پاکستان کی رول ماڈل خواتین

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: نیّر رُباب

علامہ اقبال نے کہا تھا ’’وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ‘‘ اور یہ رنگ ازل سے ابد تک کے لیے ہماری دنیا میں لگایا جا چکا ہے۔ عورت صرف رنگ ہی نہیں بلکہ خوشبو بھی ہے اور یہ خوشبو کئی طرح سے دنیا میں پھیلی ہے، تعلیم ، قابلیت اور صلاحیتوں میں عورت کبھی کسی سے پیچھے نہیں رہی جبکہ اس پر گھر اور بچوں کی ذمہ داریاں بھی برقرار رہیں ۔ مرد نے اگر کوئی کارنامہ کیا تو بس وہی کارنامہ کیا۔ عورت نے اگر کوئی کام کر کے دکھایا تو اس کے ساتھ گھر اور بچوں اور خاندان کو بھی جوڑ کر رکھا۔ ہماری تاریخ ایسی خواتین سے بھری ہوئی ہے جو ہمارے لیے ایک رول ماڈل ہیں۔۔۔
مگر آج اکیسویں صدی میں بیٹھے ہم دنیا پر نہیں صرف پاکستان کی نوجوان لڑکیوں پر نظر ڈالیں تو سمجھ آتا ہے کہ پاکستان میں بھی لڑکیاں کسی بھی ترقی یا فتہ یورپی ملک سے پیچھے نہیں ہیں ، آج اس موقعے پر میں نے سوچا کہ کیوں نہ پاکستان کی چند بیٹیوں کا آپ کے سامنے ذکر کردیا جائے۔
ملالہ یوسف زئی: جسے اپنی جرأت اور تعلیم کے پھیلاؤ میں اپنی کوششوں پر 2012ء میں حکومتِ پاکستان نے ستارۂ شجاعت سے نوازا جبکہ 2014ء میں نوبل امن پرائز دیا گیا۔ ملالہ نے ان دو بڑے انعامات کے علاوہ دنیا بھر سے درجنوں ایوارڈز اور انعامات حاصل کیے ہیں۔
روشین خان: ایک ایسی لڑکی جس نے صرف اپنے شوق کی خاطر اسکوبا ڈائیونگ کی فیلڈ میں اپنے آپ کو آزمایا جسے صرف مردوں کے لیے مخصوص سمجھا جاتا تھا اور ابھی صرف دس سال سے دنیا کی خواتین نے اس طرف آنا شروع کیا ہے۔ روشین پاکستان کی پہلی اور واحد نائٹروکس ڈائیونگ انسٹرکٹر ہے۔ روشین گہرے سمندر میں غوطہ لگا کر جب وہاں کی رنگا رنگ دنیا دیکھتی ہے تو باہر آنے کو دل نہیں چاہتا مگر انسان خشکی کا باشندہ ہے اس لیے باہر آنا ہی پڑتا ہے۔
نمیرہ سلیم: پہلی پاکستانی خاتون ہین جنہیں space میں جانے کا موقع ملا، اور انہیں حکومتِ پاکستان نے پہلی پاکستانی خلا باز تسلیم کیا اور2011ء میں انہیں تمغۂ امتیاز بھی دیا گیا۔ نمیرہ کا امریکی اسپیس شٹل میں جانا کوئی ہنسی کھیل نہیں تھا بلکہ اس کے لیے انہیں کڑے امتحان اور سخت ٹریننگ کے مراحل سے بھی گذرنا پڑا تھا۔
نسیم حمید: 2010ء سے پہلے نسیم حمید کو کوئی نہیں جانتا تھا اور اچانک ایک دن یہ خاموش سی دبلی پتلی لڑکی ریس ٹریک کی ملکہ بن کر سب کے سامنے تھی۔ جب نسیم حمید کو جنوبی ایشیا کی تیز رفتار ترین لڑکی کا خطاب دیا گیا۔ نسیم نے 100 میٹر ریس میں سونے کا تمغہ حاصل کیا اور ایک ریکارڈ قائم کیا۔
صدف امین: 22 سال کی ایک طالبہ جو فیصل آباد یونیورسٹی میں زراعت پڑھتی ہے۔ صدف نے دور دراز غریب کسانوں کے لئے ایک ایسا سسٹم بنایا جو موبائل فون پر تمام سہولتیں فراہم کرتا ہے۔ اسی لیے اس کو نام دیا گیا موبائل ایگریکلچر فارمنگ سسٹم۔ اب بیج کے بارے میں پوچھنا ہو یا پانی دینے کے بارے میں سب کچھ اس سسٹم سے معلوم کیا جا سکتا ہے اور فصل کو بہتر بنایا جا سکتا ہے ۔
راحیلہ درانی: بلوچستان اسمبلی کی پہلی خاتون اسپیکر، جنہیں تمام ممبران نے متفقہ اسپیکر منتخب کیا اور یہ اس اسمبلی کی14 ویں اسپیکر ہیں۔
ڈاکٹر مہر تاج روغنی: خیبر پختون خواہ کی سب سے پہلی منتخب ڈپٹی اسپیکر ہیں۔
