افغان امن مذاکرات

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: امتیاز متین

اکثر سوچتا ہوں کہ پاکستان میں اعتراض برائے اعتراض کی سیاست سے پہلے کیا حاصل ہوا ہے جو آئندہ حاصل ہوجائے گا؟ میڈیا پر ہو نے والی گفتگو دیکھ کر ایسا لگتا ہے بات کرنے کے لیے موضوعات ختم ہو گئے اور بولنے والوں کی سوچ پر تالے پڑ گئے ہیں۔ تبدیلی دروازے پر دستک دے رہی ہے لیکن یہ تبدیلی عمران خان کے انتخابی نعرے والی نہیں ہے بلکہ خطے میں حالات کا دھارا بدلنے جا رہا ہے لیکن اس پر کسی کی نظر نہیں ہے۔ آج سے پندرہ سولہ برس پہلے کس نے سوچا تھا کہ امریکی افغانستان سے نکلنے کے لیے افغان طالبان سے مذاکرات کریں گے۔ اس وقت تو یہی سوچ لیا گیا تھا کہ افغان طالبان پسپا ہی نہیں ہوئے بلکہ فنا ہو گئے اور امریکی اور اس کی اتحادی افواج اپنی ٹیکنالوجی کی طاقت اور دولت کے باعث چند برس میں ہی افغانستان کا نقشہ بدل دیں گی۔ افغانستان ایک مغربی طرز کی سوسائٹی بن جائے گا لیکن جو عورتیں پہلے برقعے اوڑھتی تھیں وہ آج بھی وہی نیلا برقع اوڑھتی ہیں۔ افغانوں نے اپنی بود و باش تو نہیں بدلی لیکن سترہ برس کی جنگ نے امریکہ کا معاشی حلیہ ضرور بگاڑ دیا ہے اور صدر ٹرمپ کو اسی میں عافیت نظر آ رہی ہے کہ فوج کو واپس بلا لیا جائے۔ اگر صدر ٹرمپ افغانستان سے مکمل فوجی انخلا کروانے میں کامیاب ہو گئے تو وہ اسے یقیناً اپنی بڑی کامیابی قرار دیں گے لیکن کیا وہ اپنی مرضی کے جمہوری نظام حکومت کے بغیر اسے اپنی بڑی کامیابی قرار دے پائیں گے؟ اس وقت جبکہ پاکستان کے سیاسی افق پر قائدین کو عدالتی شکنجے سے بچانے اور حکومتی سطح پر معاشی استحکام لانے کی جد و جہد ہو رہی ہے تب پاکستان خاموشی سے ایک اہم سفارتی مشن میں مصروف ہے جس کا بنیادی مقصد افغانستان میں خانہ جنگی کا خاتمہ کرنے کے ساتھ ساتھ افغانستان میں براجمان پاکستان مخالف بیرونی قوتوں کا مکمل انخلا بھی ہے۔ ماضی میں بھارت کی جانب سے پاکستان کی امن مذاکرات کوششوں کو درپردہ سبوتاژ کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں تاہم اس بار وہ خاموش تماشائی کی حیثیت سے امن مذاکرات کا عمل آگے بڑھتے ہوئے دیکھ رہا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے صدر ٹرمپ پاکستان پر دھوکہ دینے کا الزام لگایا تھا اور اب افغان طالبان سے امن مذاکرات کے لیے پاکستان سے باقاعدہ مدد لی گئی ہے۔ کچھ عرصہ قبل صدر ٹرمپ نے بھارت سے افغانستان میں بھارتی فوج بھیجنے کے لیے کہا تھا لیکن شاید اس مطالبے کے جواب مودی حکومت نے امریکیوں کو بالی وڈ فلم ’’اُڑی، دی سرجیکل اسٹرائیک‘‘ بنا کر دکھا دی ہے اور کہا ہے کہ وہ کابل میں لائبریری بنوا دیں گے۔ موجودہ جنگی صورتحال میں طالبان کو یہ واضح نظر آ رہا ہے کہ امریکہ اور افغان حکومت کی گرفت کمزور پڑ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغان طالبان افغان فوج اور حکومت پر ہلاکت خیز حملے کر رہے ہیں۔ موسم سرما کی شدت کے باوجود افغانستان میں اس شدت کی لڑائی ہو رہی ہے تو قیاس کیا جا سکتا ہے کہ موسم بہار کے آتے ہی افغانستان میں لڑائی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ دریں اثنا قطر مذاکرات کے حالیہ دور کے بعد افغان طالبان نے ماسکو کا رخ کیا ہے تاکہ افغان حکومت پر سفارتی دباؤ میں اضافہ کیا جائے۔
