جب ماں ہی بیگانہ ہو جائے!

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: وسعت الله خان

بادشاہت کا ادارہ کم ازکم سات ہزار برس پرانا ہے، پیشوائی کا ادارہ بھی لگ بھگ اتنا ہی پرانا ہے مگر بالغ رائے دہی یعنی ”ون مین ون ووٹ“ کا عملی اطلاق زیادہ سے زیادہ دو سو برس پرانا ہے۔ جمہوریت کے جتنے بھی نقصانات گنوا دیں مگر ایک فائدہ ضرور ہے۔

مری گری جمہوریت میں بھی ایک ریوالونگ ڈور ہوتا ہے جس کے ذریعے عوامی توقعات پر پورے نہ اترنے والے شخص کو پرامن طریقے سے باہر نکالا جا سکتا ہے یا توقعات پر پورے اترنے والے کو دوبارہ اندر آنے کا موقع مل جاتا ہے۔ بادشاہت اور پیشوائی میں ریوالونگ ڈور نہیں ہوتا لہذا تبدیلی بغیر خون بہائے مشکل ہی سے ہو پاتی ہے۔

بادشاہت اور پیشوائیت کو عوام کا نباض ہونے کی حاجت نہیں لیکن جمہوریت عوامی نبض پر مسلسل ہاتھ رکھے بغیر نہیں چل سکتی۔ پھر بھی چلانے کی کوشش کی جائے تو وہ جمہوریت کے لبادے میں فسطائیت ہوتی چلی جائے گی اور اس جمہوری فسطاییت کو رواں رکھنے والے راہ نما انفرادی و اجتماعی سوچ کو آگے بڑھانے اور نئے تصورات کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے بذاتِ خود اسٹیٹس کو کے جوہڑ کا حصہ ہو جائیں گے اور خبر بھی نہ ہو گی کہ جسے وہ جمہوریت بتا رہے ہیں وہ بادشاہت و پیشوائیت کی طرح جامد و ساکت شے کے سوا کچھ بھی نہیں۔

جمہوریت کو ہر وقت منا کے رکھنا پڑتا ہے۔ نخرے سہنے پڑتے ہیں۔ نازک بدن ہوتی ہے۔ آپ زیادہ سختی سے پیش نہیں آ سکتے۔ مکمل توجہ مانگتی ہے۔ مسلسل لا پروائی برتی جائے تو اشاروں کنایوں اور رویوں سے وقتاً فوقتاً ناپسندیدگی کا اظہار کرتی رہتی ہے اور اگر تب بھی کوئی مسلسل اکتاہٹ برتے اور رویہ نہ بدلے تو پھر نرم و نازک حسین و مہربان دکھائی دینے والی اسی جمہوریت کو ڈائن یا ٹکیائی کا روپ دھارنے میں ذرا دیر نہیں لگتی۔

بادشاہت ہو کہ پیشوائیت۔ ان کے ہوتے عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ آواز بلند ہونے پر جوتے پڑیں گے لہذا انھیں اس بیگانگی زدہ نظام سے زیادہ توقعات بھی نہیں ہوتیں۔ لیکن جمہوریت میں چونکہ ہر شخص کو احساس دلایا جاتا ہے کہ اس کے حقوق و فرائص برابری کے ہیں لہذا جب اسے برابری کی لت لگ جاتی ہے تو ذرا سی بھول چوک اور اغماض بھی طبیعت پر گراں گزرتا ہے اور اس کی جمہوری انا کو اگر مسلسل ٹھیس پہنچتی رہے تو پھریہی انا اس سے پلٹ کر وار بھی کروا لیتی ہے۔ عام آدمی بہت عجیب ہوتا ہے۔ وہ اپنے رہنماؤں سے جتنا پیار کرتا ہے اتنی ہی نفرت بھی کر سکتا ہے اور نفرت اندھے فیصلے کروا لیتی ہے۔

