تعلیم بنی کھٹے انگور!

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: نیّر رُباب

ان دنوں ایک ایس ایم ایس میسج زور و شور سے گردش میں کر رہا ہے ’’علم بڑی دولت ہے۔ اگر اس کے حقیقی معنی جاننا ہیں تو پرائیویٹ اسکول مالکان سے پوچھو۔‘‘
دوسری طرف جرمنی میں ڈاکٹروں انجینئروں، ججوں نے جرمن چانسلر سے مطالبہ کیا کہ ان کی تنخوہیں بھی اساتذہ کے برابر کی جائیں تو،چانسلر نے نہایت اطمینان سے جواب دیا کہ جن لوگوں کی وجہ سے آج آپ اس مقام پر ہیں ان کے برابر آپ کی تنخواہ کیسے کی جا سکتی ہے؟ ایسی باتیں سن کر دل چاہتا ہے کہ کاش ہم بھی ایک استاد ہوتے اور ہمارے کے ملک کے حکمراں بھی اساتذہ کی اہمیت پر اسی طرح سامنے والوں کو خاموش کر سکتے۔۔۔ اور ہمارے ٹی وی چینلز پر وہ فوٹیج نہ چلتی جس میں طلبا اپنے پرنسپل سے نامناسب رویہ اختیار کیے نظر آتے ہیں۔
زمانے کے انداز بدل گئے۔۔۔ صبح شام بدل گئے ، کھانے پینے پہنے اوڑھنے اور سلام دعا کے آداب بھی بدل گئے ۔۔۔ ہمارا معاشرہ اب سے چند سال پہلے والا معاشرہ نہیں رہا جب معلومات اکھٹا کرنے اور رٹنے کو علم نہیں کہا جاتا تھا بلکہ ان معلومات کو جذب کرنے اور ان پر فکر کرنے کو تعلیم کہا جاتا تھا۔۔۔ کسی نے کہا تھا اور میرے ذہن میں رہ گیا پو چھا گیا کہ تعلیم کیا ہے ، جواب ملا جو یہ سوچ کر بیٹھا ہے کہ اسے سب معلوم ہے اس میں جستجو کو جگا دے اور جو اپنی جستجو کے جواب کی تلاش میں ہے اس کو حل بتا کر پر سکون کر دے!!!! یہی تعلیم ہے۔‘‘
کیا ہمارے پرائمری اور سیکنڈری اسکول، کالج، یونیورسٹیاں تعلیم کے اس راستے پر گامزن ہیں۔۔۔ کیا ہم پرائمری اسکول میں ، جہاں بچوں کی بنیاد بنتی ہے، والدین کو اس بات پر قائل کر پاتے ہیں کہ ہر بچہ مختلف ہوتا ہے ، ہر بچہ ہر مضمون میں پرفیکٹ نہیں ہو سکتا، ہر بچے نے بڑے ہوکر مختلف شعبوں میں جانا ہے کسی کو آرٹسٹ بننا ہے تو کسی کو آرکیٹیکٹ، کوئی آثارِ قدیمہ کا ماہر ہو سکتا ہے تو کوئی خوبصورت شاعر، کوئی تاریخ داں بنے گا تو کوئی سمندر کی تہہ سے دانائی کے موتی نکال لائے گا۔ مجھے آج بھی یاد ہے جب میں اپنی بیٹی کا رزلٹ لینے گئی تھی تو وہاں موجود ایک ماں نے اپنے چھوٹے سے بچے کو جو میری بیٹی کی ہی کلاس میں تھا اس بات پر پٹائی کر دی تھی کہ وہ صرف ایک نمبر سے سیکنڈ کیوں آیا۔ ٹیچر نے اور سب نے روکنے کی کوشش کی تھی مگر وہ ماں تو جیسے جنونی ہوگئی تھی کیونکہ اس کو فکر تھی کہ خاندان میں سہیلیوں میں اس کی ساکھ خراب ہو جائے گی اور یہ کسی چھوٹے موٹے اسکول کی بات نہیں بلکہ ایک ایسے اسکول کی بات ہے جس کا ایک نام ہے اور جہاں پڑھنے والے بچوں کے والدین بڑی بڑی ڈگریاں رکھتے ہیں۔۔۔ ایسے لوگوں کو دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ ڈگری یافتہ اور تعلیم یافتہ میں کیا فرق ہوتا ہے؟ میں نے کبھی اپنے بچوں پر یہ دباؤ نہیں ڈالا کہ انہیں فرسٹ آنا ہے، انہیں یہ سمجھایا کہ 25 بچوں کی کلاس میں کوئی ایک فرسٹ ہوگا اور باری باری سب ہی کو فرسٹ آنے کا حق ہے۔۔۔ تو اس طرح اگر ایک کلاس میں 25 بچے ہی ہوں تب بھی 16 جماعتیں پاس کرنے تک سارے فرسٹ نہیں آسکتے۔۔۔ تو بس مزے کرو اور اپنی کتابوں کو کہانی کی کتاب سمجھ کر پڑھا کرو۔
