منزل ہے کہاں تیری اے لالہؑ صحرایؑ (حصہ اوّل)

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: احمد اقبال

کچھ دن پہلے شاہد آفریدی کی ایک تصویر فیس بک پر دیکھی جس مٰیں وہ کٹے ہوےؑ بکرے کا سر ایک تین سال کے بچے کے سامنے کرکے ہنس رہا ہے لیکن دہشت زدہ بچہ رو رہا ہے۔ اس پر کناڈا، یورپ، امریکہ سے کمنٹ ملے کہ خان یہاں ہوتا تو اب تک جیل میں ہوتا۔۔ میں اس پر اپنا تبصرہ محفوظ رکھتا ہوں۔ ہمارے کچھ لوگ ایسا سمجھتے ہیں کہ سنگدلی اور سفاکی بھی ایک مردانہ صفت ہے چنانچہ بچپن سے اس کو لہو ریزی اور جان لینا اور بکرے یا گاےؑ کو ایڑیاں رگڑ کے مرتا دکھانے سے وہ ‘مرد ‘ بنتا ہے۔ دلچسپ تضاد یہ ہے کہ اسی جانور خوروں سے محبت کرنے والی فطرت رکھتے ہیں۔ میرے بچے جب چھوٹے تھے تو گھر میں خرگوش تھے وہ انہی میں مگن رہتے اکثرخرگوش بغل میں دباےؑ سو جاتے خرگوشوں نے زمین کھود ڈالی اور ایزی چیؑیر کی بنایؑی سے کتابوں تک ہر چیز کتر ڈالی تو ہم نے انہیں ذبح کرکے کھانا شروع کیا۔ بچوں کو آج تک پتا نہیں کہ وہ خرگوش تھے چکن نہیں۔۔ ورنہ وہ روتے اور "چکن پلاؤ” کو ہاتھ نہ لگاتے ۔۔میرا بڑا بیٹا کالج میں تھا جب وہ ایک کتا لے آیا۔ اس کو صاف اور صحت مند رکھنا اس کا شوق بلکہ خبط تھا وہ چکن کی دکان سے مرغیوں کے پنجے لاتا ان کو ابالتا اور ٹھںڈا ہو کے وہ سفید سوپ پیالے میں جم جاتا تو کتا بڑے شوق سے کھاتا۔۔ ایک بار وہ دن میں کھلا رہ گیا اور میں بیوی کے ساتھ گاڑی میں نکلا تو وہ پیچھے ہو لیا۔ہمہیں پتا نہ چلا۔ نہ جانے کہاں کہاں پھر کے ہم واپس آئے تو احساس ہی نہ تھا کہ کتا شہر کی بھیڑ میں گم ہو گیا۔ ہمارا ساتھ نہ دے سکا یا ہماری ساتھ رہنے کی کوشش میں حادثے کا شکار ہو گیا۔ بیٹا کالج سے آیا تو اسے غائب پا کے سخت پریشان ہوا۔ تلاش میں باہر نکلا تو کسی نے بتایا کہ تمہاری گاڑی کے پیچھے گیا تھا۔ اب ہم نے بہت قسمیں کھاییؑں مگر اس کی بدگمانی ہمیشہ بر قرار رہی کہ ہم نے اس سے پیچھا چھڑانے کیلئے عمدا” ایسا کیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ہم اس کے شوق سے نالاں ہیں لیکن برداشت کرتے ہیں۔۔ تین دن وہ دیوانہ وار سڑکوں پر اسے ڈھونڈتا رہا اور مہینہ بھر سے زیادہ اداس رہا۔ اس سے اگلی نسل میں چار نے آسٹریلین طوطے پالے۔۔ کتے بلیوں کا شوق عام تھا ایک نے کبوتر بھی اڑائے لیکن یہ جانوروں سے بھی محبت کرنے والے بچے کیسے انسانوں سے نفرت کی طرف نا معلوم طریقے پر دھکیلے جا رہے ہیں؟
ان کے درمیان مذہبی عقایؑدکی بنیاد پراختلافات پہلے سے تھے۔ اس میں دشمنی اور تشدد پسندی کو فروغ دیا گیا۔ مزید تفریق کیلئے لسانی اور صوبایؑی تنازعات کھڑے کیے گئے۔ ان میں اختلاف کی حیوانی جبلت جگانا بھی ضروری تھا اس کی ابتدا میڈیا پر خونریزی کی لائیو فوٹیج۔ خون آلود کٹی پھٹی لاشیں اور جسموں کے منتشر اعضا دکھا کے ہویؑی۔ اینکرز نے کیمرے فوکس کر کے اور چلا چلا کے خون بہتا۔ پسماندگان کو سر پیٹتے اورکفن پوش لاشوں لہو بہتا دکھایا خواہ وہ عبادت گاہوں کی دیوار پر ہو۔۔ کسی اسکول میں یا ٹرین کے حادثے کا شکار ہونے والوں کی بکھری لاشوں پر ۔ دنیا میں ایسا کہیں نہیں ہوتا تھا۔۔ اس سے بچوں کے ذہن پر وہی اثر ہو رہا تھا جو کٹی ہویؑی بکرے کی سری یا پھڑک پھڑک کر جان دیتے پالتو بکرے کی موت کا ہوتا ہے۔ بہت کم لوگ چھوٹے بچوں کو خوں ریزی کے منظر سے دور رکھتے تھے۔۔ نتیجہ یہ کہ بلی کتے کے بیمار بچے کیلئے فکر مند ہونے والے انسان کے بچے بکرے کی بوٹیاں بنتی دیکھتے تھے ۔ یہ سفاکی دماغ کی کنڈیشننگ کا عمل تھا۔ ہم بالآخر اپنی ماں یا باپ کو زمیں میں گاڑنے کا منظر دیکھ کے سکون سے سو سکتے ہیں ۔۔ ہندو بچے ان کو خود جلا کے ذہنی طور پر ڈسٹرب نہیں ہوتے
زیادہ حساس طبقات کی طرف سے احتجاج ہوا جن کا پیشہ انسانوں کو مارنا نہ تھا تو اس قسم کے مناظر دکھانے پر پابندی لگ گیؑی لیکن پھر ایک اور پالیسی کے تحت "خبروں” کو سنسنی خیز بنا دیا گیا ۔۔ اب آپ ملاحظہ کر لیں۔۔ ہر صبح ابتدا ہوتی ہے کسی بچی کے ریپ ہا غلطی سے پولیس کی گولی کا نشانہ بننے کی خبر یاکسی بچے کے اغوا اور قتل کی اطلاع سے۔ ہر خبر سے جو چلا چلا کے تین تین چار چار بار چمک دمک کے ساتھ سنایؑی جاتی ہے۔ تصویر میں اسے مسلسل فلیش کیا جاتا ہے اور ساتھ چلتی ہے دھواں دھار موسیقی۔۔ کلوز اپ میں ماں کے انسو۔۔ باپ کا سر پیٹنا بہنوں کا ماتم ۔۔ اس کے بعد آجاتے ہیں حادثات ۔۔فلاں گاوں میں ٹرک نے رکشا کو روند ڈالا۔۔ ٹرالر نے ساییؑکل سوار کو کچل دیا۔۔ فلاں جگہ دھماکا سنا گیا۔۔۔ کچی بستی میں اگ بھڑکٍ اٹھی۔۔ پہلے سزاےؑ موت کی خبر ہوتی تھی اب اس کے ساتھ پھانسی گھاٹ۔۔ اوپر رسا باندھنے کے کنڈے اس کے تختے کھلنے کا منظر خبر کے ساتھ تفریح طبع کیلئے۔۔ کراچی میں اسٍٹریٹ کرایم کی شرح بڑھ گئی۔۔چیف جسٹس نے پاگل خانے کا دورہ کیا۔۔چوروں ڈاکووں کو چوک میں لٹکایا جائے گا وزیر اعظم کا اعلان۔ خبریں ختم ہوییؑں۔۔یا مظہر العجائب۔۔یہاں رات بیت گیؑ مگر باقی آدھی دنیا میں تو دن تھا ۔ کہیں کچھ نہیں ہوا؟ ہمارے سو سے زیادہ ملک میں دیکھا جانے والا خبرنامہ رکشا کے حادثے اور بچوں کے ریپ کی خبریں ہی دے گا۔ یہ دھوم دھڑکا اور شور شرابہ بی بی سی اور سی این این پر کیوں نہیں۔۔ وہ آج بھی 50 سال پہلے کی طرح متانت سے شام اور یمن کی تباہی سے چین اور امریکہ کی اقتصادی جنگ تک دنیا کے ہر خطے کی سیاسی اور معاشی صورتحال امپورٹ ایکسپورٹ اسپورٹس کی خبریں اور دنیا کے موسم کا حال کیوں بتاتے ہیں۔۔ہم انڈیا کی خبریں کیوں نہیں دیکھ سکتے اگر ڈرامے فلمیں اور کامیڈی یا فیش شو دیکھ سکتے ہیں؟ وہاں سے اردو کی ادبی کتابیں تک ممنوع ہیں۔ ہمیں ہمسائے ہم مذہب اور اوّلیں دوست ایران کا کیوں پتا نہیں؟ شام اور یمن میں بمباری کی تباہی اور ہلاکت آفرینی کا کیوں علم نہیں ہونے دیا جاتا اللہ کی زمین تو بہت بڑی ہے لیکن رفتہ رفتہ نوجوان اور بے خبر نسل نے کم آگاہی کو قبول کرلیا ہے کیونکہ غیر اہم سے زیادہ جھوٹی اور بے بنیاد خبروں کا شور محشر بپا ہے۔بنایؑی گیؑی خبروں کا طوفان کھڑا کردیا گیا ہے۔ اصل خبروں کو روک دیا جاتا ہے۔۔ مثال کے طور پر۔۔۔
