قصہ واشنگٹن ڈی سی ایئر پورٹ کا

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: امتیاز متین

یہ ان دنوں کی بات ہے جب فہیم میاں اور میں نے پہلی بار امریکہ کا سفر کیا تھا۔ فہیم میاں اپنی کم عمری اور نئی سرزمین کے سفر کی وجہ سے کچھ گھبرایا ہوا تھا۔ ہیتھرو ایئر پورٹ پر جب ہم یونائیٹڈ ایئر کی پرواز میں سوار ہوئے تو ایسا لگا کراچی میں مشہور و معروف ڈبلیو 11 منی بس میں سوا ہو گئے ہوں۔بھانت بھانت کے لوگ طیارے کی تنگ سیٹوں میں پھنسے بیٹھے تھے، کوئی جگہ خالی نہیں تھی۔ میں نے تو صورتحال کا اندازہ کرتے ہوئے پہلے ہی چادر اور تکیہ پکڑ لیا تھا کہ بعد میں ایئر ہوسٹس کہہ دے کہ ختم ہو گئے۔ اتنے میں طیارے کی سیاہ فام ایئر ہوسٹس اور سفید فام مسافر میں تو تکار شروع ہو گئی۔ مسئلہ معمولی سا تھا لیکن سفید فام مسافر اپنی اکڑ میں تھا۔ ایئر ہوسٹس کا کہنا تھا کہ مسافر اپنا بیگ کسی دوسرے خانے میں رکھے یہاں جگہ نہیں ہے لیکن مسافر کو اپنا سامان نکال کر دوسرے خانے میں رکھنے پر اپنی بے عزتی محسوس ہو رہی تھی۔ آخر کار سیاہ فام ایئر ہوسٹس نے چیخ کر کہا کہ اگر یہ خانہ بند نہ ہوا تو میں کیپٹن کو طیارہ نہیں اُڑانے دوں گی۔ اس لیے فوراً اپنا سامان یہاں سے نکال کر دوسرے خانے میں رکھو۔‘‘
یہ کھلم کھلا بے عزتی تھی۔ سفید فام مسافر غصے میں کھڑا ہوا اور زور سیٹوں پر بنے ہوئے سامان کے خانے کو بند کرنے کی دو تین بار کوشش کی لیکن ناکام اور شرمندہ ہو کر اپنا بیگ دوسرے خانے میں رکھ کر خاموشی سے بیٹھ گیا۔ مسافروں کے گھومے ہوئے چہرے سیدھے ہوگئے۔ لیکن فہیم میاں نے سہم کر کہا ’’امتیاز بھائی، ہم بڑی خطرناک جگہ جا رہے ہیں۔‘‘
ایئر پورٹ پر اترنے سے پہلے ہی دھوپ میں نظر آنے والے ایئر پورٹ کی وسعت اور مصروفیت کا اندازہ ہو رہا تھا۔ موسم اچھا تھا اس لیے ہر چیز واضح نظر آ رہی تھی۔ ٹرمنل کی طرف جاتے ہوئے دیکھا کہ عیجب طرح کی ٹیڑھی میڑھی پرانی بسیں کھڑی ہیں۔ سمجھ نہیں آیا کہ امریکی دارالحکومت کے ایئر پورٹ پر ایسی بسیں کیوں کھڑی ہیں جن کے شاکس ٹوٹے ہوئے ہیں۔
بہرحال طیارے سے نکل کر خود کو ایک کمرے میں پایا۔ جس میں کھڑکیاں بنی ہوئی تھیں۔ اپنی پاکستانی سوچ کے مطابق یہی سوچا کہ اب کوئی بس آئے گی جو ہمیں ٹرمنل تک لے جائے گی۔ لیکن کچھ دیر میں دروازہ بند ہوا اور پورا کمرا ہی مسافروں کو لے کر چل پڑا۔ تب احساس ہوا کہ طیارے کی کھڑکی سے جو ٹوٹی پھوٹی عجیب سی بسیں نظر آ رہی تھیں وہ دراصل یہی کمرے تھے جس میں سے ایک میں ہم سوار تھے۔
چلتے وقت امریکی قونصلیٹ والوں نے ہمیں ایک بند لفافہ دیا تھا کہ یہ امیگریشن کاؤنٹر پر دے دینا، اور خبردار یہ کھولنا نہیں ورنہ کھل جانے والے کسی تعویذ کی طرح اس کی تاثیر بھی زائل ہو جائے گی اور موکل پیچھے پڑ جائیں گے۔ کاریڈور میں دو تین فلائٹس کے مسافر ایک ساتھ داخل ہوتے دیکھ کر فہیم میاں پریشان ہو گیا۔ شاید اسے کراچی ایئر پورٹ کا گمان تھا کہ ایک دو میگریشن کاؤنٹر اتنے مسافروں کو کتنی فارغ کرنے میں کتنی دیر لگائیں گے لیکن امیگریشن ہال میں بیسیوں کاؤنٹرز بنے تھے جو ایک ساتھ بہت سے مسافروں کے پاسپورٹ اور ویزے چیک کر سکتے تھے۔ ہمارا خیال تھا کہ امیگریشن آفیسر جو ایک عمر رسیدہ خاتون تھیں کچھ متاثر ہو جائیں گی اور فوراً اینٹری دے دیں گی لیکن انہوں نے لفافہ اور پاسپورٹ ایک نیلے رنگ کے فولڈر میں لگا کر واپس ہاتھ میں تھماتے ہوئے ایک دروازے کی طرف اشارہ کر دیا کہ وہاں جا کر یہ فائل امیگریشن آفیسر کو دے دو۔

