پلوامہ حملہ ـ فائدہ کس کا؟

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: امتیاز متین

پلوامہ خود کش دھماکے کی دھمک پاکستان میں بھی محسوس کی گئی ہے۔ جب مودی سرکار نے اس حملے کا سارا الزام پاکستان پر ڈال دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر سرجیکل اسٹرائیک 2 کرنے سے لے کر پاکستان کو نیست و نابود کر دینے، نقشے سے مٹا دینے اور چار ٹکڑے کر دینے کی خواہشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بھارت میں طبل جنگ بج رہا ہے لیکن پاکستان پر حملہ کرنے سے پہلے بھارت میں کشمیریوں پر بلوائیوں نے حملے شروع کر دیے ہیں۔ حتیٰ کہ نوئیڈا میں رہنے والے صحافی ٹوئیٹر اور فیس بک پر پیغام دے رہے ہیں کہ اگر کوئی کشمیری خطرہ محسوس کرے تو اس کے گھر میں آکر پناہ لے سکتا ہے۔ مسلمانوں کو تو پہلے ہی مشکوک سمجھا جاتا ہے لہٰذا انہیں اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے پہلے سے زیادہ جتن کرنا پڑیں گے۔
اس ہلاکت خیز دھماکے کے بھارت پر گہرے نفسیاتی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ انہیں پہلی بار یہ نظر آیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں حالات سنگین ہو چکے ہیں۔ اس ایک خود کش حملے نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ اگر بھارتی الزام کو درست مان لیا جائے تو یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی پاکستان آمد سے دو دن قبل ہی کیوں پاک بھارت کشیدگی میں اضافہ کرنے کو ترجیح دی گئی؟ ہر کوئی جانتا ہے کہ سعودی ولی عہد اپنے دورۂ پاکستان کے دوران اربوں ڈالر کے تجارتی معاہدوں اور MOUs پر دستخط کریں گے۔ اس کے بعد وہ اسلام آباد سے دہلی جائیں گے جہاں مودی سرکار پاکستان کی بین الاقوامی تنہائی کا ایجنڈا لیے بیٹھی ہے۔ تاہم مودی سرکار کی امیدوں کے برخلاف سعودی ولی عہد نے پاکستان کا دورہ منسوخ نہیں کیا۔
آئندہ دنوں میں بین الاقوامی عدالت انصاف میں بھارت کے حاضر سروس نیوی کمانڈر کلبھوشن جادھو عرف حسین مبارک پٹیل کے کیس کی سماعت بھی ہونے والی ہے جہاں اس معاملے میں بھارت اپنا موقف بیان کرے گا اور پاکستان کلبھوشن جادھو کے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ثبوت پیش کرے گا۔ کلبھوشن جادھو کو پاکستانی ملٹری کورٹ سے سزائے موت سنائی جا چکی ہے جس کی رحم کی اپیل آرمی چیف کے پاس پڑی ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف شاید مودی جی سے اپنی دوستی کی وجہ سے کلبھوشن جادھو سے متعلق کوئی بھی بات کرنے سے گریز کرتے رہے تھے لیکن مودی جی کے لیے اب صورتحال بالکل بدل چکی ہے اور اس مقدمے میں بھارت کو مشکلات کا سامنا ہے۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا کلبھوشن جادھو کو پھانسی کی سزا دے دینی چاہیے؟ شاید کلبھوشن جادھو کی پھانسی پاکستانی فوج کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔
بھارتی الزامات کے برعکس پلوامہ واقعے میں ملوث ہونا پاکستان کے مفاد میں اس لیے بھی نہیں تھا کہ اس وقت پاکستانی حکومت کو جہاں برے معاشی حالات کا سامنا ہے وہیں اسے اپوزیشن کی شدید مخالفت کا بھی سامنا ہے جو حکومت کی احتساب کی کوششوں کے خلاف ایک ساتھ جمع ہو رہی ہے جبکہ اتحادی جماعتوں اور دوسری جماعتیں چھوڑ کر پی ٹی آئی میں آنے والے ارکان بھی سرکاری فوائد نہ ملنے کی وجہ سے عمران خان سے کچھ خفا ہیں۔ دریں افغانستان میں امن معاہدے کے لیے امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات جاری ہیں جس کا اگلا دور پاکستان میں ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں افغان امن مذاکرات کی کامیابی کے لیے خطے میں امن قائم رہنا ضروری سمجھا جا رہا ہے لیکن مقبوضہ کشمیر میں رونما ہونے والے حالیہ واقعات کا اثر پاک بھارت کشیدگی میں اضافے کی صورت میں نظر آ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ماضی کی طرح ایک بار پھر افغان امن عمل سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی بڑی پیش رفت کرتار پور راہداری کا منصوبہ ہے۔ جس کے لیے نوجوت سنگھ سدھو کو پہلے بھی برے بھلے سننے کو ملے ہیں لیکن اب بھارت کے ہندو انتہا پسندوں نے انہیں باقاعدہ دھکمیاں دینا شروع کر دی ہیں۔ یہی وجہ سے ہے کہ انہیں کپل شرما شو سے بھی نکال دیا گیا ہے اور ان کا کم از کم سیاسی کیریئر ختم کرنے کے لیے زور لگایا جا رہا ہے۔ پلوامہ دھماکے کے بعد بدلے ہوئے حالات میں لگتا یہی ہے کہ بھارتی حکومت کرتار راہداری منصوبے کو مسئلہ کشمیر حل ہونے تک التوا میں ڈال دے گی۔ فی الحال موسٹ فیورٹ نیشن کا اسٹیٹس واپس لیا گیا ہے تاہم اس سے پاکستان میں کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا کیونکہ دونوں ملکوں کے تاجر پہلے بھی بہت سا سامان دبئی کے راستے لاتے لے جاتے رہے ہیں اور آئندہ بھی وہ ایسا ہی کرتے رہیں گے۔ ہندو انتہا پسند پہلے بھی بھارت میں میڈ ان پاکستان کی چیزوں کو اسٹورز نکال کر پھینکتے رہے ہیں وہ آئندہ بھی ایسا ہی کرتے رہیں گے۔ تاہم اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ واہگہ بارڈ سے زرعی اجناس کی تجارت بند ہونے سے بھارتی پنجاب کے کسانوں کو یقیناً نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ بھارت میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی خبریں یو ٹیوب چینلز پر لوگ دیکھ رہے ہیں۔ کچھ بھارتی چینلز کے اینکرز کو یہ گمان ہے کہ ان کی مشہور و معروف نشریات پاکستان میں دیکھی جاتی ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔
پلوامہ حملے کے بعد پاکستان میں سب سے پہلا سوال یہ پوچھا گیا کہ اس کا سب سے زیادہ فائدہ کس کو ہوگا؟
