منزل ہے کہا تیری اے لالہؑ صحرائی (دوسرا حصہ)

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: احمد اقبال

یوتھ یا ملک کا "نوجوان ” ۔۔ جو 16 سے 34 سال کی عمرکے طبقے کو سمجھا جاتا ہے۔۔۔ وہ ہے جو پہلے ہی ملک کے تاریخی”حقایقؑ” سے بے خبر ہے اور اسی سوشل اسٹدی کو تاریخ سمجھتا ہے جس میں سچ اب اتنا ہی رہ گیا ہے جتنا آٹے میں نمک۔تمام اصل واقعات حزف کردےؑ گےؑ ہیں یا اسی نقطہؑ نظر سے لکھواےؑ گےؑ ہیں جو سرکاری ہے۔۔مگر سچ نہیں ہے۔۔ کراچی میں "قاید اعظم اکیڈیمی” کو قایم ہوےؑ شاید 50 سال یا زیادہ ہوگےؑ۔ مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ 1958ء میں جنرل ایوب خان کے جاری کردہ آرڈیننس میں قایؑد اعظم پر ریسرچ اور پی ایچ ڈی کرنے کی اجازت نہیں۔۔ حال ہی میں اکیڈیمی سے شائع ہونے والی فاطمہ جناح کی کتاب”جناح مایؑی برادر” میں سے بہت سا مواد نکال دیا گیا ہے۔ ایسی ہی صورت حال "اقبال اکیڈمی” لاہور کی ہے۔ آپ شاعر مشرق اور مفکر پاکستان پر پی ایچ ڈی نہیں کر سکتے۔۔ کیونکہ آپ کو حقیقت تک رسایؑی اور اس کی اشاعت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ 8 کروڑ "نوجوان” جو ہمارا مستقبل ہیں، جب جھوٹ کو ہی سچ مان لیں گے تو میری آپ کی کیوں سنیں گے جو حقیقت سے با خبر ہیں ۔
عملی سیاست میں یہی نوجوان اہم کردار ادا کرتے ہیں نعرے بازی۔۔ احتجاج۔۔ جلسے جلوس میں ڈانس اور دھرنے میں شراکت۔۔ (ان کو حریفوں سے یوتھیے کا خطاب بھی مل گیا ہے)۔۔۔ 50 سال والا ذہنی طور پر میچور مگر جسمانی طور پراتنا ایکٹو نہیں رہتا ۔۔۔۔ 60 سے اوپر والے سب پر”پچھلی نسل” کا لیبل چسپاں ہے ۔۔ میری عمر کے تو” بابے” ہیں جو ضرورت سے زیادہ دانشمند بنتے ہیں مگر خبطی ہیں جو بہت پڑھنے والا بھی ہو جاتا ہے۔ بات صرف یہ ہے کے مستقبل میں عنان حکومت اپنے ہاتھ میں رکھنے والے انہی حقائق سے بے خبراور صرف سرکاری معلومات رکھنے والے نوجوانوں کو اپنی طاقت بنانا چاہتے ہیں ۔۔ دانشوریا لبرل کو فتنہ پرور۔ دہریہ اور کافر تک کہا جانے لگا ہے۔۔ یہ "بوکو حرام”تحریک کا راستہ ہے۔
بے مقصد و بے مصرف علم کو کس طرح مہنگا کیا جا رہا ہے یہ ہر شہر کے باسی جانتے ہیں ۔ راقم .. یہ بندہؑ ناچیز رہائشی ا ملک کے دارالخلافہ اسلام آباد کا باسی ہے۔ جہاں عالی جاہ عقاب نگاہ چیف جسٹس ۔ صدر مملکت، وزیر اعظم اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سپہ سالار بقلم خود تشریف رکھتے ہیں ۔ مگر مجھے دیگر حقیر کمتر اور گھٹیا شہروں کے احوال کا احوال معلوم ہے ۔ ۔بات 25-30 سال یا زیادہ پرانی ہے، یونیسکو کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان میں سب سے منافع بخش کاروبار تعلیم اور صحت کے شعبے میں ہے ۔ حقیقی اعلیٰ تعلیم اور شافی علاج کو خواص تک محدود ہوئے زمانہ ہوا ۔ تعلیم اور تہذیب کی باگ ڈور مغرب کی طرف موڑ دی گیؑی تو از خود علم نے منافع بخش کاروبار کی شکل اختیار کرلی ۔ یہاں انہی با اثر افراد کی اگلی نسل پروان چڑھنے لگی جن کو اج چور، ڈاکو، کرپٹ، بد عنوان وغیرہ کے خطابات سے نوازنے کے سوا عوام کچھ کر ہی نہیں سکتے۔ غریب کے بچوں کا تعلیمی نظام نقل فری بنا دیا گیا۔۔ کتاب کھول کے لکھو، موبایؑل فون پر ابا سے مدد لو۔ اپنی جگہ کسی عالم فاضل کو بٹھا دو۔۔ گرہ میں مال ہو تو امتحان کے بعد بھی ایک سو ایک طریقے ہین سلیبس 50 سال ٌپرانا رکھا جاتا ہے۔ نمبر خریدنے کی حوصلہ افزایؑی کی جاتی ہے چنانچہ طلبا 95 اور 98 فی صد نمبر بھی لینے لگےہیں جو ممکن ہی نہیں۔۔۔آگے اتا ہے پروفیشنل کالجوں میں داخلے کا مسؑلہ۔ چنانچہ بورڈ کے نتیجے پرکسی اخلاقی یا قانونی جواز کے بغیر خط تنسیخ پھیر کے دوسرا امتحان لینے کا ٹھیکہ "نیشنل ٹیسٹنگ سروس” کو دے دیا گیا جس کی آجکل فیس 700 روپے ہے۔ یہاں بھی رشوت چلی اور انجام کار اس ادارے میں بھی کروڑوں اربوں کا غبن ہوا۔۔ اس امتحان نمبر دو کے بعد بھی کالج یونیورسٹی میں سب کی جگہ نہ بنی تو مزید چھانٹی کیلئے سب اداروں نے اپنا امتحان نمبر تین رائج کیا ۔میٹرک انٹر کے پوزیشن ہولڈر کہیں کے نہ رہے۔۔ آخری پسندیدہ چھانٹی چوتھے امتحان یعنی انٹر ویو میں ہوتی ہے جہاں سفارش،،باپ کا عہدہ۔۔ سوشل اسٹیٹس بینک اکاؤنٹ وغیرہ ہی دیکھے جاتے ہیں۔۔ کیا مجھے فخر کرنا چاہیے کہ اس سال میری دو پوتیاں ان چاروں مرحلوں سے کامراں گذریں۔ یعنی اب وہ بھی ایم اے اور پی ایچ ڈی کی لا حاصل دوڑ میں سینکڑوں کے ساتھ ہیں۔
کس درجہ شرم کا مقام ہے کہ اب ہماری ہر یونیورسٹی کی دی ہویؑی اعلیٰ ترین ڈگری یہاں تک کہ میری 50 سال پرانی ڈگری بھی جعلی ہے۔جب تک اس کی تصدیق ہایؑر ایجوکیشن کمیشن نہ کرے۔ پی ایچ ڈی نام کے ساتھ لگانے والے یہاں عام ہیں ہر یونیورسٹی میں جہاں یہ ڈگریاں تیار ہوتی ہیں۔۔ علم فروش اساتذہ کی بھرمار ہے۔۔ لنکا میں جو ہے سو باون گز کا۔۔ اس محاورے کا مطلب اب سمجھ میں ایا۔۔ ڈاکٹریٹ کرنے کا آسان راستہ بتانے والے تو ڈاکٹر عامر لیاقت ہی تھے۔۔ دوسرے بابر اعوان وکیل سپریم کورٹ بار۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ دونوں ٹی وی پر اسلام کا درس بھی دیتے رہے۔۔ہا ہا ہا۔۔۔ نوبت بہ ایں جا رسید کہ ایک انٹر پاس بلند ہمت نوجواں نے پی ایچ ڈی کی دکان کھول لی اور ایکسپورٹ کرنے لگا۔ یہ ایسا منافع بخش دھندا بنا کہ اس نے کروڑوں کمائے اور اپنا "بول” ٹی وی چینل کھول لیا اور ہر مقبول اینکر کو بھاری معاوضے پر خرید لیا۔ سنا ہے کہ یہ چینل دیکھنا کینٹ ایریا میں لازم قرار دیا گیا۔۔۔ اب ڈاکٹریٹ بکتی ہے۔ مجھ ناچیز کی کیا اوقات مگر مجھ پر 3 پی ایچ ڈی کر چکےہیں۔ ایک خاتون شاعرہ کی پہلی کتاب دو ماہ پہلے آیؑی ہے یہاں اس پر ڈاکٹریٹ ہو  رہی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ”فومانچو کی واپسی” یا "سلیمانی صندوق کا راز” جیسے پراسرار ناولوں پربھی کویؑی ڈاکٹریٹ مل چکی ہوگی
شاید آپ پر یہ راز کھل جائے کہ اس پی ایچ ڈی بزنس کو فروغ دے کرعلم کی آبرو خاک میں ملانے والی قوت کون سی تھی جس کو تعلیم کے عام اور معیاری ہونے میں خطرہ محسوس ہوتا تھا۔ جو 1949ء میں بھی دانشور سے خوف کھاتی تھی ۔30 سال بعد جب مجلس شوریٰ۔ نظام صلوٰۃ۔۔سپاہ صحابہ اور جیش محمدﷺ کا دور پر نور آیا اور گنہگاروں کو سرعام کوڑے مارے گئے تو یہ سارے دانشور از قسم فیض۔ احفاظ الرحمن اور ندیم وغیرہ ضان و ابرو بچا کے جلا وطنی کاٹتے رہے۔ اب خبر گرم ہے کہ بڑی سرکار نے دس نامی گرامی صحافیوں کو "مدعو” کیا تھا جہاں ان کو سمجھا دیا گیا کہ”اییؑن جواں مرداں حق گویؑی و بے باکی” جیسے باغیانہ اشعار بھی کلام اقبال سے نکالے جارہے ہیں چنانچہ اپنی حد بھی جان لو۔ چینل کے مالکان پر واضح کر دیا گیا ہے کہ آزادی اظہار یا نشریات کی بندش میں سے ایک قبول کرلیں۔
یہ سب 70 سال سے ایک عمل پیہم کے طور پر کیوں ہو رہا ہے؟ جواب آپ نوشتہ دیوار کی طرح دیکھ سکتے ہیں۔۔حکمرانوں کو "پڑھی لکھی جاہل” جنریشن سوٹ کرتی ہے جس پر حکومت آسان ہو۔ بالآخر وہ آج کے نوجوان ہی ہوں گے۔ بے علم پی ایچ ڈی ۔ بے خبر صحافی۔۔ دین کی روح سے نا آشنا عالم ۔۔منتشر مزاج۔۔ نفرتوں کے مریض عوام
ہم پاکستانی قوم

Close Menu