ہم اپنی روایتی پاکستانی سوچ کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئے کہ اس کمرے میں ہماری کچھ خصوصی عزت افزائی کا اہتمام ہوگا کہ ویزے کے ساتھ قونصلیٹ کا خط بھی لائے ہیں۔ لیکن اس ہال نما کمرے میں پہلے ہی سے ایک سو کے لگ بھگ افریقی، یورپی اور ایشیائی باشندے خصوصی توجہ ملنے کے منتظر تھے جبکہ کاؤنٹر کے تین چار چھوٹے بڑے امیگریشن آفیسر بیٹھے تھے اور دو تین فائلیں اٹھا کر لا لیجا رہے تھے۔ کاؤنٹر پر بیٹھے ہوئے ایک افسر نے ہم سے فائل لی اور رنگ برنگی فائلوں کے ایک فولڈر میں لگا دی اور ہم سے باری کے انتظار میں بیٹھنے کے لیے کہہ دیا۔ کاؤنٹر کے برابر میں ایک بڑے افسر کا چھوٹا کمرہ تھا جہاں وہ باری باری لوگوں کو بلا کر انٹرویو کرتا اور کچھ لوگوں کی دونوں ہاتھوں کی پانچوں انگلیوں کے فنگر پرنٹس بھی لے رہا تھا۔ ہالی وڈ اداکار اسٹیو مارٹن سے ملتی جلتی شکل والے اس افسر کو کسی مشکوک یا جعلی ویزا پر پہنچنے والے مسافر کو وہیں سے واپس بھیج دینے کا اختیار حاصل تھا۔ اس کا اندازہ اس وقت ہوا جب اس نے ایک بھارتی نوجوان کو اس کا پاسپورٹ واپس کرتے ہوئے کہا کہ میں تمہیں جانے دے رہا ہوں ورنہ تم یہیں سے واپس چلے جاتے۔ کیا تمہی لینے کوئی ایئر پورٹ پر آیا ہے۔ اس نوجوان نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ باہر میرا انتظار کر رہے ہوں گے۔ باری کے انتظار میں کئی گھنٹے گزر جانے کے بعد ہمارے گروپ کے کچھ لوگوں کو شبہ ہوا کہ پاکستانی ہونے کی وجہ سے ہمیں جان بوجھ کر پریشان کیا جا رہا ہے۔ شلوار قمیض میں ملبوس ہمارے ایک ساتھی مجھ سے کہا ’’تم جا کر پوچھو کہ ہماری باری کب آئے گی؟‘‘
میں اپنی نشست سے اٹھ کر اس گنجے، موٹے اور داڑھی والے گورے امیگریشن آفیسر کے پاس پہنچا جس نے ہم سے فائل وصول کر کے فولڈر میں لگائی تھی۔ اس نے فائل کا رنگ پوچھا اور کچھ فائلیں الٹ پلٹ کر دیکھنے کے بعد کہا ’’ابھی انتظار کریں۔ آپ سے پہلے آئے ہوئے لوگوں کو فارغ کر کے بلائیں گے۔‘‘
میں جہاں بیٹھا تھا وہاں کوئی افریقی فیملی آ کر بیٹھ گئی اور میں یورپی باشندوں کے ساتھ بیٹھ گیا جو گزشتہ کئی گھنٹے سے اپنی باری کے انتظار میں بیٹھے تھے۔ برابر کی نشست پر کوئی جرمن بیٹھا تھا اور اقوام متحدہ کا ملازم تھا جس کی وجہ سے اسے اکثر امریکہ آنا پڑتا تھا لیکن اس نے بیزاری سے بتایا کہ یہ لوگ ہر بار مجھے اسی طرح گھنٹوں انتظار کرواتے ہیں۔
تقریباً پانچ گھنٹے کے انتظار کے بعد جب میری باری آئی تو ہال میں بہت تھوڑے لوگ رہ گئے تھے اور امیگریشن آفیسرز بھی کام کا بوجھ کم محسوس کرکے باتیں کرنے لگے تھے۔ ہیرس نامی سیاہ فام اور لحیم شہیم افسر کو میری پاسپورٹ اور ویزا کی تصویروں اور سامنے دیکھ کر کافی فرق محسوس ہوا تھا جبکہ فائل وصول کرنے والے آفیسر نے پوچھا کہ تمہارے دوست فہیم میان، کیا صحیح ہے؟ میں کہا یہ میان نہیں میاں ہے۔ اردو میں دو طرح کے N ہوتے ہیں۔
