تہران

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: امتیاز متین

ایران اور پاکستان کے تاریخی اور ثقافتی روابط کی داستان صدیوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ انقلاب ایران کے بعد ایران پر لگنے والی معاشی پابندیوں کے باعث تجارتی تعلقات میں تھوڑی کمی آئی ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان سے ایران جانے والوں کی تعداد میں کمی نہیں آئی ہے۔ مغربی میڈیا میں ایران کے بارے میں جو بھی پروپیگنڈا ہوتا ہے اس کا اثر تہران پہنچ کر زائل ہو جاتا ہے۔
اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انقلاب ایران سے پہلے ایرانی اس خطے کے سب سے ماڈرن اور فیشن ایبل لوگ تھے، انقلاب ایران کے بعد بھی ان کے نجی طرز زندگی میں کوئی خاص تبدیلیاں رونما نہیں ہوئی تھیں بس ان کا فرانسیسی و اطالوی طرز کا فیشن سخت پردے میں چلا گیا تھا۔آج تہران میں چادر اوڑھنے والی خواتین کم ہی نظر آتی ہیں بلکہ جینز اور ٹی شرٹ کے ساتھ کوٹ یا جیکٹ خواتین کا عام پہناوا بن چکا ہے جبکہ اسکارف بھی سر پر پیچھے کی طرف کھسک چکے ہیں اور پیچ دار رنگ برنگی زلفیں شانوں پر پھیلی ہوئی نظر آ جاتی ہیں۔ ویسے بھی تہران کی اشرافیہ جن علاقوں میں بستی ہے وہاں فیشن کی پابندیوں کی کبھی زیادہ پرواہ نہیں کی گئی۔
تہران ایئر پورٹ اور مسافر
ایران کے دارالحکومت تہران کے دو ایئر پورٹ ہیں۔ بین الاقوامی پروازں کے لیے شہر سے باہر ایک نیا ’’امام خمینی ایئر پورٹ‘‘ بنایا گیا ہے جو امام خمینی کے مزار کے قریب ہے۔ بعض ایرانیوں کا خیال ہے کہ ملک کے حاکم مولویوں نے اپنی آسانی کے لیے یہ ایئرپورٹ امام خمینی کے مزار کے قریب بنوایا ہے تاکہ مزار تک آسانی سے پہنچ جائیں۔ تہران میں گھومتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ لوگ عام طور پر حکومت کے خلاف اس طرح کوئی بات نہیں کرتے جس طرح ہمارے ہاں کھل کر بات کی جاتی ہے۔ البتہ ان غیر ملکیوں کے سامنے اپنے دل کی باتیں کہہ دیتے ہیں جن کے بارے میں انھیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی باتیں کسی جاسوس ادارے کے اہلکاروں تک نہیں پہنچیں گی۔
امام خمینی ائیر پورٹ، دبئی ایئر پورٹ کے طرز پر تعمیر کیا گیا ہے اور شاید اتنا ہی وسیع بھی ہے۔ دبئی سے تہران کی جانب پرواز کے دوران یہ بات مشاہدے میں آئی کہ تہران ایئر پورٹ پر اترنے سے پہلے تمام خواتین نے اسکارف اور کوٹ پہن لیے جو انھوں نے اپنے بیگوں میں رکھے ہوئے تھے، اسی طرح تہران سے دبئی واپس جاتے ہوئے طیارہ جیسے ہی ایران کی حدود سے باہر نکلا تو طیارے میں موجود عموماً خواتین نے اپنے اسکارف اور کوٹ اتار کر رکھ دیے اور دبئی ایئر پورٹ پر اترنے سے پہلے میک اپ کرکے تیار ہو گئیں۔ یہ ایک معمول کی بات ہے جو ایران کی پروازوں میں عام طور پر دیکھی جاتی ہے ۔ ایران میں انگریزی بولنے اور سمجھنے والے لوگ کم ہی ملتے ہیں لیکن اگر آپ کی اردو اچھی ہے تو آپ جلد ہی فارسی سمجھنے لگتے ہیں، اور اگر کوشش کریں تو اپنی ضرورت کی فارسی بولنے بھی لگتے ہیں۔
جمالیاتی ذوق

تہران اسی لاکھ سے زیادہ آبادی والا شہرہے۔ یہاں سردیوں میں برفباری بھی ہوتی ہے۔ شہر کے ایک جانب بلند و بالا پہاڑ ہیں جس کی چوٹیاں موسم گرما آنے تک برف سے ڈھکی رہتی ہیں۔ یہاں چاروں موسم اپنا بھرپور رنگ دکھاتے ہیں۔ تہران کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہاں پہاڑی چشموں اور ندیوں کا شفاف پانی شہر بھر میں بنی چھوٹی چھوٹی نہروں میں بہتا ہے۔ خاص طور پر تہران کے امراء کے علاقوں میں ایسی نہریں تقریباً ہر گلی میں موجود ہیں جبکہ شہر بھر کے پارکوں اور شاہراہوں کے ساتھ گرین بیلٹس پہاڑی ندیوں کے پانی سے سیراب ہوتی ہے۔ اسی پانی کو روک کر شہر کے مختلف پارکوں میں جھیلیں بنا دی گئی ہیں۔