1۔ کسی حمیرا زلفی کو "بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام” کا سربراہ نہیں بنایا گیا گیا۔۔اس نام کی کسی خاتون نے وضاحت کی ہے کہ نہ میں کسی زلفی بخاری کی بہن ہوں نہ میرا کہیں تقرر ہوا ہے۔ یہ خبر ‘جنگ’ نے بھی پہلے صفحے پر شائع کی۔
2۔ ایک جعلی فؤٹو شاپ وڈیو عمران خان اور ان کی بیگم کی اس کیپشن کے ساتھ پھیلایؑی گیؑی کہ”بشریٰ بی بی کا عکس آییؑنے میں نظر نہیں آتا۔”
3۔ ایک جھوٹی خبر نشر ہویؑی کہ بشریٰ بی بی کی چھوٹی صاحبزادی کا ساڑھے سات لاکھ روپے ماہانہ پر "ویمن ایمپلائمنٹ ونگ” میں تقرر کا نوٹی فیکیشن جاری کر دیا گیا۔ یہ بے بنیاد خبر اردو اخبارات میں صفحؑہ اوّل کی زینت بنی
4، ایک اور فیک وڈیو چلایؑی گیؑی کہ عمران خان نے ہیلی کاپٹر چھوڑ کے "مہران” کار میں آنا جانا شروع کر دیا ۔اس کو کار ڈرائیو کرتے بھی دکھایا گیا۔ وہ سڑک پر ایک پیلی ٹیکسی کو اوور ٹیک بھی کرتا ہے اور ہاتھ بھی ہلاتا ہے۔۔ یہ قطعی عمران نہیں اس کا ہم شکل ہے۔۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کچھ عرصہ قبل اسے پی۔کے۔ میں کہاں دکھایا گیا تھا۔ وہ کیمرے کے سامے بات بھی کرتا ہے کہ اس مشابہت کی وجہ سے وہ خوش بھی ہے اور پریشان بھی
۔۔اب دیکھیے وہ خبریں جو سنسر کردی گئیں۔
1۔ چند دن قبل پنجاب کے وزیر جیل خانہ جات رات دو بجے 6 ہمراہیوں کے ساتھ پہنچے اور مطالبہ کیا کہ انہیں خطرناک قیدیوں کے وارڈ کی چابی دی جائے۔ انکار پر چابیاں چھین لی گئیں حفاظتی عملے کو محدود کر دیا گیا اور وزیر صاحب نے کیؑی گھنٹے دہشت گردوں سے خفیہ مزاکرات بھی کیے، وہ چند ایک کو لے جانا بھی چاہتے تھے لیکن عملے نے مزاحمت کی۔۔ بلا شبہہ وزیر کو چھاپا مارنے کا اختیار حاصل ہے لیکن کسی شکایت پر۔۔شکوک ان کے دہشت گردوں سے ملاقت نے پیدا کیا۔ جب جیلر نے اس کی شکایت کی تو اس کا ٹرانسفر کر دیا گیا۔۔خبر میں نے بھی نہیں سنی تھی کین "ٹریبیون” نے دوچار دن پہلے ایک اداریہ لکھا تو مجھے پتا چلا
2۔ لاہور ہایؑی کورٹ کے عباد لودھی نے ایفیڈرین کیس میں حنیف عباسی کی ضمانت منظور کرلی۔
3۔ سپریم کورٹ نے کل 1954ء میں پاکستان کا حصہ بننے والی ریاست بہاولپور کے وارثوں کا حق وراثت تسلیم کر لیا ہے۔
آپ نے یہ خبریں ٹی وی پر سنیں؟
مجھے بتاینں کہ میں خبر کسے سمجھوں اور افواہ کسے جب وہ ہمارے انٹرنیشنل سیٹلایؑٹ نیوز نیٹ ورک سے نشر ہوجائے؟۔۔خبر کی سند میں "ڈان” ۔۔”جیو” اور ‘سما” یا "92” کی کچھ گڈ ول ہے لیکن وہ جو برساتی مینڈکوں کی طرح ہر ایرا غیرا چینل لانچ کر رہا ہے اور خبریں گھڑ کے پھیلا رہا ہے اسے پوچھنے والا کویؑی نہیں۔ اے پی این ایس بھی نہیں۔۔۔پیمرا بھی مجبور کر دیا گیا ہے؟ ساری عمر جھک مارکے نیک نام ہونے والے اہل صحافت پریشان ہیں کہ نہ جانے کس پر لفافہ جرنلسٹ کی مہر لگ جائے۔ ان پر حق گویؑی کے راستے مسدود کیے جا رہے ہیں۔اخبار بند ہو رہے ہیں۔ کسی نام نہاد چینل سے "کارڈ” حاصل کر لینے والے بلیک میلر صحافی بن گئے ہیں
پھرکویؑی خبریں سنے تو کیوں سنے؟۔۔بہتر یہی ہے کے بے خبر رہے۔۔اس پالیسی کا مقصد یہی رجحان پیدا کرنا ہے۔

Close Menu