امریکی ڈیپ اسٹیٹ کتنی طاقتور ہے؟

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: سرگوشی نیوز ڈیسک

امریکہ میں یہ سوال اٹھ رہے ہیں کہ امریکی ڈیپ اسٹیٹ کتنی طاقتور ہے؟ عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کانگریس اور امریکی صدر سب سے زیادہ طاقتور ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ تو پھر کون ہے جو امریکہ کی فوج اور سیاست کو کنٹرول کر رہا ہے۔ جان بولٹن اور مائیک پوممپیو جیسی شخصیات افغانستان اور عراق کے مسئلے پر صدر کو نظر انداز کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اس کے پیچھے ایک اور نادیدہ غیر منتخب حکومت ہے جو پورا نظام چلا رہی ہے۔ امریکہ میں چلنے والے اس کھیل میں سیاسی اسٹیبلشمنٹ، بڑا میڈیا اور ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کا تگڈم شامل ہے جو آپس میں مل کر طاقت اور دولت کے لیے کام کرتا ہے۔ ایسی صورتحال میں کیا کوئی یہ توقع کر سکتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اربوں ڈالر کا کاروبار کرنے اور ریاست امریکہ کی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے والے گروپ کے خلاف کچھ بولیں گے؟ کبھی نہیں۔ ان کی سارا زور کمزور ملکوں پر ہی چلے گا جہاں یہ ڈیپ اسٹیٹ اپنا اثر و رسوخ اور جنگوں کا کاروبار بڑھانا چاہتے ہیں۔
امریکہ میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اوول آفس میں جارج بش بیٹھے ہوں یا براک اوباما، ڈونلڈ ٹرمپ براجمان ہوں یا مکی ماؤس، اس سے خارجہ پالیسی پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا جو عام طور پر جنگ اور کشیدگی کی حامی ہوتی ہے۔ کانگریس میں ایک دوسرے کی مخالفت کرنے والے اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ملٹری کے لیے فنڈنگ ہمیشہ موجود رہے۔ حال ہی میں یہ 700 ارب ڈالر سے بڑھا 770 ارب ڈالر کر دی گئی ہے۔ ترقی کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کے سینے پر فیتے زیادہ لگ جائیں۔ لیکن اگر آپ واشنگٹن میں بینکنگ کمیٹی کا چیئرمین بننا چاہتے ہیں تو اس کے لیے آپ کو اپنی روح کو فروخت کرنا ہوگا۔ آپ کو وہی کرنا ہوگا جو آپ سے کہا جائے گا۔ ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کے خصوصی مفادات کا تحفظ کرنا ہوگا اور آپ کو بہت بڑی رقم جمع کرنا ہوگی اور اس میں سے کم از کم پانچ دس ملین ڈالر سیاسی جماعتوں کو چندہ دینا ہوگا۔
بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ امریکہ میں طاقت اور دولت کا جو تگڈم بنایا گیا ہے اسے توڑنا ممکن نہیں ہے لیکن یہ ایک خام خیالی ہے کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو پچھلے وقتوں کی طاقتور ریاستوں کا وجود صرف تاریخ کی کتابوں میں ہی نہ رہ جاتا۔ اس تگڈم کے خلاف امریکی نوجوان اٹھ رہے ہیں جو آزادی، ذمہ داری اور جنگوں کی مخالفت میں آواز بلند کر رہے ہیں۔ اگر انہیں شاطرانہ سرمایہ دارانہ نظام سے متعلق آگاہ کیا جائے تو وہ زیادہ شدت کے ساتھ اس تگڈم کے خلاف تحریک چلا سکتے ہیں۔