منیبہ مزاری: ایک حادثے میں چلنے پھرنے سے معذور ہو جانے کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ آپ نے انہیں رمضان ٹرانسمیشن میں پی ٹی وی پر دیکھا ہوگا۔ 2015ء میں بی بی سی نے دنیا کی 100 متاثر کن خواتین کی فہرست شائع کی جس میں ایک نام منیبہ مزاری کا بھی تھا۔
شمیم اختر: پاکستان کی پہلی خاتون ٹرک ڈرائیور، جنہوں نے اپنا گھر چلانے کے لیے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا بلکہ ڈرائیونگ شروع کی اور ایک بالکل نئے میدان میں سر اٹھا کر کام کیا اور عزت کمائی۔
راحیلہ زرمین: کوئٹہ کی رہنے والی، پاکستان کی پہلی خاتون فٹ بالر جو بنگلہ دیش کے شیخ کمال انٹر نیشنل کلب چیمپئن شپ کے کوچنگ اسٹاف میں شامل ہیں۔ یہ بتادوں کہ یہ کلب مردوں کو فٹ بال سکھاتا ہے۔ 23 سالہ راحیلہ کوشش کر رہی ہے کہ اسے FIFA ماسٹرز ڈگری حاصل ہو جائے تاکہ وہ دنیا بھر کے لیے کام کر سکے۔
حدیقہ بشیر: حدیقہ کا تعلق سوات سے ہے، جہاں کے رسم و رواج آج بھی زمانۂ قدیم کی داستان سناتے ہیں۔ حدیقہ نے پاکستان میں کم عمری کی شادیاں رکوانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ وہ اپنی کوششوں سے اپنے علاقے میں بہت سی کم عمری کی شادیاں رکوا چکی ہے۔ حدیقہ کی اس جدو جہد کے لیے انہیں تیسرا محمد علی انسانیت ایوارڈ دیا گیا۔ اس ایوارڈ کو حاصل کرنے والی یہ سب سے کم عمر شخصیت ہیں۔
تبسم عدنان: تبسم کا تعلق بھی سوات کے علاقے سے ہی ہے اور خواتین کے حقوق کے لیے ان کی دلیرانہ کوششوں کے لیے انہیں امریکہ میں بہادری ایوارڈ دیا گیا۔ تبسم نے اپنے علاقے میں پہلی بار ایک ایسا جرگہ قائم کیا ہے جو صرف خواتین پر مشتمل ہے۔ یہ پاکستان کا سب سے پہلا خاتون جرگہ ہے، جو اپنے فیصلے خود کرتا ہے۔ اور اس علاقے میں ہی نہیں بلکہ قبائلی نظام میں ایک بہت بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔
ثمینہ بیگ: پاکستان کی پہلی اور نوجوان مسلمان خاتون جس نے دنیا کی سب سے بلند چوٹی کو سر کرنے کا کارنامہ سر انجام دیا۔ 2013ء میں ثمینہ نے اپنے بھائی کے ساتھ ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی سر کی اور وہاں پاکستان کا پرچم لہرا کر ایک تاریخ رقم کر دی ۔
شمشاد اختر: پاکستان کی پہلی اور اب تک و احد خاتون بینکر ہیں جنہیں اسٹیٹ بنک آف پاکستان کا گورنر ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ بینکاری میں مہارت رکھنے والی شمشاد اختر کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ پہلی پاکستانی خاتون ہیں جنہیں ورلڈ بنک میں نائب صدر برائے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے عہدے پر بھی کام کیا۔
پاکستان کے گوشے گوشے میں ایسے لعل و جواہر موجود ہیں جنہوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ اوپر درج چند نام محض ایک جھلک ہیں، آپ کے لیے آگے بڑھنے کا حوصلہ ہیں۔ اسی لیے ہم نے کوشش کی کہ زندگی کے ہر شعبے سے خواتین کا انتخاب کریں تاکہ آپ بھی اپنے ارد گرد موجود وسائل میں آگے بڑھنے کا خواب دیکھیں۔ کیونکہ خواب دیکھنا کسی امیر کی میراث نہیں۔ کسی کسی نے کہا تھا کہ وہ خواب نہ دیکھیں جو نیند میں آئیں بلکہ وہ خواب دیکھیں جو نیند اڑا دیں اور پھر اس کو پورا کرنے کی دھن میں لگ جائیں۔

Close Menu