تھرپارکر

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: نیّر رُباب

یہ1980ء کی دھائی کی بات ہے جب ایم اے فائنل کا آخری پرچہ دینے کے بعد ہی جاوید جبار کی ایڈ ورٹائزنگ ایجنسی (MNJ) میں کاپی کنسیپٹ رائٹر کی نوکری مل گئی تھی۔۔۔ اسی نوکری کے تحت پہلی بار مجھے تھرپار کر دیکھنے کا موقع ملا جس کا نقش آج 2019ء کے اوائل پر بھی اتنا ہی گہرا ہے ، جتنا روزِ اول تھا۔
تھرپارکر کے اس سفر میں ہمارے ساتھ جاوید جبار، ڈاکٹر صلاح الدین، ڈاکٹر نسیم صلاح الدین اور ایک ڈینٹسٹ ڈاکٹر عارف علوی بھی تھے جو آج صدرِ پاکستان ہیں۔ ہم ایک گاڑی کے مسافر تھے اور دوسری گاڑی میں کیمرہ مین ، آفس کے لوگ، اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے لوگ تھے۔
ہم لوگ میرپورخاص سے عمر کوٹ ، مٹھی ، اسلام کوٹ اور پھر نگر پارکر تک گئے تھے، جون کا مہینہ تھا، صحرا میں شدید گرمی تھی مگر معلوم نہیں کیوں گرمی کا احساس نہیں تھا، راتیں حسین اور خنک تھیں۔ پہلی بار صحرا میں پورے چاند کی چاندنی میں ریت کے ذرّوں کو چمکتے دیکھا۔
اسی راستے میں بہت سے تجربات ہوئے، ہم ٹنڈو کولاچی میں بھی ٹہرے، جہاں کے ایک نوجوان نے اپنی محنت سے ڈاکٹر بن کر اپنے گاؤں کی خدمت کا بیڑا اٹھایا تھا۔۔۔ گاؤں کی چوپال میں پلنگ بچھے تھے اور رنگین رلّیاں بچھا کر ہمیں ان پر بٹھایا گیا اور ایک چھوٹی سی استقبالیہ تقریب ہوئی تھی، کچھ تقریریں بھی کی گئی تھیں جو مجھے اب یاد نہیں ہیں۔
اس کے بعد ہم تین چار خواتین ڈاکٹر حسین بخش کولاچی کے گھر چلی گئیں جہاں بہت سی عورتیں ہم سے ملنے کے لیے جمع تھیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے میں نے ڈاکٹر کولاچی کی بہن نصیب خاتون سے ٹوائلیٹ کا پوچھا تھا اور وہ میرے ہاتھ میں پانی سے بھرا لوٹا تھما کر ایک دروازے کی طرف اشارہ کر کے چلی گئی تھی۔۔۔ میں نے دروازہ کھولا اور میں گھر سے باہر تھی۔۔۔ میں نے سوچا کہ شاید میں نے غلط دروازہ کھول لیا، میں واپس آئی اور پھر کھڑے ہوکر سوچا کہ اشارہ کس طرف تھا، دوبارہ دروازہ کھولا تو وہی باہر کھیتوں کا منظرتھا۔ البتہ اس بار غور کیا کہ سائڈ میں اینٹوں کی ایک کچی دیوارتھی اور اس کے پیچھے کچے فرش پر دو اینٹیں رکھی ہوئی تھیں، وہ ٹوائلٹ چھوٹے کام کے لیے تھا اور دوسرے کام کے لئے الصبح کھیتوں میں ہی جانا پڑتا تھا۔
ڈاکٹر کولاچی کا گھر اس گوٹھ کے چند پکے گھروں میں سے ایک تھا، جہاں بہت اچھے انداز میں ہماری تواضع کی گئی تھی۔ وہ چائے اور بسکٹ اور کھانا آج بھی یاد ہے، جو بھی تھا بہت مزیدار تھا۔
