موسمیاتی تبدیلی ۔۔۔۔ ایک سنگین مسئلہ

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: امتیاز متین :

پاکستان کے کار زارِ سیاست میں بپا ہونے والی گرما گرمی میں ہم موسمیاتی گرمی کو بھلا بیٹھے ہیں۔ حالانکہ 2016ء میں فرانس کے شہر پیرس میں موسمیاتی تبدیلیوں کی روک تھام کے لیے ایک بین الاقوامی معاہدہ کیا گیا ہے جس پر دنیا بھر کے 171 ممالک کے نمائندوں نے دستخط کیے ہیں۔ پاکستان بھی ان دستخط کنندہ ممالک کی فہرست میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کا شدت سے سامنا کر رہے ہیں یا ان کی حالت نازک ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کی روک تھام کا معاہدہ ہے کیا؟ اس کی اہمیت کیا ہے اور پاکستان میں اس سلسلے میں کیا کیا جائے گا اور کیا کیا جاسکتا ہے، اس بارے میں عام طور پر لوگوں کو زیادہ علم نہیں ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے لوگوں کو موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق اتنا ہی علم ہے کہ پاکستان میں گرمی زیادہ پڑنے لگی ہے، کچھ علاقوں میں برسات زیادہ ہوتی ہے اور کچھ علاقوں میں بالکل بارش نہیں ہوتی، عالمی حدت میں اضافے کی وجہ سے ہی سیلاب آنے اور پہاڑوں پر موجود برفانی گلیشیئر پگھل جانے کا سلسلہ جاری ہے۔
پیرس سمٹ میں موسمیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے کے لیے جن چار اہم نکات پر اتفاق کیا گیا ہے ان کے مطابق:
1۔ گرین ہاﺅس گیسوں کے اخراج کو کم کیا جائے۔
2۔ عالم حدت میں 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ اضافہ نہ ہونے دیا جائے بلکہ اسے 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک رکھنے کی کوشش کی جائے۔
3۔ ہر پانچ سال بعد اس سلسلے میں ہونے والی کوششوں کا جائزہ لیا جائے۔
4۔ 2020ءسے ترقی پذیر ممالک میں (گرین ٹیکنالوجیز کے فروغ کے لیے) اس عہد کے ساتھ 100 ارب ڈالر سالانہ کی سرمایہ کاری  کی جائے کہ اس میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔
عالمی حدت اور سمندر کی سطح میں اضافے کی وجہ سے سندھ کے کچھ ساحلی علاقے پہلے ہی سمندر برد ہو چکے ہیں۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ ضلع ٹھٹھہ ، بدین، کراچی، سجاول اور ان سے ملحقہ ساحلی علاقوں کو سطح سمندر میں اضافے سے خطرہ ہے۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ آئندہ 25 برسوں میں ان علاقوں کی بہت سی زمین سمندر برد ہو جائے گی جبکہ بہت سی زرعی زمینیں سیم اور تھور کا شکار ہو جائیں گی جبکہ ضلع ٹھٹھہ کی 24 لاکھ ایکڑ زمین پہلے ہی سمندر برد ہو چکی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ حکومت سندھ نے 220 کلومیٹر طویل کوسٹل ہائی وے اور ٹھٹھ ہ اور بدین کو بچانے کے لیے 225 کلومیٹر طویل دیوار بنانے کا منصوبہ بنایا ہے تاہم آئندہ 50 برس میں جب سطح سمندر میں موجودہ سطح میں 5 سینٹی میٹر کا اضافہ اور موسم میں مزیدشدت پیدا ہو چکی ہوگی تو کیا یہ دیواریں سمندر کو آگے بڑھنے سے روک سکیں گی؟
پاکستان نیوی کے اندازے کے مطابق سندھ کی 615 مربع کلومیٹر زمین سمندر برد ہو سکتی ہے۔ اس کی علاوہ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ٹھٹھہ اور بدین شہر صفحۂ ہستی سے مٹ جائیں گے جبکہ کراچی کا بڑا حصہ سمندر برد ہو سکتا ہے۔ تین شہروں سمیت اتنے بڑے خطے کے سمندر برد ہو جانے کی وجہ سے بے زمین، بے روزگار اور بے آسرا لوگوں کی نئے علاقوں میں آباد کاری کا مسئلہ مستقبل کی حکومتوں کے سامنے سر اٹھائے گا، جس کی ابھی سے پیش بندی نہ کی گئی تو لاکھوں افراد اپنے ہی ملک میں مہاجر بن کر کیمپوں میں جا بیٹھیں گے یا دوسرے شہروں میں نئی کچی آبادیاں بننا شروع ہو جائیں گی جس نے نئے سماجی، معاشی، سیاسی اور نفسیاتی مسائل جنم لیں گے۔