امریکہ میں یہ بحث ہو رہی ہے کہ کانگریس کے وہ ارکان جو عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر کانگریس کے رکن بنتے ہیں وہ درحقیقت عوام سے زیادہ ملٹری انڈسٹریل کانگریشنل کمپلیکس کے کاروباری مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ اس کاروبار کا سی آئی اے اور دیگر انٹیلیجنس ایجنسیوں پر گہرا اثر ہے۔ دنیا میں جہاں بھی اس ان کے کاروباری مفادات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے وہاں سی آئی اے کود پڑتی ہے اور اس ملک کی منتخب یا غیر منتخب حکومت کو متنازعہ بنا دیتی ہے اور اپوزیشن قوتوں ہر طرح کے وسائل فراہم کرکے متحرک کرتی ہے اس کے نتیجے میں قبل از وقت انتخابات بھی ہو سکتے ہیں اور ڈیتھ اسکواڈ کے ذریعے قتل بھی کروایا جا سکتا ہے۔ یہ سب کوئی جمہوری صورتحال نہیں ہے بلکہ یہ سب سی آئی اے کے ذریعے اپنے کاروباری مفادات کو بچانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ کوئی چند صہیونی سازشی افراد کی میٹنگ میں ہونے والے فیصلوں کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ کاروباری مفادات اتنے زیادہ طاقتور ہو گئے ہیں کہ سی آئی اے جیسے اہم ریاستی ادارے کو بھی اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے لگے ہیں۔ ان کے پاس اتنا پیسہ آ گیا ہے کہ وہ کسی بھی منتخب اور غیر منتخب ادارے کو اپنے مفاد میں استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ تگڈم دن بدن اتنا بڑا اور طاقتور ہوتا جا رہا ہے کہ اس پر کنٹرول کرنا ممکن نظر نہیں آ رہا ہے ۔
کانگریس خفیہ میٹنگز میں جنگوں پر جانے سے متعلق فیصلے ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی طے کر لیا جاتا ہے کہ کس کس کمپنی کو کون کون سے ٹھیکے ملیں گے۔ امریکی اسلحہ ساز کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کو 2017ء کے سالانہ بجٹ کا 87 فیصد ریونیو براہ راست امریکی حکومت سے حاصل ہوا ہے جس میں اسلحہ کی غیر ملکی فروخت شامل نہیں ہے۔ اسی طرح ریتھیئن کمپنی نے 80 فیصد اور نارتھروپ گرومین کارپوریشن نے 85 فیصد ریونیو امریکی حکومت سے حاصل کیا ہے۔
پاکستانی میڈیا کی طرح جب ان ٹریلین ڈالر کمپنیوں کے سارے کاروبار کا انحصار امریکہ حکومت پر ہو تو یہ امریکہ کو یقیناً حالت جنگ میں رکھنا چاہیں تاکہ ان کا کاروبار چلتا رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر صدر ٹرمپ جنگوں سے نکلنے کی بات کرتے بھی ہیں تو مائیک بولٹن اور پومپیو دوسرے ٹریک پر چلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
اس صورتحال سے پریشان امریکی یہ بات کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ وہ تمام تر انسانی کمزوریوں اور خامیوں کے باوجود اپنے بچوں کو زندگی میں اعلیٰ اخلاقی اقتدار اپنانے، اصول اور ضابطوں کی پاسداری کرنے کی تربیت دینا چاہیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر کہنا چاہیے کہ ہم اس ملک سے محبت کرتے ہیں اور جو کچھ ہو رہا ہے وہ اب ہم مزید نہیں چلنے دیں گے۔ لیکن ایسے ذمہ داری لوگ کہاں ہیں جو یہ بات کہنے کے لیے سامنے آئیں گے۔ شاید ایسے لوگ کبھی سامنے نہیں آئیں گے کیونکہ امریکی ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس میں ہزاروں لوگ کام کرتے ہیں جنہوں نے نیشنل سیکورٹی ایجنسی اور سی آئی اے کی ایسی دستاویزات پر دستخط کر رکھے ہیں جو راز افشا کرنے کی ممانعت کرتے ہیں۔ لہٰذا اگر کسی نے منھ کھولنے کی کوشش کی تو اسے ریاست کے راز ظاہر کرنے کے جرم میں جیل بھیج دیا جائے گا۔ لہٰذا پورا نظام لوگوں کو سچ ظاہر کرنے سے روکتا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ منتخب نمائندوں پر تو زباں بندی کا کوئی ایسا قانون لاگو نہیں ہوتا تو وہ کیوں خاموش ہیں؟ شاید اس لیے کہ وہ خود بھی اس پوزیشن پر انہی قوتوں کی وجہ سے پہنچے ہیں یا پھر جب وقت انہیں مجبور کرے گا تو یہ اٹھیں گے۔
Close Menu