تھرپار کر کے اس سفر کی بہت سی یادیں ہیں مگر مقامات مجھے یاد نہیں ہیں۔
ایک چاندنی رات میں ہم نے مائی بھاگی کو سامنے بیٹھ کر سنا تھا، کسی بھی ساؤنڈ سسٹم کے بغیر ان کی آواز نے ایک سماں باندھ دیا تھا، دو ہارمونیئم اور ایک ڈھول کے ساتھ مائی بھاگی کی آواز صحرا میں گونج رہی تھی اور ہم شہری لوگ ایک سحر کے عالم میں ان کو سن رہے تھے۔
یہیں جب ہم ایک خاص تھری گھر کو دیکھنے گئے تو احساس ہوا تھا کہ باہر کی شدید گرمی کے باوجود وہ گھر اندر سے کتنا ٹھنڈا تھا۔ اس ایک گول جھونپڑے کے اندر پوری دنیا تھا، ایک کونے میں اناج کا مٹکا تھا اور پاس ہی ایک چکی رکھی ہوئی تھی۔۔۔ تازہ آٹے کی تازہ روٹی جو شہر والوں کو نصیب نہیں ہوتی۔
میں نے پوچھا تھا کہ کھانے پینے کی چیزوں اور دودھ دہی وغیرہ کو کیسے محفوظ رکھتے ہو؟
تب اس نے مجھے گھر کے باہر رکھا ہوا اپنا مٹی کا فرج دکھایا تھا۔ چار لکڑیوں کے اسٹینڈ پر رکھا، مٹی کا بنا ہوا، جس کا دروازہ بھی مٹی کا تھا، اس نے مجھے کھول کر دکھا یا اندر مٹی کے ہی سلیب لگے ہوئے تھے اور دودھ دہی کے پیالے رکھے تھے۔ اس نے بتایا کہ اس میں جو چیز بھی رکھیں وہ دو سے تین دن تک خراب نہیں ہوتیں۔ گرم ہوا اسے بھی ہمارے گھروں کی طرح اندر سے ٹھنڈا رکھتی ہے۔
تین چار روز کے اس سفر میں ہم انگریزوں کے بنائے ہوئے ریسٹ ہاؤسز میں بھی ٹہرے تھے، اونچی اونچی چھتوں والے بڑے بڑے کمرے اور دو دروازوں والے کشادہ باتھ روم جس میں شاور تھا اور کھڈی سسٹم نہیں تھا۔ جس کا ایک دروازہ کمرے میں کھلتا تھا اور دوسرا باہر صحن میں تاکہ صفائی کرنے والا آکر صفائی کر سکے اور پانی بھر کر رکھ سکے۔ جس کے صحن میں نہ جانے کس چیز کا بہت بڑا درخت لگا ہوا تھا اور میں رات گئے تک اس خوبصورت منظر میں بیٹھ کر کہانیاں لکھتی رہی تھی۔
1980ء کی دھائی میں گاؤں کے عام گھروں میں فلش سسٹم نہیں تھا اور تب میں نے وہاں پر صفائی کا ایک منفرد نظام دیکھا جو حیران کن تھا۔ ایک گدھے کے پیچھے ایک ڈرم بندھا ہوا تھا اور اس کے نیچے بنے سوراخ سے کچھ بہتا جا رہا تھا۔ ۔۔ اور ایک لڑکا اس گدھے کو سارے کچے میدانوں ، چوڑی سڑکوں اور راستوں پر گھمائے جا رہا تھا۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ یہ سب گھروں کا جمع شدہ فضلہ ہے جو اس طرح ٹھکانے لگایا جاتا ہے۔ اور میں سوچ رہی تھی کہ یہاں پر ہمارے میڈیکل کیمپ سے کیا ہوگا؟ پہلے تو انہیں صحت اور صفائی کا ماحول بنانے کی تربیت دینا ہوگی۔
