بریانی ۔۔۔ مغل دربار سے ڈھابے تک!

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: نیّر رُباب

ہندوستان کی تہذیب ہزاروں سال پرانی بھی ہے اور اپنے رسم و رواج کے لحاظ سے بہت مکمل بھی ہے۔ یہ ملک اپنے قدرتی وسائل کی وجہ سے ہمیشہ دوسروں کو اپنی طرف متوجہ کرتا رہا ہے، عرب تاجر سمندر اور دریائے سندھ جسے کبھی شیر دریا بھی کہا جاتا تھا، کے راستے سے یہاں تجارت کے لیے آتے۔ آریا اور منگول افغانستان کے راستے ہندوستان پر حملہ آور ہوتے اور یہاں کے مندروں کی دولت لوٹ کر واپس چلے جاتے۔۔۔ اس حوالے سے محمود غزنوی کے ہندوستان پر 17 حملے بہت مشہور ہیں۔۔۔ ہر آنے والا چاہے وہ حملہ آور بادشاہ ہو یا تاجر، ہر شخص اپنے ہندوستان میں اپنے رسم و رواج اور کھانے لے کر آتا رہا اور ہندوستان سے جاتے وقت یہاں کے رسم و رواج ، مصالحے اور کھانے ساتھ لے کر جاتا رہا۔ آج سے تقریباً پانچ سو برس پہلے تیمور لنگ کی اولادوں میں سے ایک نے ہندوستان کو اپنی ریاست بنانے کا سوچا اور اس میں کامیاب بھی ہو گیا۔۔ وہ شخص تھا ظہیر الدین بابر۔۔۔
آج لوگ چاہے مغلوں کی جتنی بھی برائیاں کریں لیکن حقیقت یہ ہے کہ مغلوں نے اس خطے کو بہت کچھ دیا بھی ہے۔ باغات، قلعے، مساجد، سڑکیں، شاعری، داستان گوئی، موسیقی، رقص اور اردو زبان کے علاوہ ایک ایسی چیز جو ہماری زندگی میں رچ بس گئی ہے اور اس مقبول ترین چیز کا نام ہے ۔۔۔ بریانی!!!!
بریانی کے نام پر حیران ہونے کی بات نہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے بریانی تیمور لنگ نے اس علاقے میں متعارف کروائی، کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ تیمور لنگ ہی بریانی کو قازقستان سے افغانستان اور پھر ہندوستان لے کر آیا تھا۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مغل خود بریانی بہت شوق سے کھاتے تھے مگر مہمانوں کو نہیں کھلاتے تھے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شاہجہاں بادشاہ کی بیوی ممتاز محل نے بریانی ایجاد کی تھی اور وہ بھی بادشاہ سلامت کے لیے نہیں بلکہ اپنے بادشاہ کی فوج کے لیے تاکہ فوجیوں کو ایک مکمل غذا فراہم کی جا سکے کیونکہ ہزاروں فوجیوں کے لیے روٹی، نان اور پراٹھے پکانا ناممکن تھا۔
مغلوں نے جہاں مختلف وزارتیں ایجاد کیں ان میں سے ایک وزارتِ مطبخ بھی تھی اور اس کا وزیر، وزیرِ مطبخ کہلاتا تھا یعنی وزیرِ باورچی خانہ جات۔ اس کا اپنا اسٹاف ہوتا تھا جس میں کئی ملکوں کے ماہر باورچی شامل ہوتے تھے اور آج کی طرح ہر کھانے کا ایک ماہر ہوتا تھا حتیٰ کہ پان لگانے کا ایکسپرٹ بھی الگ تھا، وزارتِ مطبخ کا اپنا بجٹ ہوتا تھا اور یہ اس کا وزیر براہِ راست وزیرِ اعظم کو جواب دہ ہوتا تھا۔ یہ ایک بہت ہی مشکل وزارت تھی کیونکہ اگر بادشاہ کو کھانا پسند نہ آئے تو زندان اور اگر اس کے کھانے میں سازشی نے زہر ملا دیا تو سزائے موت کا خطرہ بھی موجود رہتا تھا۔
