ احتساب کا شکنجہ صرف مخصوص لوگوں کے خلاف کسا جا رہا ہے۔ احتساب کی زد میں آنے والے یہ کہہ رہے ہیں کہ صرف ہمارا ہی نہیں بلکہ فلاں فلاں کا بھی احتساب کیا جائے۔ دوسرے لفظوں میں یہ بیان بھی ایک طرح کا اعتراف جرم ہی ہے صرف ہمیں ہی کیوں پکڑا جا رہا ہے۔ معلوم نہیں کیوں بچپن میں پڑھائے ہوئے اسباق عملی زندگی میں کیوں کام نہیں آتے۔ آج بھی بچوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار اور جوابدہ ہے لیکن پاکستان میں خاص طور پر بڑی بد اعمالیوں کی جوابدہی میں رعایت دینے کا کوئی نہ کوئی راستہ نکال ہی لیا جاتا ہے۔ کم از کم اب تک تو ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ عام شہریوں کو کسی بڑے بد اعمال کے جیل جانے پر بھی یقین نہیں آتا کہ شاید کوئی این آر او یا کوئی پلی بارگین یا لے دے کر معاملہ طے ہو جائے۔ بہرحال پاکستان میں ایسی بحثیں زور و شور سے چلتی رہیں گی اور لوگ اپنے پسندیدہ سیاسی قانون شکنوں کو بچانے کی کوشش بھی کرتے رہیں گے ۔
نیا سال شروع ہوتے ہی ایک بڑی خبر ساری دنیا میں غور سے دیکھی اور سنی گئی لیکن پاکستان کو عام طور پر ایک معمول کی بات سمجھا گیا ہے۔ کیونکہ یہ ایک دن کا واقعہ نہیں بلکہ پچاس سال کی محنت اور تحقیق کا نتیجہ ہے کہ 1969ء میں نیل آرم اسٹرانگ نے چاند پر پہلا قدم رکھا تھا اور اب 2019ء میں چین نے اپنی ایک چاند گاڑی چینگ ای 4 چاند کی دوسری طرف قطب جنوبی اتاری گئی ہے۔ اس تحقیقی چاند گاڑی کے ساتھ یوٹو۔ 2 نامی ایک تحقیقی گاڑی اتاری گئی ہے جو اترنے کی جگہ کے اطراف کا جائزہ لے گی اور وہاں موجود پانی اور دیگر دھاتوں کی موجودگی کا جائزہ لے گی اور تصویریں کھینچے گی۔ پاکستان میں چاند کا مصرف صرف اسلامی مہینوں کی تاریخوں کا شمار کرنے اور چاند کی رویت کی حد تک ہے جبکہ شاعروں کے نزدیک محبوب کا چہرہ ہے، جبکہ کسی دوشیزہ کے حسن کی تعریف میں اسے چند مہتاب اور چاند کے ٹکڑے سے مماثلت دی جاتی ہے اور مائیں اپنے بیٹوں کے لیے چاند سی بہو ڈھونڈتی پھرتی ہیں. یوں تو آپ کو امریکہ کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی  چاند سے چہرے ستارہ آنکھیں نظر آنے لگتی ہیں لیکن اگر آپ واشنگٹن ڈی سی کے ایئر اینڈ اسپیس میوزیم میں جائیں تو اس کے داخلی دروازے پر ایک چاند کا ٹکڑا پائیں گے جسے آپ بلا جھجھک چھو کر دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن یہ چاند کا ٹکڑا اردو مھاورے یا کسی غزل گو شاعر کا نہیں ہے بلکہ اسے اپالو مشن پر جانے والے خلا نورد اپنے ساتھ لائے تھے۔ چاند کی سطح سے اٹھا کر لائی جانے والی ریت اور مٹی نے تحقیق کے نئے دروازے کھولے تھے اور سائنسدانوں نے تب ہی معلوم کر لیا تھا کہ چاند پر غیر تابکار ہیلیم ۔ 3 آئیسوٹوپ کی شکل میں جو خزانہ موجود ہے وہ مستقبل میں دنیا بھر کے انسانوں کی زندگی بدل دے گا۔ ہیلیم ۔3 آئیسوٹوپ کے باریک ذرات سورج سے چلنے والی طوفانی ہواؤں کے ساتھ آتے ہیں لیکن زمین کے گرد ہوا اور مقناطیسی چادر ہونے کے باعث زمین پر نہیں گرتے لیکن اربوں سال سے چاند کی سطح پر جمع ہو رہے ہیں۔
آج تقریباً پچاس سال بعد چاند کی طرف دوسری دوڑ شروع ہو گئی ہے جس میں امریکہ اور چین کے علاوہ روس، یورپ اور بھارت بھی شامل ہیں۔ ان اقوام نے تمنا کا دوسرا قدم چاند پر رکھنے کی ٹھان لی ہے جو چاند کے دشت امکاں توانائی کے نئے ذخائر کی تلاش میں چاند کا رخ کر رہی ہیں۔ جس کا ایک بڑا مقصد چاند کی سطح پر موجود غیر تابکار ہیلیم۔ 3 آئیسوٹوپ حاصل کرنا ہے جو 2065ء تک بنائے جانے والے اگلی جنریشن کے ایٹمی بجلی گھروں میں فیول کے طور پر استعمال کی جائے گی۔ خلا نوردوں کا خیال ہے کہ چاند کی سطح پر لاکھوں ٹن ہیلیم۔3 موجود ہے جس سے سیکڑوں برس تک پوری دنیا کی توانائی کی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں جبکہ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ایک کلو ہیلیم ۔3 سیکڑوں ٹن فوسل فیول کے برابر توانائی پیدا کر سکتی ہے جو آج فضائی آلودگی اور دوسرے ماحولیاتی مسائل کا سبب بن رہے ہیں۔