اس نے کہا ’’اوہ، اس کا مطلب ہے مجھے اردو کی کلاسز لینا ہوں گی۔‘‘
اتنے میں کمرے کے ایک اندرونی دروازے پر دو نازک سی کاکیاں کھڑی ہوئی نظر آئیں جو کسی ایئر لائن کا ڈریس پہنے ہوئے تھیں اور ایک دوسرے کو آگے کرکے چپکے چپکے کہہ رہی تھیں ’’تو پوچھ ۔۔۔‘‘
’’نہیں نہیں، میں نہیں جاتی، تو بات کر؟‘‘
کچھ دیر کی ’’تو پوچھ ۔۔۔ میں نہیں جاتی‘‘ کی تکرار کے بعد ان دونوں میں سے جو زیادہ خوبصورت تھی وہ کسی پاکستانی لڑکی کی طرح ڈرتی جھجھکتی ہال میں داخل ہوئی اور امیگریشن آفیسر ہیرس کے پاس آ کر بولی ’’آج ویک اینڈ ہے اور اتنی رات بھی ہو چکی ہے اور ابھی ہماری ایئر لائن کا کوئی مسافر بھی یہاں موجود نہیں ہے تو کیا ہم دونوں چلی جائیں؟‘‘
ہیرس اس کاکی کی بات سن کر ہنسا اور بولا ’’میں کچھ نہیں کہتا، اپنا ذہن استعمال کرو۔ اگر تمہارا کوئی مسافر آ گیا تو پھر کیا ہوگا۔‘‘
کاکی نے قبل از وقت چھٹی ایک اور کمزور سی کوشش کی لیکن ہیرس ہنستے ہوئے کہہ رہا تھا کہ اپنا ذہن استعمال کرو۔ جس پر وہ نازنین اپنا سا منھ لے کر واپس چلی گئی۔
میں نے پوچھا ’’یہ رنگ برنگے فولڈرز کیوں ہیں؟‘‘
ہیرس نے کہا ’’فولڈرز کے یہ رنگ مختلف ویزوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کچھ لوگ ٹریننگ کورسز پر آتے ہیں اور کچھ لوگ سرکاری وزٹ پر آتے ہیں اس لیے ان کے پاسپورٹ علیحدہ علیحدہ رنگوں کے فولڈرز میں لگائے جاتے ہیں لیکن اگر کسی کا پاسپورٹ سرخ رنگ کے فولڈر میں رکھ کر بھیج دیا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ اسے یہیں سے اس کے ملک واپس بھیج دیا جائے گا۔
امیگریشن کا ٹھپہ لگتے لگتے چھ گھنٹے گزر چکے تھے۔ فہیم میاں جہاں مسافروں کی لمبی لائینیں دیکھ کر پریشان ہو رہا تھا وہ ہال سنسان پڑا تھا اور اس کے دسیوں امیگریشن کاؤنٹر خالی تھے۔ ایک شخص ہمارے سامان کے ساتھ انتظار کر رہا تھا کہ سامان ہمارے حوالے کرکے وہ بھی چھٹی پائے۔ باہر نکلے تو تاریکی تھی لیکن ایئر پورٹ کے عملے کے ایک نوجوان نے آکر اردو میں پوچھا کہ کہاں جائیں گے۔ ہم نے ہوٹل کا نام بتایا اس نے ہم پانچ افراد اور سامان کے حساب سے بڑی ٹیکسی منگوانے کا فیصلہ کیا اور وائر لیس پر اردو میں ہی ٹیکسی منگوا لی۔ اس نے بتایا واشنگٹن ڈی سی ایئر پورٹ پر بہت سے پاکستانی کام کرتے ہیں اور ہم کسی پاکستانی مسافر کو پریشان نہیں ہونے دیتے۔ اس نے امیگریشن کے بارے میں پوچھا کہ انہوں نے پریشان تو نہیں کیا۔ ہم نے کہا پریشان تو نہیں کیا لیکن اندر رش بہت زیادہ تھا اس وجہ سے دیر لگی اور وہاں اب بھی کچھ لوگ اپنی باری کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ اتنی دیر میں بڑی ٹیکسی آ گئی جس کا ڈرائیور بھی پاکستانی ہی تھا۔ جس نے بڑی شاہراہ سے سفر جاری رکھنے کے بجائے ایک شارٹ کٹ لگا کر ہمیں کم کرائے میں ہی ہوٹل تک پہنچا دیا۔

Close Menu