سرنگ کے آخر میں روشنی ہے

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: احمد اقبال

اخبار میں پڑھتا ہوں۔ ٹی وی پر دیکھتا ہوں۔اجنبی دییس کے خوش پوش۔ خوشحال اور خوش باش مرد و زن گلیوں میں نکل آئے ہیں اور ایک دوسرے کو دیوانہ وار گلاب کے پھول مار رہے ہیں اور بچوں جیسی معصوم خوشی کے ساتھ ہنس رہے ہین ۔ گلیاں اور بازار گلاب کے پھولوں سے مہکتےفرش بن گئے ہیں۔ کسی چہرے پر ملال نہیں۔۔ فکر و غم نہیں تعصب نہیں۔۔ ہونٹوں پر حرف ملامت نہیں شکایت نہیں ۔۔ زندگی جو مسلسل بقا کی خود غرضانہ سفاک جنگ ہے ایک دن کے لیے گلابوں کی جنگ بن گیؑی ہے۔ گلاب کی خوشبو اور ہونٹوں پر مہکتے گلابوں کی ہنسی بن گیؑی ہے۔
اور یہ کیا کم پاگل ہیں جو جھولیان اور بوریاں بھر بھر کے ٹماٹر اٹھائے اپنےگھروں سے نکل آئے ہیں۔ آج ٹماٹروں کی جنگ کا تہوار ہے۔ کیا عورت کیا مرد سب ایک دوسرے کو تاک تاک کے ٹماٹر مار رہے ہیں۔ ان میں عوام بھی ہیں خواص بھی۔ سرکاری حکام بھی اور تاجر صنعتکار بھی ۔ وہ ایک فتنہؑ محشر نے دادا جان کی عمر والے کو تاک کے ادھا پاؤ کا ٹماٹر مارا جو ناک کے نشانے پر لگا اور مونچھوں کی لالی بن گیا۔ دادا نے ذرا دیر نہ کی اور در جواب آں غزل پاؤ بھر کا ٹماٹر فی البدیہ عرض کیا تو ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوتی حسینہ کا چہرہ ہی ٹماٹر ہو گیا ۔شام تک گلیوں بازاروں میں ٹماٹر کا کیچڑ بھر جاتا ہے جس میں لوگ گرتے ہیں اور اٹھتے ہیں تو کسی کے منہ پر بھی وہ کیچڑ مل دیتے ہیں ۔ جب صبح ہوگی تو نہ کہیں ٹماٹر کی بو ہوگی نہ کویؑی بدنما داغ نظر آئے گا۔
یا اللہ خیر۔۔ یہ کون دیوانے ہیں؟ جان بچانے کیلیے ایک ہجوم گلی کوچوں میں دوڑ رہا ہے اور خطرناک سینگوں والے ناک سے خوں خواری کے جھاگ اڑاتے تندرست و توانا بیل ان کا تعاقب کر رہے ہیں کہ خوفزدہ شکار کو سیگون پر اٹھالیں بھاگھنے والوں کو روند ڈالیں جو انہیں ڈاج کر رہے ہیں۔ دائیں بائیں ہوکے پسلیاں ٹوٹنے سے بچا رہے اور ہنستے بھی جا رہے ہیں۔ پھر بھی جو نشانہ بنتا ہے اور زخمی ہوتا ہے اسے فورا سرکاری انتظام والی ایمبولنس ہسپتال پہنچاتی ہے۔ کھیل میں پولیس بھی شامل ہے۔
اس منذر پر کچھ لوگ تو ہنس ہنس کے دہرے ہوجائیں گے۔۔ کچھ اس بے حیایؑی پر لاحول پڑھیں گے ۔۔ شوہروں کی دوڑ میں سب اپنی اپنی بیویوں کو کمر پر لادے دوڑے جا رہے ہیں۔ کیا جوان کیا عمر رسیدہ۔۔ چھوٹی بڑی گوری کالی ہلکی بھاری بیویاں گلے میں ہاتھ ڈالے کمر پر سوار ہیں ۔۔ سب کا ہنس ہنس کے براحال ہے۔ کچھ ریس شروع ہوتے ہی گر جاتے ہیں۔۔کچھ درمیاں میں لیٹ جاتے ہیں ۔جوان شوہر اور ہلکی پھلکی بیوی کا ریس جیتنا لازمی نہیں ۔ پریکٹس زیادہ کام آتی ہے۔
اور کیا بتاوں ۔۔ یہ اسی دنیا کی مختلف اقوام کے تہوار ہیں آپ نے بھی ٹی ؤی کے خبرناموں میں ان کی جھلک ضرور دیکھی ہوگی ۔یہ تو مجھے بھی معلوم نہیں کہ کون سا تہوار کس قوم کا ہے ۔۔ لفظ قوم پر توقف فرمائیے ۔۔کہیں کسی تہوار میں مذہب کی قید نہیں۔ عقیدے اور گورے کالے کی شرط نہیں۔۔ تہوار کا متبادل مجھے انگریزی میں فیسٹول ملا ۔۔ تہوار وہ ہے جس میں ایک ملک کی جغرافیایؑی حدود میں سب رہنے والے شریک ہوں ۔۔ ہم عید، بقر عید مناتے ہیں۔ ہندو دیوالی اور دسہرہ۔ باقی قومی دن ہیں جو سب کیلیے ہیں۔۔ 23 مارچ۔۔ 14 اگست۔۔ 6 ستمبر۔
