ہماری قومی ایئر لائن

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: امتیاز متین

سوال یہ نہیں ہے کہ ماضی میں پی آئی اے کے ساتھ کیا ہوتا رہا ہے بلکہ اصل چیلنج یہ ہے کہ قومی ایئر لائن کو بحران سے کیسے نکالا جائے اور عظمت رفتہ کیسے بحال کیا جائے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران بعض با اثر حلقوں کی جانب سے قومی ایئر لائن کو ایک معاشی بوجھ بنانے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ اسے اونے پونے داموں فروخت کیا جا سکے۔ گو کہ حکومت نے پی آئی اے کی بحالی کے لیے گزشتہ برس نومبر میں 17 ارب روپے اور اب 5.6 ارب روپے کے فنڈز جاری کیے ہیں جبکہ اس سے پہلے بھی اربوں روپے کے فنڈز دیے جا چکے ہیں لیکن بہت سے لوگوں کو اب بھی یہ اربوں روپے بھی ڈوبتے ہوئے ہی نظر آ رہے ہیں۔ قومی ایئر لائن میں بڑے پیمانے پر جو چوریاں اور بدعنوانیاں کی جاتی رہی ہیں اس کی تفصیلات ایئر لائن کے نئے سربراہ اور متعلقہ اعلیٰ حکام کے علم میں آچکی ہوں گی۔ تاہم اس کے ساتھ ہی حکومت کی جانب سے یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ پی آئی اے جیسے اہم قومی اثاثوں کی نجکاری نہیں کی جائے گی بلکہ انہیں ہر صورت میں منافع بخش ادارہ بنایا جائے گا۔
دنیا بھر کی ایوی ایشن انڈسٹری کا اگر پاکستان میں ایئر لائنز کے بزنس سے موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ چھوٹی ایئر لائنز انتہائی سستے ٹکٹ فروخت کرنے کے باوجود منافع بخش ہیں اور ترقی کر رہی ہیں لیکن اس کے برعکس پاکستان میں ایئر لائنز کا کاروبار ٹھپ ہوتا جا رہا ہے۔ ایرو ایشیا اور بھوجا ایئر تو پہلے ہی بند ہو چکی ہیں، حال ہی میں شاہین ایئر بھی بند ہوئی ہے جس کے مالکان طیارے فروخت کرنے کے پسماندگان میں تقریباً ساڑھے چار ہزار بے روزگار اور سول ایوی ایشن کے لگ بھگ ڈیڑھ ارب کے واجبات چھوڑ کر بیرون ملک جا چکے ہیں اور سول ایوی ایشن محض ایئر لائن کے دفاتر کو تالا ہی لگا سکی ہے۔ اب ایئر بلیو کی بندش سے متعلق بھی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