مجھے یہ بھی یاد ہے کہ پتہ نہیں کس گاؤں کے ایک کمرے کے اسکول کے چھوٹے سے چبوترے پر بیٹھ کر ہم رات کا کھانا کھا رہے تھے، دسترخوان پر پانی نہ دیکھ کر ہمارے ایک ساتھی نے پانی مانگا اور چند لمحے بعد ایک جگ ہمارے سامنے موجود تھا۔۔۔ اور ہم یہ سوچ رہے تھے کہ یہ پانی ہے یا سکنجبین، مگر اتنی جلدی سکنجبین بنائی نہیں جا سکتی۔ آخر ہم نے پوچھ ہی لیا تھا کہ جگ میں کیا ہے؟
جواب ملا پانی ہے۔
کہاں سے لائے ہو؟
تو جواب دیا یہ پیچھے پانی کی نالی سے۔ ہم نے چبوترے کے پیچھے جھانکا اور پودوں کے ساتھ بہتے پانی کو دیکھ کر خاموش ہو گئے۔ ہم میں سے کسی نے پانی نہیں پیا، کیونکہ یہ ہماری اس سفر کی پہلی رات تھی۔۔۔ مگر اس کے بعد باقی تمام دن ہم گاؤں کا پانی ہی پیتے رہے۔ کسی نے آج کی طرح ڈرنکنگ واٹر کی فرمائش نہیں کی اور کسی کا پیٹ بھی خراب نہیں ہوا تھا۔
اس سفر میں ہم نے تھرپارکر میں بنے قدیم مندر بھی دیکھے جو صرف سال میں ایک بار جاگتے ہیں ، ان خاموش مساجد میں بھی گئے اور دو رکعت نماز ادا کی جو آج بھی یہ بتاتی ہیں کہ جب بنائی گئیں تو کس قدر حسین تھیں۔۔۔ ہم نے عمر کوٹ کا قلعہ بھی دیکھا تھا اور جب نگر پار کر گئے تو وہاں پہلی بار مٹی کے تیل سے چلنے والا فرج دیکھا، جو اسپتال میں رکھا تھا مگر خراب تھا، نمک کی خشک جھیل دیکھی تھی اور انڈیا پاکستان بارڈر پر لگے پلرز کے ساتھ کھڑے ہو کر تصویریں بھی کھنچوائی تھیں۔
زمین کا ہر حصہ خدا کی فیاضی اور قدرت کا شاہکار ہے، اس بات کا اندازہ تھرپارکر جا کر ہوا جہاں خربوزوں کی بیلیں جنگلوں میں اگتی ہیں اور جن پر لگے خربوزے ہم نے کھائے بھی تھے، تھوڑے سخت تھے مگر مزیدار تھے۔۔۔ مجھے یاد ہے ہم نگر پار کر میں تھے، دوپہر کی دعوت تھی، ہم سب کھانا کھا رہے تھے کہ ایک صاحب بہت دور گاؤں سے پیدل چل کر وہاں پہنچے تھے اور ہم سب کے ذہن میں ایک سوال آیا تھا کہ اتنی گرمی میں ہیٹ اسٹروک نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا تھا کہ نہیں ہم لوگوں کو ہیٹ اسٹروک نہیں ہوتا کیونکہ ہم سب کے پاس یہ جڑ ہوتی ہے، جو وہاں اگنے والے کسی درخت یا پودے کی تھی، مجھے نام یاد نہیں رہا۔ وہ ایک موٹی اروی جیسی جڑ تھی، جسے انہوں نے پانی کے گلاس میں ڈالا تو وہ کچھ دیر بعد گدلا سا ہو گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم یہ پانی پی لیتے ہیں، اس پانی میں ایسا لگتا تھا جیسے گلوکوز حل کر دیا گیا ہو۔ قدرت کا کرشمہ تھا۔ موجود وسائل سے بنا پیسہ لگائے گرمی سے بچت کا حل اللہ نے دے دیا تھا۔
