آگے بڑھنے کیلئے ، منفی خیالات سے چھٹکارا

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: شیخ خالد زاہد

ہم اپنے آپ کوباحالت مجبوری یا اپنی مرضی سے یا وقت اور حالت کی خاطرجس قسم کے مزاج میں ڈھال لیتے ہیں ،پھر اس مزاج کو سنبھالتے سنبھالتےساری زندگی گزار دیتے ہیں۔ یہ اس بات کی بھی وضاحت پیش کرتا ہے کہ ہم تبدیلی سے باز رہنے والے لوگ ہیں یا اس کو کوئی غیر مذہبی اقدام سمجھتے ہیں ۔ گزشتہ دنوں تبدیلی کو لیکر ایک واویلہ مچا رہا اور کوئی بھی اس تبدیلی کو جگہ دینے کیلئے تیار نہیں تھا۔

یہ واویلہ مچانے والےوہ لوگ تھے جو یہ چاہتے ہی نہیں تھے عوام کو اس تبدیلی کے پیچھے چھپے انکے کارناموں پر سے پردہ اٹھایا جائے اور عوام کو ان لوگوں کی حقیقت سے آگاہ کیا جائے۔ خیر یہ توسیاسی ماحول بننا شروع ہوگیا۔ ہم ایسے لوگ ہیں کہ ابھی ایک قدم آگے نہیں بڑھایا ہوتا کہ ساتھ چلنے والوں کی آوازیں ،ذرا دیکھ کے چلنا ،زرا دیکھ کر پیر رکھنا ، پیروں میں بیڑیاں بن کر واپسی کی طرف گھسیٹنا شروع کردیتی ہیں اور سفر جو ابھی شروع بھی نہیں ہو اہوتا اپنے اختتام کو پہنچ جاتا ہے ۔ تبدیلی کی بات کرنے والے کو ہمیشہ ہر سطح پر باغی کہہ کر معاشرے میں شجر ممنوعہ بنانے کی مہم جاری و ساری رہی۔

دنیا میں اب کچھ نیا نہیں ہوسکتا جو کچھ ہونا تھا وہ ہو چکا ہے ۔ اپنے ارد گرد لباسوں کے فیشن کو ہی لے لیجئے گھوم پھر کے وہی پرانے طرز کے لباس زیب تن کئے جانے لگے ہیں یعنی نئے لوگوں کیلئے تو وہ نئے ہوسکتے ہیں لیکن جو ان نئے لوگوں کے پرانے ہیں ان کیلئے سوائے مسکراہٹ کے اور کچھ نہیں ہے۔ تو پھر تبدیلی دراصل ہے کیا؟تبدیلی کچھ نیا کرنے کا نہیں بلکہ نظام پر ہمارے اذہان پر صدیوں سے پڑی دھول ہٹانے کا نام ہے ، اس دھول کے نیچے کیا کچھ دفنانے (فوت)کی نہج کو پہنچ چکا ہے اس کی شناخت کرنے کا نام ہے ۔ سب سے بڑی تبدیلی اس امر کی ہے کہ قرآن کو جزدان سے نکال کر اپنے ہاتھوں میں لیکر نا صرف اسے پڑھنے کا بلکہ سمجھنے کا نام ہے، کس کی حکمرانی کو تسلیم کرنا ہے اور کسے دھول چٹانی ہے یہ سمجھنے کا نام ہے ، بات ریاست کی نہیں ہے بات اپنے گھر کی ،بات اپنی ذات کی اور بات اپنے سے وابسطہ ذاتوں کی ہے، تبدیلی ثواب کو عملی طور پر کرنے کا نام ہے، تبدیلی کن کاموں سے اور کن باتوں سے دل ٹوٹتے ہیں یہ جاننے کا نام ہے۔

معلوم نہیں کن کن کے ذاتی مفادات کی بھینٹ ہمیں چڑھایا جاتا رہا ہے ، اس معاملے میں تو بہت ہی معصوم واقع ہوئے ہیں۔ ہم اپنی حقیقت سے منہ چراتے رہے ہیں جیسا کہ سننے میں آیا کہ ایک دیہاتی کا بچہ پڑھ لکھ جاتا ہے اور وہ اپنے بچے سے ملنے اسکے پاس شہر اپنے دیہاتی لباس میں آجاتا ہے تو اسکا بچہ جس کو اس نے اپنے خون پسینے کی کمائی سے اپنا پیٹ کاٹ کر پڑھالکھا کر یہاں تک پہنچایا ہوتا ہے وہ اپنے دوستوں سے اپنے باپ کو نوکر کہہ کر تعارف کرواتاہے(یہ ایک حقیقی واقع ہے)۔