اس وقت دنیا کے سامنے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا افغانستان سے رہی سہی امریکی فوج نکل جانے کے بعد امن قائم رہ سکے گا؟ کیونکہ یہ واضح نظر آ رہا ہے کہ امریکی افواج کے جاتے ہیں کابل میں اشرف غنی حکومت کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ افغان نیشنل آرمی کو آئے روز بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھا کر پسپا ہونا پڑ رہا ہے اور دوسری جانب جنگ کے آخری دنوں میں افغان طالبان پر بھی ہلاکت خیز فضائی حملے کیے جا رہے ہیں تاکہ ان پر دباؤ برقرار ہے۔ افغانستان میں جاری لڑائی کے دوران جہاں افغان حکومت کے ہاتھوں سے مزید کچھ اضلاع کا کنٹرول نکل گیا ہے وہیں افغان طالبان کی بھی کچھ علاقوں پر گرفت کمزور ہوئی ہے۔ صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ وہ 14 ہزار امریکی فوج میں سے 7 ہزار فوج واپس بلا لیں گے جس کے بعد یہ لگ رہا ہے کہ افغانستان میں کوئی بھی فریق فیصلہ کن نتائج حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا ہے۔ اس دوران جو باتیں بین الاقوامی میڈیا میں گردش کر رہی ہیں ان کے مطابق قطر مذاکرات میں افغان طالبان اور امریکی حکومت کے نمائندے امریکی افواج کے انخلا کی حکمت عملی، مستقل جنگ بندی ا اور امن قائم رکھنے پر بات کر رہے ہیں۔ قطر مذاکرات کے نتیجے میں افغان طالبان نے بالآخر اشرف غنی کی حکومت سے بات کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے جسے قطر مذاکرات سے باہر رکھے جانے پر پہلے ہی اندرونی مسائل اور شدید مخالفتوں کا سامنا ہے۔ افغان حکومت میں تاثر پایا جاتا ہے کہ امریکی مندوب زلمے خلیل زاد، طالبان کو غیر ضروری رعایتیں دے رہے ہیں۔ امریکیوں کی خواہش ہے کہ افغانستان میں رواں سال 20 جولائی کو ہونے والے صدارتی انتخابات سے پہلے کوئی معاہدہ ہو جائے اور نگراں حکومت میں طالبان کو شامل ہونے کا موقع مل جائے جبکہ طالبان نے بھی افغان حکومت کا حصہ بننے سے انکار نہیں کیا ہے۔ اس کے عوض امریکی حکومت طالبان سے اس بات کی ضمانت حاصل کرنا چاہتی ہے کہ وہ افغانستان میں القاعدہ، داعش یا کسی دوسری دہشت گرد تنظیم کو پیر جمانے کا موقع نہیں دیں گے۔ اس سے ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ امریکی حکومت دہشت گردی، جنگ بندی اور سیاسی روڈ میپ پر معاہدے تک پہنچے بغیر فوج کا انخلا نہیں کرے گی تاہم یہاں کچھ تجزیہ کاروں کو افغانستان سے ویتنام کی طرز کا انخلا نظر آ رہا ہے حالانکہ انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ سوویت افواج بھی ایک معاہدے اور ٹائم ٹیبل کے مطابق افغانستان سے واپس ہوئی تھیں۔ اگر سوچا جائے تو امریکی حکومت نے منطقی طور پر جائز مطالبات کیے ہیں جو سب سے پہلے خود افغان عوام کے مفاد میں ہیں۔ ادھر طالبان کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان پر حکمرانی نہیں کرنا چاہتے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ نئی حکومت افغانستان کی تمام عوامی اکائیوں کی حمایت سے بنائی جائے۔
اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ امریکی فوج کے انخلا کے بعد پیدا ہونے والے طاقت کے خلا کو کون پورا کرے گا جو اب افغان فوج کی تربیت کرنے سے کنارہ کش ہوتی جا رہی ہے۔ اگر امریکی فوج کو کسی امن معاہدے کے بغیر ہی افغانستان سے نکلنا پڑا تو ایک بار پھر کابل فتح کیا جائے گا اور موجودہ حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس صورتحال میں افغانستان ایک بار پھر خانہ جنگی کا شکار ہو جائے گا؟ یا پھر طالبان سے امن معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکی حکومت مستقبل فوجی اڈے بنا کر افغانستان کو اپنی کالونی بنا لے گا۔ امریکہ اور افغانستان میں ایسے بہت سے لوگ موجود ہیں جو افغانستان میں امریکی فوج کے مستقل قیام کی وکالت کر رہے ہیں۔ دوسری صورت میں افغانستان کو ملٹری کنٹریکٹرز (بلیک واٹر) کی کرائے کی فوج کے حوالے کیا جا سکتا ہے جو امریکی مفادات اور معدنیات کی کانوں کے تحفظ کے نام پر اپنی جارحانہ کارروائیاں جاری رکھ سکتی ہے۔ بلیک واٹر تنظیم کے سربراہ نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں یہ بتایا ہے کہ ان کی تنظیم کے پاس کتنا سرمایہ ہے اور کیسی جنگی صلاحیتیں ہیں۔ اگر پسپا ہوتی ہوئی امریکی افواج نے اپنی جگہ بلیک واٹر جیسی بدنام زمانہ تنظیم کو افغانستان میں لڑائی اور امریکی مفادات کے تحفظ کا ٹھیکہ دے دیا یعنی اسلحہ سازی کی صنعت کے بعد جنگوں کی بھی نجکاری کر دی تو پھر دنیا بھر میں نجی خفیہ آپریشنز شروع ہو جائیں گے۔ دنیا بھر کی سرکاری افواج پر اقوام متحدہ کے قوانین لاگو ہوتے ہیں اور خود امریکی فوج بھی امریکی قوانین کی پابند ہے لیکن نجی جنگجو کمپنیوں پر ایسا کوئی قانون لاگو نہیں ہوگا لہٰذا ٹھیکے پر جنگیں لڑنے والی امریکی تنظیموں کی افغانستان میں آمد سے صورحال مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔ ایسی پرائیویٹ جنگجو تنظیموں کے کارکن کسی بھی ملک کی سرحدوں میں خفیہ طور پر داخل ہو کر مطلوبہ لوگوں کو اغوا یا قتل کر سکیں گے یا اہداف کو تباہ کرکے فرار ہو جائیں گے اور اگر کوئی پکڑا گیا یا مارا گیا تو اس صورت میں امریکی محکمہ دفاع کسی بھی طرح ذمہ دار نہیں ہوگا۔ اگر امریکی سرمایہ داروں نے جنگوں کو ملٹری کنٹریکٹرز کے حوالے کیا تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے اور مستقبل میں خود امریکہ کی سرزمین بھی دوسرے ملکوں کے ایسے خفیہ مشنز سے محفوظ نہیں رہ پائے گی۔ افغانستان میں امن کی کوششوں کے باوجود خدشات کے گہرے بادل منڈلا رہے ہیں۔ پاکستان میں افغانستان کے پائیدار امن کی ضرورت اس لیے بھی زیادہ محسوس کی جا رہی ہے کہ گزشتہ چالیس برس کی افغان خانہ جنگی کے سب سے زیادہ بد اثرات پاکستان پر پڑے ہیں۔ افغان مہاجرین کے ساتھ ساتھ پاکستان میں خود کار اسلحہ، منشیات، بدعنوانی اور مذہبی شدت پسندی کو عروج حاصل ہوا ہے۔ اسلحہ اور پر تشدد سیاست کی وجہ سے کراچی برسوں جلتا رہا ہے جبکہ گزشتہ سترہ برس کے دوران دہشت گردی خلاف ایک طویل اور خونریز جنگ لڑی گئی ہے، گو کہ دہشت گرد قوتیں پسپا ہو گئی ہیں لیکن یہ لڑائی اب بھی جاری ہے، بعض دور دراز علاقوں میں اب بھی خود کش حملے یا بم دھماکے ہو جاتے ہیں۔ افغانستان میں پائیدار امن سے پاکستان میں بھی دہشت گردی ختم ہو جائے گی اور دونوں ملک معاشی بدحالی سے کے چنگل سے نکل سکیں گے۔

Close Menu