اس سوال کا سادہ سا جواب ہے کہ بھارت میں انتخابات ہونے والے ہیں اور پاکستان کے ساتھ کشیدگی بڑھنے کا سب سے بڑا سیاسی فائدہ مودی جی کو ہی ہوگا جو ایک بار پھر ہندوتو کے نام پر ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس کی ایک وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ کل تک بھارت کے سیاسی افق پر بی جے پی کو پسپائی ہوتی نظر آ رہی تھی۔ آج سارے اسکینڈلز اور مخالفتین پس پشت ڈال دی گئی ہیں اور مودی سرکار کے خلاف بننے والا اتحاد پاکستان دشمنی کے نام پر سیاسی پسپائی اختیار کرنے پر مجبور نظر آ رہا ہے۔ ہم پہلے بھی اپنی ایک تحریر میں لکھ چکے ہیں کہ اگر بھارت کی سیاست سے پاکستان دشمنی جیسا اہم عنصر نکال دیا جائے تو بھارتی حکمرانوں کے لیے اپنے عوام کے سوالات کے جواب دینا مشکل ہو جائے گا۔
پلوامہ میں ہلاکت خیز واقعے پر جو خبریں آئی ہیں ان کے مطابق بھارتی انٹیلیجنس ایجنسیاں بھی کسی حملے کی توقع کر رہی تھیں۔ جبکہ بھارت میں انتخابات یا ایسے کسی بھی بڑے واقعے سے پہلے پاکستان حفظ ماتقدم کے طور پر الرٹ جاری کر دیے جاتے ہیں کیونکہ کسی بھی بڑے واقعے پہلا الزام پاکستان پر دیے جانے کے ساتھ ہی بھارت میں طبل جنگ بجنا شروع ہو جاتا ہے۔ ماضی میں ایسا ہوتا بھی رہا ہے دہلی میں اسمبلی پر حملہ پوٹا قوانین کی منظوری سے فوراً پہلے ہوا اور پھر سرحدوں پر فوجیں جمع ہو گئیں۔ پھر 26/11 کے حملے ہوئے تو ایک گھنٹے کے اندر اندر بھارتی میڈیا سے یہ خبریں نشر ہونا شروع ہو گئیں کہ دہشت گرد کہاں سے آئے تھے۔ یہی صورتحال پٹھان کوٹ ایئر بیس پر حملے میں نظر آئی کہ حملہ شروع ہونے کے ایک گھنٹے کے اندر اندر ہر بھارتی نیوز چینل بتا رہا تھا کہ دہشت گرد کون سے راستے سے سرحد عبور کرکے پاکستان میں داخل ہوئے، ان کا ماسٹر مائنڈ کون تھا اور کہاں یہ منصوبہ بنا۔ سوال یہ ہے کہ جب اتنی سرعت کے ساتھ ساری معلومات خبروں میں نشر ہونا شروع ہو جاتی ہیں تو بھارت میں دہشت گردوں پہلے ہی پکڑ لینے سے گریز کیوں کیا جاتا ہے۔ اجمل قصاب کی جو وڈیو سامنے آئی تھی اس پر ہم نے اپنے کچھ بھارتی صحافی دوستوں چیٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اپنے لب و لہجہ اور زبان سے پاکستانی نہیں لگتا لیکن تب انہوں نے اپنی بات ثابت کرنے کے لیے جیو ٹی وی کی خبر کا حوالہ دیا تھا۔ تاہم اب کچھ عرصہ قبل بھارتی اخبارات نے اجمل قصاب کے بھارتی ڈومیسائل کی خبر جاری کی تو پاکستانی میڈیا میں کتاب The Betrayal of India: Revisiting the 26/11 Evidence اور Who Killed Karkare بھی زیر بحث آئی تھیں۔
جبکہ کچھ سیاسی تجزیہ کار تو دو تین مہینے پہلے ہی مارچ میں پاکستان اور بھارت کے مابین محدود جنگ کے امکانات ظاہر کر چکے ہیں۔ پلوامہ حملے کے بعد بھی ان سیاسی مبصرین نے مارچ میں پاکستان اور بھارت جنگ کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس انداز میں جذبات بھڑکائے جا رہے ہیں اس کے بعد اگر مودی جی پاکستان کے خلاف کوئی جنگی کارروائی نہ کر سکی تو انہیں انتخابات میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ، لیکن کنٹرول لائن پر بڑی جھڑپوں کی سیاست انہیں یقیناً دوبارہ وزیر اعظم بنوا سکتی ہے۔ لیکن انتخابی جیت کے لیے جنگ کی سیاست میں اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ جنگ کا دائرہ نہیں پھیلے گا اور یہ چند دن یا چند گھنٹوں میں ختم ہو جائے گی۔ بھارتی میڈیا کے اسٹوڈیو کمانڈرز اور سوشل میڈیا واریئررز بدلے کے نام پر جنگ کی آگ بھڑکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن انہیں یہ یاد نہیں ہے کہ شام، عراق، یمن اور افغانستان میں طویل جنگوں نے کیا تباہی مچائی ہے۔
