لگتا نہیں ہے دل مرا۔۔۔۔۔

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: احمد اقبال

۔ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ فیس بک ان دیکھے انجانے انسانوں کے درمیاں غیرمشروط قربتوں کی دنیا ہے جو بلا تفریق مذہب و ملت سب کو ذہنی رفاقت کا ماحول فراہم کرتی ہے ۔ ہم سب عملی اندازمیں اپنی فکر کو شائستگی کے ساتھ دوسروں کیلیے قابل قبول رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اوراختلاف کو قبول کرنا سیکھتے جاتے ہیں ۔ گزرے ہوئے سات برسوں میں میرے فرینڈز اور فالوورز کی تعداد میں بتدریج اضافہ سے دس ہزار ہویؑی تو یہ میرے لے قبولیت عامہ کی سند تھی اور اطمینان کی بات تھی کہ ہم سب اختلاف پر اتفاق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
لیکن الیکشن وہ زلزلہ تھا جس نے اس اعتماد کی بنیادیں ہلا دیں۔ نظریاتی بحث میں تلخی اس انتہا تک پہنچی کہ ؎ اک ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے ۔۔دو بڑی جماعتوں کے سیاسی حامی پرانے دشمنوں کی طرح لڑنے لگے اور لا حاصل بحث کی تلخی میں شائستگی پر بد زبانی غالب آتی گئی ۔ میں نے بہت سے پرانے مراسم کا خون ہوتا دیکھا۔ لڑنے والوں کو سیاست کرنے والوں سے کچھ ملنے والا نہیں تھا۔ نہ وزارت نہ سفارت۔کوئی بے مصرف حرف ستایؑش تک نہیں۔ معلوم نہیں بے مقصد عداوتیں پالنے کی یہ رسم کب چلی اور کیوں چلی؟ اصول حکمرانی یہی ہے کہ اپنے استحکام کیلیے رعایا میں نفاق اور انتشار کے اسباب پیدا کیے جائیں۔اسے فکری اتحاد کی بجائے فساد فی سبیل اللہ کی راہ دکھایؑی جائے اور نان ایشوز پر ان کے درمیان عناد کے اسباب کو فروغ دیا جائے ،ایسا ہو گیا اور اس ذہنی خانہ جنگی کے رجحان نے پوری طرح یہاں فیس بک کی فضا کو مسموم کیا۔ سیاسی محاذ آرایؑی کے بعد ایک طوفانی لہر مذہبی انتہا پسندی میں عدم برداشت کی آیؑی جس میں کچھ بھی کہنا لکھنا مشکل ہو گیا۔ انتہا یہ ہے کہ خود ہمارے قلم قبیلے کے ایک معروف و معتبر فرد نے دھمکی شائع کی کسی نے ان کے عقیدے کے خلاف کچھ لکھا تو اس کو ان فرینڈ کر دیا جائے گا ۔ ہم تو وہ ہیں جو ہمیشہ آزادیؑ اظہار پر پابندی کے خلاف قید و سلاسل ۔۔ جلا وطنی اور دارو رسن قبول کرکے فخر سے کہتے آےؑ تھے کہ۔۔
زباں پہ مہر لگی ہے تو کیا کہ رکھ دی ہے
ہر ایک حلقہؑ زنجیر میں زباں میں نے
ان کی دھمکی جتنی ناپختہ شعور اور متعصبانہ فکر کی آئینہ دار تھی اتنی ہی مضحکہ خیز بھی تھی چنانچہ میں نے فورا” ان سے درخواست کر دی کہ جرم سے پہلے سزا دینے کی نئی روایت کا آغاز بھی آپ ہی کریں ۔۔اور انہوں نے یہ کیا بھی ۔۔ہا ہا ہا ۔ میں یا آپ بھی اگر بیک جنبش قلم سب کو ان فرینڈ کر دیں تو فرق کسی کو بھی نیں پڑے گا۔ سب کچھ ویسا ہی رہے گا ۔ دنیا اسی طرح کل بھی چلتی رہے گی ؎ ۔ہم نہ ہوں گے کویؑی ہم سا ہوگا۔۔ لیکن اس رجحان نے میرے ناپختہ خیال پر مہر تصدیق ثبت کی کہ میں فیس بک کو خیر باد کہہ دوں۔اپنے لکھنے پڑھنے کی خواہش تو میں کسی بھی ادبی گروپ یا سوشل ویب سایؑٹ پر پوری کر سکتا ہوں۔ طویل بے مقصد اور لاحاصل مباحث اور مناظرے۔ ہر روز کے درجنوں ان باکس میسیج صرف ایک شعر پرشور داد و تحسین اور تضیع اوقات والی باتوں سے مجھے کیا ملتا ہے، کوفت کے سوا۔ ایک مدت سے میں نے فرینڈ شپ کی ہزاروں غیر سنجیدہ اور ہم زوق محسوس نہ ہونے والے افراد کی درخواستوں کو مسترد کر رہاہوں پھر بھی مجھے معلوم نہیں کہ گزشتہ 7 سالوں کے 10 ہزار احباب میں سے اب کتنے فعال ہیں؟
چنانچہ فوری طور پر میں اپنی پوسٹ پر کمنٹس بند کر رہا ہوں۔ اس کے بعد میں یہ اکاؤنٹ بند کر کے اسی پروفائل پکچر کے ساتھ احباب کا انتخاب کروں گا اور ان کو فرینڈشپ ریکوسٹ بھیجوں گا یا انہیں مدعو کروں گا کہ میرے دوسرے اکاؤنٹ پر آ جاییؑں۔

Close Menu