تہران کی سڑکوں پر گھومتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ ایرانیوں کا جمالیاتی ذوق اچھا ہے۔بہت سی عمارتوں کی سادہ دیواروں کو خوبصورت پینٹنگز سے سجا دیا گیا ہے۔ تہران میں گھومتے پھرتے ہوئے باغات میں اور چوراہوں پر مختلف قسم کے مجسمے لگے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں تہران کا ایک سرکاری ادارہ تہران کو دنیا کا خوبصورت ترین شہروں میں شامل کرانے کے لیے کام کر رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسلامی انقلاب کے باوجود شہر میں لگے ہوئے قدیم مجسموں کو توڑ کر نہیں پھینکا گیا، بلکہ آج بھی شہر میں مختلف اقسام کے مجسمے نصب کروانے کا سلسلہ جاری ہے۔ مجسمہ سازی کے فن سے دلچسپی کا ہی نتیجہ ہے کہ تہران سے باہر پہاڑی علاقے میں ’’جمشیدیہ پارک‘‘ میں پہاڑی چٹانوں اور پتھروں کو اسطرح تراشا اور ترتیب دیا گیا ہے کہ وہ کسی جاندار کی شبیہہ لگنے لگے ہیں۔
صاف ستھرا شہر
دنیا کے دوسرے شہروں کی طرح تہران کی آبادی اور وسعت میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ 90ء کے اوائل میں جو علاقے غیر آباد تھے اب وہ شہر کے گنجان آباد علاقوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ صفائی ستھرائی کا یہ عالم ہے کہ تہران کی سڑکوں پر گھومتے ہوئے نظریں بے ساختہ کسی کچرے کے ڈھیر یا پولی تھین کی کسی تھیلی کو ڈھونڈتی رہتی ہیں لیکن ہر بار مایوسی ہی ہوتی ہے۔
اسی طرح کراچی کے بے ہنگم ٹریفک سے نکل کر تہران پہنچنے کے بعد اس بات پر بھی حیرت ہوتی ہے کہ لوگ ٹریفک قوانین کی پابندی کر رہے ہیں۔ شاہراہوں پر ٹریفک کا دباؤ بہت زیادہ ہے لیکن اس کے باوجود لوگ صبر سے اپنی اپنی قطاروں اور اپنی سڑکوں پر رہتے ہیں اور کسی بھی ڈرائیور کو مخالف سمت والی سڑک پر چل پڑنے کا خیال تک نہیں آتا حالانکہ نہ وہاں کوئی پولیس کے ناکے ہیں اور نہ ہی ٹریفک پولیس کے اہلکار۔۔۔ بس کیمرے کی آنکھیں سڑکوں پر گزرنے والے ٹریفک کو دیکھ رہی ہوتی ہیں۔ تہران کے ٹریفک وغیرہ کی نگرانی تہران ڈزاسٹر مینجمٹ کا ادارہ کرتا ہے جس کے پاس شہر کی نگرانی کرنے کا انتہائی جدید نظام موجود ہے۔
اسی طرح تہران میں ہلال احمر کو جوسہولتیں فراہم کی گئی ہیں وہ پاکستان میں کسی امدادی ادارے کے پاس موجود نہیں ہیں۔ تہران میں ہلال احمر کا اپنا ائیر پورٹ ہے جہاں ہیلی کاپٹروں اور طیاروں کے علاوہ دوسری امدادی گاڑیاں، ٹرک اور دوسری مشینیں موجود ہیں۔ حتیٰ کہ ان کے پاس ایسے ٹرک بھی موجود ہیں جو براہ راست ٹی وی نشریات پیش کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں بھی ڈزاسٹر مینجمنٹ کا ادارہ موجود ہے لیکن ہر آفت میں فوج کو بلایا جاتا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی سرحدیں تو ایران سے بھی ملی ہوئی ہیں اور ہمارے ایران سے تاریخی روابط بھی ہیں لیکن ایرانی ثقافت کے اثرات پاکستانیوں پر کیوں نہیں پڑے اور ہم نے لاقانونیت ، زمینوں پر قبضوں اور دیگر جرائم میں کی پیروی میں بھارت کے اثرات کیوں زیادہ قبول کیے ہیں؟
قدیم بازار

