اہرام مصر کس نے بنائے اور کیوں بنائے؟

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: سرگوشی نیوز ڈیسک

ایک زمانے سے سنتے آئے ہیں کہ اہرام مصر فرعونوں کے مقبرے ہیں۔ ایسا ہوا بھی ہے کہ جب جیزا کے اہرام کھولے گئے تو ان میں سے فراعین مصر کی ممیاں اور ان کے خزانے دریافت ہوئے لیکن ماہرین آثار قدیمہ و فلکیات اور فزکس نے اپنی تحقیقات کو مقبروں پر لاکر ختم نہیں کیا۔ اب سائنس داں یہ کہہ رہے ہیں کہ اہرام مصر سے فرعونوں کے تابوت تو ضرور ملے ہیں لیکن یہ عظیم عمارتیں کم از کم 11 ہزار سال پرانی ہیں جو طوفان نوح سے بہت پہلے بنائی گئی تھیں۔ اسی طرح ابوالحول کا مجسمے کے اردگرد پانی کے آثار پائے گئے ہیں۔ ماہرین فزکس کا کہنا ہے کہ اہرام مصر کا تعلق آسمان اور ستاروں سے ہے۔ اس کی جیومیٹریکل ساخت سائنسی تجزیہ کیا جائے تو ایسے نمبر سامنے آتے ہیں جو مستقل اور عجیب و غریب ہیں۔ یہ اہرام ایک ایسے مقام پر واقع ہیں جس کا ارض بلد زمین کا ایک تہائی ہے۔ جس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اہرام مصر بنانے کے لیے جگہ کا انتخاب علم فلکیات کے ذریعے کیا گیا تھا کیونکہ یہ 30 ڈگری پر بنائے گئے ہیں۔ یہ قطب شمالی اور خط استوا کے ایک تہائی فاصلے پر واقع ہے۔ پھر اسے زمین کے حقیقی شمال، جنوب اور مشرق و مغرب سے ملایا گیا ہے۔ اس کی سمتوں کے تعین میں کوئی غلطی نہیں کی گئی ہے۔ تاہم اس میں ایک معمولی سے غلطی نظر آتی ہے جو حقیقی شمال کے ایک ڈگری کا 3/60 کا فرق ہے جو اتنے بڑے ہجم کی وجہ سے ممکن ہے۔ جیزا کا بڑا اہرام 481 فٹ بلند ہے اور 13 ایکڑ کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور اس کا وزن 60 لاکھ ٹن ہے جس میں 25 لاکھ پتھر کے بلاک لگائے گئے ہیں اور پتھر کے پہاڑ جیسی عمارت کی تعمیر میں فلکیاتی شمال کی سمت کے تعین میں اگر اتنی معمولی سی غلطی ہو جائے تو یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے جبکہ اس کی بنیاد کا رقبہ اور بلندی سے زمین کا قُطر اور قطبین کے درمیان فاصلہ بھی معلوم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ زمین کی گردش کی رفتار اور قطبین کے جھکاؤ کو بھی ظاہر کرتے ہیں جبکہ اسی سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ آسمان میں موجود بارہ برجوں کے ہر برج میں زمین کتنا عرصہ رہے گی۔ عیسائیت کا ظہور برج حوت کے آغاز کے ساتھ ہوا تھا اور اب دنیا برج دلو میں داخل ہونے والی ہے۔ اہرام مصر میں ریاضی کی جو مساواتیں پوشیدہ ہیں ان کا حاصل ضرب بھی 3، 6 اور 9 نکلتا ہے۔ یہ تینوں ایسے اعداد ہیں جو سائنسداں نکولا ٹیسلا کے پسندیدہ اعداد تھے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سو دو سو سال بعد دنیا میں ریاضی کی زبان استعمال کی جانے لگے گی جو ہمیں ہر چیز کی بالکل درست معلومات فراہم کرے گی۔ اس وقت ہمیں اپنے آپ کو دوبارہ تعلیم دینے اور نئے انداز سے اپنا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اب سائنس نے روحانیت کی سرحدوں کو بھی چھونا شروع کر دیا ہے اور اس بات کا ادراک کرنا شروع کر دیا ہے کہ کائنات ذہنی ہے اور ہم نے اسے کلاسیکل سائنس سے ہٹ کر دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ اہرام مصر کا تعلق انسانیت سے ہے اور اسے بنانے والوں نے اسے انسانی شعور کی بیداری کے لیے بنایا تھا۔ جس نے اس زمین پر آباد انسانون کا آسمان اور کائنات سے تعلق سے جوڑنے کے لیے بنایا تھا۔

Close Menu