آوے کا آوا

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: امتیاز متین

جب آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہو تو خرابیاں اتنی آسانی سے ٹھیک نہیں ہوتیں۔ یہ صورتحال اس وقت مزید بگڑ جاتی ہے جب حکمراں طبقات اسے اپنے مفاد میں مناسب سمجھنے لگیں۔ بہت سے لوگ نظام میں در آنے والی خامیوں کا الزام سول اور ملٹری بیوروکریسی پر لگاتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں اداروں میں کام کرنے والے منصوبہ سازوں کی ہمیشہ اسٹیٹس کو برقرار رکھنے کے لیے کام کیا ہے۔ بیوروکریسی کی کوشش یہی رہتی ہے کہ ملک کوئی ایسی بڑی خرابی پیدا نہ ہو جو کنٹرول سے باہر ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی پاکستان کے سیاسی و معاشی پریشر ککر میں دباؤ بڑھا ہے اسے کم کرنے کے لیے کبھی فوجی حکومتیں بنیں یا کبھی منتخب حکومتوں کو صدارتی فرمان کے تحت برطرف کیا گیا یا پھر عدالتی حکم پر وزرائے اعظم نا اہل کرکے گھر بھیجے جا چکے ہیں۔ گزشتہ 70 برس میں جمہوریت اور آمریت، آمرانہ جمہوریت اور جمہوری آمریت، پارلیمانی نظام اور صدارتی نظام میں تبدیلی کا کھیل کئی بار کھیلا گیا ہے اور اب بھی بے وقعت ہوتی پارلیمان کے مقابلے میں صدارتی نظام نافذ کرنے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ قومی افق پر سیاسی اور مذہبی کردار طلوع اور غروب ہوتے رہے ہیں لیکن چند شخصیات کے گرد گھومتی ہوئی جماعتی سیاست میں اقتدار ہمیشہ ایسے لوگوں کے ہاتھ میں جاتا رہا ہے جو کسی نہ کسی طور پر خود بھی کانے تھے۔ اعلیٰ منصب پر پہنچنے والی شخصیات کے کچھ ایسے مقدمے ہمیشہ پس پشت ڈال کر رکھے گئے ہیں جو دس بیس سال بعد بھی بوقت ضرورت کام آ جائیں۔ پاکستان میں مقدموں کو اتنا طول دیا جاتا ہے کہ وہ اپنا اثر ہی کھو بیٹھتے ہیں۔ ایئر مارشل اصغر خان کیس ایسے ہی مقدموں کی ایک مثال ہے جس ایف آئی اے کے بقول مدعی، گواہ اور ثبوت ہی ادھر ادھر ہو چکے ہیں جس کی بنیاد پر سپریم کورٹ سے کیس بند کرنے کی استدعا کی گئی تھی جسے مسترد کر دیا گیا ہے۔ آج کوئی یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہے کہ 1990ء میں آرمی اور آئی ایس آئی کے ایجنٹس نے بے نظیر بھٹو کے مخالف سیاسی رہنماؤں کو مبینہ طور رشوتیں دی تھیں یا بڑے لیڈرز خوشی خوشی وہ رقوم وصول کی تھیں۔ اس کیس کا فیصلہ تو 2012ء میں سنایا گیا تھا لیکن متعلقہ اتھارٹیز اس فیصلے پر عمل درآمد کرنے سے گریز کر رہی ہیں۔ اس کیس سے کم از کم اس بات کا اشارہ ضرور ملتا ہے کہ پاکستان میں بڑی تحریکیں کیسے منظم کی گئی ہیں اور کس قسم کی اندرونی یا بیرونی قوتوں کے اشاروں پر چلائی جاتی رہی ہیں۔ حال ہی میں جس طرح تحریک لبیک ابھر کر سامنے آئی ہے اور اس کے رہنماؤں سے ان کی تمام قسم کی بدزبانیوں اور ہنگامہ آرائیوں کے باوجود جس طرح نرم رویہ اختیار کیا گیا اس سے یہی سوال اٹھتا ہے کہ انہیں کون لوگ تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی شدید خواہش تھی کہ جنرل پرویز مشرف کو ایمرجنسی نافذ کرنے کے پیچیدہ سے مقدمے ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں کر میں پیش کیا جائے لیکن ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی۔ پیپلز پارٹی کی قیادت بھی کئی بار کہہ چکی ہے کہ تم تین سال کے لیے آتے ہو لیکن ہمیں یہیں رہیں گے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادتوں پر جو مقدمات قائم کیے گئے ہیں ان کی تھوڑی بہت تفصیلات بھی عام لوگوں کے تصور سے باہر ہیں۔ ایمل کانسی کے مقدمے کی سماعت کے دوران جب ایک امریکی وکیل نے کہا تھا کہ پاکستانی تو چند سو ڈالر کے لیے اپنی ماں کو بھی بیچ سکتے ہیں تو اس پر پاکستان میں خاصا شور مچا تھا لیکن میمو گیٹ اسکینڈل کے تناظر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکی وکیل نے کچھ ایسا غلط بھی نہیں کہا تھا۔ اس وقت بہت سے اہم مقدمات سپریم کورٹ میں موجود ہیں اور عام شہری دیکھ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کے جج صاحبان کے ریمارکس ہی شہہ سرخیاں بنتے رہیں گے یا ان کے فیصلوں کی گونج بھی سنائی دے گی۔ گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر سپریم کورٹ کے سامنے موجود اہم مقدموں کی ایک فہرست گردش کرتی رہی جس میں شامل ہر مقدمے کے سامنے ’’نتیجہ صفر‘‘ لکھا ہوا تھا۔ 