افسانہ دنگل کے چیمپین!!!؟؟؟

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: احمد اقبال

کچھ عرصہ قبل میں نے فیس بک کے افسانوی مقابلوں کو دنگل قرار دیا تو ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔اگرچہ بیشتر سنجیدہ حضرات نے میری رائے سے اتفاق کیا لیکن ہمارے نوعمر اور ناتجربہ کار افسانہ نگاروں نے موضوع کو سمجھے بغیر یہ فرض کر لیا کہ ہم پرانے لکھنے والوں نے ایک منفی سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپنی اجارہ داری کے لئے ان کے خلاف مزاحمت کی تحریک چلاتے ہوئے ان مقابلوں کی افادیت کو تسلیم نہیں کیا ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی بھی شعبے میں قدرت کی عطا کردہ خداداد صلاحیت کا راستہ نہ کسی نے روکا ہے اور نہ روک سکتا ہے۔جہاں تک معاملہ ہے فنون لطیفہ کا تو اس میں افسانہ نگاری کے علاوہ شاعری سنگ تراشی رقص اور موسیقی سب شامل ہیں اور خداداد صلاحیت کے بغیر کامیابی اور شہرت کی منزل تک رسائی ممکن ہی نہیں لیکن ایک ناقابل تردید حقیقت کا اعتراف یہ بھی ہے کہ خداداد صلاحیت کے باوجود دیگر فنونِ لطیفہ میں اساتذہ کی رہنمائی فن کو جلا بخشتی ہے چنانچہ رقص موسیقی مصوری اور سنگ تراشی جیسے فنون کی تعلیم و تدریس کے ادارے موجود ہیں۔فنون لطیفہ میں کہانی کہنے کا فن شاید قدیم ترین ہے اسکی اولین تحریری صورت الیف لیلہ کی کہانیوں میں نظر آتی ہے ہے وقت کے ساتھ ساتھ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں ہئیت کی جو تبدیلی رونما ہوئی اس نے مختصر افسانے ناولٹ یا ناول کا روپ ضرور دھارا۔ لیکن یہ ایک بنیادی حقیقت سے انحراف ممکن نہیں۔
میری معلومات اور میرے یقین کے مطابق ابھی تک ساری دنیا میں ایسا کوئی ادارہ نہیں جہاں کہانی لکھنے کا فن سکھایا جاتا ہو نہ اسکول نہ کالج اور نہ کسی یونی ور سٹی میں افسانہ لکھنے کا کوئی کورس ہے اور نہ اس کی اصلاح کے لئے کہنہ مشق اور نامور افسانہ نگار یا نوبل پرائز کی سند اور شہرت رکھنے والے کسی فکشن رائٹر کی راہنمائی کرتے ہوں
فیس بک ناتجربہ کار اور نوآموز افسانہ نگاروں میں یہ شکایت عام ہے کہ ہم سینئرز اور ادب میں شہرت رکھنے والے نہ صرف یہ کہ ان کی رہنمائی نہیں کرتے بلکہ ان کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔یہ تاثر لاعلمی اور نا فہمی کا نتیجہ ہے۔ اردو کے افسانوی ادب کی سو سالہ تاریخ میں کسی بڑے افسانہ نگار نے اس طرح نئے افسانہ نگاروں کی تحریر کو اصلا ح نہیں دی افسانہ نگاری میں شاعری کی طرح شاگردی اختیار کرنے کی کسی روایت کا وجود نہیں۔یہ آپ کا اپنا مشاہدہ اور احساس ہے جو روزمرہ زندگی کے واقعات سے ایک افسانہ نکالتا ہے اس احساس میں شدت کتنی ہے اور چونکا دینے والی بات کیا ہے یہی بات افسانہ کو کامیاب بناتی ہے۔ بلاشبہ آپ کا اسلوب اہم ہے ۔