تھرپارکر کے سفر کے دوران جب ہم لوگ ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں جا رہے تھے تو راستے میں شام ہو گئی تھی اور ہم راستہ بھول گئے تھے۔ ہمیں ایک آدمی ملا جو اونٹ چرا رہا تھا اور اس کے ساتھ دو تین آدمی اور بھی تھے مگر وہ اپنے لباس اور انداز سے پڑھا لکھا لگ رہا تھا ، جاوید جبار صاحب نے اس شخص سے گاؤں کا نام لے کر راستہ پوچھا تو اس نے کہا آپ غلط طرف نکل آئے ہیں، چلیں میں آپ کو بتا دیتا ہوں، وہ ہمارے ساتھ گاڑی میں آگے بیٹھ گیا، صحرا کی کچی سڑک پر کوئی دس کلومیٹر دور جا کر اس نے کہا اب آپ سامنے والے راستے پر جائیں گے تو وہ گاؤں آجائے گا۔ ہم پریشان تھے کہ یہ بھلا انسان واپس کیسے جائے گا؟ کیا ہمیں ہی چھوڑنا پڑے گا، یہاں تو کوئی سواری بھی نہیں ہے۔ سارے شہری سوالات ذہن میں اٹھ رہے تھے، اور یہ ساری باتیں انگریزی میں ہو رہی تھیں تاکہ وہ پریشان نہ ہو۔ آخر جاوید صاحب نے اس کا بہت شکریہ ادا کیا اور پوچھا کہ آپ کی واپسی کیسے ہوگی، کیا ہم ۔۔۔۔؟؟؟ وہ شخص جاوید صاحب کی بات سن کر مسکرایا اور بولا ( وہ جملہ یاد کرکے آج بھی میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے) ’’میرے کوئی پچاس اونٹ یہاں قریب ہی چرنے آئے ہوئے ہیں، بس کسی اونٹ کو پکڑوں گا اور اس پر بیٹھ کر چلا جاؤں گا۔‘‘
ہم سب کے منہ حیرت سے کھلے اور پھر ہنس دیے۔ اس کے چلے جانے کے بعد ہم سب یہی بات کرتے رہے کہ ہم کتنے شہری ہو چکے ہیں، ہمارے ذہن میں یہ خیال آ ہی نہیں سکتا تھا۔
تھرپارکار ایک طلسمی صحرا ہے، جو یہاں ایک بار قدم رکھتا ہے وہ اس کے عشق میں گرفتار ہو جاتا ہے۔۔۔ تھرپار کر کے اس سفر کے برسوں بعد مجھے پی ٹی وی کے لیے ایک منی سیریل لکھنے کا اتفاق ہوا جو تھر پار کر کے پس منظر میں ہی لکھا گیا تھا اور تب مجھے وہ سب لکھنا بہت آسان لگا تھا۔۔۔ کیونکہ لکھتے وقت میں کھلی آنکھوں سے ان علاقوں کو اس کے رہن سہن کو دیکھ سکتی تھی۔۔۔ اور پھر کئی برس گذرنے کے بعد رہنما فیملی پلاننگ کی میٹنگ میں ڈاکٹر کولاچی سے ملاقات ہوئی تو مجھے تھرپارکر کا وہ سفر یاد آگیا۔۔۔ اور ڈاکٹر کولاچی کی ہی فرمائش پر میں اپنی یہ یادیں لکھ رہی ہوں، ان کی وہ بہن جس سے ملاقات ہوئی تھی، ٹنڈو کولاچی کی پہلی ٹیچر بنی، اب وہاں ایک اسکول ہے ، کالج ہے اور صحت کی سہولتیں بھی میسر ہیں۔۔۔ اور یہ سب ایک گھرانے کی وجہ سے اور اس پہلے شخص اور پہلے قدم کی وجہ سے ہے جو حسین بخش کولاچی نے اٹھایا تھا اور دنیا کو بتایا تھا کہ کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔

تھرپارکر

یہ1980ء کی دھائی کی بات ہے جب ایم اے فائنل کا آخری پرچہ دینے کے بعد ہی جاوید جبار کی ایڈ ورٹائزنگ ایجنسی (MNJ) میں

مکمل پڑھیے
Close Menu