پولیس کا ارتقا اور مستقبل کے تقاضے

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: امتیاز متین

ان دنوں سانحہ ساہیوال کا ہر طرف شور ہے جیسے یہ کوئی پہلا ہلاکت خیز جعلی پولیس مقابلہ تھا اور اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا۔ پاکستانی شہری پولیس فورس میں موجود خامیوں اور کمزوریوں کی شکایت کرتے ہیں۔ شاید پاکستان کے منصوبہ ساز بھی بہت سی وجوہات کی بنا پر پولیس کو کمتر سمجھتے ہیں لیکن اس کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ اپنی کمزوریوں اور خامیوں کے باوجود اسی پولیس نے شہری آبادیوں کا انتظام سنبھالا ہوا ہے۔ کسی دن ٹریفک پولیس چھٹی پر چلی جائے تو سب کو ان کی اہمیت کا اندازہ ہو جائے گا۔ آج پاکستانی پولیس کی جو بھی شکل ہمارے سامنے ہے یہ کوئی ایک دن کا قصہ نہیں ہے بلکہ صدیوں کے ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے۔ پولیس اور سیکورٹی کے نظام کا تذکرہ ارتھ شاستر میں بھی موجود ہے۔ مغلوں کی آمد سے پہلے بھی ہندو راجہ اور مسلمان بادشاہ سلطنت کا نظام چلا رہے تھے۔ مغل بادشاہوں نے بھی پولیس کے پرانے نظام کو بہتر بنایا تھا اور پھر انگریزوں نے ہندوستانی پولیس کو اپنی ضروریات کے مطابق منظم کیا جو 1947ء میں اپنے بنائے ہوئے پولیس اور انٹیلیجنس کے محکمے پاکستان کے حوالے کر گئے جسے مختلف حکمرانوں نے اپنی صوابدید اور ضروریات کے مطابق استعمال کیا۔
صدیوں کے اس ارتقائی عمل میں پولیس کا جبر و تشدد، بدعنوانی، جرائم چھپانے اور مظلوم کو زبردستی جھوٹا قرار دینے یا زور زبردستی اقرار کروانے کی عادت برقرار رہی ہے۔ مغلوں کے زمانے میں پولیس کا نظام گاؤں، شہر ضلع اور صوبے کی سطح پر تھا۔ مغلوں کے زمانے میں گاؤں کی سطح پر پولیس کا پرانا نظام برقرار رکھا گیا تھا جس کے تحت گاؤں کا زمیندار یا چوکی دار اپنے آدمیوں کے ذریعے علاقے میں امن و امان برقرار رکھتا تھا اور گاؤں کی سطح پر ہونے والی کسی چوری کے مال کی برآمدگی یا نقصان کا ازالہ کرنا چوکی دار اور اس کے آدمیوں کی ذمہ داری تھی۔ فوجدار کا کام صوبے میں امن و امان بحال رکھنا، بغاوتوں کو کچلنا اور شہروں کے درمیان راستوں (ہائی ویز) کو محفوظ بنانا تھا۔ انسداد جرائم و انصاف کی ذمہ داری کی وجہ سے فوجدار اور اس کے سپاہی اکثر مصروف رہتے تھے اور فوجدار کی عدالتوں سے مجرموں کو سخت سزائیں دی جاتی تھیں۔ ہائی وے پر دن دھاڑے ڈکیتی یا چوری کے مال کی برآمدگی کرنا یا نقصان کا ازالہ کرنا فوجدار کی ذمہ داری تھی۔ لیکن رات کے وقت ایسی واردات کی کوئی ذمہ داری نہیں تھی لہٰذا مغلوں کے دور میں تمام قافلوں کو سورج ڈھلنے سے پہلے سرائے میں پڑاؤ ڈالنا پڑتا تھا۔ مغلوں کی شہری پولیس کا سربراہ کوتوال ہوتا تھا جوپولیس کے ساتھ ساتھ شہری حکومت کی ذمہ داریاں بھی سنبھالتا تھا۔ یہ تمام مکانوں اور سڑکوں کا ریکارڈ رکھتا تھا۔ شہر کو حصوں میں تقسیم کیا ہوا تھا جن کا انتظام کوتوال کے نائبین سنبھالتے تھے۔ کوتوال کی اپنی انٹیلیجنس تھی جبکہ شہر میں آنے جانے والوں پر بھی نظر رکھی جاتی تھی۔ چوروں کو پکڑنا اور مال برآمد کرنا یا نقصان کا ازالہ کرنا کوتوال کی ذمہ داری تھی۔ تاہم بعض مصنفین نے لکھا ہے کہ بعض کوتوال چوری کا ازالہ کرنے کی اپنی ذمہ داری سے بچنے کا کوئی نہ کوئی راستہ نکال ہی لیتے تھے اور سائل کو اپنی شکایت واپس لینے پر مجبور کر دیتے تھے۔ کوتوال کے اختیارات بہت وسیع تھے وہ شہر کی معیشت، کاروبار، جائیداد اور حتیٰ کہ قبرستانوں کا حساب بھی رکھتا تھا اور دھوکے بازوں کو شہر بدر کر دیتا تھا۔ مختصر یہ کہ وہ اپنی حدود میں بسنے والے ہر شخص پر نظر رکھتا تھا۔ مغل عہد میں پولیس اور انصاف کے نظام کی بنیاد اسلامی اصول و قواعد تھے اور مقدموں کے فیصلے قاضی عدالتیں کیا کرتی تھیں۔
ایک طرف جب مغل سلطنت کا شیرازہ بکھرنا شروع ہوا تو دوسری طرف انگریزوں نے بنگال، مدراس اور بمبئی میں پریزیڈنسی بنائیں تو انہوں نے بھی ہندوستان میں پولیس کے مروجہ نظام سے کام چلانے کی کوشش کی لیکن جب امن و امان کے حالات زمینداروں کے قابو سے باہر ہوگئے تو 1792ء میں پولیس کا نیا نظام نافذ کرکے تھانے دار مقرر کر دیے۔ اس نظام کے تحت ضلعی سطح پر داروغہ مقرر کیے تھے جنہیں مسلح ’’برقنداز‘‘ فورس کی مدد حاصل تھی۔ داروغہ، زمینداروں کی رہنمائی کرتے تھے اور ضلعی عدالتوں کو جوابدہ تھے۔ لیکن اس کے باوجود داروغہ کا جبر و تشدد، غرور اور نا اہلی و نا لائقی کے اثرات آج تک ختم نہیں ہو سکے ہیں۔ تاہم شہروں میں کوتوالی نظام برقرار رکھا گیا تھا۔ 1843ء میں جب سندھ ایسٹ انڈیا کمپنی کی عملداری میں آیا تو سر چارلس نیپیئر نے رائل آئرش کانسٹیبلری کے طرز پر سندھ میں پولیس بنائی جو فوج سے بالکل علیحدہ اور خود مختار تھی تاہم اسے انگریز فوجی افسران ہی چلا رہے تھے۔ پولیس کا سربراہ انسپکٹر جنرل تھا اور ضلعی سطح پر سپریٹنڈنٹ تعینات کیے گئے تھے جو آئی جی پولیس اور کمپنی کے ضلعی کلکٹر (مجسٹریٹ) کو جوابدہ تھے۔ چارلس نیپیئر کا پولیس کا نظام اتنا کامیاب ہوا کہ اسے 1849ء میں پنجاب پر کمپنی کی حکومت قائم ہونے کے بعد وہاں بھی نافذ کیا گیا۔ تاہم وہاں اسے دیہی پولیس کے نظام سے علیحدہ رکھا گیا اور اس کی دو برانچیں ملٹری پولیس اور سول ڈیٹکیٹو فورس بنائی گئی تھیں۔ 1861ء کے پولیس ایکٹ کے تحت ملٹری پولیس ختم کر دی گئی اور آئی جی پولیس کی سربراہی میں ایک علیحدہ پولیس فورس قائم کی گئی۔ اس ایکٹ کے ذریعے پہلے سے موجود پولیس کے نظام میں کوئی انقلابی تبدیلیاں نہیں لائی گئی تھیں بلکہ مغلوں کے داروغہ، کوتوال اور فوجدار کے نظام کو ہی برقرار رکھا تھا۔ بس داروغہ جی سب انسپکٹر بن گئے تھے، زمیندار بھی اپنی جگہ موجود رہے اور دوسری سیکورٹی ایجنسیوں کو قانونی حیثیت دے دی گئی لیکن قانون سازی کے باوجود پولیس کے کام کے انداز میں کوئی فرق نہیں پڑا تھا جبکہ ہندوستان کی آزاد ریاستوں میں پولیس کا قدیم نظام بدستور کام کرتا رہا تھا۔
