مستقبلیت : دنیا کی سوچ اور پاکستان

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: امتیاز متین

پاکستان کے سیاسی افق پر جیسی بیان بازیاں ہو رہی ہیں یا پارٹی قائدین کے ذاتی مفادات کے تحفظ کی سیاست کی جا رہی ہے اس کے پیش نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ سیاست میں ہمیشہ کی طرح پاکستانیت کی ہی کمی ہے۔ اگر سیاست میں پاکستانیت کا غلبہ ہو تو پھر آج سندھ سے ڈیم مخالف بیانات دینے کے بجائے بھارت کی مذمت ہوتی جو دریاؤں کا پانی روکنے اور سیلابی ریلے چھوڑنے کی پالیسی پر گزشتہ کئی عشروں سے کام کر رہا ہے۔ سیلابوں کو کنٹرول کرنا اور اس کے پانی جھیلوں میں جمع کرنا اور نہروں کے ذریعے نکال دینا بہت زمانہ پہلے ممکن بنایا جا چکا ہے۔ ٹوکیو، لندن، پیرس، نیو یارک اور ایسے ہی کئی دوسرے شہروں میں طوفانی بارشوں کا پانی نہیں بھرتا لیکن کراچی شہر کی سڑکوں پر جگہ جگہ گٹر ابلتے نظر آتے ہیں۔ پانی کی قلت کا رونا تو ضرور رویا جاتا ہے لیکن پانی کی چوری اور زیاں روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا جاتا۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود ہماری زراعت بہت اچھی نہیں ہے۔دوسری جانب اب خلا میں کاشتکاری کے تجربے کیے جا رہے ہیں۔گزشتہ دنوں چین نے چاند پر جو اپنی خلائی گاڑی اتاری ہے اس میں کپاس کا ایک پودا بھی بھیجا تھا جو کنٹینر سمیت چاند کی سرزمین پر کامیابی سے لگا دیا گیا ہے جبکہ روس کافی عرصے سے انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن میں پودوں کی کاشت کے کامیاب تجربے کر رہا ہے۔ ایسے پودے مریخ کا طویل مدتی سفر کرنے والے خلابازوں کو راستے میں خوراک اور آکسیجن فراہم کریں گے اور پھر یہی پودے مریخ کی زمین پر کاشت کیے جائیں گے لیکن اس سے پہلے ان تحقیقات کے اثرات ہمیں زمین پر بھی نظر آئیں گے۔ ایک طرف دنیا خلیاتی سائنس میں نئی جہتیں دریافت کر رہی ہے دوسری جانب یہاں سندھ اسمبلی میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ ڈرپ کے ذریعے آبپاشی کا منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔ اگر اسرائیل میں گرم، خشک، بنجر اور پتھریلے علاقوں پانی کی کمیابی کے باوجود سرسبز باغات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے تو پاکستان میں اسرائیل سے کہیں زیادہ پانی میسر ہے اورزمین اور موسم بھی بہتر ہیں۔
اس وقت پاکستان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ معاشی ابتری اور قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ بنا ہوا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی حالیہ رپورٹ، روپے کی قدر میں کمی، مہنگائی میں اضافے اور اسٹاک مارکیٹ کی مندی کی خبروں سے نفسیاتی دباؤ بڑھ رہاہے لیکن گزشتہ ڈیڑھ پونے دو سال سے جاری معاشی بحران کی کیفیت کے باوجود گزشتہ برس تقریباً سارے ہی بینکوں نے منافع ظاہر کیے ہیں لیکن ان بینکوں نے اپنے جو ذیلی سرمایہ کاری بینک کھول رکھے ہیں ان میں رقم جمع کرانے والے بہت سے صارفین کو یہ کہہ کر ٹرخا دیا گیا کہ اسٹاک مارکیٹ میں مندی ہے اس لیے منافع نہیں دیا جا سکتا۔ اسٹاک مارکیٹ کی موجودہ صورتحال سے لگتا ہے کہ انویسٹمنٹ بینک آئندہ برس بھی صارفین کو کچھ نہیں دیں گے لیکن وہ خود جمع شدہ رقم سے منافع کماتے رہیں گے جو انہیں سیونگ اکاؤنٹ میں رقم رکھنے سے نہیں مل سکتا تھا۔ سمٹ بینک اور سندھ بینک کے فراڈ سامنے آنے کے بعد دوسرے بینکوں اور خاص طور پر ان کے انویسٹمنٹ سیکشنز پر بھی نظر ڈالنی چاہیے جو صارفین کی رقم محفوظ رہنے اور منافع بخش سرمایہ کاری کے لارے دے کر سیونگ اکاؤنٹ سے اپنے سرمایہ کاری اکاؤنٹ میں منتقل کروا تے رہے ہیں لیکن اب اپنے وعدوں اور دعووں سے پیچھے ہٹ رہے ہیں حالانکہ اس مندی میں بھی اسٹاک مارکیٹ سے لوگ منافع کما رہے ہیں۔ انویسٹمنٹ بینک کو قانونی طور پر اس بات کا پابند کیا جانا چاہیے کہ وہ صارفین کی رقم میں شیئر پرائس ویلیو یا کسی بھی طور پر کمی ظاہر کرنے کا مجاز نہیں ہوگا اورسالانہ منافع دینے کا پابند ہوگا۔ اگر انویسٹمنٹ بینک کے شیئر اور اسٹاک مارکیٹ کے شیئر میں کوئی فرق ہی نہ رہے توپھر اونچی دکان کھولنے کی کیا ضرورت ہے۔
پاکستان کا صل مسئلہ یہ ہے کہ دولت کیسے پیدا کی جائے؟ موجودہ دور میں جس قسم کی خبریں میڈیا میں آ رہی ہیں اس سے یہی لگتا ہے کہ دولت زمینوں اور پلاٹوں سے پیدا ہوتی ہے، رشوت، بدعنوانی، ذخیرہ اندوزی اور اسٹاک مارکیٹ اور کرنسی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ دولت جعلی بینک اکاؤنٹس، منی لانڈرنگ اور بیرون ملک جائدادیں خریدنے سے بڑھتی ہے۔ سرکاری زمین پر غیر قانونی لگژری تعمیرات کر لینے سے بھی دولت پیدا ہوتی ہے، کیونکہ سرکار اور سرکاری ادارے بروقت کارروائی کرنے کے بجائے خاموش رہتے ہیں پھر اس غیر قانونی پروجیکٹ میں صاحب اقتدار لوگوں کی بھاری سرمایہ کاری کو بچانے کے لیے کوئی گنجائش نکالنے سے بھی دولت پیدا ہوتی ہے۔ اس فہرست میں منشیات اور دیگر چھوٹی بڑی چیزوں کی اسمگلنگ وغیرہ بھی شامل ہیں جو برسوں سے کچھ لوگوں کی خوشحالی میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔ تاہم ترقی یافتہ دنیا میں دولت پیدا کرنے کے اسباب کچھ اور بتائے جا رہے ہیں۔ مستقبلیت پر بات کرنے والے سائنسداں کہہ رہے ہیں کہ دولت تیل، انجن، بجلی اور کمپیوٹرز سے پیدا ہوتی ہے اور مستقبل میں یہ مالیکیولر سائنس، نینو ٹیکنالوجی، بایو ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور افزودہ حقیقی تصویر کشی یا آگمینٹڈ رئیلٹی کے ذریعے پیدا کی جائے گی۔ انٹرنیٹ ہر جگہ موجود ہوگا حتیٰ کہ آنکھ میں لگائے جانے والے کانٹیکٹ لینس میں بھی انٹرنیٹ کا کنکشن موجود ہوگا اور پلک جھپکنے سے درکار معلومات آنکھ کے سامنے آ جائے گی۔ آئندہ دنوں میں طلبا کو امتحان کے لیے رٹا لگانے یا پرچیاں بنانے کی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ وہ پلکیں جھپکانے لگیں گے۔ موجودہ تعلیمی نظام میں اسے کھلی نقل کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال قرار دیا جائے گا لیکن تب ترقی یافتہ ممالک میں اساتذہ بھی طلبا کوچیزیں یاد کروانے کے بجائے کسی بھی چیز کے تصورات واضح کرنے پر زور دے رہے ہوں گے کیونکہ انٹرنیٹ اور آگمینٹڈ رئیلٹی کی یہ سہولت آپریشن کے دوران سرجن اور خلائی اسٹیشن پر کوئی خرابی دور کرنے والے خلا باز بھی استعمال کر رہے ہوں گے۔ یہی ٹیکنالوجی لوگوں کو بازار میں کسی بھی چیز کی اصل لاگت اس پر لگائے گئے منافعوں اورٹیکسوں کی تفصیلات بھی بتائے گی، کسی بھی جائیداد مالیت اور اس کے مالک کے نام وغیرہ تفصیلات بھی معلوم کرنے پر آنکھوں کے سامنے آجائے گی۔ یہ ایک حقیقی شفاف مالیاتی نظام ہوگا جس میں میں کسی آڑھتی یا ایجنٹ کا دھندا بند ہو جائے گا،لوگ آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے درست مشورے حاصل کرنے لگیں گے۔ ترجمہ کرنے والے سسٹم کا استعمال بڑھ جائے گا۔ تب لوگوں کے لیے پردوں کے پیچھے چھپنا اور ناجائز منافع خوری تقریباً ناممکن نظر آتا ہے۔ حال ہی میں امریکہ میں ہونے والی سائنسی نمائش میں ڈرون ٹیکسی کی بھی نمائش کی گئی ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ آئندہ دنوں میں ڈرونز کا استعمال بڑھ جائے گا۔ خاص طور پر دور افتادہ دیہی علاقوں میں سامان اور مسافروں کے لیے ڈرونز پسندیدہ سواری بن جائیں گے۔ ترقی یافتہ دینا میں مستقبل کی ایک ایسی تابناک تصویر کھینچی جا رہی ہے جس کے بارے میں ہماری قیادت نے سوچنا بھی شروع نہیں کیا ہے۔
اس وقت سیاسی ترجمانوں کی ترجیح نیوز چینلز پر اپنے پارٹی قائدین کے غلط اقدامات کو صحیح ثابت کرنے کے دلائل دینا رہ گئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سیکڑوں کے ایوان زیریں اور ایوان بالا میں صرف چند ہی لوگ کام کے ہیں باقی لوگ اپنے قائدین کی حمایت میں ڈیسکیں بجانے اور واک آؤٹ کرنے کے لیے اسمبلی میں پہنچے ہیں۔ سرکار اور سرکاری ادارے اپنا چلن بدلنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ شاید بہت سے لوگوں کو یہ گمان ہے کہ سرکار یا سرکاری نوکری میں آنے کے بعد انہیں کام نہ کرکے سارے فوائد سمیٹنے اور عام شہریوں ٹرخا دینے یا اپنی ڈیوٹی کے عوض کچھ اضافی وصولیوں کا لائسنس مل گیا ہے۔آن لائن بینکاری کو پاکستان میں فروغ حاصل ہوا ہے لیکن اب بھی موٹر وہیکل ٹیکس ،شہری اداروں کے بلز کی ادائیگی یا قومی بچت سے رقم کی وصولی اپنے فرسودہ نظام اور لمبی قطاروں کی وجہ سے ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ قومی بچت مراکز میں بھی اکثر بوڑھے افراد نے سرمایہ کاری کر رکھی ہے لیکن انہیں اپنی ماہانہ منافع کی رقم وصول کرنے کے لیے نہ صرف خود حاضری دینا پڑتی ہے بلکہ اپنی باری کے لیے طویل انتظار بھی کرنا پڑتا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ قومی بچت مراکز میں کوئی ہیلپ ڈیسک نہیں ہے، بوڑھے افراد کو اپنی رسیدیں بھرنے میں دقت پیش آتی ہے اور عملہ روایتی سرکاری بے رخی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں رسید دوبارہ بھرنے کے لیے کہہ کر مزید انتظار کی کوفت میں مبتلا کر دیتا ہے۔کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ منافع کی رقم قومی بچت کے جاری کردہ اے ٹی ایم کارڈ سے نکالنے یا صارفین کے اکاؤنٹ میں منتقلی کے عمل کو آسان اور تیز رفتار کر دیا جائے۔ اگر حکومت ٹیکسوں کی وصولی کے نظام کو مربوط، بہتر اور آسان بنانے پر توجہ دے تو موجودہ شرح سے زیادہ رقم کی وصولی ہو سکتی ہے۔
Close Menu