1990ء کے مہران بینک اسکینڈل پر 2019ء میں سماعت ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کا نظام انصاف کس رفتار سے چل رہا ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے بیانات میں بھی ایک ڈھکا چھپا یہی شکوہ نظر آتا ہے کہ ہمارے قائدین کے مقدمات پر ہی کیوں اتنی تیز رفتاری سے کارروائی کیوں ہو رہی ہے؟ اس کا مطلب اعتراف جرم تو ہے لیکن اصل اعتراض مقدمے کی تیز رفتاری پر ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر یہ پیغام بار بار بھیجا جاتا ہے کہ پاکستانی عدالتوں میں کتنے مقدمات زیر التوا ہیں لیکن ان پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔
اصل مدعا یہ نہیں ہے کہ گزشتہ 70 برس میں کیا ہوا ہے آج کس قسم کی سیاسی بیان بازیاں ہو رہی ہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ آئندہ دھائیوں میں پاکستان کو کیسا ملک بنانا ہے؟ پاکستان کے نام کے ساتھ اسلامی جمہوریہ بھی لگایا جاتا ہے جس کی قومی زبان اردو ہے لیکن عملی طور پر صورتحال بہت مختلف ہے۔ موجودہ حالات میں تو ہم اپنے لوگوں کو آدھا تیتر آدھا بٹیر کے علاوہ کچھ نہیں بنا پائے ہیں۔ ہمارے علما اکثر سودی نظام کے خلاف بات کرتے ہیں لیکن وہ یہ بتانے سے قاصر رہتے ہیں کہ حکومت کیسے بینکاری نظام کو حقیقی معنوں میں تبدیل کرے گی۔ بینکوں اور دوسرے مالیاتی اداروں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو منافع کیسے ملے گا؟ دنیا بھر میں ہم کیسے لین دین کریں گے؟ اس جیسے بنیادی نوعیت کے بہت سے سوالات کے واضح جوابات نہیں دیے جا رہے ہیں۔ حکومت نے ایک معاشی مشیر لانے کی کوشش کی لیکن ملک کے مذہبی حلقوں نے ان کے عقائد کو بنیاد بنا کر اعتراض کیا، کچھ لوگوں خیال تھا کہ انہیں مسجد کی امامت کے بجائے معاشی مشورے دینے کے لیے مقرر کیا گیا ہے لیکن مذہبی حلقوں کا دباؤ کے سامنے نئی حکومت کو ہتھیار ڈالنے پڑے۔ یہ شاید ہمارے تعلیمی نظام کی خرابی ہے کہ مذہب اور پروفیشنل ازم ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو گئے ہیں۔ اسلام کا پرچار اور مذہبی تعلیم کا رجحان بڑھنے کے باوجود رشوت اور بدعنوانی میں اضافہ ہوا ہے۔ آج اگر کراچی یا پاکستان بھر میں جائیدادوں اور غیر قانونی تعمیرات کا مسئلہ اتنا سنگین بنا ہوا ہے تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ متعلقہ اتھارٹیز کے حکام اور ٹھیکیدار قومی یکجہتی کے تصور کو زیادہ اچھی طرح سمجھا ہے۔ پھر بھاری سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے بے قاعدگیوں اور زمینوں پر قبضوں یا غیر قانونی الاٹمنٹ کو قبول کر لینے کی ریاستی روش نے خرابیوں کو بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ آج معاشی پسماندگی اور غربت پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں تاہم اس چیلنج سے نمٹنا مشکل ضرور ہو سکتا ہے لیکن نا ممکن نہیں ہے لیکن اس کے لیے ایک ایسی پالیسی بنانا ہوگی جس میں کسی حکومت کے آنے یا جانے سے کوئی فرق نہ پڑے۔ سب سے پہلے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ترقی کرنے کا راستہ درس گاہوں اور تجربہ گاہوں سے ہو کر گزرتا ہے۔ تعلیم اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سے نئی ٹیکنالوجی کی ایجاد ہوتی اور اس کے استعمال میں مہارت حاصل کی جاتی ہے۔ دنیا کی تمام ترقی یافتہ اقوام کی خوشحالی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو فروعی مسائل میں الجھائے رکھنے کے بجائے انہیں تعلیم یافتہ اور باشعور بنانے پر توجہ دی ہے۔ تعلیم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے چھوٹی اقوام کی معیشتیں مضبوط ہیں۔ دوسری جانب پاکستان کی آبادی تقریباً 21 کروڑ ہے جو آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں سب سے بڑا ملک ہے لیکن اتنی بڑی افرادی قوت کے باوجود پاکستانی معیشت کا کل حجم 315 ارب ڈالر ہے جو معاشی طور پر مضبوط ملکوں کی فہرست میں 147ویں نمبر پر ہے۔ کیا پاکستان کے منصوبہ ساز اقوام عالم کی معاشی رینکنگ میں پاکستان کی پوزیشن بہتر بنانے کے لیے بھی کچھ کریں گے یا پھر یہ چمن یونہی رہے گا۔
Close Menu