بریانی کا لفظ فارسی کے ’’بریاں‘‘ سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے پکانے سے پہلے فرائی کرنا ۔ بریانی کی ایک شکل اگر مغل لے کر آئے تو اس کی دوسری شکل عرب لے کر آئے تھے ۔۔۔ کیونکہ وہاں بھی گوشت اور چاول کو ملا کر پکانے کا رواج تھا۔
دوسری جانب ہندوستان کے لوگ سبزی ، دال چاول الگ الگ اور یا پھر کھچڑی بنا کر کھاتے تھے۔ اسی طرح ایران ، افغانستان، قازقستان ، ترکی میں بھی گوشت اور چاول ملا کر بھی پکائے جاتے اور الگ الگ پکا کر بھی کھائے جاتے تھے۔
بریانی کی جو قسم مغل ہندوستان لائے اس پر ایرانی انداز غالب تھا، بریانی ہندوستان پہنچ کر سیاح بن گئی اور اس نے مغلوں کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں گھومنا شروع کر دیا ۔ لکھنؤ اور حیدرآباد پہنچی تو اس نے اپنا انداز بدلا اور پھر ہر علاقے اور کمیونٹی کی بریانی ان کی خواہش اور پسند کے ذائقے کے مطابق بنائی جانے لگی۔ اس وقت26 سے زیادہ انداز سے بریانی پکائی اور کھلائی جاتی ہے جیسے میمنی بریانی، سندھی مٹن بریانی، بوہری بریانی ( جو خاص شادی کے موقعے پر پکائی جاتی ہے اور جس میں بہت سارے ٹماٹر ڈالے جاتے ہیں )، کچھی بریانی ( ابلے ہوئے انڈوں اور سلاد کے ساتھ پیش کی جاتی ہے اور بنگلہ دیش میں بھی بہت مشہور ہے )کشمیری بھنے گوشت کی بریانی (جس کی خاص بات ہینگ کا بگھار ہے) کشمیری کچے گوشت کی بریانی ( جسے کہا جاتا ہے کہ یہی اصل مغلئی بریانی ہے)۔ مگر کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ لکھنوی بریانی اصلی بریانی ہے۔ بریانی ہندوستان کے علاوہ ایشیا کے اور بھی علاقوں میں پکائی جاتی ہے جیسے ایرانی بریانی کو دم پخت کہتے ہیں۔ اسی لیے وسطی ایشیا اور برما میں بریانی کو دم پخت کی طرح DANPAUK کہا جاتا ہے۔ برمی بریانی میں کاجو اور کشمش بھی ڈالے جاتے ہیں اور اسے خاص مذہبی تہواروں پر پکایا جاتا ہے۔ تھائی لینڈ کے مسلمان اپنے انداز سے بریانی پکاتے ہیں اور اسے KHAOMOK کہتے ہیں، بریانی کی کئی شکلیں ہمیں ملیشیا، سنگاپور اور فلپائن میں بھی مل جاتی ہیں۔
بریانی1856ء میں اودھ کے نواب واجد علی شاہ کے ساتھ لکھنؤ سے کلکتہ پہنچی ۔۔۔ اور نواب صاحب کے باورچیوں کی دوستی اسے عام گھروں تک لے گئی۔۔۔ جو لوگ بریانی میں ڈیڑھ گنا تو کیا برابر کا گوشت بھی نہیں ڈال پاتے تھے انہوں نے بریانی میں گوشت کے ساتھ آلو بھی ڈالنا شروع کردیے اور بریانی کے ذائقے کا ایک نیا سفر شروع ہو گیا۔