وہ زمانہ خواب فردا ہوا جب ہم صبح منہ اندھیرے گھر سے نکلتے تھے کہ پنڈی کی مال روڈ پر ترجیحا” پلازا سینیما کے پاس فٹ پاتھ پر سب سے آگے کہیں جگہ پکڑ لیَں مگر کامیابی کم ہوتی تھی ،شاید نصف شب کے بعد ہی باہمت لوگ وہاں جگہ پکڑنے پہنچ جاتے تھے۔۔ وہ پاکستانی قوم تھی۔ پر جوش اور پرعزم۔ آٹھ بجے تک سڑک کے دونوں طرف میلوں تک ٹھٹھ لگ جاتے تھے ۔ پھر فوجی پایؑپ بینڈ کا پہلا دستہ رنگ برنگی پوشاک کے ساتھ نمودار ہوتا تھا۔ آگے کلف لگی مونچھوں والا اکڑا ہوا بیڈ ماسٹر جس کو اپنے گرز جیسے عصا کو گھمانے پھرانے اور دس گز ہوا میں اچھال کے دیکھے بغیر پکڑ لینے کی حیرت انگیز مہارت حاصل ہوتی تھی۔ اس کے پیچھے مشینی انداز میں قدم اٹھاتے جوان ۔۔ پھر دوسرا بینڈ، بالکل مختلف وضع قطع کے ساتھ ۔۔ ایک بہت بڑے پیٹ پر ٹکے ڈرم کی گونج ۔۔ اس کے بعد ٹینک اور توپیں ۔۔ اللہ اکبر اور پاکستان زندہ باد کے سنسنی خیز نعرے اکثر بارش برستی اور پانی گرتا رہتا مگر ہجوم کو احساس بھی نہ ہوتا۔ یہ ہمارا قومی تہوار تھا جس کی فقط یاد کا عکس باقی ہے۔۔۔
میرے بچون کو یاد ہے کہ 7 ستمبر کو وہ یوم فضایؑیہ پر ماری پور جاتے تھے تو ہوایؑی جہازون پر چڑھ کے کھیلتے تھے۔۔ 23 مارچ کی پریڈ پر وہ ٹینکوں پر سوار ہو جاتے تھے جو قایؑد اعظم کے مزار پر کھڑے ہوتے تھے۔ اب یہ سب کہیں نہیں ہوتا یاکسی خفیہ۔ ہم سویلین کیلیے ممنوعہ جگہ پر ہوتا ہے ۔۔ صرف علامتی طور پر۔ قوم کیلیے صرف سیکیورٹی ہے جو اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے ہمارے اعصاب پر سوار ہے۔
بسنت کا قومی تہوار کبھی مذہبی نہ تھا ۔۔یہ آمد بہار کا موسمی تہوار تھا۔ مجھے لاہور کی بسنت یاد ہے جس میں سارا شہر شریک ہوتا تھا۔ دن بھر آسمان پتنگوں کے رنگوں سے بھرا رہتا تھا۔ رات کا اندھیرا آتش بازیوں سے روشن نظر آتا تھا۔ اچانک یہ تہوار غیر مسلم ہو گیا جس کو صدر پاکستان جنرل مشرف بھی لاہور میں میاں صلاح الدین کی "حویلی بارود خانہ” میں رات بھر مناتا رہا تھا ۔۔پ ھر پتنگ "سیکیورٹی رسک” اور ممنوع قرار پایؑی ۔۔کراچی میں نوجوان نیا سال منانے کچھ ہلہ گلہ کرنے کلفٹن کے ساحل پر جاتے تھے۔ ان کے راستے پولیس نے بند کردیے ۔۔ کنکریٹ بلاک اور کمٹینر لگا دییے گئے ۔۔ وہ تخریب کار نہیں ۔۔ ہمارے نوجوان بچے تھے ان کا ناچنا گانا جرم ہو گیا ۔۔ پھر رونق اور دل لگی کی ایک راہ "ویلنٹایؑن ڈے” تھی۔ چاکلیٹ ۔۔ لال گلاب ۔۔ ہنسنا اور محبت کرنا کس شرع میں جرم ہیں لیکن اس کو پہلے مذہب نے اور پھر قانون نے جرم بنا دیا
اب ہمارا کویؑی قومی تہوار نہیں ۔۔۔ کیونکہ ہم ایک قوم نہیں ۔۔ ہم خطرات سے گھری بستی کے مکین ہیں جن کیلیے جو ہے سیکیورٹی رسک ہے۔

Close Menu