لہذا یہ ذمے داری جمہوریت اور مساوات کا جھنڈا بلند کرنے والوں کی ہے کہ وہ خود کو عقلِ کل سمجھنے کے تباہ کن خبط سے بچتے ہوئے عوام سے اپنے براہِ راست ناطے کے تار میں برقی رو مسلسل چیک کرتے رہیں اور عوام کو غصے اور نفرت کے راستے پر جانے سے پہلے ہی روک لیں۔ جیسے گھر کے بڑے اپنے ناراض جذباتی بچوں کو سمجھا بجھا کر اور ان کے مزاج کی تبدیلی اور اتھل پتھل کے بنیادی اسباب سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے کوئی غیر عاقلانہ قدم اٹھانے سے روک لیتے ہیں۔

اگر بروقت ایسا نہ ہو تو پھر کوئی بھی ذہین و تیز طرار موقع پرست مجمع باز نباض جمہوریت کے میلے میں محسن کی وضع قطع بنا کے در آتا ہے اور طبقاتی و اجتماعی محرومیوں کو راتوں رات ختم کرنے، لوگوں کو اچھے دن لوٹانے، پرانی عظمتیں بحال کرنے اور بے بس کر دینے والے پھٹیچر نظام کے ڈھونگ سے نجات دلانے کا سفوف بیچنے لگتا ہے۔ بھیڑ جوق در جوق جمع ہونے لگتی ہے۔ اس کے کانوں کو اجنبی مسیحا کی وہ تمام باتیں بھلی لگنے لگتی ہیں جو وہ اپنے روائیتی راہ نماؤں کے منہ سے سننے کو عرصہ ہوا ترس چکی ہے۔

چنانچہ یہ بھیڑ ”ایک رات میں جنسی قوت بحال“ جیسی مارکیٹنگ کے سحر میں آ کر ساحر کے پیچھے چل پڑتی ہے اور ساحر اپنی بانسری سے خوابوں کی مدھر دھنیں نکالتا مست بھیڑ کو کہیں بھی لے جا سکتا ہے اور جب لوگوں کی آنکھ کھلتی ہے تو عموماً وہ خود کو ایک اصلی باتصویر فسطائیت کے پنجرے میں قید پاتے ہیں۔ جمہوریت سے راتوں رات جان چھڑائی جا سکتی ہے مگر فسطائیت جان لیے بغیر نہیں ٹلتی۔ اور پاپولرازم کے جادو گر لبادے میں چھپی فسطائیت تو اپنے ساتھ کئی نسلوں کا مستقبل بھی باندھ کے لے جاتی ہے۔

مثال کے طور پر جب جرمن جمہوریت کا عوام کے اصل مسائل سے ناطہ ٹوٹ گیا تو اسی نظام سے ہٹلر کا ظہور ہوا اور وہ شدید بحران زدہ جرمن معاشرے کو عظیم آریائی عظمت کے اڑن گھوڑے پر بٹھا کے لے گیا۔ اس سے پہلے اٹلی میں مسولینی پیدا ہو گیا مگر جرمن اشرافیہ کے بوڑھے کانوں میں خطرے کی کوئی گھنٹی نہیں بجی۔

مصر میں جمال عبدالناصر عربوں کی تاریخی عظمت کی رتھ پر سوارراتوں رات نہیں آیا بلکہ اس کے پیچھے مصر کی نوآبادیاتی مزاج کی اسیر جمہوری اشرافیہ کی عشروں پے پھیلی مسلسل ناکامی اور اختیار کی میوزیکل چئیر گیم میں عام مصری کو تماشائی کے کردار سے زیادہ کچھ بھی نہ دینے کا سیاسی جرم کلیدی سبب تھا۔ اور پھر جمال ناصر تو نہ رہا مگر اس کا کھانچہ سلامت رہا جس میں سادات، مبارک اور سیسی فٹ ہوتے چلے گئے اور انھوں نے عرب قوم پرستی کی چادر بھی اتار پھینکی۔