اگر ہم یہ کہیں کہ ایرانی روایت پسند ہیں تو شاید نہیں، انھوں نے اپنا روایتی لباس تک ترک کرکے مغربی لباس اپنا لیا ہے۔ ہاں اگر ہم یہ کہیں کہ وہ اپنی میراث کی قدر کرتے ہیں تو یہ غلط نہیں ہوگا۔ ایرانیوں نے اپنے تاریخی اور ثقافتی ورثے کی حفاظت کی ہے اور ہم اس معاملے میں بھی کافی حد تک ناکام رہے ہیں۔ تہران کی ایک قدیم عمارت ’’کارواں سرائے‘‘ ایک ایسی جگہ ہے جو آج بھی تہران کا ایک اہم سیاحتی مرکز تصویر کی جاتی ہے۔ کسی زمانے میں یہاں تجارتی قافلے آکر ٹھہرا کرتے تھے لیکن اب یہ ایک بازار بن چکا ہے۔ جہاں رہنے کے کمروں میں دکانیں کھل چکی ہیں۔ اسی جگہ ایک ریستوران کھولا گیا ہے جس میں غیر ملکی سیاح اور ایرانی اشرافیہ کے لوگ کھانا کھانے آتے ہیں۔ لیکن عام طور پر تہران کے لوگ اس بات سے ناواقف ہیں کہ کارواں سرائے میں کوئی اچھا ہوٹل بھی ہے جہاں ایران کے روایتی کھانے ملتے ہیں۔اس ہوٹل کے مرکزی دروازے پر ’’ریستورانِ سنتی‘‘ لکھا ہوا ہے، جس کو پڑھ کر یہ لگتا ہے یہاں زمین پر قالین اور دسترخوان بچھے ہوں گے اور بڑی بڑی قابوں میں کھانا پیش کیا جائے گالیکن اگر کسی ریستوران پر ’’سنتی‘‘ لکھا ہو تو سمجھ لیں کہ یہاں ایران کے روایتی کھانے ملتے ہیں۔ لیکن اندر کا ماحول اچھا ہے اور میز کرسیاں بچھی ہیں۔ مرکزی ہاں میں چھوٹے چھوٹے حوض بنے ہیں جن میں فوراے چلتے ہیں۔ یہ ایران کا روایتی انداز ہے کہ مکانوں کے صحن یا بڑے ہال میں فوارے والا چھوٹا حوض بنایا جاتا ہے ۔ ایران میں خیال کیا جاتا ہے کہ ایسا حوض بنانے سے گھر میں ٹھنڈک کا احساس رہتا ہے۔ کارواں سرائے کے داخلی دروازے اتنے بڑے ہیں کہ ایک بڑی بس آرام سے اندر داخل ہو کرعمارت کے درمیان میں بنے پختہ صحن کے کسی گوشے میں کھڑی کی جا سکتی ہیں۔ کراچی کی تاریخ بتاتی ہے کہ سندھ مدرسہ کی عمارت بھی پہلے کارواں سرائے کے طور پر استعمال کی جاتی تھی جسے بعد میں اسکول میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔
ایرانی کھانے

عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ ایرانی کھانے زیادہ مزیدار نہیں ہوتے لیکن ایران کے روایتی کھانے بہت لذیذ ہوتے ہیں۔ خاص طور پر آب گُوشت (دیزی)، زرشک پُلو (پلاؤ)، چُلو کباب، شیریں پُلو (پلاؤ)، دال، گوشت گندم اور بینگن کا سوپ، افغانی پُلو (پلاؤ)، دوغ (پودینے کی لسی)، شربت آلبالو، شربت انناس لوگ زیادہ پسند کرتے ہیں۔ دیگر مشروبات کے علاوہ تہرانی ’’آبِ جو‘‘ بہت زیادہ پیتے ہیں۔ایرانیوں کو پھل چھیلنے اورکاٹنے کا خوب سلیقہ ہے اور یہاں ہر موسم کے پھلوں کا خوب لطف اٹھایا جاتا ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ تہران میں پھلوں کی دکانوں پر کھیرا بھی رکھا ہوا نظر آتا ہے ۔ جسے ہم اسے سبزی سمجھ کر کھاتے ہیں لیکن ایران میں اسے پھل سمجھاجاتا ہے۔
بازار اور ریستوران
پرانے شہر میں ’’بازارِ بزرگ‘‘ بہت مشہور جگہ ہے۔ یہاں اصل بازار تو ایک قدیم عمارت میں بنایا گیا تھا جس کے دروازے مختلف گلیوں میں کھلتے ہیں۔ ہر گلی ایک مخصوص قسم کی اشیا کے لیے مخصوص ہے، یعنی ایک گلی میں ہاتھ کے بنے ہوئے ریشمی قالین فروخت ہوتے ہیں اور دوسری گلی میں ایران کی دستکاریاں فروخت ہوتی ہیں اور ایک گلی میں اجناس اور میوے وغیرہ فروخت کیے جاتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ جیسے کراچی اور لاہور کے قدیم بازار ایک دوسرے سے مل گئے ہیں اسی طرح ’’بازارِ بزرگ‘‘ کے قرب و جوار کے علاقوں میں بن جانے والے بازار بھی ایک دوسرے سے مل گئے ہیں۔
