روحی بانو

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: خرم سہیل

کون کہتا ہے، روحی بانو مرگئیں؟ اس رخصت کے بعد ہی تو وہ زندہ رہیں گی۔ ہمارے سماج کے منہ پر ایک طمانچہ بن کر، جہاں مادیت پرستی کی دوڑ میں بے حسی بڑھتی جا رہی ہے۔

لاہور کی گلیوں میں، جہاں روحی بانو نے ایک طرف اپنا فنی عروج دیکھا، وہیں دوسری طرف ان کو بے سرومانی نے آن گھیرا۔ اسی شہر میں ازدواجی زندگی کے سفاک مظالم، اکلوتے بیٹے کا خون اور معاشرتی بے حسی کی پرچھائیوں میں روحی بانو کا درد بولتا رہے گا۔ نہ یہ واقعہ پہلا ہے، نہ بات نئی، روحی بانو ہی کیا، جمیل فخری ہوں یا فہمیدہ ریاض، ان سب کا دکھ مشترکہ تھا۔ اولاد کا دکھ لیے اس دنیا سے رخصت ہوئے، لیکن زندگی کی سفاکی جس طرح روحی بانو کے حصے میں آئی، وہ کسی دشمن کے حصے میں بھی نہ آئے۔

پاکستان ٹیلی وژن پر ڈرامے کے روشن عہد اور روحی بانو کا ساتھ ایسے ہی تھا، جس طرح 2 سہیلیاں ایک ساتھ اچھا بُرا وقت دیکھیں۔ 70ء کی دہائی میں بہت تیزی سے ٹیلی وژن کی کہکشاں میں اضافہ ہورہا تھا، نت نئے فنکار دریافت ہو رہے تھے، ہر کوئی ایک دوسرے سے بڑھ کر صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ اُسی دور میں روحی بانو کی بھی شوبز کے منظرنامے پر آمد ہوئی۔ ڈاکٹر انور سجاد اور فاروق ضمیر وسیلہ بنے۔ ایک عمدہ لکھاری تو دوسرا شاندار اداکار، لہٰذا یہ کیسے ممکن تھا کہ ان کا انتخاب غلط ہوتا۔ روحی جب تک اسکرین پر جلوہ گر رہیں، اس انتخاب پر اپنے باصلاحیت ہونے کی مہر ثبت کرتی رہیں۔

وہ رسمی تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ حقیقی معنوں میں باشعور انسان بھی تھیں۔ انگریزی، ادبیات اور نفسیات میں ماسٹرز کی ڈگریاں رکھنے کے باوجود ایک ایسے شعبے میں کام کرنے کو ترجیح دی، جہاں صرف ظاہری حُسن کی سند کا ہونا کافی ہوتا ہے، لیکن وہ اپنے حُسن سے آگے اس مقام تک گئیں جہاں کرداروں کے درمیان ادا کیے جانے والے مکالمے سے زیادہ چہرے پر ابھرنے والے تاثرات کہانی کو آگے بڑھاتے ہیں۔

پاکستان میں اگر متوازی سنیما ہوتا تو روحی شاید اس میڈیم میں بھی روشن ستارہ بن کر پوری دنیا میں چمکتیں۔ پھر ایک ایسا شعبہ جہاں کی چکاچوند اور مصنوعی زندگی میں صرف بناوٹی ہونا کافی سمجھا جاتا ہو، وہاں وہ شعر و ادب اور رکھ رکھاؤ کی روایت کو نبھارہی تھیں۔ لہجے کی نفاست اور اندازِ گفتگو، ان کے مہذب ہونے کی دلیل دینے پر مامور تھا۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں زیرِ تعلیم تھیں، جب اپنے فنی کیرئیر کی ابتدا کی۔ پہلی مرتبہ ٹیلی وژن کے کوئز شو میں شرکت کی، اس کے بعد اداکاری کا راستہ چنا اور شہرت سمیٹی۔ ٹیلی وژن اور فلم مرکزی حوالہ بنے۔