نظام حیدرآباد، دراصل مغل بادشاہ کے ریاستی گورنر ہوتے تھے پھر جب مغل کمزور پڑنے لگے تو انہوں نے اپنے علاقے کو اپنی ہی ریاست بنا لیا۔۔۔ بریانی ان کے مطبخ خانے میں پہنچی تو ایک delicacy بن گئی۔۔۔ اور اس کو پیش کرنے کے لیے مزید لوازمات کا اہتمام کیا جانے لگا ۔۔۔۔۔۔ جیسے مرچ کا سالن ، بگھارے بینگن، دہی کا رائتہ اور قیمہ بھری لقمیاں وغیرہ وغیرہ۔ حیدرآبادی کچے گوشت کی بریانی بہت لذیذ ہوتی ہے جس میں پہلے گوشت کو دہی اورمصالحے لگا کر رکھا جاتا ہے اور پھر چاولوں کے ساتھ دم پر پکایا جاتا ہے۔
بریانی سبزی کی بھی بنائی جاتی ہے اور تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ پہلی بار سبزی کی نورتن بریانی ہندو مہاجنوں کے لیے پکائی گئی کیونکہ وہ کسی قسم کا بھی گوشت نہیں کھاتے تھے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تاہری یا تہری دراصل بریانی کی ہی سادہ قسم ہے۔
شہنشاہ بابر کے بیٹے اکبر نے جب راجپوتوں میں شادی کی اور ان کے وزیروں سفیروں نے بھی ایسا کرنا شروع کیا تو مغلیہ کھانوں میں اور ان کی ترکیبوں اور مصالحوں میں بھی تبدیلی آنا شروع ہوئی اور مقامی مصالحے اور ذائقے بریانی سے لے کر قورمے، کوفتے اور پسندے تک پھیل گئے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بریانی اصل میں ہے کیا؟ ترکی کی یخنی پلاؤ کی مصالحے دار شکل اور بس؟؟؟؟
کیا اصلی بریانی وہ ہے جو قورمے اور چاول کی تہہ لگا کر پکائی جاتی ہے یا اصلی بریانی وہ ہے جو کچے گوشت پر مصالحہ لگا کر اور چاولوں کے درمیان گوشت کو دم پر رکھ کر پکائی جاتی ہے؟ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ بریانی فیوژن کوکنگ کا نتیجہ ہو اور شاہی باورچی خانے میں ہونے والے بہت سے تجربات میں سے ایک ہو!
یہاں پر پرانا سوال پھر سامنے آجاتا ہے کہ بریانی شاہی دسترخوان سے اٹھ کر ایشیا کے گلی محلے تک کیسے پہنچی اور اب تو پوری دنیا کو تسخیر کر چکی ہے۔ آج پاکستان میں بڑی سے بڑی دعوت ہو ، فائیو اسٹار ہوٹل ہو ، یا سوزوکی کیری پر بنا موبائل ڈھابہ یا ٹھیلے پر رکھی بریانی کی دیگ ہو یا کسی مزار پر بانٹا جانے والا لنگر ۔۔۔۔۔۔ ہر جگہ پر ہی لوگ بریانی بنا رہے ہیں اور بیچ رہے ہیں۔ دفتر ہو یا گھر ہو یا بازار، ہر جگہ پیٹ بھرنے کے لیے اس سے زیادہ مزیدار مکمل غذا کوئی اور نہیں۔۔۔ پلیٹ میں نکال کر کانٹے چمچے سے کھائیں یا تھیلی میں ہاتھ ڈال کر نوالہ بنائیں۔۔۔ بریانی کے ذائقے میں کوئی کمی نہیں آتی!خاص نوٹ:
بریانی کے مصالحے: گھی، زیرہ، لونگ، دارچینی، تیزپات، ہرا دھنیا، پودینہ، ادرک، لہسن، پیاز، زعفران، کالی مرچ، لال مرچ، نمک، دہی، باسمتی چاول اور گوشت ( گائے ، بکرا،مرغی، مچھلی، جھینگا)
بریانی پکاتے ہوئے دو باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے وقت اور آنچ۔
بریانی کو دہی کے رائتے، بورانی ، سلاد ، ابلے ہوئے انڈے اور قورمے کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔
Close Menu