ہمیں باقاعدہ طور پر الجھایا گیا ہے اور تختہ مشق بنایا گیا ہے ، ہمیں دنیا میں احمقوں کی جنت میں رکھا گیا ہے ۔ ہماری اقدار ہماری حساسیت ہمارا ادب لحاظ ہم سے سب کچھ چھینا نہیں بلکہ ہمیں ایسا بنا دیا کہ ہم خود ہی ان معاشرتی ستونوں کو گرادیں ، اسکے ساتھ ہی بڑے بڑے صحن والے گھر وں میں دیواریں اٹھوانے کا بھی ذمہ اٹھالیا۔وہ علم جو ہماری میراث تھا اس سے فیضیاب دنیا ہوئی اور اس علم کی بنیا د پر دنیا نے ترقی کی لیکن کیا ہوا کہ ہم نے یہ تعلیم تو اتنی حاصل کی کہ قہہ کی سی کیفیت ہونا شروع ہوگئی لیکن سب کچھ برباد کرکے رکھ دیا گیا ہے۔

ہماری تنزلی اور زبوں حالی کے ذمہ دار ہم خود ہیں، ان ساری خرابیوں کی ایک بہت بڑی وجہ ہمارا منفی رویہ ہے ، ہم نے ہر کام کرنے والے کو پیچھے کی جانب دھکیلنا اپنا مذہبی فریضہ سمجھ لیا ہے اگر اس بات سے اختلاف ہے تو اپنے اردگرد دیکھ لیجئے کوئی اخبار اٹھا کر ددیکھ لیجئے یا پھر ٹیلی ویژن پر دیکھ لیجئے یا پھر اپنے خاندانی معاملات کو دیکھ لیجئے، آپ کی گردن شرم سے جھک جائے گی ہم لوگ اپنے اس منفی رویئے کی بدولت اپنوں کو اپناتے نہیں ہیں۔اپنی اپنی ذات میں اپنے اپنے گھروں کی طرح قید رہنا چاہتے ہیں ۔ اگر کوئی اچھا کام کرنے جا رہا ہے تو اس ساتھ نہیں دینا چاہتے ۔۔۔ نا دیجئے لیکن اسے اس اچھے کام کی شروعات تو کرنے دیجئے۔

آج پاکستان میں ایسے بہت سارے کاموں کی ابتداء کی جارہی ہے جو بہت پہلے ہونے چاہئے تھے ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ کرنے کے عملی اقدامات کئے جا رہے ہیں ، چور بازاری سے جان چھڑانے کی کوشش کی جارہی ہے، انصاف کی بالادستی کو یقینی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ، امیر اور غریب کا فرق مٹانے کی کوشش کی جارہی ہے اس طرح کے بہت سارے انقلابی اقدامات کئے جا رہے ہیں اب آپ اس سلسلے میں عملی طور پر کچھ نہیں کرسکتے تو زبانی کلامی اپنا کردار مثبت طریقے سے نبہائیں لوگوں کی توجہ ان اچھے کاموں کی طرف متوجہ کروائیں جن سے عوام کو فائدہ پہنچ سکتا ہے ۔

روزانہ گھنٹوں ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر ایک دوسرے کی برائی اور برائی کرتے کرتے گھروں تک پہنچ جاتے ہیں یہ ہمارے معاشرتی اقدار نہیں ہیں۔ یہ کرسیاں یہ عہدے یہ چمک دمک سب عارضی ہے دائمی ہے تو آپ کا نیک عمل آپ کی مثبت ترویج ، لوگوں میں مثبت رجحان کا بڑھاوا ۔اگر سب ایک دوسرے کا تھوڑا تھوڑا خیال کرلیں تو سب کا بہت سارا خیال ہوجائے گا معاشرہ سدھر نے کی جانب گامزن ہوچکا ہے اب ہمیں ہمارا مثبت حصہ ڈالنا ہے۔ ہمارا ایمان ہے ایک مسکراہٹ اور سلام میں پہل راستے کی آہنی سے آہنی دیواریں گرادینے کیلئے کافی ہے۔ تو فیصلہ کیجئے کہ منفی سوچ پھیلانے والوں کو اور اپنے اند رمنفی خیالات کو نہیں جمع ہونے دینا ہے ۔ تبدیلی خود بخود نظر آنا شروع ہوجائے گی۔اس بات کو یقینی بنالیں کہ تبدیلی منفی خیالات و اقدامات سے جان چھڑانے میں ہی ہے ۔

تھرپارکر

یہ1980ء کی دھائی کی بات ہے جب ایم اے فائنل کا آخری پرچہ دینے کے بعد ہی جاوید جبار کی ایڈ ورٹائزنگ ایجنسی (MNJ) میں

مکمل پڑھیے
Close Menu