روحی بانو نے 70ء اور 80ء کی دہائی میں اپنے فن سے یہ بھی ثابت کیا کہ صرف ایک اداکار ہونے سے کچھ نہیں ہوتا بلکہ ’ادا‘ کو ادائے دلرُبا بھی بنانا پڑتا ہے۔ اشفاق احمد کے لکھے ہوئے 2 ڈرامے ’حیرت کدہ‘ اور ’قلعہ کہانی‘ میں وہ اپنے فن کے عروج پر نظر آتی ہیں۔ یہ وہ کام ہے، جو کمرشل اداکاری میں متوازی سنیما کی راہ کھول رہا تھا۔ فلسفے اور تاریخ میں ڈوبے ایسے ہی کئی کردار نبھانے میں وہ تاک تھیں۔

اشفاق احمد کے ہی لکھے ہوئے ڈرامے ’ایک محبت سو افسانے‘ میں ایک کھیل ’داستانِ حبیب‘ کا پس منظر 1930ء کا تھا۔ اس میں ادا کیا گیا کردار بتاتا ہے کہ وہ کتنی بڑی اداکارہ تھیں۔ اس میں ان کے مدمقابل معروف ادیب مستنصر حسین تارڑ نے بھی بطور اداکار کام کیا تھا۔

روحی بانو نے تقریباً 50 ڈراموں میں کام کیا۔ ان کے چند مشہور ڈراموں میں ’زرد گلاب‘، ’سراب‘، ’دروازہ‘، ’کرن کہانی‘ اور دیگر شامل ہیں۔ ان کے ڈرامے ’کرن کہانی‘ کو مقبولِ عام کا درجہ حاصل ہوا۔ انہوں نے متعدد فلموں میں بھی کام کیا۔

اپنی ذات میں کھوئی کھوئی رہنے والی، غرقاب آنکھوں کے ساتھ، جب وہ کسی کی طرف دیکھ کر بات کرتیں تو سامنے والے کا اس کشش کے سامنے ٹھہرنا مشکل ہوجاتا۔ اس طلسمی شخصیت کے ساتھ جہاں انہیں بہت ساری کامیابیاں ملیں، وہیں ان کے حصے میں پیشہ ورانہ حاسدین، مخالفین اور دشمن بھی آئے، جنہوں نے آخرکار ان کی زندگی میں اپنے اپنے حصے کا زہر انڈیلا۔

ناکام معاشقے، متعدد ناکام شادیاں اور پھر 2005ء میں اکلوتے بیٹے ’علی‘ کا قتل انہیں بھی اذیت کی مقتل گاہ تک لے گیا۔ اسی برس وہ شیزو فرینیا نامی ذہنی مرض میں مبتلاہوئیں، جس سے ان کی زندگی دُکھ کی تصویر بن کر رہ گئی۔ وہ ازدواجی زندگی کے بارے میں اپنے ایک انٹرویو میں صرف اتنا کہتی ہیں کہ ’میں کون ہوں، کسے خبر۔‘

ان کا خاندانی پس منظر بھی بظاہر روشن حوالوں سے مزین لیکن تشنگی لیے ہے۔ ان کے والد استاد اللہ رکھا معروف انڈین طبلہ نواز تھے، جن کے ساتھ روی شنکر اور لتا منگیشکر جیسے فنکار کام کرنے کو اپنی سعادت سمجھتے تھے۔ والد نے ان کی والدہ ’زینت بیگم‘ سے دوسری شادی کی تھی۔ استاد اللہ رکھا کی پہلی شادی سے پیدا ہونے والوں میں ذاکر حسین، ان کے سوتیلے بھائی اور انڈیا کے معروف طبلہ نواز ہیں، لیکن اس خاندان کے آپس میں تعلق قائم رہنے کے شواہد نہیں ملتے۔ روحی بانو نے بھی اس موضوع پر زیادہ بات نہیں کی۔ وہ انڈین میڈیا کا موضوع بھی رہیں، لیکن ان کے سوتیلے بہن بھائیوں میں کبھی کسی نے اس پر لب کشائی نہیں کی۔ یہ الگ بات ہے کہ اسی ملک میں اداکاری کے لیے معروف ’پونا اکیڈمی‘ میں روحی بانو کی اداکاری طلبا کے نصاب کا حصہ ہے۔