ماحولیاتی تبدیلیوں نے ہمیشہ سے تہذیبوں کے بننے اور مٹنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وادی ٔ مہران کی تہذیب ہڑپہ دور میں دریائے گھگر ہکڑہ کے سوکھ جانے کے بعد معدوم ہوتی چلی گئی۔ یہ وہی دریا ہے جسے ہندوﺅں کی مقدس کتابوں میں دریائے سرسوتی کا نام دیا گیا ہے۔ آج اس دریا میں مون سون کی بارشوں کا پانی بہتا ہے جس کا زیادہ تر حصۃ بھارت میں ہی روک لیا جاتا ہے۔ اس دریا کے کنارے آج بھی ہڑپہ تہذیب کے آثار مل جاتے ہیں۔ دریائے گھگر ہکڑہ کے سوکھ جانے سے سرسبز علاقوں کی جگہ ایسے صحرا وجود میں آئے جنہیں آج ہم تھر پارکر، چولستان اور راجستھان کے نام سے جانتے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں آنے والے سیلابوں اور خشک سالی کی وجہ سے پاکستان کو حالیہ برسوں میں اربوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ 2010ء میں آنے والے سیلاب کے نیتجے میں پاکستان کو تقریباً 10 ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا اور اس کے بعد آنے والے ہر سیلاب کے نقصانات کا بھی اندازہ بھی اربوں روپے کا نقصان ہوتا رہا ہے۔ لیکن اسی سیلابی کو پانی پاکستان کی تقدیر بدلنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ سیلابی پانی کو جمع کرنے کے لیے مصنوعی جھیلیں بنانے کی کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آتی۔
موسمیاتی تبدیلیوں کی وزارت نے اس سلسلے میں صوبوں پر ذمہ داری ڈالی ہے کہ وہ پانی کے ذخیرے بنانے کے لیے علاقوں کی نشاندہی کریں۔ اسی کے ساتھ ہی یہ بھی بتایا ہے کہ ملک بھر میں پانی کے ذخائر سکڑتے جا رہے ہیں جو 2025ء تک مزید سکڑ جائیں گے جبکہ آبادی کے ساتھ صنعتی اور شہری ضروریات بڑھ جائیں گی جس کا اثر پاکستان کی زراعت پر بھی پڑے گا۔
موسمیاتی تبدیلیوں کی وزارت کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان کو ہر سال تقریباً 365 ارب روپے سالانہ یعنی
ایک ارب روپے یومیہ کا نقصان ہو رہا ہے۔ گرمی اور صحرا زدگی میں اضافے کے باوجود ملک میں جنگلات کی کٹائی کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک حالیہ اندازے کے مطابق ملک میں ہر سال 70 ہزار ایکٹر زمین سے جنگل کاٹ دیے جاتے ہیں، یہ محض حکومت پاکستان کی بد نظمی اور ہر سطح پر پائی جانے والی بدعنوانی کا نتیجہ ہے پاکستان دنیا کا وہ دوسرا ملک بن گیا ہے جس میں جنگل تیزی سے سکڑ رہے ہیں۔
حد تو یہ ہے کہ ماضی میں لاہور اور اسلام آباد میں ترقیاتی کاموں کے نام پر جس تیزی سے بڑے بڑے درخت کاٹے گئے ہیں اس سے شہر کا نہ صرف نقشہ بدل گیا ہے بلکہ اتنی بڑی تعداد میں درختوں کی کٹائی کے نتیجے میں اسلام آباد کا موسم بھی تبدیل ہونے لگا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ملک کے پانچ فیصد حصے پر جنگلات ہیں جبکہ اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن اور ورلڈ بینک کے اندازوں کے مطابق اس وقت پاکستان کے 2.1 فیصد رقبے پر جنگلات باقی رہ گئے ہیں جبکہ ہر ملک کے 25 فیصد رقبے پر جنگلات ہونے چاہئیں۔
ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ بھارت ہمارا پڑوسی ملک ہے جو دنیا بھر کی 6 فیصد سالانہ کاربن خارج کرتا ہے۔ اور کوہ ہمالیہ کی دوسری جانب چین ہے جو دنیا بھر میں کارب گیس خارج والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ تاہم ہمارے موسم پر بھارت کی پھیلائی ہوئی آلودگی کا براہ راست اثر ہوتا ہے۔ اور ہر سال موسم سرما میں پنجاب پر اسموگ کا راج ہوتا ہے جو بھارت میں بھی دور تک پھیلی ہوتی ہے۔ بھارت کی خارج کی ہوئی کاربن اور سلفر کے نتیجے میں نیپال بری طرح متاثر ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں نیپال کے بہت سے پہاڑوں پر سے قدیم گلیشیر غائب ہو چکے ہیں۔ پہاڑوں پر برف باری اور بارشوں میں کمی اور پانی کی بڑھتی ہوئی طلب کا نتیجہ ہے کہ اس وقت خود بھارت قلت آب کا شکار ہے۔
فضائی آلودگی میں کمی کے لیے بھارت کے پاس کوئی خاص منصوبے نظر نہیں آ رہے ہیں اور دہلی دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے۔ کاربن کے اخراج میں کمی کے لیے بھارت کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی صنعتوں پر کاربن ٹیکس عائد کرے۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ بھارت 115 ارب ڈالر سالانہ کا کاربن ٹیکس جمع کر سکتا ہے جسے پینے کے صاف پانی کی فراہمی ، نکاسی ¿ آب کے نظام، سڑکیں بنانے اور کلین انرجی کے پروجیکٹس پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔ آج دنیا بھر کے ممالک اپنے ہاں نہ صرف کاربن ٹیکس متعارف کروا رہے ہیں بلکہ آہستہ آہستہ ان میں اضافہ بھی کرتے جا رہے ہیں۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ 2020ء تک یہ ٹیکس 40 ڈالر فی ٹن کاربن کے اخراج کے حساب سے وصول کیا جانے لگے گا اور 2030ءمیں یہ بڑھ کر 175 ڈالر فی ٹن کاربن کے اخراج سے لگایا جائے گا جبکہ ایسی ٹیکنالوجیز کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جس سے کاربن بالکل خارج نہ ہو۔ یورپی ممالک میں اس سلسلے میں کام شروع کر دیا گیا ہے اور ایسی گاڑیوں سے زیادہ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے جو زیادہ کاربن خارج کرتی ہیں جبکہ بجلی سے چلنے والی گاڑیوں سے کوئی ٹیکس وصول نہیں کیا جاتا۔
پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے صوبہ خیبر پختونخواہ میں ایک ارب درخت لگائے گئے ہیں لیکن اپوزیشن جماعتوں کے رہنما اسے پہلے بھی پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کا فریب قرار دیتے تھے اور اب بھی ان کے خیالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اب نئی حکومت نے آئندہ پانچ سال میں ملک بھر میں 10 ارب درخت لگانے کا منصوبہ بنایا ہے اور اس منصوبے پر کچھ کام ہوتا ہوا بھی نظر آرہا ہے لیکن اپوزیشن رہنمائوں کو نہ اس پروجیکٹ پر یقین ہے اور نہ ہی ماحولیاتی تحفظ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ تاہم کراچی شہر میں کہی کہیں سرکاری شجر کاری مہم کے اثرات ضرور نظر آنے لگے ہیں۔ یوں بھی اندر اور اظراف میں شہری جنگل بنانے کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے کیونکہ شہر میں آبادی، تعمیرات اور صنعتی و تجارتی سرگرمیاں بڑھ جانے کے باعث بارشیں نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں۔ اگر مسجدوں کے سضو خانوں کا صاف پانی گٹر لائن میں بہا دینے کے بجائے باغات کی آبیاری کے لیے استعمال کر لیا جائے تو شہری علاقوں کے بنجر میدان سرسبز باغات میں تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔
Close Menu