گلاب جامن کی کہانی

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: نیّر رُباب

یہ اْس زمانے کی بات ہے جب میں اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو روز سونے سے پہلے ایک کہا نی سنایا کرتی تھی۔ یہ کہانیاں عام طور پر فرمائشی ہوتی تھیں یعنی جو کہا وہی سناؤں۔۔۔ ان کی فرمائشیں بہت معصوم مگر بے حد عجیب و غریب بھی ہوتی تھیں۔۔۔ کبھی کہتے چائے کی کہانی سناؤ، کبھی تولیے یا پائپ کی کہانی، کبھی بادلوں میں بنتی شکلوں کی کہانی تو کبھی پان کی کہانی اور ان میں کچھ سنی سنائی اور کچھ گھڑی ہوئی باتوں سے ایک کہانی بْن کر انہیں سنا دیا کرتی تھی۔۔۔ مجھے لگتا ہے شاید کہانی کہنا میں نے انہی سے سیکھا۔
ایک رات جب گھر میں دعوت کے بعد ہم سب دادای اماں کے کمرے میں سونے کے لیے لیٹے تو جو فرمائش آئی وہ بہت مزیدار بھی تھی اور حیران کن بھی۔۔۔ یعنی گلاب جامن کی کہانی سنائیں۔۔۔ شاید دعوت میں گلاب جامن کھانے کے بعد ہی بچّوں کو اس بات کا خیال آیا ہوگا ۔۔۔ مجھے یاد ہے میں نے فوراً کہانی کا رُخ دادی امّاں کی طرف موڑ دیا تھا کہ آج ہم دادای امّاں کے کمرے میں ہیں تو وہی کہانی بھی سنائیں گی۔۔۔ دادی امّاں کی طرف سے مجھے یہ اطمینان تھا کہ ان کی معلومات بھی خوب ہیں اور وہ کتابیں بھی بہت پڑھتی ہیں تو یقیناًانہوں نے گلاب جامن کے بارے میں بھی پڑھا ہوگا۔
دادی اماں نے کہانی کچھ اس طرح شرو ع کی:
اب سے کئی سو سال پہلے کا ذکر ہے جب مغل بادشاہ ایران اور افغانستان سے ہوتے ہندوستان آئے اور اس علاقے کو فتح کر کے یہاں پر حکومت کرنے لگے تھے۔۔۔ جب وہ یہاں آئے تو اپنے ساتھ اپنے باورچی بھی لے کر آئے جو ان کے لیے ان کی پسند کے کھانے بناتے، کبھی پورا بکرا بھونتے تو کبھی بریانی بناتے۔۔۔ طرح طرح کے کھانے دسترخوان پر سجائے جاتے اور سب کو کھلائے جاتے۔۔۔ کھانے کے بعد سب کا دل چاہتا کہ کوئی میٹھا بھی کھایا جائے۔۔۔ جیسے اب تمہارا اور ہمارا دل چاہتا ہے۔۔۔ کھانے کے بعد میٹھا پیش کرنے کا رواج بھی مغل بادشاہوں نے ڈالا تھا۔۔۔ ہم نے کتابوں میں پڑھا ہے کہ اکبر بادشاہ کا اپنا کچن گارڈن تھا اور پودوں میں پانی کے بجائے گلاب کا عرق ڈالا جاتا تھا تاکہ سبزی کا مزا اور خوشبو زیادہ اچھی ہو۔۔۔ یہ سن کر ایک بچے نے کہا مگر دادای امّاں ہمیں تو گلاب جامن کی کہانی سنائیے۔۔۔
دادی امّاں تھوڑا ناراض ہوئیں کہ ’’ تم تو زبان پکڑتے ہو ‘‘ مگر پھر ہنس کر کہنے لگیں دراصل گلاب جامن رشتے دار ہے۔ ایران ، ترکی اور اس کے اوپر کے علاقوں کی مٹھائیوں کی۔۔۔ ایران، افغانستان میں ہوتی ہے بامیا ۔۔۔ جو پکوڑوں کی طرح تل کر شیرے میں یعنی شکر کے شربت میں ڈال دیتے ہیں اور ایک مٹھائی ہوتی ہے جسے عرب کہتے ہیں ’’لقمۃ القاضی‘‘ جس کا ذکر قدیم کتابوں میں ملتا ہے۔ اسے بھی پکوڑوں کی طرح تل کر شکر کے شربت میں ڈال دیتے تھے اور کئی گھنٹے اس میں ڈبونے کے بعد نکال کر پسی ہوئی دارچینی اور تل چھڑک کر پیش کرتے تھے۔۔۔ مگر جب یہی مٹھائی ہندوستان پہنچی تو اس کا نام بدل گیا اور عربی کے بجائے فارسی اور ہندی کو ملا دیا گیا۔۔۔ کیونکہ گلاب اورجامن ۔ گلاب جامن کے شیرے میں گلاب کا عرق ڈلتا تھا اس لیے وہاں سے تو آیا گلاب اور ایک پھل ہوتا ہے جامن۔۔۔ جو تمہارے لیے بھی ابّا لے کر آتے ہیں اور جس پر نمک چھڑک کر کھاتے ہیں، اس کا رنگ بتاؤ کیسا ہوتا ہے؟
سب بچے کہنے لگے گلاب جامن جیسا۔۔۔ بس اس طرح دو نام مل کر ایک نام بن گیا۔۔۔ اب گلاب جامن گرما گرم کھاؤ تو بھی مزے کی اور ٹھنڈی کھاؤ تو بھی مزیدار۔
بچوں نے پوچھا کہ کیا گلاب جامن صرف ہندوستان پاکستان میں ملتی ہے یا کسی اور جگہ بھی بنائی جاتی ہے؟
دادی امّاں نے جواب دیا پہلے تو صرف ہندوستان، پاکستان کے آس پاس کے ملکوں میں ملتی تھی مگر اب تو شاید پوری دنیا میں ملنے لگی ہے، مجھے یاد ہے جب تمہارے دادا پاکستان بننے سے پہلے نیپال گئے تھے تو انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ نیپال میں گلاب جامن کو لال موہن کہتے ہیں۔
بچوں نے پوچھا ’’کیا آپ کو گلاب جامن بنانی آتی ہے؟‘‘
دادی امّاں نے جواب دیا ’’بالکل آتی ہے۔ پہلے تو ہر چیز گھر میں ہی بنائی جاتی تھی۔۔۔کھوئے میں تھوڑا سا میدہ اور سوڈا ملا کر پانی سے گوندھ لو، پھر چھوٹی چھوٹی گولیاں بنا کر درمیانی آنچ میں تل لو، دو پیالی پانی میں شکر، الائچی اور زعفران ڈال کر شیرہ بناؤ اور پھر ذرا گرم شیرے میں گلاب کا عرق ملا کر تلی ہوئی گلاب جامن کو دو سے تین گھنٹے کے لیے بھگو دو۔ اس طرح گلاب جامن کی چھوٹی سی گولی شیرہ پی کر بڑی ہو جائے گی پھر ڈش میں نکال کر پستے بادام سے سجا کر پیش کر دو۔
مجھے آج بھی یاد ہے کہ دادی امّاں نے ہمیں گلاب جامن بنانے کی کچھ ترکیبیں بھی بتائی تھیں، انہوں نے کہا تھا کہ:
* گلاب جامن کے کھوئے کو بہت زیادہ نہیں گوندھنا چاہیے
* نرم گلاب جامن بنانے ہوں تو گلاب جامن کی گولیاں بنا کر دس منٹ کے لیے رکھنے کے بعد تلنا چاہیے
* تیل کو بھی تیز گرم مت کرنا ورنہ گلاب جامن باہر سے سرخ ہو جائے گی اور اندر سے کچی رہے گی