خیابانِ ولی عصراور خیابانِ گاندھی کے ریستوران اور بازار تہران میں خاصے مشہور ہیں۔ یہ دونوں سڑکیں ’’پلِ طبیعت ‘‘کے نزدیک ہیں۔ اس علاقے کو کراچی ڈیفنس اور کلفٹن کے علاقے کی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔ خیابان گاندھی پر پہلے بھی جو دکانیں تھیں وہاں پہلے بھی انٹرنیشنل برانڈ کے کپڑے اور چیزیں ملا کرتی تھیں اور اب اس علاقے میں ایک سے ایک ریستوران موجود ہیں جہاں تہران کے امراء کے کھانا کھانے آتے ہیں جبکہ فیشن کے معاملے میں یہاں آنے والے ایران کی اخلاقی پولیس کی زیادہ پرواہ نہیں کرتے۔
اسی طرح ’’در بند‘‘ کے علاقے میں پہاڑی ندیوں کے بہتے یخ بستہ پشفاف پانی کے تالابوں اور چھوٹی چھوٹی آبشاروں کے ساتھ کئی ریستوران بنائے گئے ہیں۔ یہاں ایسے بھی ریستوران ہیں جہاں لوگوں کے بیٹھنے کے لیے گھنے درختوں کی چھاؤں میں قالین اور ریشمی تکیوں سے مزین تخت بچھائے گئے ہیں۔ ٹھنڈے پانی کے چشمے کے ساتھ گرما گرم کھانوں کے لطف کا اندازہ وہاں بیٹھ کر ہی کیا جا سکتا ہے۔
باغات کا شہر

قدیم تہران تو ایک گنجان آباد علاقہ ہے لیکن وہاں بھی باغیچے موجود ہیں لیکن نئے تہران جگہ جگہ باغات بنانے پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ بعض علاقے تو ایسے ہیں جن میں ایک بڑے باغ کے پیچھے دوسرا بڑا باغ ہوتا ہے اوراس کے پیچھے تیسر بڑا پارک جبکہ ان بڑے باغات کے آس پاس کی آبادیوں میں بھی باغات ہوتے ہیں۔ باغات کے ان سلسلوں کے بارے میں بلامبالغہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ کئی کئی کلو میٹر کے رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ تہران کے نواحی علاقوں میں جانوروں اور پرندوں کے باغات بھی بنائے گئے ہیں جو کئی مربع میل رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔
حالیہ برسوں میں ایران میں جو نمایاں تعمیرات ہوئی ہیں ان میں ایک لوہے کا پل ہے جو صرف پیدل چلنے والوں کے لیے بنایا گیا ہے جس پر چل کر وہ ایکسپریس وے کے دونوں جانب بہت بڑے بڑے باغات کی سیر کرنے جا سکتے ہیں۔ اس پل کا نام ’’پل طبیعت‘‘ ہے۔ چونکہ فارسی میں طبیعت کا مطلب "Nature” سے لیا جاتا ہے اور اس پل پر چہل قدمی کرکے آپ قدرت کے نظاروں کو قریب سے دیکھ سکتے ہیں۔ رات کے وقت اس پل کی روشنیاں ایک خوبصورت منظر پیش کرتی ہیں۔
ان باغات میں شام کے اوقات میں اکثر نوجوان جوڑے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے گھومتے ہوئے نظر آتے ہیں یا کسی بنچ پر کوئی کسی کے کندھے پر سر رکھے بیٹھی ہوتی ہے، بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ نوجوان جوڑے کے قریب پرام میں ایک چھوٹا بچہ بیٹھا ہوتا ہے یا قریب میں بچے کھیل رہے ہوتے ہیں اور دیکھنے والے سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی نیا شادی شدہ جوڑا ہے لیکن کچھ دیر بعد ایسا ہوتا ہے کہ لڑکی پرام یا چھوٹے بچوں کو لے کر اپنے راستے پر چلی جاتی ہے اور لڑکا اپنے راستے پر چلا جاتا ہے تب آپ کو احساس ہوتا ہے کہ یہ خوبرو حسینہ اپنی بہن یا اس کے بچوں کو لے کر پارک میں ملنے آئی تھی۔
یوں بھی ایران میں ایک شخص کے کئی کئی شادیاں کرنے کا رواج عام ہے۔ مرد اور عورتیں دونوں ہی کئی کئی شادیاں کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ خواتین اپنے شناختی کارڈاور کاغذات وغیرہ میں شوہروں کے بجائے والد کا نام برقرار رکھنے کو ترجیح دیتی ہیں کیونکہ وہ یہ سمجھتی ہیں کہ شوہر کا نام تو تبدیل ہو سکتا ہے لیکن والد کا نام توہمیشہ ایک ہی رہے گا۔ دوسرے یہ کہ ایران میں مطع کا رواج بھی ہے اور اگر کوئی شخص چھ آٹھ مہینے کے لیے دوسرے شہر میں جا رہا ہو تو وہ اس عرصے کے لیے وہاں کی کسی عورت سے مطع کر سکتا ہے۔