لیکن طرز بیان کچھ تو فطری صلاحیت کا مظہر ہوتا لیکن مطالعے سے اس پہ نکھار ضرور آتا ہے یہاں تک کہ مسلسل لکھنے سے آپ کا انفرادی اسلوب نکھر کر سامنے آتا ہے جو آپ کی وجہ شہرت بھی بن جاتا ہے اگر اردو افسانے کو دیکھیں تو اس میں زبان و بیان کا جو منفرد انداز کرشن چندر یا قرۃالعین حیدر کی تحریر میں نظر آتا ہے وہ ہر بڑے افسانہ نگار یا ناول نگار کی پہچان نہیں بنا مثال کے طور پر آپ منٹو ۔ بیدی۔ ندیم قاسمی۔ ممتاز مفتی یا اشفاق احمد کو ان کی کسی تحریر کے ٹکڑے سے پہچان نہیں سکتے۔ اگر آپ کے اردو پر عبور رکھتے ہیں ۔۔فارسی کو ںھیں سمجھتے ہیں تو سبحان اللہ۔۔ تو مسلسل مطالعہ۔ شاعری ادب گئ اور کلاسیکی داستانوں کا مطالعہ یقینا” آپ کی تحریر میں ربط ۔حسن اور اثر آفرینی کے خواص پیدا کرے گا اور لاشعوری طور پر آپ کے اسلوب کی انفرادیت قائم کرنے میں معاون ثابت ہوگا اس کے ساتھ ہی آپ پرتخلیق کے اسرار و رموز از خود آشکار ہوں گے۔جدید دور تک افسانہ کے ارتقا کاسفر ایک صدی پر محیط ہے آج کے دور تک آنے میں میں شاید دس برس لک جائ کامیابی کی منزل اساں حاصل نہیں ہوتی شارٹ کٹ زندگی کے کسی بھی شعبے میں نہیں چار افسانے لکھنے سے پہلے چار سو افسانوں کی دنیا دیکھنی پڑتی ہے۔ تب سمجھ میں آتا ہے کہ افسانہ کیا ہوتا ہے ۔ایک تھا چڑا ایک تھی چڑیا۔ ایک تھا چڑا ۔چڑیا لائی چاول کا دانہ چڑا لایا دال۔۔ہمارے لئے بچپن میں تو یہ بھی افسانہ تھا۔ اب عام خیال یہ ہے کہ ایک لڑکے اور ایک لڑکی کی محبت جدائی ۔ شادی یا موت کے درمیان کے واقعات بدل دینے سے نیا افسانہ بن جاتا ہے۔ مرد کی سفاک حاکمیت۔اور استحصال عورت کی سماج اور مزہب کے خلاف بغاوت معاشی ناہمواری کے دلدوز واقعات۔۔ افسانہ بس انہی سے بنتا ہے؟ جیسے علامہ مرحوم ایک فارمولا بتا گئے کہ۔۔ یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان۔۔آسان ہوتا تو ہم سب کافر کیوں ہوتے۔ ایک دوسرے کی نظر میں۔
ایک خوش فہمی عام ہے کہ سال دو سال میں دس بیس افسانے لکھے واہ واہ بھی خوب ہوئی کتاب بھی اپنے خرچ پر چھاپ کے بانٹ دی تو ہم۔ مستند تسلیم کیوں نہیں کئے جا رہے۔۔ ایک خاتون نے کمال کیا۔ فرمایا کہ بڑا افسانہ نگار بننے کیلئے مرنا پڑتا ہے۔ گویا جیتے جی تو کوئی بڑا ہوا نہیں۔۔ اللہ نہ کرے وہ عظیم افسانہ نگار بننے کے اس نسخے پر عمل کریں اور خود کہانی بن جائیں۔
ایک اور سیانے افسانہ نگار نے صاف کہا کہ ہم سب ۔ ہیں بڈھے جو سٹھیا چکے ہیں اور ان کی عظمت کو سمجھ نہیں سکتے۔ ان کو بتانا پڑا کہ ہمارے انتظار حسین سے مشتاق یوسفی تک دنیا کے سب بڑے ادیب سٹھیا کے ہی نامور ہوئے۔ تو حوصلہ رکھئے ۔تیس چالیس سال کی بات ہے آپ بھی ہو جائیں گے
مشکل یہ ہے کہ دنیا شارٹ کٹ کی نہیں مگر بے صبر نوجوان ایسا سمجھنے لگے ہیں ۔ مرنے مارنے کا حوصلہ ہو تو راتوں رات۔ دولت مند بننے کیلئے ایک ریوالور کافی ہو سکتا ہے لیکن بڑا فنکار افسانہ نگار بننے کیلئے توپ بھی نہیں چلے گی۔ ناموری ایک عمر کی ریاضت مانگتی ہے دس بیس فیس بک دنگل جیتنے والے خوش رہیں کہ وہ اب نوبل پرائز کے مستحقین کی صف میں آگئے ہیں۔

Close Menu