میرے خیال میں، آج کے دور میں جو سب سے مظلوم ہے وہ بیچارا بچہ ہے جو ماں باپ کے احساسِ فخر کو زندہ رکھنے کی چکی میں پسا جا رہا ہے۔ ابا نوٹ بنانے کی مشین بنے ہو ئے ہیں اور اما ں ڈنڈا بردار ہیں۔۔۔ چار سال کے بچے پر یہ پریشر ہے کہ اسے98% مارکس لانے ہیں۔ کوئی پوچھے کہ کیا اس کو98 تک گنتی بھی آتی ہے تو جواب ہوگا، سناٹا۔
ہر گھر میں رٹّو طوطوں کی فوج تیار کی جا رہی ہے اور جب یہی طوطے، ہزار نفسیاتی مسائل کا شکار ہو کر، کلاس کے سامنے اپنی عزت کا فالودہ بنوا کر کالج میں پہنچتے ہیں تو ان کے گریڈ ایسے نیچے آتے ہیں جیسے کوئی کٹی پتنگ۔۔۔ تب کالج بدنام ہوجاتا ہے، کالج کے اساتذہ اور کالج یا یونیورسٹی کا ماحول۔۔۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ اب طوطا پنجرے میں بند نہیں رہا، اب کورس کی صرف ایک کتاب نہیں ہے جسے رٹ لیا جائے۔ اب معلومات کو جذب کرنا ہے، جستجو کرنی ہے، لکھے ہوئے لفظوں میں چھپے تہہ در تہہ معنوں کو تلاش کرنا ہے سمجھنا ہے اور پھر بیان بھی کرنا ہے۔
اس حوالے سے میری بہت سارے والدین سے بات ہوئی اور میں نے ان سے پوچھا کہ جب آپ کا پہلا بچہ پیدا ہوا تب آپ کی عمر کیا تھی؟ جواب تھا 20 سال سے 32 سال۔۔۔ یعنی وہ بچہ آپ سے بیس تیس سال بعد کے زمانے کا ہے۔۔۔ یہ ڈیجیٹل ایج کا بچہ ہے، آپ نے اس بچے جتنا جاننے کے لیے خود کتنی محنت کی؟ اور میرے اس سوال پر والدین کے منہ حیرت سے کھل جاتے ہیں۔۔۔
مسئلہ یہ ہے کہ جب والدین نے سوچنا چھوڑ دیا تو پھر بچوں کو سوچنا کیسے سکھائیں گے۔۔۔ اسلام کہتا ہے سوچو اور غور و فکر کرو، ہمارے چاروں طرف اللہ کی نشانیاں بکھری ہوئی ہیں۔ قرآن کے الفاظ پر غور کرو ۔۔۔ مثال کے طور پر قرآن میں پہاڑوں کو زمین کی میخیں ( کیلیں ) کہا گیا ہے۔ یہ ترجمہ میں نے بہت مرتبہ پڑھا تھا مگر اُس ایک لمحے میں اللہ کی رحمت تھی تب میں نے سوچا کہ یہاں پر میخ کا لفظ کیوں استعمال کیا گیا؟ پھر میں نے پہاڑوں اور زمین کی تہوں کے بارے میں گوگل کیا اور میرے سامنے یہ لفظ روشن ہو گیا۔ ہم جب دیوار میں کیل ٹھونکتے ہیں تو اس کا چھوٹا حصہ باہر رہتا ہے اور بڑا حصہ دیوار کے اندر چھپ جاتا ہے مگر اس کیل کو اتنی طاقت دیتا ہے کہ اس پر کوئی بھی وزنی چیز لٹکائی جا سکے۔ اسی طرح ہمارے پہاڑ ہیں جو جتنے اوپر ہیں اس سے کہیں زیادہ زمین کے اندر ہیں اور اس کو تھامے ہو ئے ہیں اسے مضبوط بنا رہے ہیں۔۔۔ کیا آج سائنس پڑھاتے ہوئے ہم اپنے بچوں کو قرآن کے ریفرینس دیتے ہیں۔۔۔ جواب ہوگا نہیں کیونکہ انہوں نے دونوں چیزوں کو جوڑنے کی کوشش ہی نہیں کی۔۔۔