ایران کے لوگوں کو باغات کی ضرورت اس لیے بھی زیادہ محسوس ہوتی ہے کہ وہ چھٹی والے دن عموماً پکنک منانا پسند کرتے ہیں اور اس کے لیے وہ باغات میں اپنے ساتھ کھانے پینے کا سامان لے جاتے ہیں۔ جشن نو روزکے موقع پر تو خاص طور پرہر کوئی گھر سے باہر نکلتا ہے اور یہ کوئی ضروری نہیں ہے کہ وہ باغات میں ہی جائیں وہ کسی سڑک کے کنارے کسی اچھی سی جگہ پر بھی چادر بچھا کر بیٹھ سکتے ہیں۔ مختلف خاندان قریب قریب چادریں بچھا کربیٹھے ہوتے ہیں لیکن اس کو معیوب نہیں سمجھا جاتا۔
محلات اور عجائب گھر

طالغانی پارک کی پچھلی سڑک کے پار ’’باغ مورہ دفاعِ مقدس‘‘ یعنی "Holy Defency Museum” ہے۔ یہاں مختلف قسم کے ہتھیار نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔ اس عجائب گھر کے پیچھے بھی ایک وسیع و عریض پارک ہے جو ’’باغ کتاب‘‘ اور ’’کتابخانہ ملّی‘‘ سے منسلک ہے۔ اس لحاظ سے ایرانیوں کا طرز تعمیر ہمیں اپنے طرز تعمیر سے مختلف اس طرح نظر آتا ہے کہ وہاں باغات کا ایک سلسلہ بنایا گیا ہے جبکہ بہت سے سرکاری اداروں کی عمارتیں بھی بڑے بڑے باغات کے ساتھ تعمیر کی گئی ہیں۔
تہران میں ایسے محلات ہیں جنھیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ کیونکہ ہم نے جو محلات دیکھے ہیں وہ سیکڑوں برس پہلے بادشاہوں کے زیر استعمال ہوا کرتے تھے اس کے بعد یہ آہستہ آہستہ کھنڈر بن گئے۔ ہم لاہور قلعے کے ایک چھوٹے سے شیش محل پر کو حیرت سے تکتے ہیں کہ مغلوں نے کیا چیز بنائی ہے لیکن پرانے تہران وسط میں امام خمینی اسکوائر کے نزدیک ’’کاخِ گلستان‘‘ یا ’’گلستان پیلس کمپلیکس‘‘میں بنے ہوئے شیش محل کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ یہ ایک ایسی جگہ ہے کہ جس کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان محلات کو دیکھے بغیر تہران کا سفر ادھورا رہ گیا۔ کاخِ گلستان میں 10 محلات اور ان کے گرد باغات ہیں۔ یہاں صبح ہی سے سیاحوں کی بھیڑ لگ جاتی ہے اور کمپلیکس کے ہر محل کو دیکھنے کے لیے علیحدہ ٹکٹ خریدنا پڑتے ہیں لیکن اندر پہنچ کر احساس ہوتا ہے کہ علیحدہ علیحدہ ٹکٹ خرید کر کوئی غلطی نہیں کی۔
ان محلات کے بہترین حالت میں ہونے کی دو وجوہات سمجھ میں آتی ہیں کہ پہلی وجہ یہ ہے کہ یہ محلات سولہویں صدی سے لے کر 1979ء تک خاندان صفوایاں، خاندان زند، خاندان قجر، خاندان پہلوی کے بادشاہوں کے دور میں تعمیر کیے گئے اور ان کے استعمال میں رہے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے ایران ایسٹ انڈیا کمپنی کی دست برد سے محفوظ رہا ہے اس لیے یہاں جوکچھ بنا وہاپنی اصل حالت میں ہے۔ انقلاب ایران تک گلستان پیلس کے یہ محلات شاہی مہمان خانے کے طور پر استعمال ہوتے رہے تھے۔ انقلاب کے بعد ان محلات کو تباہ و برباد کرنے کے بجائے ایران کے ثقافتی ورثہ قرار دے کر عجائب گھر کے طور پر عوام کے لیے کھول دیا گیا۔
کاخِ گلستان کی تاریخ چار سو سال پرانی ہے۔ جب خاندانِِ صفوایاں اوّل (1524ء تا 1576ء) نے تہران کو اپنا دارالخلافہ بنایا تو ان محلات کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ اس کی اہمیت اس وجہ سے بھی ہے کہ مغل بادشاہ ہمایوں کو شیر شاہ سوری کے ہاتھوں ہندوستان میں شکست ہوئی تو ہمایوں نے شاہ تھماسب کے دربار میں پہنچ کر مدد کی درخواست کی اور بدلے میں شیعت قبول کرنے کے ساتھ ساتھ قندھار کو صفوایاں سلطنت کا حصہ بنا دیا تھا۔