بات تو مذاق کی سی لگتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ میں ایسے کافی لوگ ہیں جو برسوں پہلے سے چاند پر پلاٹ خرید رہے ہیں جبکہ عمر شریف بھی اپنے ایک اسٹیج ڈرامے چاند پر پلاٹ بیچتے ہوئے دیکھے جا چکے ہیں۔ کوئی بعید نہیں ہے کہ مستقبل میں یہاں کے کچھ تجربہ کار بلڈرز چاند پر کسی ٹاؤن کی پلاننگ کرکے مہنگے داموں پلاٹ بیچنا شروع کر دیں۔ چین 2025ء میں اپنے خلا نورد چاند پر اتارنا چاہتا ہے جبکہ امریکہ کا منصوبہ ہے کہ اب چاند پر بھیجے جانے والے خلا نورد طویل عرصے تک وہاں قیام کریں گے جس کے لیے تحقیق کا کام جاری ہے۔ چاند پر قدم رکھنے والی اقوام چاند کے جن علاقوں پر اپنا دعویٰ کریں گی وہ ان ملکوں کی ملکیت تسلیم کیا جائے گا اور اس علاقے کے تمام قدرتی وسائل اس کی ملکیت تصور کیے جائیں گے۔ بہر حال یہ تو سب مستقبل کے منصوبے ہیں اور ہمارے قائدین عام طور پر اتنے طویل منصوبوں پر کام نہیں کرتے جن سے انہیں فوری ثمرات نہ ملیں۔ لیکن ایسے محلات اور مہنگی جائیدادوں کا بھی کیا فائدہ جن میں انہیں ایک دن بھی رہنا نصیب نہ ہو اور ایسے بھاری بھرکم اکاؤنٹس سے بھی کیا حاصل جس کے اعداد و شمار دیکھ کر خوش ہو جائیں ور اس دولت کو اپنی مرضی سے خرچ بھی نہ کر سکیں۔ لیکن اس کے باوجود قومی سیاسی افق پر بہت سے لوگ اپنی بدنصیبی برقرار رکھنے کے لیے لڑ رہے ہیں۔
پاکستان میں احتساب کا عمل کس طرح چلے گا وہ بھی جلد ہی نظر آ جائے گا لیکن 2019ء میں جو یقینی تبدیلیاں ہم دیکھیں گے ان کے مطابق دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر الیکٹرک گاڑیوں اور الیکٹرک ہیوی موٹر بائیکس کی فروخت شروع ہو رہی ہے جبکہ اسی سال ڈرائیور کے بغیر گاڑیاں چلنا شروع ہو جائیں گی جن سے ٹریفک حادثات میں نمایاں کمی کی توقع کی جا رہی ہے۔ یہ خبر اس لحاظ سے اہم ہے کہ ہم ہر روز ٹی وی اسکرینز پر جان لیوا ٹریفک حادثات کی خبریں دیکھتے ہیں لیکن پاکستانی حکمرانوں نے جان اور مال کے اس زیاں پر کبھی کوئی توجہ نہیں دی ہے۔ بیرون ملک کام کرنے کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے جاپان میں امکانات بڑھتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کیونکہ جاپان کی ایک تہائی آبادی کی عمر 65 برس سے زیادہ ہے اور جاپانی حکومت غیر ملکی افرادی قوت کی آمد کے لیے نئی قانون سازی کر رہی ہے اور سیاحت میں اضافے کو اپنی معیشت کے لیے اہم تصور کر رہی ہے، قیاس کیا جا رہا ہے کہ جاپان کی آبادی میں ہر سال چار لاکھ کی کمی ہو رہی ہے اس لیے پاکستانیوں کو وزٹ ویزا پر جاپان جانے یا وہاں کام کرنے کے مواقع مل سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ 2019ء میں فضائی سفر انتہائی سستا ہونے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ ترکی بھی سیاحت کے فروغ کے لیے فضائی کرائے کم کرنے جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ لندن سے سڈنی تک کے 10 ہزار کلو میٹر طویل فضائی سفر کا کرایہ صرف 350 ڈالر ہوگا۔ دوسری جانب اگر پاکستانی ایئر لائنز پر نظر ڈالی جائے تو لگتا ہے کہ مسافروں کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ اس لحاظ سے کراچی لاہور کا کرایہ 35-40 ڈالر مقرر ہونا چاہیے، لیکن پاکستان میں ایسی بہت سی تمناؤں کا دوسرا قدم تو کیا پہلا قدم اٹھانا بھی ناممکن نظر آتا ہے۔

Close Menu