ان کی والدہ بھی بے سرو سامانی کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوئیں۔ سلسلہ وار دُکھوں نے روحی بانو کو شدید ذہنی صدمات سے دوچار کیا، جس سے یہ اپنے حواس کھو بیٹھیں۔ لاہور کی گلیوں میں لاوارث روح کے بارے میں، ان کے ہم پیشہ فنکاروں کو پتہ چلا تو سب اپنی اپنی دکانیں اُٹھائے ان تک آپہنچے۔ کسی نے مارننگ شو میں ان کی محرومیوں کو فروخت کیا تو کسی نے پرائم ٹائم کی سُرخی میں ان کے درد سے اپنا معاوضہ کھرا کیا جبکہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اپنے اسٹیٹس کو روحی بانو کے دُکھ سے رنگنے والوں کی تعداد الگ ہے، لیکن افسوس کہ حقیقی دنیا میں اُن تک کوئی نہ پہنچا۔ کوئی ایسا جو صرف اس کی روح کی طمانیت بنتا، اس کے زخموں پر مرہم رکھتا۔

اسی ماحول میں کچھ ایسے بھی لوگ تھے جو واقعی ان کے لیے عملی طور پر کچھ کرنا چاہتے تھے، جس سے ان کو ذہنی اور روحانی تسکین ہو، اسی سلسلے میں ایک سراہنے جانے والی کوشش ڈراموں کے معروف ہدایت کار مظہر معین کی تھی۔ انہوں نے روحی بانو کو دوبارہ سے ٹیلی وژن اسکرین پر لانے کی عملی کوشش کی اور کافی حد تک اس میں کامیاب بھی رہے، جس سے یقینا روحی بانو کو روحانی تسکین ملی ہوگی۔ مگر ان کو واپس لانے کے سارے حربے ایک ایک کر کے بے اثر ہوتے چلے گئے۔ حکومت کی جانب سے دیا گیا صدارتی تمغہ بھی ان کے زخموں کی شفایابی نہ کرسکا، کیونکہ فنکاروں کو تمغوں سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

وہ لاہور کے فاؤنٹین ہاؤس میں علاج کی غرض سے داخل رہیں، پھر کچھ عرصے کے لیے لاپتہ بھی ہوگئیں، اب ایک دم پتہ چلا کہ ترکی میں علیل ہونے کے بعد ان کی رحلت ہوئی۔

لاہور کی گلیوں میں تو انہیں کوئی پوچھتا تک نہیں تھا، ایسے میں وہ اپنی بہن روبینہ کے ساتھ ترکی کیسے پہنچ گئیں، یہ ایک معمہ ہے۔ وہ اپنی جائیداد کی وجہ سے بھی مسائل میں گھری رہیں۔ عزیز و اقارب سمیت کئی طرح کی قبضہ گروپ قوتیں ان کی دولت ہتھیانے کے درپے تھیں۔ ان سب کی تحقیق بھی ہونا لازم ہے، لیکن جس کو زندہ ہوتے ہوئے کسی نے نہ پوچھا، اب اس کے چلے جانے کے بعد کیا پوچھے گا، آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل۔

روحی بانو جب تک اپنے حواس میں تھیں، ایک شاندار شخصیت کی مالک تھیں۔ انہوں نے زندگی کو اتھاہ گہرائیوں سے جیا۔ احساسات کے کوہِ ہمالیہ کو سر کیا۔ وہ بیٹے کی موت سے پہلے تک ایک نارمل اور ذہین انسان تھیں، وہ ناول اور شاعری پڑھتی تھیں۔ بطورِ قلم کار بھی اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہتی تھیں۔ ایک فلم ساز بننے کی خواہاں بھی تھیں اور بھی ایسے بہت سارے خواب تھے، جن کی تعبیر کے لیے وہ کوشاں تھیں۔

زندگی کا چہرہ ان کے لیے پُرنور تھا، لیکن ایک دن تقدیر نے ان کے خوابوں پر شب خون مارا۔ ان کے تمام خواب بیٹے کے خون میں رنگے گئے، زندگی کا تصویر نامہ پہلے سُرخ اور پھر سیاہ ہوگیا۔ تاریکی بڑھتی گئی، چہرے اور رویے بدلتے گئے، ایک ایک کرکے سب منظر گُل ہوئے۔ مادیت پرستی اور مصنوعی اخلاق کی بیماری میں مبتلا بے رحم سماج میں جذبات کا کام کرنے والا ایک ہنرمند، ایک اور فنکار مَر گیا، لیکن راوی اب بھی چین لکھتا ہے۔

Close Menu