تہران کا ایک اور مشہور محل ’’کاخِ سعد آباد‘‘ ہے۔ یہ محل پہوی خاندان نے تعمیر کروایا تھا اور رضا شاہ پہلوی بھی اسی محل میں رہا کرتے تھے۔ انقلاب ایران کے بعد اس محل کو بھی عجائب گھر بنا دیا گیا۔ اسے لوگ جائے عبرت بھی کہتے ہیں ۔ سعد آباد پیلس کی ہر چیز اسی طرح محفوظ رکھی گئی ہے جس طرح شہنشاہ ایران کے دور میں ہوا کرتی تھی۔ محل کے مختلف ہال اور کمروں میں شیشے کی دیواریں کھڑی کر دی گئی ہیں جس کے پیچھے سے کھڑے ہوکر محل کی آرائش اور زیبائش کو دیکھا جا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ بعض کمروں میں وہ قیمتی ملبوسات بھی نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں جو ملکہ فرح دیبا کے استعمال میں تھے لیکن ایران سے فرار ہوتے وقت انھیں یہ تمام سامان آسائش چھوڑ کر جانا پڑا تھا۔
تہران کے شمالی حصے میں ایک اور محل ہے جسے ’’کاخِ نیاوران‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس محلاتی کمپلیکس میں بھی کئی عمارتیں ہیں جنھیں عجائب گھر کے طور پر عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ ان محلات کو بھی شاہ ایران نے اپنی رہائش گاہ کے طور پر استعمال کیا کرتے تھے۔ ’’کوشکِ احمد شاہی‘‘ خاص طور پر سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنتا ہے جسے رضا شاہ پہلوی نے قدیم محل کو دوبارہ آراستہ کروایا تھا۔
تہران کا ایک عجائب گھر خاص طور پر سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنتا ہے۔ جواہرات کا یہ عجائب گھر ایرانی سینٹرل بینک کے زیر انتظام ہے ۔ اس عجائب گھر میں ایران کے قدیم اور جدید شاہی زیورات نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔ اس عجائب گھر میں صفوی بادشاہوں سے لے کر پہلوی خاندان تک کے مختلف ادوار کے بادشاہوں اور شاہی خاندان کے کے دیگر افراد کے زیر استعمال رہنے والے تاج ، زیورات، جواہرات اور دوسرے قیمتی نوادرات نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔ اس عجائب گھر میں وہ نوادرات بھی ہیں جو نادر شاہ ہندوستان سے اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ اس کے علاوہ تہران میں میوزک میوزیم اور سینما میوزیم بھی موجود ہیں جو فنون لطیفہ سے دلچسپی رکھنے والوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔
مزار اور زیارتیں

تہران میں بزرگان دین کے مزارات اور قیام گاہیں بھی موجود ہیں۔ گلستان پیلس کے نزدیک ہی امام زادہ صالحؒ کا مزار ہے۔ اس مزار کو تہران میں وہی حیثیت حاصل ہے جو لاہور میں داتا گنج بخشؒ کے مزار کو حاصل ہے۔ اس کے علاوہ تہران کا دوسرا اہم مزار امام زادہ قاسمؒ بن امام حسنؓ کا مزار ہے۔ تہران کا تیسرا اہم مزار شاہ عبدالعظیم ؒ کا مزار ہے، جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ حضرت عبداللہ شاہ غازی ؒ کے صاحبزادے تھے جن کا مزار کراچی میں ہے۔ اسی مزار کے احاطے میں امام زادہ طاہرؒ اور امام زادہ حمزہ ؒ کی بھی قبریں ہیں۔ اس کے علاوہ تہران میں کئی ایسے مقامات پردرس گاہیں اور مساجد قائم ہیں جہاں بزرگان دین نے قیام فرمایا، یا ان مقامات پر تبلیغ دین میں مصروف رہے۔
قدیم فنون کا تحفظ
تہران میں گھومتے ہوئے آپ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ جو فنون پاکستان میں دم توڑ چکے ہیں وہ ایران میں اب بھی زندہ ہیں۔ خاص طور پر قدیم عمارتوں کی دیکھ بھال جس انداز سے کی جا رہی ہے اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ جس انداز کی مغلیہ دور میں کی جاتی تھیں وہاں اب بھی ویسی ہی تعمیرات کی جاتی ہیں۔ خاص طور پر امام زادہ صالح کے مزار اور ایسی ہی دوسری قدیم عمارتوں کی آرائش کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ قدیم فن تعمیر کو ایران میں ابھی تک سنبھا ل کر رکھا گیا ہے۔