دراصل تعلیم بھی ایک خاندان کی طرح ہوتی ہے۔۔۔ بہت سے رشتے ناطے ، قریبی، دور کے، ذات ، برادری ، دوستیاں، محلہ پڑوس۔۔۔ اسی طرح علم کی ساری شاخیں بھی ایک دوسرے سے الگ ہو کر بھی جڑی ہوئی ہیں۔۔۔ہر چیز میں ایک حساب کتاب ہے، چاہے وہ میتھس ہو ، کیمسٹری ہو، جغرافیہ ہو، زمین ، آسمان ، سورج ، چاند ستارے، جنگل درخت دریا سمندر ہر علم میں ایک کیلکولیشن کام کر رہی ہے اور سب ایک دوسرے سے بندھے ہوئے ہیں، انسانی رشتوں کی طرح۔
آج کی دنیا میں تعلیم کا انداز گریڈ اور A+ کی دوڑ سے نکل کر دوسری سمت جا رہا ہے۔ ہم کبھی پانچویں سمت کی بات کرتے تھے مگر اب multiple dimensions کی باتیں ہو رہی ہیں، ایسا بھی ہے کہ آفت زدہ علاقوں میں ( قدرتی ہوں یا انسانی) لوگوں کے ذہنی اور نفسیاتی مسائل کو حل کرنے کے لیے کاغذ قلم کا سہارا لیا جا رہا ہے۔۔۔ لکھو۔۔۔ جو تم نے دیکھا ، جو تم نے سنا، جو تم پر گذرا۔۔۔۔ لکھ ڈالو، بس اپنا دل کا بوجھ ہلکا کر لو۔۔۔ یہ کام اسکولوں میں کیا جا رہا ہے تاکہ ان بچوں کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔۔۔ کیا ہمارے بچوں میں یہ جرأت آسکے گی کہ وہ اپنے دل کا حال کاغذ پر لکھ سکیں اور کوئی ردِ عمل نہ ہو۔
ایک استاد نے کہا تھا کہ ہمارے پاس جب کوئی ذہین ، صحت مند ، پڑھے لکھے گھرانے کا بچہ آتا ہے تب ہمارا کام آسان ہو جاتا ہے۔۔۔ مگر۔۔۔ جب کوئی بچہ ایسے گھرانے سے آتا ہے جو ذہین ، صحت مند ، تعلیم یافتہ نہ ہوں ۔۔۔ تب ہمارا کام بہت اہم ہو جاتا ہے۔
میں اس بات کو پڑھ کر یہ سوچنے لگی کہ انہوں نے دو بچوں کا موازنہ کیا ۔۔۔ ایک کو ذہین اور صحت مند کہا مگر دوسرے کو کند ذہن ، بیمار اور جاہل نہیں کہا،
انہوں نے دونوں بچوں کو برابر رکھا اور کہا کہ پہلے کے ساتھ کام آسان اور دوسرے کے ساتھ کام اہم ہو جاتا ہے۔ زیادہ توجہ اس کو دینی ہے جسے زیادہ ضرورت ہے، فیورٹ اسے نہیں بنانا جس کے لیے یہ کام آسان ہے۔۔۔ مگر یہ سوچنے کی فرصت کس کو ہے۔۔۔ والدین اور استاد کی ذمہ داریوں کی جنگ آج بھی جاری ہے۔۔۔ اور ہمارے بچوں کے لیے تعلیم کے انگوروں کی کھٹاس بڑھتی جا رہی ہے۔۔۔
مگر امید کا دیا ہمیشہ روشن رہتا ہے اور ہمیں نا امیدی میں راستہ دکھاتا ہے ۔۔۔آج کی دنیا میں ایک نیا ٹرینڈ چلا ہے جسے spoken word poetry کہا جاتا ہے اس میں یو ٹیوب پر جائیں اور sarah kay کی نظمMrs Ribeiro ایک بار ضرور سنیں۔۔۔ جسے سن کر احساس ہوتا ہے کہ ایک اسکول پرنسپل بچوں کی زندگی میں تمام عمرکس طرح سائے کی طرح ساتھ رہتی ہے اور کس طرح تعلیم کے انگوروں کو ان کے لئے مٹھاس سے بھر دیتی ہے۔

Close Menu