گورے سے آزادی دلانے والی کانگریس کے احسان مند بھارتی عوام پورے ساٹھ برس انتظار کرتے رہے کہ کانگریس انھیں روزمرہ مسائل سے کسی حد تک ہی سہی مگر آزادی دلا دے گی۔ عوام نے ایمرجنسی کو بھی برداشت کر لیا، خاندانی سیاست کو بھی برداشت کرتے رہے، سترکے عشرے میں جنتا پارٹی اور پھر نوے کے عشرے میں واجپائی کی شکل میں سسٹم کو خبردار بھی کرتے رہے۔

حتیٰ کہ اکیسویں صدی کے دس برس میں بھی کانگریس کے کھونٹے سے بندھے رہے مگر جب انھیں پکا یقین ہوگیا کہ کانگریس عمر رسیدہ، جامد اندھی و بہری ہوچکی ہے تو پھر انھوں نے اس پارٹی کا ہاتھ پکڑ لیا جسے انیس سو چوراسی میں صرف چار سیٹیں ملی تھیں اور انیس سو چھیانوے میں لوک سبھا کی اکثریتی پارٹی ہونے کے باوجود کوئی بڑی جماعت اس کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں تھی۔ مگر لبرل و سیکولر اور پلورل اقدار کے جھنڈا برداروں نے ان عوامی وارننگز کو بھی حسنِ اتفاق ہی سمجھا۔

وہی مودی جسے بیشتر بھارتی گجرات کے قاتل کے طور پر پہچانتے تھے۔ یہی مودی دو ہزار چودہ میں پورے دیش کو اپنے پیچھے لگا کے لے گیا۔ اب یہ اچھا ہوا کہ برا اس پر ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر برسوں ڈبیٹ ہو سکتی ہے مگر عوام اندھے بہرے جمہوری ناٹک سے اس قدر تنگ آ چکے تھے کہ مودی چھوڑ کالا چور بھی آجاتا تو اس کے ساتھ چلے جاتے۔ اب ”اچھے دن“ آئیں نہ آئیں ان کی بلا سے۔

برطانیہ کی جمہوری اشرافیہ کو آج سے نہیں ہمیشہ سے ناز رہا کہ اس نے ایسا جمہوری میکینزم وضع کر لیا ہے جو عوام کی دھڑکنیں گننے کے لیے بہترین ہے۔ مگر بریگزٹ کے نتائج نے بیچ چوراہے میں بتا دیا کہ وہ برطانوی جمہوری نظام جس کی دنیا بھر نے فخریہ نقالی کی وہ بھی اسٹیٹس کو کے جوہڑ میں دھنس چکا ہے۔ آنکھیں ہیں مگر صرف وہی دیکھ سکتا ہے جو دیکھنا چاہتا ہے۔ کان ہیں مگر اسے اپنے سوا کوئی سنائی نہیں دیتا۔

آٹھ نومبر کو امریکا میں بھی یہی ہوا۔ ہاں یہ وہی امریکی ہیں جنہوں نے آٹھ برس پہلے بارک اوباما کو صدر بنا کے تاریخ رقم کی اور ایک بار نہیں دو بار منتخب کیا۔ مگر ان آٹھ برس میں ایسا کیا ہوا کہ یہی امریکی تین سو ساٹھ ڈگری پر گھوم گئے۔ تو کیا کروڑوں لوگ راتوں رات پاگل ہوگئے؟ ہاں یہ پاگل ہوگئے کیونکہ ماں نے بچوں کی چیخ سننے اور پھر سمجھنے کے بجائے کانوں میں روئی ٹھونس لی تھی۔ ایک آؤٹ سائیڈر آیا، مسکرایا، ہاتھ پکڑا، گلے لگایا اور لے گیا۔ اب خورد بین لے کر اسبابی دانشوری بھگارتے رہئیے۔

Close Menu