بیسویں صدی کے آغاز میں جب ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف آزادی کی تحریکیں شروع ہوئیں تو انگریز حکمرانوں نے ان تحریکوں کے خلاف پولیس کو ہی استعمال کیا۔ پولیس کو سیاسی طور پر عوام کے خلاف استعمال کرنے کی جو روایت انگریزوں نے ڈالی تھی اسے پاکستان میں برقرار رکھا گیا ۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک سو سال گزر جانے کے باوجود ہماری حکومت اور انتظامیہ کا مزاج نہیں بدلا اور نہ ہی عوامی احتجاج کا انداز بدلا ہے۔ 1919ء میں جلیانوالہ باغ کے واقعے کے بعد پنجاب میں ہونے والی بد امنی پر قابو پانے کے لیے انگریز سرکار نے جس طرح پولیس کو استعمال کیا تھا اس کے اثرات شاید اب تک پنجاب پولیس میں موجود ہیں۔ آج الیکٹرانک میڈیا میں سانحہ ساہیوال پر تقریباً ہر روز بات ہو رہی ہے۔ پنجاب حکومت ذیشان کو دہشت گردوں کا ساتھی ثابت کرنے پر پورا زور لگا رہی ہے لیکن مقتولین کے خاندان اس بات سے انکار کر رہے ہیں۔ عام خیال بھی یہی ہے کہ پولیس اور صوبائی حکومت اس واردات پر عوامی غصے کی شدت میں کمی لانے اور ملوث پولیس اہلکاروں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ صحیح ہے کہ گزشتہ سترہ برس کے دوران سیکورٹی سے متعلق خیالات اور نظریات و تصورات میں تبدیلی آئی ہے، لیکن اس کے باوجود پولیس میں سیاسی بھرتیوں، سیاسی مداخلت اور مبینہ بدعنوانیوں، مفت خوریوں اور سڑکوں پر سو پچاس روپے کی وصولیوں کی وجہ سے بہت سے پولیس اہلکار بے اختیار اور غیر فعال ہو چکے ہیں۔ ایسے حالات میں پولیس فورس کی تنظیم نو، جدید تربیت، سپاہ کی سوچ، کام کرنے کے انداز میں تبدیلی اور جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی ضروت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انٹیلیجنس رپورٹس کی بنیاد پر چھانٹیوں اور کچھ پولیس اہلکاروں کو سرپلس پول میں بھیجنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں ہونے والی افرادی قوت کی کمی کو نئی بھرتیوں اور دوسرے سیکورٹی اداروں کے تربیت یافتہ افراد سے پورا کیا جا سکتا ہے۔
پولیس کا بنیادی کام شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا اور ان میں اپنا اعتماد برقرار رکھنا ہے لیکن ہمارا پولیس کا ڈھانچہ ایسا ہے پولیس اور اہل علاقہ عام طور پر ایک دوسرے سے ناواقف اور شاکی ہی رہتے ہیں حالانکہ سب جانتے ہیں کہ عوام کے تعاون کے بغیر پولیس جرائم اور بدامنی پر قابو نہیں پا سکتی لیکن منصوبہ ساز پھر بھی مقامی پولیس کے تصور کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ پاکستان میں سیکورٹی کے تقاضے تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اور ایک جدید پولیس فورس بنانے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھی پولیس کا عوام سے رابطہ مضبوط بنایا جاسکتا ہے جبکہ ڈجیٹل ٹیکنالوجی سے ہی پولیس کو مجرموں تک پہنچنے میں مدد مل رہی ہے۔ اگر پولیس اور عدل کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کچھ نہ کیا گیا تو پاکستان میں تمام تر دعووں کے باوجود پاکستان کے اندر امن و امان کے مسئلے بار بار سر اٹھاتے رہیں گے۔
Close Menu