ایئر لائنز انڈسٹری سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایئر لائنز کا بزنس برباد ہونے کی ایک بڑی وجہ خود سول ایوی ایشن اتھارٹی کے تحریری قواعد و ضوابط اور خود ساختہ غیر تحریری اصول ہیں جن کی وجہ سے ایئر لائنز کو بھاری بھرکم ٹیکسوں اور مختلف مدوں میں بھاری فیسوں کے علاوہ ادارے کے انسپکٹرز کے ٹی اے ڈی اے اور دیگر سفری اخراجات کا بوجھ بھی اٹھانا پڑتا ہے جبکہ مقامی ایئر لائنز کو بھی یہ تمام ادائیگیاں ڈالروں میں کرنا پڑتی ہیں، جن کی تفصیلات آڈٹ رپورٹ میں سامنے آ چکی ہوں گی۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری کے رجحان کی وجہ سے ایئر لائن کو اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں سول ایوی ایشن اتھارٹی کے اعلیٰ حکام سے یہ سوال تو ضرور پوچھا جانا چاہیے کہ بطور ریگولیٹر ادارہ انہوں نے پاکستان میں ایئر لائنز کے بزنس کو فروغ دینے کے لیے کیا کیا ہے اور ایئر پورٹس پر مسافروں کو کیا سہولتیں فراہم کی ہیں ؟ کیا وجہ ہے کہ پانچ ایئر لائنز نے لائسنس حاصل کرنے اور کروڑوں روپے سیکورٹی ڈپازٹ جمع کروانے کے باوجود اپنے دفاتر تک کھولنے میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہی ہیں؟ کیا ان کی کارکردگی محض اپنی بیلنس شیٹ مستحکم بنانے کی حد تک محدود ہے؟ یہی حال ایئر پورٹ سیکورٹی فورس کا ہے جس کے متعلق یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ انہوں نے ایئر پورٹ پر جو اسکینرز لگائے ہیں اس کے لیے ہر مسافر سے ٹکٹ میں ایک سو روپے سیکورٹی کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں۔
قومی ایئر لائن کی زبوں حالی کی وجوہات میں چوری، بدعنوانی، ضرورت سے زیادہ اسٹاف کی بھرتی، وسائل کا زیاں، اسٹاف کی عدم دلچسپی اور نا تجربہ کار سربراہان کی تقرری بتائے جاتے ہیں۔ اس حوالے سے پی آئی اے کے نئے سربراہ ایئر مارشل ارشد محمود ملک پر بھی مختلف سیاسی اور غیر سیاسی حلقوں کی طرف سے اعتراضات کیے جا رہے ہیں۔ تاہم پی آئی اے میں ایسی تقرریاں کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ ایئر مارشل نور خان کے زمانے میں ہی پی آئی اے کو وہ عروج حاصل ہوا جسے بحال کرنے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے۔ تاہم اس وقت نہ آج جیسی مسابقت تھی اور نہ ہی آج کے جیسے مسائل درپیش تھے۔ ایئر مارشل نور خان کی کامیابی ایک بڑی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ وہ عام لوگوں سے بھی رابطے میں رہتے تھے اور موصول ہونے والے ہر خط کا خود جواب دیا کرتے تھے۔ تاہم اب یہ اس طرح سے ممکن نہیں ہے لیکن عوام سے رابطہ رکھنے کے لیے واٹس ایپ، ٹوئیٹر، فیس بک اور ای میل جیسے دیگر جدید ذرائع موجود ہیں۔ انہی ذرائع سے وہ لوگوں کی شکایات بھی سن سکتے ہیں اور اسٹاف کے لوگ بھی براہ راست یا بالواسطہ طور پر وہ باتیں آگے پہنچا سکتے ہیں جو شاید ان کی سینئر مینجمنٹ ٹیم کے لوگ انہیں بتانے سے گریز کرتے ہیں۔ اسی طرح کارگو کے شعبے میں ڈنڈی مارنے کا رجحان بہت زمانے سے عام ہے۔ اگر طیارے میں چڑھائے جانے والے کارگو کے وزن اور ٹریفک والوں کی رپورٹ میں ظاہر کیے جانے والے وزن کے فرق کا موازنہ کرنے پر توجہ دینا شروع کر دی جائے تو اس سے نہ صرف قومی ایئر لائن نقصانات میں خاطر خواہ کمی آ سکتی ہے بلکہ اوور لوڈنگ کی وجہ سے ہونے والے کسی ممکنہ حادثے سے بھی بچا جا سکتا ہے۔
یہ صحیح ہے کہ سوشل میڈیا پر آدھی ادھوری معلومات موصول ہوں گی لیکن انہیں بالآخر ایئر لائن کے بہترین مفاد میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا کو ایئر لائن کی سروسز کی تشہیر کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی بدولت اوبر جیسی ٹیکسی سروس کو کامیابی حاصل ہوئی ہے اور اسی قسم کے موبائل ایپس اب مختلف ایئرلائنز نے بھی استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں۔ اب ایئر لائنز ٹریفک جام یا کسی اور وجہ سے تاخیر سے پہنچنے والے مسافروں جرمانہ ڈالنے کے بجائے ان کی بکنگ خود بخود اگلی پرواز پر کرنے اور ان کی جگہ ایئر پورٹ پر موجود اگلی پرواز کے مسافروں کے پہلے روانہ کرنے کو ترجیح دینے لگی ہیں ۔ اس سے طیارے میں کوئی سیٹ خالی نہیں جاتی ہے اور مسافر بھی پریشانی سے بچ جاتے ہیں اور ایئر لائن پر ان کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔
گزشتہ ماہ ہونے والی پریس بریفنگ میں فلائٹ انٹرٹینمٹ سسٹم کا بطور خاص ذکر کیا گیا ہے۔ پندرہ برس پہلے یقیناً یہ کوئی انوکھی چیز تھی لیکن اب تو یہ سسٹم لاہور کی ایک بس ٹرانسپورٹ سروس کی بسوں میں بھی لگ چکا ہے۔ کوئی بھی چھوٹی سی ان ہاؤس سہولت فلائٹ انٹرٹینمنٹ کا پورا نظام آسانی سے چلا سکتی ہے۔ اگر فلائٹ میں انٹرنیٹ ہو تو معروف نیٹ چینلز کی فلمیں بھی دکھائی براہ راست دکھائی جا سکتی ہیں۔ بس تھوڑا سا روایت سے ہٹ کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ ڈجیٹل ٹیکنالوجی کی بدولت اوبر جیسی ٹیکسی سروس کو دنیا بھر میں کامیابی حاصل ہوئی ہے اور اسی قسم کے موبائل ایپس اب مختلف ایئرلائنز نے بھی استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں۔ اب ایئر لائنز ٹریفک جام یا کسی اور وجہ سے تاخیر سے پہنچنے والے مسافروں جرمانہ ڈالنے کے بجائے ان کی بکنگ خود بخود اگلی پرواز پر کرنے اور ان کی جگہ ایئر پورٹ پر موجود اگلی پرواز کے مسافروں کے پہلے روانہ کرنے کو ترجیح دینے لگی ہیں ۔ اس سے طیارے میں کوئی سیٹ خالی نہیں جاتی ہے اور مسافر بھی بڑی پریشانی سے بچ جاتے ہیں اور ایئر لائن پر ان کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔
اس وقت سارا ایئر ٹریفک چند بڑے ایئرپورٹس کی حد تک محدود ہے جبکہ چھوٹے اسٹیشنز کے لیے فلائٹ آپریشن شروع کرنے پر کوئی توجہ نہیں ہے۔ شاید ایئر لائنز کو معلوم ہی نہیں ہے کہ کتنے مسافر چھوٹے بڑے شہروں کے درمیان سفر کرتے ہیں۔ اگر ریلوے اور اچھی بس ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے مسافروں کا ڈیٹا کا جائزہ لے لیا جائے تو لوگوں کے سفر کرنے کے رجحانات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ٹرین اور بس کے مسافروں میں یقیناً بہت سے لوگ فضائی مسافر بن سکتے ہیں لیکن چھوٹے شہروں کے لیے پروازیں نہ ہونے کے باعث وہ ریل گاڑی یا بس سے سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ چھوٹے شہروں کے لیے چھوٹے طیاروں اور علیحدہ ٹرمنل بنانے کی پالیسی سے فضائی مسافروں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

Close Menu