جب میں اپنی یادوں کو لکھتے ہوئے ’’لقمۃ القاضی‘‘ کے بارے میں ڈھونڈ رہی تھی تو پتہ چلا کہ ’’لقمۃ القاضی‘‘ کا ذکر 13 ویں صدی میں البغدادی نے کیا ہے۔ ترکی زبان میں اور عربی میں لقمہ کا مطلب ہوتا ہے کسی چیز سے منہ بھر جانا۔۔۔ تو پہلے تو ایسی ہی بڑی بڑی گلاب جامن ملا کرتی تھیں کہ اگر ایک پوری منہ میں رکھ لی تو کئی منٹ کے لیے منہ بند ہوگیا۔۔۔ مگر اب توbite size گلاب جامنیں آگئی ہیں جنہیں لوگ پیار سے گلبی(gulbi) کہہ کر پکارتے ہیں۔ کراچی ہی کی کئی دکانوں پر اب stuffed گلاب جامن بھی ملنے لگی ہیں جن میں کریم یا خشک میوہ بھر دیا جاتا ہے تاکہ جب کاٹ کر رکھا جائے تو زیادہ خوبصورت لگے اور کھانے والے کو بھی ایک sweet surprise ملے۔

دفاعی صنعت

ان دنوں پاکستان میں حکومت گرانے اور بدعنوانی کا مال بچانے کی مہم زوروں پر ہے لیکن بین الاقوامی سطح پر جو بڑی تبدیلی یہ

مکمل پڑھیے

جنازے پر سیاست

جوانی میں جنازوں پر جانے سے وحشت ہوتی تھی۔ کبھی غم، کبھی غصہ، اور ہمیشہ زندگی کی بے ثباتی کا احساس۔ اب ایسا کچھ نہیں

مکمل پڑھیے
Close Menu