پلوامہ واقعے کا ایک اور پہلو کشمیریوں جد و جہد آزادی ہے جو پاکستان بننے سے پہلے سے چل رہی ہے۔ ظالم دہشت گرد اور مظلوم سپاہی کی بحث میں اچھا سیاسی اسکور تو بن سکتا ہے لیکن یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں حالات خراب ہو کر خود کش حملے تک کیوں پہنچے؟ جب بھارت، کشمیر میں بیلٹ تسلیم شدہ حق کو پس پشت ڈال کر پیلٹ اور بلیٹ کی زبان میں بات کرتا رہے گا تو تنگ آئے ہوئے کشمیری نوجوان گولی کا جواب گولی اور بم سے بھی دے سکتے ہیں۔ ایک خود کش حملے 42 جوانوں کی ہلاکت پر پورے بھارت میں کہرام مچا ہوا ہے اور ایسا تاثر دیا جا رہا ہے کہ پاکستانی فوج کوئی پہلو خان یا اخلاق احمد ہے جسے کوئی بھیڑ گائے کا گوشت رکھنے کے الزام میں پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دے گی۔ پاکستان نے ایک طویل عرصے تک خود کش بمباروں کا مقابلہ کیا ہے جس کی بنیادی وجہ افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کی موجودگی اور تحریک طالبان پاکستان جیسے دہشت گردگروہوں کی افغانستان میں بھاری فنڈنگ کی جا رہی تھی۔ خود کش حملوں اور دہشت گردی کے واقعات میں فوج، پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کے علاوہ ہزاروں پاکستانی شہری شہید اور زخمی ہوئے اور پاکستانی معیشت کو 100 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ لیکن کبھی کسی کو اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرنا پڑی جس طرح بھارت کے مسلمانوں کو ثابت کرنا پڑ رہی ہے۔ پاکستانیوں نے خود کش حملوں کے صدمے برداشت کیے ہیں اور پاکستانی جوانوں نے خود کش بمباروں اور دہشت گردوں کو کبھی خالی ہاتھوں سے اور کبھی مسلح مقابلہ کرکے روکا ہے اور ایک خونریز جنگ کے بعد بچے کھچے دہشت گردوں کو افغانستان میں بھاگ جانے پر مجبور کیا ہے جہاں سے ان کی دوبارہ پاکستان آمد روکنے لیے پاک افغان سرحد پر حفاظتی باڑھ لگائی جار رہی ہے اور سرحدی چوکیاں اور قلعے بنائے جا رہے ہیں تاکہ افغانستان سے پاکستان میں آنے والے دہشت گردوں کا راستہ روکا جا سکے۔ یہ صورتحال یقیناً بھارت کے ان منصوبہ سازوں کے لیے پریشان کن ہوں گی جو وزیر اعظم نریندر مودی سے بلوچستان کے متعلق بیانات دلواتے رہے ہیں۔
بھارت سے آنے والے بیانات اور تجزیے و تبصرے سننے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ خطے کا سنت سادھو بھارت ہے اور واحد غنڈہ بدمعاش پاکستان ہے جس نے مولانا مسعود اظہر کو پناہ دے رکھی ہے۔ اب کوئی یہ پوچھے کہ مولانا مسعود اظہر بھارتی فضائی حدود میں طیارہ اغوا ہونے کے نتیجے میں بھارتی جیل سے رہا ہوئے تھے۔ اس واقعے کی سب سے غور طلب بات یہ ہے کہ جب پاکستان نے اغوا شدہ طیارے کو لاہور میں اترنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد اسے امرتسر ایئر پورٹ پر اتار لیا گیا تھا، لیکن بھارتی حکام نے اسے دوبارہ پرواز کرکے لاہور جانے دیا۔ پاکستان میں طیارے کی زبردستی پاکستان آمد کو گہری سازش کی نگاہ سے دیکھا گیا یہی وجہ تھی کہ لاہور میں طیارے میں فیول بھرا گیا اور مسافروں کے لیے کھانا دے کر طیارہ دبئی روانہ کر دیا گیا، جو دبئی سے قندھار پہنچا جہاں اس اغوا کا ڈراپ سین ہوا تھا۔ بھارت کا موقف ہے کہ مسعود اظہر دہشت گرد ہیں لیکن چین، بھارت کے اس موقف کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے اور پاکستان ثبوت طلب کرتا ہے۔
پلوامہ حملے کے بعد الزامات کے طوفان اور غصے کی آگ میں بھارت نے جس چیز کو نظر انداز کیا ہے وہ کشمیری عوام ہیں جن کی بات سننے کے لیے کوئی تیار نہیں ہے۔ وزیر اعظم مودی نے مقبوضہ کشمیر میں فوج کو کھلا ہاتھ دینے کا اعلان کیا ہے اس کا مطلب ہے کہ اقوام متحدہ کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق اگلی رپورٹ، حال ہی میں شائع ہونے والی رپورٹ سے زیادہ سنگین ہوگی۔ بھارت میں ارون دھتی رائے جیسے دانشور کہہ رہے ہیں کہ کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل گیا ہے مگر بھارتی حکومت مسئلہ کشمیر کو فوجی طاقت سے حل کرنے پر زور دے رہی ہے۔ حالانکہ خطے میں بدلتے ہوئے حالات کچھ اور تقاضا کر رہے ہیں۔ جنگوں کے نتیجے میں امریکہ جیسی سپر پاور 21 ٹریلین ڈالر کے قرضے تلے دب چکی ہے اور اتنی ہی رقم اس کے کھاتوں میں کہیں گم ہو چکی ہے۔ معاشی بدحالی میں گھر جانے کے بعد امریکہ اب انہی لوگوں سے امن مذاکرات کر رہا ہے جنہیں دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ظاہر کیا گیا تھا۔
شاید بھارتی انتہا پسندوں کو شاید یہ سمجھ نہیں آ رہی پتھر مارنے والے کشمیری مسلمانوں نے اتنا بڑا بم کیسے مار دیا؟ یہ انٹیلیجنس کی ناکامی تھی یا یہ جعلی حملہ تھا کیونکہ 9 اکتوبر 2017ء کو کشمیر ٹائمز میں دو کشمیری حریت پسندوں کی ہلاکت سے متعلق ایک خبر شائع ہوئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ عادل احمد ڈار نامی حریت پسند پکڑا گیا ہے۔ اب اسی عادل احمد ڈار کو خود کش بمبار بتایا گیا ہے جس کی امریکی اسحلہ کے ساتھ وڈیو جاری کی گئی ہے۔ بھارت میں کچھ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ کڑی سیکورٹی کے باوجود اتنا بارود وہاں کیسے پہنچا اور وہ گاڑی کیسے تمام چیک پوسٹ عبور کرکے کانوائے تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ لیکن کمزور سی آوازیں پرجوش نعروں اور نقار خانوں کے شور میں کہیں گم ہو گئی ہیں۔ مودی جی نے نوٹ بندی کے وقت کہا تھا کہ پاکستان کشمیریوں کو پتھر مارنے کے پیسے دیتا ہے اور نوٹ بدلنے سے جعلی نوٹ اور پاکستان کی جانب سے دیے جانے والے نوٹ بند ہوجائیں گے تو پتھر باری بھی رک جائے گی لیکن نوٹ بندی اور پیلٹ گن کے استعمال سے مقبوضہ کشمیر میں پتھر باری تو نہیں رک سکی البتہ اب وہاں خود کش بمبار سامنے آ گئے ہیں۔
Close Menu