اسی طرح ایران میں فن خطاطی کی بھی بھر پور سرپرستی کی گئی ہے۔ پاکستان میں فن خطاطی سے لوگوں نے قطع تعلق کرکے سارا الزام کمپیوٹر پر ڈال دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ایران میں فارسی کمپیوٹر اور فارسی ٹائپ رائٹر کا استعمال بہت پہلے شروع کر دیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود ایرانی اشرافیہ نے فن خطاطی سے کبھی کنارہ کشی اختیار نہیں کی۔ خطاط اساتذہ کی شہرت اور عزت میں کمپیوٹر کے عام استعمال کے باوجود کوئی کمی نہیں آئی جبکہ ایران کے امراء خطاطی کرنے کو آج بھی باعث فخر سمجھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ تہران میں کئی ایسی بڑی دکانیں موجود ہیں جہاں خطاطی کا سامان اور خطاطی سے متعلق کتابیں فروخت کی جاتی ہیں۔
ایرانی سینما اور تھیٹر
جن دنوں پاکستانی فلم انڈسٹری اپنی تباہی کی ذمہ داری سینسر بورڈ پر عائد کرتے ہوئے بھارت کی پیروی میں مزید بیہودگی کی اجازت طلب کر رہی تھی انہی دنوں ایرانی فلموں کو سخت سینسر پالیسی کے باوجود بین الاقوامی فلمی میلوں ایوارڈز مل رہے تھے۔ بھارت کی نقل کرنے میں پاکستانی فلم انڈسٹری تباہ ہوئی اور اب بھی جو فلمیں پاکستان میں بننا شروع ہوئی ہیں ان پر بھی بھارتی اثرات واضح نظر آ رہے ہیں۔ معلوم نہیں کیوں پاکستانیوں نے ایرانی ٹیلی وژن اور ایرانی سینما پر توجہ نہیں دی۔ حالانکہ ایرانی ڈرامے بھی اردو میں ترجمہ کرکے ٹی وی چینلز پر چلائے جا سکتے ہیں۔ تہران میں سینما خاصا مقبول ہے اور وہاں کم از کم نو دس سینما ایسے ہیں جن میں جاکر کوئی فلم دیکھی جا سکتی ہے۔
تہران کا ایک اور مشہور مقام سٹی تھیٹر ہال ہے۔ یہ تھیٹر ہال 60ء کی دھائی میں بنایا گیا تھا جس میں چار بڑے ہال ہیں۔ اسلامی انقلاب کے بعد بھی اس تھیٹر میں ہونے والی فنی سرگرمیاں ختم نہیں ہوئیں اور نہ ہی یہاں تھیٹر دیکھنے آنے والوں کی تعداد میں کوئی کمی ہوئی ہے اور اس تھیٹر کے معاملات ایران کی وزارتِ ثقافت و ارشاد اسلامی کے تحت چلائے جاتے ہیں۔
برج آزادی اور میلاد ٹاور

تہران کا پرانا مہر آباد ایئر پورٹ اب اندرون ملک پروازوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ایئر پورٹ اب آبادی کے درمیان میں آ چکا ہے۔ ایئر پورٹ باہر نکل کر شہر کی طرف سفر کرتے ہوئے سب سے پہلے جو یادگار عمارت سامنے آتی ہے وہ ’’برج آزادی‘‘ ہے۔ یہ عظیم الشان دروازہ دراصل شہنشاہ ایران نے شہنشاہیت کے ڈھائی ہزار سالہ جشن کے موقع پر ’’برج شھیاد‘‘ کے نام سے تعمیر کروایا گیا تھا تاہم انقلاب کے بعد اس کا نام تبدیل کرکے ’’برج آزادی‘‘ رکھ دیا گیا۔ کیونکہ جب شہنشاہ ایران کے خلاف مہم چلی تو اسی مقام پر بڑے بڑے اجتماعات اور احتجاجی مظاہرے منعقد ہوا کرتے تھے۔ اس ٹاور کے چاروں طرف ایک بہت بڑا باغ ہے جس میں بنے حوضوں میں فوارے چلتے رہتے ہیں جبکہ اس ٹاور کے نیچے عجائب گھر بھی ہے۔ برج آزادی کے ساتھ ہی بڑے بڑے بس ٹرمینل اور گاڑیوں کی پارکنگ کے پلاٹ ہیں۔ برج آزادی کی جانب آنے والی ایک شاہراہ پر ’’بزرگ راہ جناح‘‘ لکھا ہوا دیکھ کر ہر پاکستانی کو مسرت ہوتی ہے۔
میلاد ٹاور تہران کی ایک نمایاں عمارت ہے۔ اس عمارت کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ پاکستان ابھی ترقی کی دوڑ میں ایران سے کافی پیچھے رہ گیا ہے۔ میلاد ٹاور کے ڈیزائن کی عمارت کوالالمپور میں تعمیر کی گئی ہے۔ میلاد ٹاور بنانے کا منصوبہ بھی شہنشاہ ایران کے دور میں بنایا گیا ہے تھا لیکن حالات نے اس منصوبے کو موخر تو ضرور کیا لیکن اسے ختم نہیں کیا۔ یہ ٹاور بھی ایک بہت بڑے باغ کے بیچ میں تعمیر کیا گیا ہے جو دوسرے باغات سے منسلک ہے۔ یہ دنیا کا چھٹا سب سے بلند ٹاور ہے جو 2007ء میں تعمیر کیا گیا۔ 435 میٹر بلند ٹاور کے اوپر ایک ریوالونگ ریستوران ہے جہاں سے تہران کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔
تہران میں ٹرانسپورٹ کا نظام

تہران میں اگر پبلک ٹرانسپورٹ اور سڑکوں کے نظام کو بہتر بنانے اور خوبی کے ساتھ چلانے پر حکومت کی توجہ نہ ہوتی تو آج تہران کے سڑکوں ٹریفک کا اسقدر دباؤ ہوتا کہ منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا۔ ان دنوں ہم لاہور اور راولپنڈی اسلام آباد میں میٹرو بس سروس کو شروع کرکے ایسے پھولے نہیں سما رہے کہ جیسے معلوم نہیں کونسا بڑا کارنامہ انجام دے دیا ہے؟ تہران میں عام بسوں اور ٹیکسیوں کے ساتھ ساتھ میٹرو بس اور میٹرو ٹرین کا نظام موجود ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میٹرو بس کے لیے علیحدہ سے کوئی پل نہیں بنائے گئے بلکہ سڑک کو مزید چوڑا کرکے میٹرو بسوں کے لیے علیحدہ ٹریک بنا دیے گئے ہیں۔
ماس ٹرانزٹ کا ایک اور بڑا منصوبہ زیر زمین اور بالائے زمین چلنے والی جدید ترین میٹرو ٹرینیں ہیں۔ تہران کی سیر کرنے کے لیے میٹرو سے بہتر اور کوئی بہتر ذریعہ موجود نہیں ہے کیونکہ ہر سیاحتی مقام کے قریب میٹرو بس یا ٹرین کا اسٹیشن موجود ہے۔ ایک اندازے کے مطابق میٹرو ٹرینوں میں ہر روز 30 لاکھ افراد سفر کرتے ہیں۔ آج تہران کے طول و عرض میں میٹرو ٹرین کی پانچ زیر زمین اور بالائے زمین لائنیں بچھی ہیں جن کی کل لمبائی 152 کلو میٹر ہے جس میں مزید توسیع کا کام جاری ہے۔ اس ٹرین میں کسی بھی فاصلے کے سفر کے لیے یک طرفہ ٹکٹ لگ بھگ 15 پاکستانی روپے کے برابر ہے جبکہ بوڑھے افراد میٹرو ٹرین میں مفت سفر کر سکتے ہیں۔ خواتین کے لیے مخصوص ڈبے بھی ٹرین میں موجود ہیں لیکن اگر وہ چاہیں تو مردوں کے ساتھ بھی سفر کر سکتی ہیں۔
تہران میں ٹیکسیوں کی کمی ہے جسے پورا کرنے کے لیے شہریوں کو یہ اجازت دی گئی ہے کہ وہ اگر چاہیں تو ریڈیو کیب سروس کے ساتھ اپنی گاڑی کو رجسٹر کروا سکتے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ کبھی کوئی انجینئر یا کوئی سرکاری افسر آپ کا ٹیکسی ڈرائیور بنے اور کبھی کوئی مستری یا کوئی مکینک آپ کو منزل تک چھوڑ کر آئے۔ تہران کی ٹیکسیوں میں بھی میٹر نصب نہیں ہیں، اس لیے ٹیکسی میں بیٹھنے سے پہلے کرایہ طے کر لینا بہتر ہے ورنہ مسافروں کو پریشانی ہو سکتی ہے۔
تہران کا ریلوے اسٹیشن بھی ایک بین الاقوامی ایئرپورٹ کی طرح لگتاہے۔ جس کی ایک وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ یہاں سے استنبول اور وسط ایشیائی ریاستوں سے بھی ریل گاڑیاں آتی ہیں بلکہ تہران سے ماسکو تک بذریعہ ٹرین سفر کیا جا سکتا ہے۔ فارسی میں ریلوے اسٹیشن کو ’’ایست گاہ راہِ آہن‘‘ اور ریل گاڑی کو ’’قطار‘‘ کہا جاتا ہے۔ زاہدان سے آگے بم تک ریلوے لائن مکمل ہو جانے کے بعد اب ٹرین کے ذریعے کوئٹہ سے تہران تک کا سفر ممکن ہو گیا ہے۔ تاہم ابھی تک پاکستان ریلوے کی جانب اس ضمن کوئی خاص پیشرفت دیکھنے میں نہیں آئی۔
تہران کے بارے میں مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ تہران ایک ایسا شہر ہے جسے اچھی طرح دیکھنے کے لیے کم از کم ایک مہینہ درکار ہے۔ یہ یقیناً ایک ایسا شہر ہے جہاں لوگوں کو اگر بہتر کاروبار اور ملازمت کے مواقع ملیں تو وہ ایک بار پھر تہران کو رہائش کے لیے اسی طرح پسند کریں گے جس طرح وہ 70ء کی دھائی میں جا کر رہنا پسند کرتے تھے۔
Close Menu